اسرائیل اور ہندوستان: ایک نظر میں

محمد صالح انصاری

اس وقت عالمِ اسلام اک شدید کشمکش کی حالت میں ہے اگر ہم نظر دوڑا کر دیکھیں تو دنیا کے ہر خطے میں جہاں جہاں مسلمان ہے وہاں پر ان کے ساتھ ظلم و بربریت اور ناانصافی عام بات ہو گئی ہے۔ ہر طرح سے ان کو ستایا جا رہا ہے پریشان کیا جا رہا ہے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ چاہے وہ میانمار ہو چاہے عراق، شام لیبیا ہو یا مصر ہو ہر جگہ پر کچھ ایسا ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔

لیکن ان حالات کو دیکھ کر ہمیں ڈرنا نہیں ہے ہمیں  ہارنا نہیں ہے۔ کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو وہ اپنی آخری سانس لیتے ہوئے مٹ جاتا ہے۔ اور یہی کچھ اس وقت اسلام کو لے کر ہو رہا ہے۔ اور جو کچھ اسلام کے بارے میں یا اسلام پر کیچڑ اچھالنے جارہے ہیں وہ سب ان باطل طاقتوں کی تلملاہٹ ہے ہیں جو ان کے چین و سکون کو حرام کیے ہوئے ہے اور اس کی وجہ سے سے ہر جگہ مسلمانوں کو پریشان کر رہے ہیں، ان پر ظلم زیادتی کر رہے ہیں۔

پچھلے دنوں ایسا ہی کچھ کچھ اسرائیل میں دیکھنے کو ملا جہاں پر فلسطینیوں پر ظلم اور بربریت کے جو منظر ہم لوگوں کے سامنے آئے وہ بہت ڈراؤنے دل کو دہلانے والے اور دل کو جھنجھوڑ دینے والے تھے۔ جو اہل ایمان کے لیے پختہ ایمان کی نشانی لے کر آئے تھے۔

حضرات اگر ہم ہم فلسطین کے واقعے کی تہہ میں جا کر دیکھنے کی کوشش کریں تو ہم نے یہ ہے دیکھا کہ یہاں پر اسرائیلیوں کا کا کئی سال پہلے کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ اور دھیرے دھیرے یہاں پر اپنی بستی آباد کی اور اس کے بعد بستیوں پر بستیاں بناتے چلے گے اور ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے اپنی سرکار تک بنا لیں۔ حد تو تب ہو جاتی ہے جب یہ لوگ اپنی چالاکیو اور بدمعاشوں کی وجہ سے حکومت قائم کر لیتے ہیں اور فلسطینیوں کو کنارے کھڑا کر دیتے ہیں۔

حضرات میرے پاس وقت نہیں ہے کہ میں تاریخ کی تہہ میں جاؤ اور آپ کو واقعات در واقعات بتاؤں کہ کس طریقے سے اسرائیل کو دنیا کے نقشے میں ہر جگہ پریشان کیا گیا ان کو بھگایا گیا ان کی بدمعاشیوں کی وجہ سے سے انہیں نکالا گیا انہیں ملک بدر کیا گیا۔ لیکن اتنا جان لیجیے یہ ایک ایسی بدمعاش اور چالاک قوم ہے ہے جس کی چالاکیوں اور بدمعاشوں کی وجہ سے دنیا کے کسی خطے میں ان کو جگہ نہیں ملی۔ایک وقت ایسا آیا ان لوگوں نے اپنی جگہ کے تلاش کے لیے فلسطین کو چنا اور وہاں پر اپنی آبادی بنانے کے لیے دنیا کے کونے کونے سے اسرائیلیوں کو اکٹھا ہونے کی دعوت دینے لگے اور اس کے بعد ان کا وہ خواب اب سر تعبیر ہوتا ہے۔ اور وہ اسرائیل میں آخر بستیاں بنا کر آج اس حالت میں پہنچے ہیں۔

حالیہ جو تنازع ہے ہے اس میں اکثر لوگ یہ سوال کرتے  ہیں کہ فلسطین کی طرف سے حماس نے جس طریقے سے کارروائی میں پہل کی ہے اس کو کچھ لوگ غلط نظریے سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن میں آپ کو بتاتا چلوں کہ حماس نے کبھی بھی پہل نہیں کی اور نہ ہی جنگ کی راہ ہموار کی۔ جنگ  کی راہ تو اسرائیلیوں نے شروع کی تھی۔ کہ جب انہوں نے ویسٹ بینک اور غزہ کے علاقوں میں زمینوں پر قبضہ کر کے مکانوں کو آباد کرنے کی کوشش کی۔ وہاں کے لوگوں کو گھروں سے نکالنے کی کوشش کی، ان کے گھروں پر ناجائز قبضے کا الزام لگا کر ان کو باہر کرنے کی کوشش کی۔ وہاں کی عورتوں کو پریشان کیا گیا۔ وہاں کے بچوں کو پریشان کیا گیا۔ اور حد تو تب ہو جاتی ہے جب رمضان کے مہینے میں فلسطینی مسجد اقصی میں نماز ادا کر رہے تھے اس وقت ان پر جس طریقے سے ظلم اور بربریت کی گئی, وہ درد ناک تھا۔

 آپ کو جھڑپ کے نام پر دنیا صرف ایک ہی نقطے کو دکھاتی ہے اور دوسرے کو دکھانا بند کر دیتی ہے۔ بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ حماس نے جلدی کی۔ حماس نے پہل کی اور جنگ کا آغاز کیا۔ لیکن میں بتا چکا ہوں آپ کو کہ حماس نے پہل نہیں کی تھی بلکہ اسرائیلی فورسز نے جس طرح کے ظلم و ستم ڈھائے۔ اس کی وجہ سے حماس کو یہ لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دھیرے دھیرے یہ لوگ اپنی چالاکیاں اور ان کی بدمعاشیاں بڑھتی جائیں اور یہ لوگ مسجد اقصیٰ پر قابض ہو کر اگر آپ نے ٹیمپل بنانے کے خواب کو تعبیر کر لیں۔یہی وجہ تھی  جس کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے بیچ جنگ شروع ہوئی جس کو ہم نے اور پوری دنیا نے دیکھا۔

خوش آئند پہلو یہ رہا کہ اسرائیل بہت جلدی اپنی ناکامیوں اور اپنی بدمعاشیوں کی وجہ سے دنیا کی نگاہوں میں گر گیا اور امریکہ قطر جیسے ملکوں کی وجہ سے اس نے کریک ڈاؤن کیا۔کچھ لوگ اس معاملے کو اس طریقے سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ وہاں پر نتن یاہو کی جو سرکار تھی وہ اس وقت وقت بہت برے دور سے گزر رہی تھی اور جس وقت آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہیں اسرائیل میں ایک نئی حکومت بن چکی ہے جس کے وزیراعظم خود بنجامین نتنیاہو کے وقت میں سیکرٹری رہ چکے تھے آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کی اس نئے وزیراعظم کی پالیسیاں کیا ہوگی اور وہ وہ فلسطین کو لوگ کیا سوچتے ہیں۔

ایسے حالات میں جب وہاں پر ایک نئی ہی حکومت بن چکی ہے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ہیں کہ جس وقت وہاں کے جنگی ماحول تھے اس وقت وہاں پر لوگوں کے دلوں میں، ان کے دماغ میں، ان کے ذہن میں کیا چل رہا ہوگا اور سرکار سے وہ لوگ کتنے ناخوش تھے۔ ہمیں خوش ہونے کی ضرورت نہیں کی حکومت بدل گئی اور سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔ کیونکہ حکومت بدلنے کے دوسرے دن ہی نئے وزیر اعظم نے یہ اعلان کر دیا کہ اسرائیل اپنا قبضہ جاری رکھے گا اور آباد گاری بستیوں کا سلسلہ بھی چلتا رہے گا۔

ایسا نہیں کہ ملک کا منظر بدل گیا

منظر وہی ہے بس اک ستمگر بدل گیا

اب ہم بات کرتے ہیں کہ فلسطین کو لے کر ہندوستان کی حکومت وقت کیا سوچتی ہے۔ تو میں آپ کو بتاتا چلوں کہ آزادی کے پہلے یا آزادی کے وقت سے ہی ہندوستان ہمیشہ سے سے اپنا یہ نظریہ رکھتا ہے، گاندھی کے لفظوں میں کہ جس طریقے سے سے برٹین برطانوی کا ہے امریکہ امریکیوں کا ہے اسی طریقے سے سے فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔ لیکن بھارت میں بھی حالات بدلے، سرکاری بدلی ،جس کی وجہ سے پہلی بار 1992 میں اسرائیل سے اپنے رستے  ٹائم کیے گئے۔ لیکن اس وقت پر قائم کیے گئے تھے جب عرب ممالکاس معاملے میں کچھ نرمی دکھا رہے تھے۔ جس کی وجہ سے ہندوستان کو ایسا لگا کہ جب عرب ممالک کو اس معاملے سے کوئی زیادہ دقت نہیں ہے تو پھر ہمیں اپنا رشتہ قائم کرنے میں کسی طریقے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ ایک دوسری بات یہ بھی تھی کہ اس وقت وقت مسلمانوں نے اس بات کی مخالفت بھی نہیں کی تھی اور ہندوستان میں بابری مسجد کی شہادت کی وجہ سے یہاں بھی ایک عجیب پش و پیش کا عالم تھا۔ بعض میں جب جب اٹل بہاری کی سرکار بنی اس وقت اسرائیل سے اور زیادہ رشتے مضبوط کیے گئے۔

حال کے وقت میں 2014 سے جب سے بی جے پی کی سرکار بنی ہے اسرائیل کے ساتھ رشتے اور زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھارت نے اپنی طرف سے یہ بات کہی کی ہم دنیا میں امن اور سکون چاہتے ہیں۔ اس لیے اسرائیل اور فلسطین کو جنگ بندی کر لینی چاہیے۔

جس طریقے سے حالیہ سرکار نے فلسطینیوں کے ساتھ اپنے رشتے کو کمزور کیا اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ مضبوط کیا ہے ایسے دور میں ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اور فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھاتے رہیں تاکہ حکومت تو اس بات کا اندازہ ہوتا رہی کہ اگر ہم فلسطینیوں سے اپنے رشتے کو کمزور کریں گے تو ہندوستان کی ایک بڑی آبادی حکومت سے ناخوش ہو جائیگی۔

ہماری ذمہ داری ہے کہ  ہم بھلے ہی ان سے دور ہیں لیکن ہمارے دل ان کے ساتھ ہیں ہم ان سے قلبی رشتہ رکھتے ہیں۔ اور اس قلبی رشتے کا حق یہ ہے کہ ہم ان کے لیے اپنے قلم سے۔ اپنی زبان سے ان کے حق میں میں آواز بلند کریں اور دنیا کو بتائیں کہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے اور فلسطین کی سچائی بھائی کیا ہے۔ جس سے یہاں کے لوگوں کو اور یہاں کے حکومت کو بھی اندازہ ہو ہو کہ آخر فلسطین کی سچائی اور اصل حقیقت کیا ہے۔

 یہ ذمہ داری صرف اور صرف ہمی لوگ کر سکتے ہیں کیونکہ ہم یہاں کے شہری ہیں اور ہمیں یہاں لکھنے بولنے کی جمہوری طور پر آزادی ہے اور ہم اس کا جتنا زیادہ سے زیادہ ہو سکتا ہے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ صرف فلسطین کیلیے نہیں بلکہ ہندوستان میں بھی اگر کہیں بھی ناانصافی ہو، کسی پر ظلم ہو، کسی کے ساتھ بد عنوانی ہو، تو ہم اپنے قلم کی طاقت سے دنیا کے سامنے اصل حقیقت کو عیاں کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں سچ بات کہنے سننے اپنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔