وؤمنز ڈے: یہ جشن  تیرے درد کا درماں نہیں

رشید پروین ؔ سوپور

[ہم جائز اور ناجائز کی تمیز کھو بیٹھے ہیں، ہم نے قوانین  طبیعت  کی خلاف ورزی کر کے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کا مرتکب سزا پائے بغیر نہیں رہ سکتا، جب بھی کوئی شخص زندگی سے ناجائز امر کی اجازت لے لیتا ہے۔۔ زندگی اس کے جواب میں اس سے کمزور بنادیتی ہے۔]

 یہ الیکسس کاریل کے الفاظ ہیں اور ہمیں ان پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ۸ مارچ کو عالمی سطح پر یوم خواتین  بڑی  دھوم دھام اور تزک و احتشام کے  ساتھ منایا جاتا ہے،  دنیا کے سارے بڑے ادارے اور شخصیات خو اتیں کی عظمتوں کو جہاں سلام کرتے ہیں وہاں اس کی رفعتوں کو بھی اجاگر کرنے کی کوششیں کرتے ہیں اور اس کے وجود سے کائنات میں جو رنگ ہیں  انہیں اپنی تقاریر اور بیانات کی زینت بناتے ہیں، لیکن اسی روز دنیا کے مختلف ممالک، شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں ’’عظیم عورت ‘‘کا  جسم  حسب معمول  تار تار ہو تا رہتا  ہے اور معمول کے مطابق ہی لاکھوں عورتیں بے آبرو ہوتی رہتی ہیں۔عورت کی عزت، عصمت اور آبرو کے تحفظ کی باتیں، انہیں مساویانہ حقوق اور برابری کے درجے دینے کے وعدے حسب روائت الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنتے  ہیں ، انصاف کے مندروں۔  اور ملک کے قانون ساز اداروں میں وہ  لوگ، عورتوں کو دیویوں کا درجہ عطا کرتے ہیں جن  پر آبرو ریزی اور اس کے بعد قتل کے درجنوں مقدمات بھی درج ہیں  اور زمینی سطح پر اس  دن بھی جنسی تشدد، عصمت دری، آبرو ریزی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا،  اعداد و شمار آپ خود بھی جمع کرسکتے ہیں،اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تہذ یب و تمدن جس سے ممالک کی اخلاقی اقدار جڑی رہتی ہیں، کہاں اپنے صحیح راستے سے بھٹک چکے ہیں ؟ کہاں سماج کا راستہ اپنے درست اور سیدھے راستے سے ایک ایسے راستے پر گامزن ہوا ہے جہاں اس کا انجام ہر صورت میں تباہی اور بر بادی کے سوا کچھ نہیں،اب پھر ایک بار اوپر، الیکسس کے پیراگراف کو پڑھ لیجئے، تو آپ کو اس پیرا گراف  میں اسلامی فلاسفی  کی پر چھائیاں تہذ  یب و تمدن کے لحاظ سے واضح نظر آئیں گی، اور یہ زوال پزیر تہذیب و تمدن  کے تجزئے پر کوزے میں سمندر بند ہے۔ اس پر ہر دانشور اور سماج کے ہمدردا ور غمخوار کو غور کرنا چاہیے اور خصو صاً ہمارے سوشیو اکنامک ایکسپرٹس کو جو مارکس اور سگمنڈ فرائڈ کی ہر لمحے قئے کرتے رہتے ہیں، دنیا کے بیشتر ممالک  نے اس دن کو قومی سطح پر ہولی ڈے قرار دیا ہے اور دنیا کے بہت سارے ممالک امریکہ، آذر بائجان، بیلاروس کمبوڈیا اور درجنوں ممالک نے اس روز عورتوں کی چھٹی کا اعلان کر رکھا ہے،  لیکن سوال یہ اہم ہے کہ، ان ممالک میں کتنے ریپ کے مجرموں کو سزا ملی ہے، کس تیزاب پھینکنے والے کو سزائے موت دی جاچکی ہے اس کے باوجود کہ سماج کا ہر حساس فرد اس مجرم کی سزا اس سے کم کسی سزا پر اتفاق نہیں کرتا، اوریہ کہ ہر روز ان کیسوں کا اوسط کیا ہے؟

 اعداد و شمار آپ خود اپنے ملک اور گوگل سے دیکھ سکتے ہیں، جن سے رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ۱۹۱۳ء ا ور ۱۹۱۴ء میں ۲۹ فروری کو پہلی بار روسی خواتین نے وؤمنز ڈے کو منایا اور اپنی حکومت کے سامنے بھی اپنے مطالبات رکھے اس کے بعد مختلف ممالک کی خواتین نے ۸ مارچ کا دن یوم خواتین کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا اور تب سے ہر برس اس دن کے لیے ایک موضوع کا انتخاب کیا جاتا ہے جس پر تقریریں، سیمنار اور ڈبیٹس ہوتے ہیں،  اکیسویں صدی میں بھی جب ایسا سوچا جارہا ہے کہ انسان ترقی اور تہذیبی طور پر اب بلند و بالا مقام پر ہے، عورت کے معاملے میں وحشی درندوں سے بھی گیا گذرا کیوں ہے ؟ آپ بھارت کے صرف پچھلے ایک سال کے اعداد و شمار دیکھئے تو یوں ظاہر ہوتا ہے کہ جنگلی درندے سڑکوں پر بے دریغ بغیر کسی خوف و خطر کے دندناتے پھر رہے ہیں۔

  مغرب  میں اس سے بدتر حال ہے اور نام نہاد مسلم ممالک کی عزت مآب خواتین، ’’ میرا جسم میری مرضی ‘‘ کا نعرہ سڑکوں پر دے کر اپنے ترقی یافتہ ہونے کا ثبوت پیش کر رہی ہیں،  اس سیلاب کو یہ نازک اور کمزور بنیادوں پر استوار  تہذیب کیسے روک پائے گی؟ اس شاخ نازک پر جو آشیانہ بنے گا ناپائدار ہی ہوگا۔ کیونکہ در اصل اس  وحشیت اور درندگی کی جڑیں کہیں اور پیوست ہیں جہاں تک اب دانشوروں کی نگاہیں نہیں جاتیں یا اگر جاتی ہیں تو انہیں ہر بہتر تدارک میں اسلامی تعلیمات، اور اقدار کا عکس فو راً ہی دکھائی پڑتا ہے، آج کا تہذیب یافتہ اور ترقی پسند، ماڈرن انسان یہ یقین کئے ہوئے ہے کہ اب کسی مذہب  اور دین کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان فرسودہ دقیانوسی باتوں کے بغیر بھی انسان بہتر زندگی گذار سکتا ہے،  اس کا یقین ہے کہ خدا بیزار، سیکولر تہذیب میں انسان کی بقا  اور فلاح چھپی ہے۔ وہ اس بات پر کبھی غور نہیں کرتا کہ انسان کو خلق کرتے وقت جن عناصر کی خمیر سے گوند کر تعمیر کیا گیا ہے آج بھی بنیادی طور پر وہی عناصر  اپنی پوری قوت کے ساتھ اس میں موجود ہیں  اور لاکھوں برسوں میں کوئی نئی چیز اس کی خمیر میں داخل نہیں ہوسکی ہے  اور نہ کسی علمی بحث سے ختم ہوئی ہے، لیکن یہ حقیقت، اس ’’نئے انسان‘‘اور نئے تہذیب یافتہ ’’عقل کے اندھے کو نظر نہیں آتی، کیونکہ یہ سوچ و فکر ا نسان کو اسلام کے نور سے قریب تر کردیتی ہے۔   اس لیے معاشرے میں نہ تو ستھرائی اور نہ ہی جرائم نارمل سطح پر مقفل ہوجاتے ہیں، عورت کا اصل مقام اور تحفظ عصمت و آبرو خالق کائنات کی صرف دو تین آیتوں میں یوں ہیں اور اس کی نشانیوں میں سے ا یک یہ کہ اس نے تمہارے واسطے تمہارے جنس ہی سے تمہاری بیبیاں پیدا ا کیں تاکہ تمہیں ان کے پاس آرام ملے اور تم میاں بیوی میں ’’مودت اور ہمدردی ‘‘  پیدا کی ‘]‘ مختصر دیکھا جائے تو رب کائنات نے عورت کی تخلیق اور تخلیق کے بعد اس کی حثئیت اور مقام کا اعلان فرمایا ہے، آرام کے مفہوم سکون، راحت اور اطمینان اور اللہ کی مرضی یہی ہے، اور یہ کہ دونوں میں ’’مودت ‘‘  پیدا کی، محبت، عشق اور والہانہ چاہت سب جنسی مراحل ہیں زندگی کے مختلف زینوں پر ان کے درجے بھی مختلف ہیں لیکن یہ سارے ادوار گذرنے کے بعد بھی’ مودت ‘باقی رہ جاتی ہے، اور یہی خاند انوں کی تشکیل میں بنیادی اکائی بھی ہے،  (محمد قطب)  ان دو کے ملنے سے ہی اللہ کی کائنات آگے بڑھتی  ہے۔

جب اللہ کے ہاں یہ اتنی بڑی بات اور اس قدر اہم جذبہ ہے تو اسی لحاظ سے یہ اتنا ہی متبرک اور پاکیزہ  بھی ہونا چاہیے اور قرآن حکیم نے مرد عورت کے مابین بہترین حدود مقرر کر رکھی ہیں مرد کو جنسی کیڑا ہونے کے بجائے اعلیٰ اقدار، پھر ڈر اور خوف اور پھر سزا تینوں چیزوں  کا ادراک کراکر اس پر قدغن عائد کرتا ہے اور ونہیں پر عورت سے بھی چند مطا؛لبات اور ضوابط کا تقاضا کرکے اعتدال کی صورت پیدا کرتا ہے،  ’(’ آپ مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اسی طرح مسلمان عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی زینت کے مواقع کو ظاہر نہ کریں، )،، (النور ۳۰ سے ۳۱ تک پورے احکاما ت )  ’’بلا سبب  اختلاط مرد و زن۔ اور عورت کا لوگوں کو ورغلانے اور فتنہ میں مبتلا کرنے کے لیے بن سنور کر نکلنا، یہ دو بنیادی اسباب ہیں جنہوں نے مغربی معاشرے کو تباہ کیا ہے اور جس کی نقل میں ہم سب کچھ کھو بیٹھے ہیں ‘‘( محمد قطب )، اور  تاریخٰ مطالعہ ہمیں ان نتائج تک پہنچاتے ہیں کہ دنیا کی ساری بڑی تہذیبیں بلکل اس اختلاط مرد وزن اور بے راہ روی سے ہی صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں، ،اسلام ان باتوں کو جائز نہیں ٹہھراتااور نہ اس طرح کے سماج کی تشکیل کو جائز سمجھتا ہے، لیکن رائتی پردہ۔ اخفا اور محرومی بھی اسلام کا مقصود نہیں، رسول اﷺ کے زمانے میں عورتیں کام دھندے کے لیے گھر سے باہر نکلتیں۔ جہاد میں حصہ لیتیں، عورتوں کو تعلیم دیتیں، اسلام کے بغیر کسی اور مذہب میں یہ ممکن نہیں کہ عورت اپنے حقوق اور آزادیوں کا مطالبہ کر سکے کیونکہ یہ سب حقوق صرف اسلام نے دنیا کی تاریخ میں عورت  عطا کئے ہیں، ، ظاہر ہے کہ مکمل اور مغربی آزادی جو آج رائج ہے کبھی امن و سکون اور کبھی کسی بھی حال میں زمینی  سطح پر نہیں دیکھی جاسکے گی، کیونکہ یہ اس فطرت ہی کے خلاف ہے جس پر آدم اور حواکی تخلیق کی گئی، اس سے سمجھانے کے لیے بلکل ایک آسان سی مثال پیش کروں  جو ابھی چند دن پہلے ہوئے واقعے سے سمجھ میں آجاتی ہے، ، ایک انڈین چنل  پر دو لڑکیوں سے اینکر بیان لے رہا تھا جن کو کئی اشخاص نے ابھی چند روز پہلے رات کی تاریکیوں میں کئی گھنٹوں تک کہیں یرغمال بنائے رکھااور ان کی آبرو ریزی کی، ، یہ واقع کب اور کیسے پیش آیا، ،،’’ اس کے جواب میں لڑکی کہہ رہی تھی ہم دو لڑکیا ں اپنی ڈانسنگ پارٹی  کے اختتام پر گھر لوٹ رہی تھیں تو ہماری گاڈی روکی گئی‘‘، ،،، آپ ڈانسنگ پارٹیوں میں بھی رات کے ایک بجے دو بجے تن تنہا، شاید نیم مدہوشی کے عالم میں گھر کی طرف آجائیں گی اور یہ تصور بھی کریں گی کہ دنیا کے سارے لوگ اب فرشتے ہوچکے ہیں، ،،تو یہ سوچ فطرت اور انسان  کی اس خمیر کے مخالف ہے جس سے اس کی تخلیق کی گئی ہے اسی لیے رب کائنات نے اسکے حدود اور دائرہ کار بھی منتخب کر رکھے  ہیں۔۔ ، ( فطرت کا اٹل فیصلہ ہے کہ شہوتوں کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا، ، سوائے اس کے کہ ان پر ضبط اور انہیں ان دائروں میں مقید کیا جائے جو رب کائنات نے ان کے لیے وضح کئے ہیں اور مرد کو بھی سزا، ڈر اور خوف سے بے لگام ہونے سے روکا جائے، ، اور یہ فلاحی اور محفوظ معاشرہ اس مغرب کی تراشیدہ آزادی میں ممکن ہی نہیں۔۔  اور ان سب ایام کے جشنوں میں عورت کا درماں نہیں۔

تبصرے بند ہیں۔