خواتین  کے حقوق کی بات

 امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی

٨ مارچ کا دن دنیا بھر میں "یومِ خواتین”کے نام سے منایا جاتا ہے،اس دن خواتین کے حقوق اور آزادی کی بات بڑے جوش و خروش سے کی جاتی ہے مگر کیا جو باتیں خواتین کی آزادی اور حقوق کے متعلق کی جاتی ہیں، فطرت کے موافق ہے؟اور حقوق کے حصول کے لیے جو راستے اختیار کئے جاتے ہیں، وہ منزل تک پہنچا سکتے ہیں؟ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے؛ دیکھئے دنیا کی آبادی کا نصف حصہ خواتین ہے، خواتین خدا کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے، اس شاہکار کے کئی روپ ہیں ماں، بہن، بیوی، بیٹی کی شکل میں اور ہر روپ  نرالا ہے؛ اسلام ہی وہ پہلا مذہب ہے جس نے خواتین کو نچلے پائیدان سے اٹھا کر اول صف میں کھڑا کیا، بحیثیت انسان مردوں اور عورتوں کے بیچ کے فرق کو مٹایا، فطری امتیازات کے علاوہ امور میں مساوات و برابری کا حق دیا،جہاں عورتوں کے حقوق کا تصور نہیں تھا، وہاں ان کے حقوق کی بات کی،ان کا مقام ومرتبہ بیان کیا ، مقام ومرتبہ کے لحاظ سے حقوق دئیے، حقوق کا تحفظ کیا  اور حقوق کی ادائیگی پر ابھارا، اس پر ثواب وجزاء کا وعدہ کیا ،  حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی پر سخت وعید بھی سنایا اور نہ یہ کہ صرف بات کی اور پیغام سنایا بلکہ عملاً کرکے دکھایا جس کی بہیترے مثالیں تاریخ کے اوراق میں سنہرے الفاظ میں مندرج ہیں؛ اس کے باوجود آج دیگر مذاہب کے لوگ اسلام پر ہی یہ الزام لگاتے ہیں کہ اسلام نے ان کے حقوق دبائے ہیں اور بوالعجبی تو یہ ہے کہ خود اسلام کے ماننے والے بعض سرپھرے خواتین و حضرات بھی ان سازشی عناصر کے ہاں میں ہاں ملا کر اسلام کو تنگ نظر سمجھتے ہیں،یہ کم علمی، تنگ نظری، تعصب، تاریخ عالم و تاریخ نسواں سے ناواقفیت یا آزادی کے نام پر عیش پرستی کی ہوس کی بنیاد پر تو کہا جا سکتا ہے مگر حقیقت سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

مغربی افکار و نظریات نے موجودہ دور میں آزادئ نسواں کے نام پر صنفِ نازک کے ساتھ جو ذلیل ترین رویہ کو سندِ جواز فراہم کیا ہے، یقین مانیں ایسی ذلت خواتین کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں بھی دنیا نے نہیں دیکھا ہے، کمالِ عیاری تو دیکھئے اس ذلیل حرکت کو آزادی کا نام دے دیا اور پھر آزادی کے نام پر گھر کے سکون و راحت کے ماحول سے نکال کر بازار کے پریشان کن ماحول کا حصہ بنا دیا، برابری کے نام پر گھر میں بیٹھے ملنے والی روزی چھین کر جاب کے نام پر گھر اور باہر کے کام کا دوہرا بار ڈال دیا، فیشن اور اسمارٹ دکھنے کے نام پر جسم چھپانے والے کپڑے اتروا کر ادھ ننگے کپڑے پہنا کر مردوں کے ہوسناک نگاہوں کا مرکز بنا دیا؛ گھر میں رہ کر باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی خدمت کو غلامی و قید قرار دے کر ہوٹل، مال، ریسٹورنٹ، کسینو، بار، فلائٹ میں اجنبی مردوں کا نوکر بنا دیا؛گھر کی چہار دیواری میں رہ کر عفت و عصمت کی حفاظت کو تنگ نظری کا نام دے کر الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا، اشتہارات وغیرہ میں جسم دکھا کر مائل کرنے کو فن کا نام دے دیا؛ حصولِ دولت و شہرت کے لیے عورت سے شرم و حیا کی چادر چھین کر بے حیائی کے ہر شعبہ میں مرکزی  رول میں پیش ہونا باعث فخر قرار دے دیا، اور ظلم تو دیکھیں کہ اس کو خواتین کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی کہا حالانکہ چشمِ بصیرت سے دیکھا جائے تو یہ سب خواتین کی ہمدردی میں نہیں کیا گیا بلکہ اپنی ہوس بجھانے اور ناپاک طبیعت کی خواہش کی تکمیل میں رکاوٹ دور کرنے کے لیے کیا گیا؛ اسلام نے پہلے دن سے ہی عورت کے حقوق کی بات کی مگر مرد و زن میں تخلیقی اعتبار سے خالقِ کائنات نے جو تفریق کی، اس کا لحاظ رکھا، دونوں کی جسمانی ساخت کے مدنظر ذمہ داریاں تقسیم کردی تاکہ خانگی اور معاشرتی تانا بانا باقی رہے؛ہر ایک کے لیے ایک محدود دائرہ کار طے کر دیا تاکہ اختلاط مرد و زن سے پیدا ہونے والے نقصانات کی روک تھام ہو؛ مغرب نے اس فرق کو نظرانداز کیا جس کا نتیجہ ہے کہ آج وہاں خاندانی نظام درہم برہم ہے،معاشرتی زندگی تباہی کے دہانے پر ہے، جبکہ خود مغرب کے سماجی اصلاح کار اس کو صحیح نہیں سمجھتے تھے؛ مشہور مغربی مصنف ‘ ‘ آگسٹ کونٹ ‘ ‘ اپنی مشہور تصنيف ” النظام السياسته على حسب الفلسفته الحیہ” میں لکھتا ہے کہ "جس طرح ہمارے زمانے میں عورتوں کی سوشل حالت کے متعلق خیالی گمراہیاں پیدا ہورہی ہیں، اسی طرح تغیر نظام ، تمدن اور آداب معاشرت کے ہر ایک دور میں پیدا ہوتی رہیں مگر وہ لاز آف نیچر (قوانین فطرت) جو جنس محبت ( عورت ) کومنز لی زندگی کے لیے مخصوص رکھتا ہے اس میں بھی کوئی تغیر واقع نہیں ہوا؛ یہ قانون الہی اس درجہ صحیح اور حق ہے کہ گو اس کی مخالفت میں سینکڑوں باطل خیالات قائم ہوتے رہے ہیں مگر یہ بغیرکسی تغیر یا نقصان کے سب پر غالب آ تارہا ہے”؛ یہی مصنف ایک اور موقع پر لکھتا ہے کہ ‘ ‘ مردوں کے مشاغل میں عورتوں کی شرکت سے جوخوفناک نتائج اور فساد پیدا ہورہے ہیں ان کا علاج یہی ہے کہ دنیا میں  مرد  پرعورت کے جو مادی فرائض ہیں ان کی حد بندی اورتعیین کر دی جاۓ  "؛ سموئل سائکس انیسویں صدی کا مشہور عالم اور انگلستان کے جدید تمدنی دور کا مسلم مؤسس ہے، جس کی اخلاقی تصنیفات آج یورپ کے تعلیمی نصاب کا ایک جز ء سمجھی جاتی ہیں، یورپ کے تمام فضلاء اور علماء شہادت دے چکے ہیں کہ تمام مصنفین میں ” سائکس ‘ ‘ اخلاق کا سرخیل اور بزرگ ترین مصنف ہے، اس سے بڑھ کر مقبولیت کیا ہوسکتی ہے کہ علمی اور اخلاقی سوسائٹی کی طرح مذہبی سوسائٹی بھی اس کی تصنیفات کو بائبل کا ہم پلہ تسلیم کرتی ہے اور اس الماری کو منحوس سمجھا جاتا ہے جس میں سائکس کی تصنیفات کو جگہ نہ دی گئی ہو، یہی عالی دماغ اخلاقی فلاسفر اپنی گراں بہاتصنیف ‘ ‘ الاخلاق”میں انگلستان کی آزادعورتوں کی حالت پر بحث کرتے ہوۓ لکھتا ہے "قدیم اہل روما کے نزدیک شریف  عورت کی سب سے زیادہ قابل تعریف اور اعلی درجہ کی قابلِ مدح بات یہ کہی جاتی تھی کہ وہ گھر میں بیٹھنے والی ہو اور گھر سے باہر کی کشمکش سے محفوظ رہے”(مسلمان عورت از مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ)۔_

*حقیقت سے کب تک انسان منہ موڑ سکتا ہے؟ کسی نہ کسی دن سامنا کرنا ہی پڑتا ہے، مغربی مصنف نے اسلام کے مبنی بر فطرت قانونِ تقسیمِ کار کا اقرار کرکے عالمِ مغرب کو آئینہ دکھایا ہے؛ اس لیے خواتین کے حقوق کے متعلق اسلام کا نظریہ اعتدال سب سے زیادہ انصاف کا حامل ہے،اسلام نے عورت کو دیگر حقوق کے ساتھ ایک خاص حد تک آزادی بھی دی ہے اور وہ  آزادی اس کا حق ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے جد وجہد کرے مگر اس راہ پر چل کر نہیں جو انہیں مغربی دانشوران دکھاتے ہیں اور ہماری خواتین اسی راہ پر چل پڑتی ہیں بلکہ مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ نے "مسلمان عورت” میں جو راہ بتلائ ہے، اس سے بہتر کوئی اور راستہ نہیں، ملاحظہ فرمائیں "ہم مانتے ہیں کہ عورت محض غلامانہ زندگی بسر کرنے کے لیے خلق نہیں ہوئی، قدرت نے اس کو ایک خاص حد تک آزادی عطا فرمائی ہے اور اس کا فرض ہے کہ اس معتدل آزادی کو حاصل کرنے کے لیے مرد کا مقابلہ کرے مگر اس ہتھیار سے نہیں جو اس کے دوست نما دشمن دور سے اس کو  دکھلا رہے ہیں اور جو تمدن اور معاشرت کے میدان کارزار میں اس کو نا کام رکھنے والا ہے بلکہ اس عظیم الشان سلاح سے جو قدرت نے خاص طور پر اس کو مرحمت فرمایا اور مرد کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ ان ہتھیاروں سے اپنی مدافعت کر سکے؛ تم جانتے ہو وہ ہتھیار کیسی عظیم الشان قوت ہے ؟ ہاں تم گز شتہ فصلیں پڑھ چکے ہو ، اس لیے سمجھ گئے ہوگے کہ وہ ہتھیار عورت کا اپنے فرض منصبی(منزل میں رہ کر تربیت اولاد) کی ذمہ داریوں سے واقف ہونا اور اپنے قدرتی فرائض کو انجام دینا ہے جس وقت عورت اپنے اس قدرتی سلاح سے کام لے گی تو اس کی حکومت دلوں کی سلطنت پر قائم ہو جائے گی اور وہ انسانی احساسات کی قلمرو کی ملکہ بن جاۓ گی؛ اس کے اختیار میں ہوگا کہ ملکی حکومت کا پانسہ جس طرف چاہے پلٹ دے، اس کے ایک اشارہ میں شخصی حکومت ، جمہوری حکومت میں بدل جائے گی اور اس کی ذرا سی کوشش سے سوشلسٹ اور جمہوری حکومت کا رخ خودمختار شاہی حکومت کی طرف پھر جائے گا؛   یہ تمام کامیابیاں اس سلاح کی بدولت کیونکر حاصل ہوں گی ؟ جب عورت اپنی خواہش کے مطابق بچوں کی پرورش کرے گی اوران کے دلوں پر اچھے خیالات کانقش نقش کالحجر کر دے گی ، یہی بچے جوان ہوکر ان خیالات و امثال کو اپنا نصب العین بنائیں گے اور بڑی بڑی سلطنتوں میں انقلاب حکومت کا باعث ہوں گے اور انسان کا پہلا مدرسہ شفیق ماں کی گود ہے، اس مدرسہ میں زندگی کے جو اصول سکھاۓ جاتے ہیں اپنی آئندہ زندگی کے لیے انسان انہی کواپنادستورالعمل قرار دیتا ہے؛ یہی ہے عورت کا ہتھیار ! اور بدقسمت ہے وہ عورت جو اپنے قدرتی فرائض کوفراموش کر کے ایسے قوی اورعظیم الشان ہتھیار کو اپنے حرماں نصیب ہاتھوں سے کھودے”۔*

یومِ خواتین پر خواتین کے حقوق کے مطالبہ اور حصول کے لیے جتنے بھی طریقے اپنایے جاتے ہیں، وہ سب بے سود ہے، اسلام کا دیا ہوا مذکورہ بالا طریقہ ہی واحد طریقہ ہے جو عورت کو باعزت طریقے پر اپنے حقوق کی حصولیابی کی ضمانت دے سکتا ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین اپنے فرائض منصبی کو پہچانیں اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں اسلام کے دیئے ہوئے نظامِ زندگی قرآن وحدیث کے ساتھ عقل و فلسفہ کے پیمانہ پر بھی سمجھانے کی کوشش کریں، اللہ ہمیں نیک توفیق مرحمت فرمائے۔

تبصرے بند ہیں۔