ایران کےساتھ چین کا اقتصادی معاہدہ اور ہندوستان

عادل فراز

امریکی اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران نے چین کے ساتھ ۲۵ سالہ اقتصادی معاہدہ کرلیاہے۔ یہ معاہدہ 400 ارب ڈالر کی مالیت پر مبنی بتایا جارہاہے۔ ماہرین اقتصادیات اس معاہدہ کو عالمی اقتصادی نظام کے لیے بڑی حصولیابی مان رہے ہیں۔ اس معاہدہ کا براہ راست اثر مشرق وسطیٰ کی سیاست پر بھی مرتب ہوگا۔ خاص طورپر سعودی عرب،پاکستان، بلوچستان،افغانستان، ہندوستان اور دیگر خطی ممالک اس معاہدے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ چونکہ اس وقت دونوں ملکوں کا مشترکہ دشمن امریکہ ہے اس لیے یہ معاہدہ مزید اہمیت کا حامل ہوجاتاہے۔ جوہری معاہدے سے امریکہ کے فرار کے بعد ایران عالمی بازار میں اپنی خاطر خواہ نمایندگی چاہتا تھا جو چین کے ذریعہ ممکن ہوگی۔ وہیں امریکہ کی چین کے ساتھ کشیدگی نے اس تجارتی معاہدے کو مزید تقویت بخشی۔ اس معاہدے کے نفاذ کےبعد چین ایران میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا اور ایران سستے داموں پر اسے تیل، گیس اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کرے گا۔ چونکہ ابھی تک اس معاہدے کے اہم نکات منظرعام پر نہیں آئے ہیں لہذا ان پر بات کرنا ممکن نہیں ہے مگر جتنی معلومات سامنے آئی ہے وہ اس معاہدے کی اہمیت اوردیرپا اثرات کو واضح کرتی ہے۔

چین کے ساتھ ایران کا طویل مدتی اقتصادی معاہدہ دونوں ملکوں کے لیے خوشگوار تبدیلیاں لیکر آئے گا۔ ایران قدرتی ذخائر کا بہترین مرکز ہے۔ چین اس کے لامحدود ذخائر سے استفادہ کرسکے گا اور چینی عوام کو گرانی سے نجات ملے گی۔ وہیں ایران جو مسلسل امریکہ کے ذریعہ عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کا شکارہے، عالمی سطح پر اپنے لیے نئے تجارتی و اقتصادی امکانات کی تلاش کرے گا۔ ایران نے اس معاہدے کے ذریعہ امریکہ کی آمرانہ پالیسیوں کو ٹھینگا دکھایا ہے۔ اس معاہدے سے امریکہ کی تشویش میں اضافہ ہواہے مگر ابھی تک اس کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اگر امریکہ اپنی طاقت کے نشے میں ایک بار پھر ایران پر نئی پابندیاں عائد کرتاہے تو اس کا نقصان ایران سے زیادہ امریکہ کو ہوگا۔ کیونکہ ایران تو گزشتہ کئی برسوں سے امریکی اقتصادی پابندیوں کو برداشت کررہاہے اور نئی پابندیوں کے نفاذ کے بعد بھی اس کی رفتار میں کمی نہیں آئے گی۔ کیونکہ ایران ایسی پابندیوں کا عادی ہوچکاہے۔ اگر وہ امریکی پابندیوں سے خوفزدہ ہوتا تو چین کے ساتھ کبھی طویل مدتی اقتصادی معاہدے پر دستخط نہیں کرتا۔اس معاہدے پر دستخط کرنا یہ ظاہر کررہاہے کہ ایران امریکی آمریت سے ہرگز ڈرنے والا نہیں ہے۔ وہ اپنے فیصلوں میں خود مختار اور آزاد ہے۔ اس کی پالیسیاں اپنے قومی و ملکی مفاد کے مطابق ترتیب پاتی ہیں۔ اب جبکہ ایران چین کے ساتھ طویل مدتی اقتصادی معاہدہ کرچکاہے، دیکھنا یہ ہوگا کہ امریکی صدر بائیڈین جو اقتدار میں آنےسے پہلے ہمیشہ جوہری معاہدے کی حمایت کرتے رہے ہیں، کیا دوبارہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بحال کرتے ہیں۔ جس وقت ڈونالڈ ٹرمپ نے ’جوہری معاہدے ‘سے فرار کا اعلان کیا تھا اس کے بعد مسلسل جوبائیڈین ٹرمپ کے اس یک طرفہ فیصلے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے انتخابی تشہیر میں بھی ’جوہری معاہدے ‘ میں واپسی کا عندیہ دیا تھامگر ابھی تک ان کی طرف سے اس راہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ لہذا چین اور ایران کے درمیان ہوئے معاہدے کے بعد اب پوری دنیا امریکی مؤقف کی منتظر ہے۔

اس معاہدے کے بعدایران عالمی نرخوں سے کم قیمت پر چین کو تیل کی فراہمی کرے گا۔ اس کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ایران کے تیل کی تجارت متوقف نہیں ہوگی اور اس طرح وہ اپنے ذخائر کو چین تک منتقل کرسکے گا۔ ممکن ہے کہ چین ایرانی تیل کو بدلی ہوئی قیمتوں پر دیگر خطّی ممالک کو فروخت کرے کیونکہ خطے میں چین کے تجارتی اثرات سے ہر کوئی واقف ہے۔ ایران اپنا خام تیل بلوچستان کے راستے گوادر لائے گا اور وہاں سے چین پاکستان معاشی راہداری سے چینی صوبے سنکیانگ تک تیل کے ذخائر کو منتقل کرے گا۔ یہ آبی گذرگاہ محفوظ اور مختصر ہے جس سے ایران و چین کے علاوہ بلوچستان اور پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ چین ایران میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرکے نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرائے گا۔ ظاہری طورپر یہ معاہدہ ایران اور چین کے مفاد میں ہے مگر تمام خطی ممالک اس سے مستفیض ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب تنہا ایسا ملک ہے جو اس معاہدے سے خوش نہیں ہے کیونکہ وہ امریکا اور اسرائیل کا اتحاد ی ہے۔ سعودی عرب ایران کو طاقتور ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اس سے خطے میں اس کی چودھراہٹ کو خطرہ لاحق ہوگا جبکہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایران خوشگوار بادل کی طرح پورےخطے پر چھایا ہواہے۔ چونکہ سعودی عرب خطے میں ایران کو اپنا حریف سمجھتاہے اس لیے اس معاہدے سے اس کی پریشانی کا بڑھنا فطری ہے۔ یمن پر سعودی عرب کی تھوپی ہوئی جنگ نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھارکھی ہے۔ ایران یمن کی مزاحمتی تنظیموں کی حمایت کررہاہے اور سعودی عرب ان تنظیموں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مدد سے یمن پرحملہ ور ہے۔ سعودی عرب چاہتاہے کہ اس کے ہم نوا یمن پر حکومت کریں مگر وہاں کی عوام سعودی عرب کے آلۂ کاروں کو خارج کرچکی ہے۔ اس ناخواستہ جنگ میں اب تک ہزاروں یمنی مارے جاچکے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور وبائی امراض نےانہیں گھیر رکھاہے۔ ایسے عالم میں فقط ایران یمنی عوام کی مد د کررہاہے۔ اگر ایران چین کے تعاون کے ساتھ دفاعی قوت میں مزید اضافہ کرتاہے تو یہ اقدام سعودی عرب اپنے لیے خطرہ کی گھنٹی تصور کرے گا۔

ماہرین کےمطابق اس معاہدہ کے واضح اثرات ایرانی معیشت پر اثرانداز ہوں گے۔ ساتھ ہی چینی معیشت جو عالمی معیشت کی مضبوطی اور توسیع و ترقی کے لیے نہایت اہم ہے مزید رفتار پکڑے گی۔ اس طرح دونوں ملکوں کا اقتصادی نظام عالمی اقتصادی نظام کو متاثر کرے گا۔ معاہدے کے مطابق چین رعایتی نرخ پر تیل، گیس، پیٹروکیمیکل مصنوعات کی ایران سے خریداری کرے گا۔ ساتھ ہی چین ایران کے مالی ٹرانسپورٹ سسٹم کی بہتری اور ٹیلی مواصلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ اس طرح ایران میں 4جی اور 5جی ٹیکنالوجی متعارف ہوگی۔ جوہری معاہدے سے امریکہ کے فرار کے بعد ایران مسلسل یوروپی یونین سے نئے اقتصادی میکانزم کا مطالبہ کرتارہاہے۔ایران چاہتاہے کہ ایک ایسا اقتصادی میکانزم تیار ہو جس میں ڈالر اور امریکی بینکوں کے تعاون کے بغیر تجارت ممکن ہوسکے۔ یوروپی یونین ایران کے مطالبات سے متفق ہے مگر اب تک ایسا میکانزم تیار نہیں ہوسکاہے۔ اس نئے معاہدے کے ذریعہ ایران چین کی نئی ڈیجیٹل کرنسی E-RMB  کو منظوری دے سکتاہے تاکہ ڈالر کے ذریعہ عالمی تجارت کو متاثر کیا جاسکے۔ اگر چینی ڈیجٹیل کرنسی عالمی بازار میں تجارت کے لیے اچھا متبادل بن کر ابھرتی ہے تو اس سے امریکی ڈالر کمزور ہوگا اور امریکی اقتصادی نظام متزلزل ہوکر رہ جائے گا۔ چونکہ ایران اس وقت عالمی بینکی نظام   SWFITسے منسلک نہیں ہے لہذا عالمی بازار میں اس کے لیےتجارت بھی آسان نہیں رہی مگر اس کے باوجود عالمی بازار میں اس کی موجودگی کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس معاہدے کے بعد وہ عالمی بازار میں پوری توانائی کے ساتھ کھڑا نظر آئے گا۔ اس معاہدے کا اہم رخ یہ ہے کہ چین اور ایران کے درمیان پہلی بار مشترکہ فوجی مشقوں کو آغاز ہوگا۔ دفاعی نظام کی بہتری کے لیے ہتھیاروں کی ترقی ہوگی۔ دونوں ممالک باہمی فوجی انٹلیجنس کےتعاون کے ذریعہ فوجی و ریاستی سلامتی کی راہ میں کام کریں گے۔ یہی وہ اہم نکتہ ہے جس نے امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب جیسے ملکوں کی نیند اڑا دی ہے۔ ایران جس کی فوجی طاقت کا اندازہ دشمن کو بھی ہے، چین کے ساتھ باہمی تعاون کے ذریعہ مزید اپنی طاقت میں اضافہ کرے گا۔ اس طرح خطے میں اس کی جڑیں مزید گہری اور مضبوط ہوں گی۔ اس معاہدے پردستخط سے پہلے ایران روس اور چینی فوجوں کے ساتھ فوجی مشقوں میں حصہ لے چکاہے۔ اس معاہدے کے بعد چین وسطی ایشیا میں اپنے فوجی اڈے قائم کرسکے گا اور اس کی طاقت کا دائرہ مزید بڑھے گا۔

عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران کے پاس ایسے قدرتی ذخائر اور وسائل موجود ہیں جن کی چین کو اشد ضرورت ہے جیسے ہائیڈروکاربن وغیرہ۔چین اس قدرتی ذخائر اور وسائل کی درآمد سے اپنی معیشت اور دفاعی نظام کو مضبوطی دے گا۔ اس معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کوپہونچے گا کیونکہ آبی گذرگاہ کے استعمال کے لیے جو ٹیکس دونوں ملک اسے چکائیں گے وہ لاکھوں ڈالر پر مبنی ہوسکتاہے۔ چین اور ایران کی بڑھتی ہوئی دوستی ہندوستان کے لیے بھی اہم ثابت ہوگی۔ مگر مشکل یہ ہے کہ ہندوستان نے امریکی دبائو میں آکر ایران سے تیل کی خریدار ی بند کررکھی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہندوستان نے ڈونالڈٹرمپ کے اشارے پر ایران سے تیل کی خریدار ی متوقف کردی تھی۔ اس وقت ہندوستان میں مہنگائی عروج پر ہے۔ تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے دام آسمان چھورہے ہیں۔ اگر ہندوستان دوبارہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات بحال کرکے تیل کی خریدار ی شروع کرتاہے تو ہندوستانی عوام بھی راحت کی سانس لے گی۔ ہندوستان کو سمجھنا ہوگا کہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات ہماری معیشت کے لیے کتنے اہم ہیں۔ ہندوستان جیسی بڑی طاقت کو امریکی دبائو میں نہیں آنا چاہیے۔ اگر ہم دوبارہ ایران سے تیل کی خریداری کا آغاز کرتے ہیں تویہ دونوں ملکوں کے اقتصادی نظام کے لیے نیک فال ثابت ہوگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا