احتساب اور قانون سب کے لیے برابر

 راجہ طاہر محمود

پاکستان دنیا کا شاید وہ واحد ملک ہے, جہاں امیر کے لیے اورقانون اور غریب کے لیے اور ہے یہاں امیر اپنی دولت کے بل بوتے پر جرم کر کے بھی بچ جاتا ہے۔ جبکہ غریب آدمی ناکرداہ گناہوں میں پھنس جاتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اپر کلاس قانون کو گھر کی لونڈی سمجھنے لگے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارے قانون میں وہ سقم ہیں، جو جرائم پیشہ افراد کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ گو کہ ہم نے یہ سقم کھبی دور کرنے کی مخلص کوشش ہی نہیں کی۔ کیونکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو پتا ہے کہ اگر انھوں نے یہ سقم دور کر دیے تو وقت ان کو کھبی بھی انصاف کے کٹہرے میں لا سکتا ہے اور وہی یہ لوگ ہیں جو اپر کلاس طبقہ کہلاتاہے۔

ایسی صورت حال میں ان کے لیے سوائے موت کے اور کوئی سزا ہو ہی نہیں سکتی۔ اسی وجہ سے آج جرائم پیشہ افرادسینکڑوں کیسوں میں براہ راست ملوث ہونے اور اربوں کھربوں کی کرپشن کر کے بھی سونے کے تاج پہنتے ہیں اور عوام ان پر منوں پھولوں کی پتیاں نچاور کرتے ہیں اور کوئی غریب کسی بینک کے بیس ہزار روپے کے لیے قید کر دیا جاتا ہے یہ ا س کا گھر نیلام ہو جاتا ہے۔ وجہ کیا  ہے ؟وجہ صاف ہے کہ جو جتنا بڑا ڈاکا ڈالتاہے وہ اتنا ہی معتبر بن جاتا ہے۔ سابق دور میں سابق وزیر اعظم پر جب نیب میں رینٹل پاور کیس چل رہا تھا تو تفتیشی  افیسرجو اسی دوران خود کشی کر گئے جو کہ ایک معمہ بنی رہی اور جن کا کیس شاید کب کا فائلوں میں دب چکا ان کا کہنا تھا کہ اگر میں اپنے دوستوں کو بتا دوں کے کرپشن ہوئی کتنے کی تو میرے دوست شاید یقین ہی نہ کریں ۔ہماری قومی دولت پر اتنے اتنے بڑے ڈاکے ڈالے گئے کہ خدا کی پنا ہ اور بعد ازاں اس مال مفت کا جب حساب مانگا گیا تو آئیں بائیں شائیں کر کے معاملات کو ٹالنے کی کوشش کی گئی۔

 ڈاکٹر عاصم ،شرجیل میمن اور اور سیکرٹری خزانہ بلوچستان ان جیسے کئی حکمران آج اربوں کھروں کی کرپشن کے الزامات میں ہیں۔ مگر وہ آزاد ہیں اور انھیں آزادی اتنی کم قیمت میں ملی ہے کہ لوگ شک میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ غریب دس بیس ہزار کیلیے جیل اور یہ لوگ دس بیس ہزار لاکھ لے کر بھی باہر ۔ ہمارے حکمران آنے والے وقت کو کیش کرتے ہیں اور جاتے وقت کو خوب برا بھلا کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب گزشتہ ایک دہائی سے پنجاب کے کرتا دھرتا ہیں۔ ہر بار وہ یہی نعرہ لگاتے ہیں کہ صوبے کے مسائل سابق دور کے ہیں، تو پھر کیا ان سے بڑا کوئی نااہل ہو سکتا ہے، جو دس سال سے حکمرانی کر رہا ہے اور ان مسائل کو ختم نہیں کر سکا بات صاف ہے۔ ہم لوگ صرف سامنے آنے والی چیزوں کو دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں۔ مگر ان کی گہرائی میں نہ کھبی یہ قوم گئی ہے اور نہ ہی جائے گی۔ کیونکہ ہم حقیقت پسند قوم بن ہی نہیں سکے۔

ہمارے ملک میں قانون نام کا ہے تو مگر امیروں کے لیے نہیں صرف غریبوں کے لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ تمام طبقات کے لیے ایک ہی قانون ہو۔سیاستدانوں اور دوسرے طبقوں کے احتساب کے لیے الگ نہیں ملک کو آمروں ، سیاست دانوں نے بیروکریٹوں نے نقصان پہنچایا ہے اپنے زرا سے فائدے کے لیے پوری قوم کوبھکاری بنا دیا  پاکستان کو جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اور جس مقصد کے لیے قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر نے جدوجہد کی آج وہ تبدیل ہوچکا ہے ہم بانی پاکستان کی تعلیمات اور نظریہ کو کھو چکے ہیں قائداعظم کا پاکستان بنانے کا مقصد فلاحی ریاست کا قیام تھا  اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اپنا حق ملنا شروع ہوا ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تعلیم اور صحت کسی کی ترجیحات میں شامل نہیں نیب کرپشن ختم کرنے کا نہیں بلکہ اس کے بڑھانے کا سبب  بن رہا ہے من پسند افراد سے ڈیلیں کی جا رہی ہیں اور جو ان کی مرضی سے ڈیل نہ کرئے اسے لمبی سے لمبی سزا کا اختیار ان کے پاس موجود ہے اس سے کیا ثابت ہوتا ہے نے مختلف طبقات کے لیے احتساب کے الگ الگ نظام قائم کیے ہوئے ہیں جس کو بدلنے کی ضرورت ہیاسلامی تعلیمات کے مطابق وہ قومین تباہ ہوئی جنھوں نے غریب کے لیے قانون سخت اورامیرکے لیے نرم قانون کا نفاذ کیا آئین کے تحت قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور ہر طبقے کا احتساب ہونا چاہیے اس کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے۔

قیام پاکستان سے اب تک کس طبقے نے پاکستان کو نقصان پہنچایا امروں نے اپنی امریت کو قائم رکھنے کے لیے سیاست دانوں نے اپنے اقتدار کی خاطر ہر چیز کو اپنی مرضی سے مرتب کرنے کی ناکام کوشش کی ہوا کیا آج وہ لوگ منوں مٹی تلے ہیں جن کے ایک اشارے سے نظام مملکت رک جایا کرتا تھا میں یہاں کسی ایک طبقے کو مورد الزام نہیں ٹھرانا چاہتا  اور نہ ہی سیاست دانوں کو بلکل پاک صاف کہہ رہا ہوں  اور نہ ہی سیاستدانوں کو دیانت کا سرٹیفکیٹ دیا جاسکتا انہیں لوگوں کا ہے جو دبئی’ لندن اور سوئس بنک کھاے سب کچھ قوم کے سامنے ہے اسے قطعاً منفی پروپیگنڈہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیاجاسکتا حقیقت یہی ہے اور اسے تسلیم کرنے میں کوئی مصلحت نہیں ہونی چاہیے کہ دونوں  بڑی جماعتوں کے سیاستدان جو بار باری اقتدار میں آتی رہیں انہوں نے کرپشن کی چاہے وہ سامنے آئی یا چھپی رہی اور اپنے عمل و اقدامات سے معاشرے کو کرپشن فری بنانے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی اسی لیے ہم پستی سے پستی کی طرف ہی جاتے رہے۔

ہم آج اندھیروں میں گم ہیں ہم وہ واحد قوم ہیں جو ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود توانائی کی کمی کا شکار ہیں وجہ ہے کرپشن ہمارے حکمران ہم پر خرچ ایک روپے کرتے ہیں اور کھاتوں میں ہزاروں بھرتے ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ایک ادارہ ہے مگر وہ ان کو پوچھنے سے قاصر ہے کیونکہ ان کا دارومدار بھی انھیں لوگوں کے پاس ہے ،سوال یہ ہے کہ ہم کب ترقی کریں گے ؟جواب یہ ہے کہ جب ہمارے ہاں صحیح معانوں میں جمہوری نطام کی جڑیں مضبوط ہو جائیں گی اور آئین و قانون کی بالادستی یقینی ہو گی ضرورت اس امر کی  ہے کہ ملک میں ایک بے رحم اختساب کیا جائے اس کیلیے ضروری ہے کہ اختساب اور قانون سب کے لیے برابر کر دیا جائے۔

تبصرے بند ہیں۔