عورتوں سے حسنِ سُلو ک

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی

خاتون کا عالمی دن(International women’s day) 8,مارچ کو منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد خواتین کی اہمیت سے لوگوں کو آگاہ کرنا اور خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے لیے ترغیب دینا ہے، مذہب اسلام نے خواتین کی اہمیت کو بہت زیادہ بتایا ہے۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل نے ساری مخلوقات کے لیے ”نبی رحمت “ بنا کر بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمکی شانِ رحیمی وکریمی اس ”صنفِ نازک“ پر کیوں سایہ فگن نہ ہوتی، جس کو دنیا ”آبگینہ “ جیسے لطیف ونازک شیء کے ساتھ تشبیہ دیتی ہے؛ بلکہ نرم اور نازک شی کے ساتھ دنیا والوں کی رعایت واہتمام بھی زیادہ ہوتا ہے تو آپ کے رحم وکرم سے ”عورت“ کیوں محروم ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلمکی تعلیمات میں عورت کی رعایت اوراس کی صنفی نزاکت کے ساتھ احکام موجود ہیں،  موجودہ دور کا اس صنف نازک کے ساتھ یہ المیہ ہے کہ اس نے عورت کو گھر کی ”ملکہ “ کے بجائے ”شمع محفل “ بنادیا ہے،  اس کی نسوانیت اور نزاکت کو تار تار کرنے کے لیے ”زینتِ بازار“ اور اپنی تجارت کے فروغ کا ”آلہٴ کار“ اور ”ذریعہ “ بنادیا، عورت کے لیے پردہ کے حکم میں در اصل اس کی نزاکت کی رعایت ہی مقصود ہے کہ اسے مشقت انگیز کاموں سے دور رکھ کر اس کو درونِ خانہ کی صرف ذمہ داری سونپی جائے۔

اللہ عزوجل اپنے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ کتاب میں قرآن مجید میں عورتوں کے تعلق سے فرمایا ہے :

”وعاشروھن بالمعروف“

(اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزرا کیا کرو)۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صنف نازک کے ساتھ بہترین برتاوٴ کی تاکید

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صنف نازک کے ساتھ بہترین سلوک اور برتاوٴ کی تاکید کی،  خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عورتوں کے ساتھ اچھابرتاوٴ اور ان کے ساتھ حسن سلوک فرماتے۔

خود نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عورتوں کے ساتھ نیکی،  بھلائی، بہترین برتاوٴ،  اچھی معاشرت کی تاکید فرمائی ہے،  حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا : تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاوٴ کرتے ہیں،  اورمیں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ بہترین برتاوٴ کرنے والا ہو(ترمذی :کتاب المناقب : باب فضل ازواج النبی،حدیث : 3795 )

پاکیزہ معاشرے کی تعمیر کیلیے خاندانی نظام کا زیادہ سے زیادہ مضبوط اور کامیاب ہونا انسانوں کیلیے انتہائی ضروری ہے۔ اس کی شروعات شوہر اور بیوی کے ازدواجی تعلق،  میل و محبت سے ہوتی ہے۔ رب العالمین نے اور رسول کریم ﷺ نے شوہر کی حد متعین فرمائی ہے اور بیوی کی بھی حد کا تعین کیا ہے۔

اگر دونوں اپنی حدود کے اندر رہ کر زندگی گزاریں تو بڑی خوشگوار زندگی گزر سکتی ہے اور بہت سی ایسی فیملی (Family)جو اسلامی قوانین پر عمل کرکے خوشگوار زندگی گزار رہی ہیں۔ میاں بیوی میں اعتماد کی کڑی جتنی مضبوط ہوگی ایک دوسرے پر جس قدراعتماد(Trust) قائم رہے گا اسی قدر خوشگوار اور پر سکون زندگی گزرے گی اور اس کے اچھے اثرات بچوں پر پڑیں گے۔ آقائے دوعالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: اَکْمَلُ الْمُؤمِنِیْنَ اِیْمَاناً اَحْسَنَھُمْ خُلْقًا وَخِیَارُکُمْ لِنِسَاءِھِمْ ط ترجمہ: مومنین میں کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو اپنے اخلاق میں سب سے اچھا ہو اور تم میں سے زیادہ بہتر وہ لوگ ہیں جواپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔

امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث حسن صحیح ہے۔(باب شوہر پر عورت کے حقوق کے بیان میں جلد دوم، جامع الترمذی، حدیث 1162)

دوسری حدیث

یہ دنیا ساری کی ساری پونجی ہے (برتنے کی چیز ہے)لیکن ساری دنیا میں سب سے بہترین قیمتی چیز نیک و صالح عورت ہے۔ قربان جائیے آقا ﷺ کے ارشادپر۔  بہترین اور قیمتی چیز عورت کو بتا کر اس کی عزت و وقار میں چار چاند لگادیئے۔  یہ ہیں عورتوں پر اسلام کے احسانات۔

(باب نیک اور صالح عورت کا بیان، سنن صحیح و نسائی صحیح، جلد دوم حدیث نمبر 3240)آقا ﷺ نے فرمایا : جس عورت نے اس حال میں انتقال کیا کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہواور خوش ہوتووہ جنت میں داخل ہوگی۔(ترمذی)۔سب سے پہلے انسانوں کو آزاد کرنے والے مذہبِ اسلام نے عورتوں کو ایک مستقل حیثیت عطاکی اور اللہ کے رسول نے فرمایا جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پرہیں اسی طرح عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں۔ نکاح کو آزادانہ معاہدہ قراردیا۔ جو ہر قسم کی جائز شرائط پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ خاص نامساعد حالات پیدا ہوجانے پر مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے سے علیحدگی کا حق رکھتے ہیں۔ عورت اپنے سرمایہ اور جائداد کی بے شرکتِ شوہر مالک ہے۔جہاں احادیث طیبہ میں عورتوں کے حقوق پر بہت سی احادیث طیبہ بشارت دے رہی ہیں وہیں عورتوں سے حسنِ سلوک و حقوق کی ادائیگی کے لیے اللہ رب العزت نے عورتوں سے اچھے برتاؤ کا حکم فرمایا۔وَعَاشِرُوْ ھُنَّ بِاالْمَعْرُوْفِ ج فَاِنَّ کَرِھْتُمُوْ ھُنَّ فَعَسٰی اَنْ تَکْرَ ھُوْ شَیْئاوَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْراً کَثِیْراً۔(القرآن سورہ نساء، آیت 19)

ترجمہ: اور ان سے اچھا برتاؤ کرو پھر وہ اگر تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کہ کوئی چیز پسندنہ ہو اوراللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔ (کنز الایمان )

تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو،  اچھی طرح رہاکرو، پیارو محبت اور ملاپ سے بسر کرو۔ اس پر احسان کیا کرو۔ اگر تم ان سے محبت اور آپس کی الفت کو برا سمجھو گے تو تم ایسی چیز کو براسمجھو گے جس میں خدا نے تمہارے لیے خیر کثیر اور ہزاروں طرح کے نفع (فائدے) بنائے ہیں۔ یعنی صالح اولاد پیدا ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

نکاح دیندار سے کرو

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت سے نکاح اس کی دین داری،  اس کے مال اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے کیا جاتا ہے لیکن تم دیندار (عورت) سے نکاح کو لازم پکڑ لو تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔  اس باب میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا،  عبداللہ بن عمرو، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے احادیث آئی ہیں۔(با ب عورت سے نکاح کن باتوں کے سبب کیا جاتا ہے،جلد دوم، الترمذی، صحیح ابن ماجہ1758، سنن الترمذی حدیث 1086) *وضاحت:* بخاری و مسلم کی روایت میں چار چیزوں کا ذکر ہے چوتھی چیز اس کا حسب ونسب اور خاندانی شرافت ہے۔  یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ دیندار عورت ہی صحیح معنوں میں نیک چلن شوہر کی اطاعت گزار اور وفادار ہوتی ہے جس سے انسانی معاشرتی زندگی میں خوش گواری آتی ہے اور اس کی گود میں جو نسل پروان چڑھتی ہے وہ بھی صالح اور دیندارہوتی ہے۔  اس کے برعکس تین طرح کی عورتیں عموماً انسان کے لیے زحمت اور اولاد کے لیے زحمت و بگاڑ کا باعث ہوتی ہے۔ تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔ (یہاں بددعا مراد نہیں بلکہ شادی کے لیے جد وجہد و کوشش پر ابھارناہے) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

عورتوں سے حسن سلوک کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی کا اوپر والا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہوتاہے۔  پس اگر اسے سیدھا کرنا چاہو تو توڑ دو گے اور اگر (اپنے حال پر چھوڑ دو تو ہمیشہ ٹیرھا رہے گا) پس عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔(بخاری شریف، راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر:5184) بخاری و مسلم کی روایت میں ہے عورت پسلی کے مانند ہے اگر اسے سیدھا کروگے تو توڑ دوگے اور اگر اس سے نفع اٹھانا چاہوگے تو اس کے ٹیڑھا پن کے باوجود نفع پاؤگے۔(بخاری شریف، راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حدیث 3331) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی مومن کسی ایماندار عورت سے بغض نہ رکھے اسے اس کی کوئی بات ناپسند ہو تو دوسری بات پسندہوگی۔ (مسلم شریف، باب عورتوں کے ساتھ خوش خلقی کے ساتھ پیش آنا) انسانیت کا منشور جو آقا ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر دنیا کو دیا جس کی کئی اہم شقیں اقوامِ متحدہ(UNO) نے اپنے منشور میں شامل کی ہیں۔ حجتہ الوداع کے خطبہ میں آپ نے حمد و ثنا کے بعد وعظ و نصیحت کی پھر آپ نے فرمایا: سنو! عورتوں سے حسنِ سلوک سے پیش آؤ، بے شک وہ تمہاری قیدی ہیں تم ان سے جماع(Mutual Sex) کے سوا ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو۔ سنو!بے شک تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں اورتم پرتمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں ان کے سبھی حقوق ادا کرو۔ ان پر تمہارا حق ہے کہ وہ تمہارے نا پسندیدہ لوگوں کو تمہارے بسترروندنے نہ دیں۔(یعنی عزت و ناموس کی حفاظت کریں) اور سنو!تمہارے ذمہ ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کے لیے اچھا لباس اور اچھا کھانا مہیا کرو۔(بخاری ومسلم، حدیث نمبر 5023)

سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ آپ نے ’’ *تبتل*‘‘ *یعنی عورتوں سے الگ رہنے کی زندگی سے منع فرمایا۔  اگر نبی کریم ﷺ انہیں اجازت دیتے تو ہم تو خصی ہی ہوجاتے۔ (بخاری،  باب مجردرہنا اپنے کو نامرد بنادینا منع ہے) راوی احمد بن یوسف ابراہیم بن سعد، ابن شہاب،  سعید بن مسیب رضی اللہ عنہم، حدیث نمبر 5073) عورتوں پر اسلام کے احسانات بے شمار ہیں۔  چھوٹے سے مقالے میں سمیٹنا ممکن نہیں۔  عورتوں کے ہر طرح کے حقوق کی پاسداری اسلام میں ہے۔ اسی لیے حکم ہے شوہر کو چاہیے کہ بیوی کے فطری جذبات واحساسات کاپاس و لحاظ رکھے اور زیادہ دنوں تک بیوی سے جدا نہ رہے۔ اور اگر جدا رہنے کی مجبوری ہے تو اسے چاہیے کہ بیوی کوساتھ رکھے تاکہ حقِ زوجیت بھی ادا ہو اور دونوں پر سکون زندگی گزاریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہلِ بیت کے پاس بہت سی عورتیں اپنے خاوند کی شکایت لے کر آتی ہیں ایسے لوگ پسندیدہ نہیں ہیں۔(ابو داؤد) عورتوں کو مار پیٹ کرنے سے لوگوں کو آپ ﷺ نے ناپسندفرمایا۔ آجکل مردوں کے اندر عام مزاج بن گیا ہے۔  جہاں مزاج کے خلاف کچھ ہولگے مارنے پیٹنے۔  اس حدیث پاک سے ایسے لوگوں کو عبرت حاصل کرناچاہیے۔ عورت پر ظلم و ستم کرنے سے گھریلو زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ فیملی لائف عذاب کی طرح گزرتی ہے۔ اس کا مداوا، اس کا حل صرف یہی ہے کہ اللہ کے رسول کے احکامات پرعمل پیراہوں۔ عورت کے ٹیڑھے پن کے باوجود ان سے فائدہ اٹھائیں یہ حسن سلوک سے پیش آنے پر ہی ممکن ہوگا۔ بہت سی احادیث و آیات کریمہ میں اس کی وضاحت ہے۔ عورت کے کئی روپ ہیں۔  بیٹی، بہن، بیوی، ماں کچھ دوسرے پہلو پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔

عورتوں پر اسلام کے احسانات

بیٹی نعمتِ الٰہی

اللہ رب العزت کی تخلیق میں انسان کو بہت عزت و وقار حاصل ہے۔ یقیناًہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدافرمایا( قرآنی مفہوم) اور اس میں عورت کی پیدائش کا ذکرپہلے فرمایا۔ (القرآن سورہ شوریٰ، آیت 50-49)

ترجمہ: اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت۔ پیداکرتاہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں ملادے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے۔ بے شک وہ علم و قدرت والا ہے۔ (کنز الایمان) اللہ نے پیدائش کے ذکر میں بیٹی کا ذکر پہلے فرمایا۔ اس سے بڑی عزت و عظمت اور کیاہوگی۔ احادیث میں بھی فضیلتیں موجود ہیں۔ بیٹی جو آگے چل کر بہن اور ماں کا روپ دھارن (اختیار) کرتی ہے اور پھر ماں کی اہمیت اللہ کے نزدیک بہت ہے۔ ماں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وہ خوبصورت عطیہ ہے جس میں اللہ نے اپنی رحمت،  فضل، کرم، رحیمی، برکت،  راحت اور عظمت کی آمیزش شامل فرماکرعرش سے فرش پر اتارا اور اس کی عظمتوں کوچار چاند لگا دیا۔ قرآن کریم میں ارشاد باری ہے۔ وَعْبُدُواللّٰہَ وَلاَتُشْرِکُوْ بِہٖ شَیْئاً وَّ بِاالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً۔(القرآن،  سورہ نساء، آیت 34)

ترجمہ: اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو۔(کنز الایمان)دوسری جگہ اس طرح حکمِ الہٰی ہے۔ (القرآن، سورہ بقرہ،آیت 82)ترجمہ: اور یاد کرو جب لیا تھا ہم نے پختہ عہد بنی اسرائیل سے (اس بات کا) نہ عبادت کرنا بجز اللہ کے اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔ والدین کی عظمت کا ثبوت اس سے بڑا اور کیا ہوسکتا ہے کہ رب نے اپنے اسم جلالت کے ذکر کے ساتھ والدین کی خدمت کا حکم دیا۔ اور دوسری آیت میں ماں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ماں کی عظمت کا بھی اعلان فرمایا۔ (القرآن، سورہ احقاف، آیت 16)

ترجمہ: اور ہم نے آدمی کو حکم دیا کہ اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے۔ اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا(پیدا کیا )اس کو تکلیف سے اور اسے اٹھائے رکھا پھرنا اور اس کا دودھ چھڑایا تیس(30) مہینے میں۔(کنزالایمان) ماں باپ اگر کافر ہوں تب بھی ان کی خدمت اولاد پر لازم ہے کیونکہ والدین کا حکم مطلق ہے۔ رب تعالیٰ نے فرمایا۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حق الخدمت ماں کا زیادہ ہے کیونکہ ماں کی تکلیف کا بیان ہے اور یہ کہ ماں نے بچہ کو خون پلا کر (خون سے ہی دودھ بنتا ہے) پالا اور باپ نے محنت کرکے کمائی کی اور پرورش کی۔ ماں کی تکلیف کو وجہ بتایا گیا نیز ماں اگر خاوند سے اجرت لے کر بھی بچے کو پالے جب بھی ماں کا حق اولاد پر قائم رہے گا۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے فرعون سے اجرت لے کر پالا اور پرورش فرمائی۔ (تفسیر نورالعرفان، صفحہ803)

اللہ جل شانہٗ اور اس کے پیارے محبوب ﷺ نے بندوں کے حقوق کو واضح طور پر بیان فرمائے بلکہ ان پرعمل پیرا ہونے کی تاکید بھی فرمائی تاکہ خاندانی زندگی اور معاشرتی زندگی پر سکون گزرے۔  اگر مسلمان حقوق العباد کی ادائیگی کاپاس و احترام کریں تو صالح معاشرہ کے لیے آج تمام تنظیموں و جماعتوں کا رونا بند ہو جائے اور مقدمہ بازی اور کورٹ کے چکر سے نجات میں رہے۔ عورتوں سے حسنِ سلوک اسلامی تعلیم کا حصہ ہے۔  نکاح و طلاق وراثت سب میں عورتوں کے حقوق واضح طور پر بیان کیا اور لاگو کیاگیا۔ خواہ بیٹی ہو، بہن ہو، ماں ہویا بیوی آج بھی  اسلام دشمن و مسلمان بیزار میڈیا (Media)و جماعتیں واویلا مچا رہی ہیں، عورتوں پر ظلم ہورہا ہے۔ یہ اسلام و مسلمانوں کے خلاف شعوری طور پر سازش ہے اور کچھ نہیں۔  قرآن کریم میں رب تعالیٰ کا صاف صاف ارشاد گرامی ہے۔ وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِاالْمَعْرُوْفِ ( سورہ البقرہ:2٫ آ یت 228) ترجمہ: عورتوں کے حقوق مردوں پر اسی طرح ہیں جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں اچھے سلوک کے ساتھ۔ حقوق انسانی میں تمام مر دو عورت کے مساوی حقوق،  اخلاق اور احسان،  عبادات میں مردکے برابر ہیں۔ہم تمام مسلمانوں کا یہ اسلامی فریضہ ہے کہ اپنی بیویوں کو عزت و وقار سے رکھیں ان کے حقوق کی ادائیگی میں رب تعالیٰ سے ڈریں اور حقوق پامال نہ کریں۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کوخاندان و اسلامی عائلی قوانین کی جاننے اور اس پرعمل کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین!-

تبصرے بند ہیں۔