امریکی وزیرخارجہ کادورۂ مشرق وسطیٰ: جوڑ کی بجائے توڑ کی کوشش

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

اس دنیامیں بہت ساری باتیں عجیب وغریب دیکھنے کوملتی ہیں، ایسی چیزیں ، جن کے بارے میں آپ کا تصورکچھ اورہوتاہے؛ لیکن وہ نکلتی کچھ اورہیں، انسانوں میں بھی ایسے بہت سارے ہیں، جن کے تعلق سے یہی چیز دیکھنے کوملتی ہے، ان کوہم سمجھتے کچھ ہیں اوروہ نکلتے کچھ ہیں، اس دنیامیں کچھ حکومتیں بھی ایسی ہی ہیں، جواپنے بارے میں بتاتی کچھ ہیں؛ لیکن کام وہ کچھ اورکرتی ہیں، گویا’’ہیں کواکب کچھ، نظرآتے ہیں کچھ‘‘ کے عملی نمونے۔

اس وقت دنیامیں جواپنے آپ کوعالمی طاقت کہلوانے پرتلے ہوئے ہیں، ان کی حرکتیں بھی انھیں عجیب وغریب اورمتضاد چیزوں پرمشتمل ہیں، جب وہ خود کسی پرحملہ آورہوتے ہیں توقیام امن کی لڑائی اسے قراردیتے ہیں، خواہ اس کی وجہ سے امن پارہ پارہ ہی کیوں نہ ہوجائے؟ لوگوں کی جانیں کتنی بھی چلی جائیں، اس سے انھیں کوئی مطلب نہیں، بموں کی بارش برساکرنہتے شہریوں کوہلاک کریں اوران کی رہائش گاہوں کوتباہ وبربادکریں، اس کے باوجودوہ امن پسند ہیں اورقیام امن کے لیے ہی ان کی لڑائی ہے، جب کہ جولوگ ان کی اس بے جاحرکت سے بیزارہوکراپنی دفاع کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، تودہشت گرد بن جاتے ہیں، پوری دنیامیں ان دفاع کرنے والوں کے تعلق سے یہ ڈھنڈورا پیٹ دیاجاتاہے کہ وہ دہشت گرد ہیں، دنیاکی آنکھ نے اس کی بہت ساری مثالیں دیکھی ہیں، جن کے بیان کی ضرورت نہیں ہے۔

ابھی کچھ دنوں پہلے اسرائیل نے کوشش کی کہ شیخ جراح کی پوری بستی کوفلسطینیوں سے خالی کراکے وہاں یہودیوں کوآبادکردیاجائے، جس کے لیے اس نے شیخ جراح پرحملہ کردیا، نہتے فلسطینیوں کی مددکے لیے پوری دنیاکوکھڑا ہونا چاہیے تھا اوراسرائیل کوسرزنش کرنی چاہیے تھی؛ لیکن کسی کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی، اس کودیکھ کرحماس نے ان کی طرف سے دفاعی حملہ کیااوراس شدت کے ساتھ کیاکہ اسرائیل جنگ بندی پرمجبورہوا، حماس کے اس دفاعی کارروائی سے اسرائیل کی طاقت کاغرہ چکناچورہوگیا اوراس کاسب سے بڑا فائدہ یہ ہوا فلسطینی اتھاریٹی اورحماس کے مابین جاری چشمک ماند پڑگئی اوردونوں گویا دوسرے کے حلیف بن گئے، اسی کانتیجہ تھا کہ جب امام اقصیٰ نے خطبہ میں حماس کے ذکرسے گریز کیاتو فلسطینی اتھاریٹی کے جوانوں نے امام کومنبرسے کھینچ لیا، یہ واضح علامت تھی اس بات کی دونوں کے مابین چشمک ختم ہوگئی ہے، ظاہرہے کہ امن پسندی کے دعویداروں کویہ کیسے راس آسکتاتھا؟ ان کی تودلی خواہش یہ ہے کہ فلسطینی اورحماسی آپس میں مصالحت بالکل بھی نہ کریں ؛ بل کہ ان کے مابین کشمکش جاری رہے اورہم ’’امن پسند‘‘ اس کافائدہ اٹھاکر دونوں پرحملہ کرتے رہیں اوران کوجان سے بھی مارتے رہیں، ان کی معیشت بھی تباہ کرتے رہیں اورکی رہائشی عمارتوں کو بھی ملبہ میں بدلتے رہیں۔

یہ پلاننگ تو مسلمانوں کے خلاف صدیوں سے چلتی چلی آرہی ہے اورقائدین کواس تعلق سے سوچنے اورسمجھنے کی ذرا بھی مہلت نہیں دی جارہی ہے، اسی پلاننگ کے تحت اسرائیل اورحماس کی جنگ بندی کے فوراً بعد ’’انکل سام‘‘میدان میں اترگئے اوراپنے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کومشرق وسطیٰ کے دورہ پربھیج دیا، وزیرخارجہ انٹونی نے رملہ کا دورہ کیا اورنتن یاہوسے ملاقات کی؛ بل کہ اگلامنصوبہ سمجھایا، پھرفلسطینی اتھاریٹی کے صدرمحمودعباس سے ملاقات کی، اس کے بعدوہ مصرگئے اورسیسی کی پیٹھ تھپکی، پھراردن بھی گئے، ان علاقوں کادورہ کیا اوراس دورہ کانام’’جنگ بندی کومستحکم کرنے کے لیے علاقائی دورہ‘‘ رکھاگیا، اس دورہ میں اس نے یقین دہانی کرائی کہ اسرائیلی جارحیت میں جونقصان ہواہے، اس کی تعمیرنوکی جائے گی؛ تاہم اس یقین دہانی کے ساتھ ایک شوشہ بھی چھوڑدیاکہ اس تعمیرنوسے حماس کوالگ تھلگ رکھاجائے گا اوریہ تعمیرنوفلسطینی اتھاریٹی کے ذریعہ انجام دی جائے گی۔

اس شوشہ کی ضرورت بالکل بھی نہیں تھی؛ کیوں کہ یہ توپہلے سے طے ہے کہ تعمیرنوکے لیے جوبھی تعادن انکل سام کے توسط سے آئے گا، وہ حماس تک پہنچ ہی نہیں سکتا ہے؛ کیوں کہ ان کے نزدیک یہ تودہشت گرد تنظیم ہے اوران کی دہشت گردی کی آڑ لے کر نہتی عوام کوتومارا جاسکتا ہے، ان کی رہائشی عمارتوں کوملبہ میں بدلاجا سکتاہے؛ لیکن ان کوتعاون نہیں دیاجاسکتا، آپ غورکیجئے کہ اس جنگ کوبراہ راست حماس سے جوڑا گیا؛ لیکن اسرائیل کی طرف سے جوبھی حملے ہوئے، وہ کہاں ہوئے؟ اس صورت حال میں اسرائیل کوتوبین الاقوامی عدالت میں گھسیٹا جانا چاہیے کہ جب جنگ حماس سے چل رہی ہے تونہتے فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کیوں کی جارہی ہے؟ انکل سام کواسرائیل کے وزیراعظم سے ملاقات کی بجائے پھٹکارلگانی چاہیے؛ لیکن وہ توخود ہی پلاننگ کرتاہے اوررنگ بھرائی اسرائیل سے کرواتاہے۔

پھرامریکی وزیرخارجہ کے دورہ کی عجیب بات یہ ہے کہ جنگ بندی حماس اوراسرائیل کے مابین ہوئی ہے، جس میں بتایاجاتاہے کہ ثالثی کارول مصرنے اداکیاہے، اب آپ خود سوچئے کہ جنگ بندی کومستحکم کرنے کے لیے وزیر خارجہ کوبات اورملاقات کس سے کرنی چاہیے؟ حماس اوراسرائیل کے درمیان یا اسرائیل، فلسطینی اتھاریٹی اورمصرواردن کے درمیان؟ یہ واضح طورپردال میں کالے والامعاملہ ہے، ایک طرف ان کا دعوی ہے کہ یہ جنگ حماس اوراسرائیل کے درمیان چل رہی تھی اوردوسری طرف جنگ بندی کا استحکام اسرائیل اوردیگرلوگوں سے کررہے ہیں، حماس کاذکرتک نہیں کیا؛ بل کہ الٹاایک شوشہ چھوڑدیاکہ غزہ کی تعمیرنومیں فلسطینی اتھاریٹی کوشامل کیاجائے گا، حماس کونہیں، انکل سام کے اس رویہ پراسی لیے حماس نے شدید تنقید کی ہے اوریہ بات بھی قابل غورہے کہ غزہ پرکنٹرول حماس کاہے اوروہاں انکل سام فلسطینی اتھاریٹی کوتعمیر نوذریعہ بنارہاہے، اس سے بات بالکل واضح ہے کہ فلسطینی اتھاریٹی اورحماس کے درمیان حالیہ جنگ کے نتیجہ میں جودوستی سامنے آئی ہے، وہ ان عالمی طاقتوں کوبرداشت نہیں ہورہاہے اوروہ اس بات کی کوشش میں لگ گئے ہیں کہ دونوں کے درمیان اسی طرح کی چشمک چلتی رہے، جوگزشتہ سالوں میں چلتی رہی ہے  اور’’پھوٹ ڈالو، حکومت کرو‘‘ توان کاہمیشہ سے شیوہ رہاہے، یہی چال یہاں چلی جارہی ہے۔

فلسطینی اتھاریٹی تواوسلومعاہدہ کے بعدسے ہی امریکہ کے اشارہ پرکام کرتی ہے؛ لیکن حالیہ جنگ کی وجہ سے عوام حماس کے ساتھ مل گئی ہے، جس کی ایک جھلک امام کومنبرسے اتارنے کے وقت دیکھنے کوملی، ایسی صورت میں انکل سام کی طرف سے جوتوڑنے کی کوشش ہورہی ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے اورخصوصیت کے ساتھ فلسطینی اتھاریٹی کویہ بات سمجھنی چاہیے ؛ کیوں کہ ایک توغزہ حماس کے زیرتسلط ہے ، دوسرے حماس نے اس جنگ میں ان کی کلی طورپرمددکی ہے اورتیسرے یہ کہ عوام بھی حماس کے ساتھ ہے، پھرحماسی وزیرنے یہ صاف بھی کردیاہے کہ تعاون کے طورپرملنے والا ایک پیسہ حماس یااس کی ملٹری ونگ کونہیں جائے گا، ایسے میں صدرمحمودعباس کوبہت سوچ سمجھ کرفیصلہ کرناہے کہ خطہ میں امن کوباقی رکھنے کے لیے حماس اورفلسطینی اتھاریٹی کی آپسی کشمکش نقصان دہ ہے، آپسی دوستی ہی ان کے حق میں مفید ہے اوراسی افادیت کوامریکہ اوراسرائیل نے حالیہ جنگ میں بھانپ لیاہے؛ اسی لیے امریکی وزیرخارجہ نے غزہ کی تعمیرنومیں شوشہ چھوڑ دیاکہ حماس کواس سے بالکل الگ تھلگ رکھاجائے گا، حماس نے بھی اس کاصحیح جواب دیا ، جودیاجاناچاہیے تھا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔