بدگمانی بہت بڑا گناہ ہے

اچھا سوچیں اور اچھا بولیں کیوں کہ بدگمانی اور بد زبانی دو ایسے عیب ہیں جو انسان کہ ہر خوبی اور کمال کو زوال اور بربادی میں تبدیل کر دیتی ہے۔دوسروں کو برا سمجھنا بہت آسان ہے،اس لیے کہ انکی خامیاں بغیر کوشش کے نظر آ جاتی ہیں۔مگر اپنی خامیوں کا احساس کرنے کے لیے ایک خاص نظر چاہئیے۔یہ نظر جس میں پیدا ہو گئی۔وہی اللہ کانیک اور صالح بندہ ہے۔ جس شخص میں یہ خاصیت پیدانہ ہو ئی وہ اپنی ذات کا بندہ ہے اور اسی کی بندگی میں گم ہے، اپنی ذات کا بندہ نہ دنیا میں سکون پا سکتا ہے اور نہ ہی آخرت میں اللہ کو راضی کر سکتا ہے۔نرم مزاجی دُنیا والوں کو بے وقوفی اور نادانی لگتی ہے لیکن ان شاء اللہ آمین آسمانوں پر اس کی بہت قدرومنزلت ہوگی۔

سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: *مومن کو ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا نہیں جاتا۔ یہ خبر بمعنی نہی ہے یعنی مومن کو  محتاط اور دوراندیش ہونا چاہیے نہ کہ جذباتی، غافل اور نا عاقبت اندیش، دینی معاملہ ہو یا دنیوی، ہر ایک اقدام کرتے وقت اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ؤں پر غور کرنا چاہیے-(او کماقال ﷺمسند احمد:9656،صحیح)

کسی محلے میں ایک بیوا عورت کا گھر تھا۔ اس کے متعلق یہ مشہور تھا کہ یہ فاحشہ ہے اور اس کے پاس بہت جگہ سے راشن آتا رہتا ہے۔شہرمیں کچھ صالح لوگوں کی طرف سے راشن کی تقسیم کا سلسلہ شروع تھا۔

  نیک لڑکوں کی نظراس کے پرانے مکان پر پڑی۔ان لڑکوں نے اس کے مکان کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہا کہ ساتھ میں آئے محلے کے ایک فرد نے منع کر دیا۔پوچھنے پر وہ کہنے لگاآپ لوگ رہنے دیں۔ یہ ایک فاحشہ عورت کا گھر ہے۔ اس کو بہت جگہ سے راشن آتا رہتا ہے۔یہ بات سن کر ان لڑکوں کو یقین ہو گیا کہ محلے میں سے کسی نے بھی اس کو راشن فراہم نہیں کیا ہوگا۔جیسے تیسے لڑکوں نے محلے والے فرد سے بحث کر کے دورازے پہ دستک دی۔ اندر سے دھیمی سی آواز آئی۔ کون؟لڑکوںنے بتایا کہ ہم راشن سپلائی کر رہے ہیں۔آپ لینا پسند کریں گی؟تو انتہائی غمگین سی آواز آئی کہ آپ لوگ واپس چلے جائیں۔ پہلے ہی اس محلے میں لوگ ہمیں جینے نہیں دیتے۔ ہم گزارہ کر لیں گے۔میرے پاس کچھ کھانے کاسامان موجودہے۔ آپ حضرات کی مہربانی آپ اس غلے کو محلے کے شرفاء میں تقسیم کر دیں۔خاتون کے لہجے کی غمناکی کو محسوس کر کے لڑکوں نے بضد ہو کر کہا،آپ ہم لوگوں کواپنا بھائی سمجھیں اور محلے والوں کی فکر نا کریں۔

بہت اصرار کرنے کے بعد اس عورت نے اپنی بیٹھک کا دروازہ کھولا اور ہم لوگوں نے راشن کا سامان  ان کے گھر رکھ دیا۔وہ عورت خود پردے میں آئی اور شکریہ ادا کرنے لگی۔لیکن کسی لڑکے کا دل مطمئن نہیں تھا کیونکہ وہ باپردہ عورت لگ رہی تھی۔اور آس پاس میں اس کی بدنامی تھی۔اس کاکردار سب کی نظر میں بہت خراب تھا۔لڑکوں نے اس عورت سے پوچھ لیا کہ بہن آپ نے ایسا کیوں کہا کہ آپ کے گھر میں راشن موجود ہے؟کہنے لگی: بھائی گھر میں آلو پڑے ہیں۔ جو پچھلے ایک ہفتے سے بنا کے کھا رہے ہیں۔ محلے میں سے کسی نے خبر تک نہ لی۔ عورتیں میرے گھر نہیں آتیں ۔لڑکوںنے پوچھا، ایسا کیوں ہے میری بہن؟وہ عورت آنکھوں میں آنسو لیے بولی:میرے خاوند کو وفات پائے 2 سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ اس وقت بہت حالات اچھے تھے۔میرے دو لڑکیاںہیں۔ کچھ وقت ٹھیک گزرا۔ میرے والد میرے لیے جتنا کر سکتے تھے کرتے رہے۔ ان کی وفات کے بعد حالات خراب ہونا شروع ہوگئے۔ بچوں کا اور گھر کا نظام چلانا مشکل ہو گیا۔ایک دن میرے خاوند کا قریبی دوست کچھ عرصہ بعد باہر سے آیا۔اس نے مجھ سے بہت افسوس کیا اور مجھے کچھ پیسے دے کر چلا گیا۔پھر وہ کچھ دن بعد آیا اور مجھے گھر کا کچھ راشن دے گیا۔دوسری دفعہ لوگوں نے جب میرے دروازے پہ گاڑی کھڑی دیکھی تو طرح طرح کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔پھر جب وہ واپس بیرون ملک لوٹنے لگا تو جاتے ہوئے میرے گھر آیا اور کہا ”بہن یہ میرا نمبر ہے آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو اپنے بھائی سے کہنا کسی محلے دار سے مانگنے کی ضرورت نہیں۔ ”جب وہ باہر نکلا تو محلے کے لوگوں نے اسے پکڑ کر مارنا شروع کر دیا کہ تم نے ہمارے محلے میں گند مچایا ہوا ہے۔ یہ سن کر میں نے چلانا شروع کر دیا کہ تم لوگوں میرا حال تک نا پوچھا اور اگر کوئی بھائی بن کر میرا خیال کر رہا ہے تو تم اسے بھی مار رہے ہو۔شرم سے میری جان نکلی جارہی تھی کہ اتنی ہمدردی کا یہ صلہ ملا ۔ وہ بھائی ان کو سمجھاتا رہا کہ یہ میری بہنوں جیسی ہے لیکن محلے کے لوگوں کو جیسے ایک موقع فراہم ہوگیاہو۔خیر وہ جان چھڑا کے وہاں سے چلا گیا۔کچھ عرصہ تک مجھے اگر کبھی ضرورت ہوتی تو میں فون کر دیتی شرمسار ہو کر ۔ اور وہ مجھے بینک میں پیسے حسب ضرورت بھیج دیتے۔پچھلے 2 ماہ سے ان کو کال نہیں کی اور پھر یہ کورونا وائرس کا مسئلہ ہوگیا تو سنا کہ ان بھائی کے ملک کے حالات زیادہ خراب ہیں۔دوبارہ میری ہمت نہ ہوئی کبھی ان کو کال کرنے کی۔اب بیوہ سمجھ کر اگر کوئی میری مدد کرنا بھی چاہے تو محلے والے مجھے گندی نظروں سے دیکھتے ہیں۔اور محلے میں اتنے شرفاء ہیں کہ ہر کوئی گزرتے ہوئے میرے دروازے پہ جھانک کر جاتا ہے۔ باہر جاتے ہوئے مجھے گھورتے ہوئے جاتا ہے۔اپنی عورتوں کو میرے گھر نہیں آنے دیتے۔میری بچیوں کا گھر سے نکلنا محال ہوگیا ہے۔ یہ وائرس تو بہانہ رکھا ہے اللہ نے ہمیں راشن بھیجنے کا ورنہ ضرورت کا سامان تو بالکل ختم ہونے کو ہے۔کچھ دنوں سے اس بھائی کو کال ملانے کا سوچا لیکن ضمیر نے گوارہ نہ کیا۔ سوچا کہ پتہ نہیں ان کے اپنے حالات کیسے ہوں گے۔ہمارے نبی ﷺ تو دشمنوں کی بیٹیوں کے سروں پر چادر رکھا کرتے تھے یہ کہاں کے دین دار لوگ ہیں کہ اگر کوئی میرے گھر میری مدد کو آتا ہے تو اس کو اس قدر مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے ڈر کے مارے مجھے زکوٰۃ تک دینا چھوڑ دیاہے۔یہ باتیں کرتے کرتے ان کا دوپٹہ آنسووں سے بھیگ گیا ۔لڑکوں نے راشن کے ساتھ کچھ نقد رقم بھی انہیں دے دی۔

سوال یہ کہ ہم بروز قیامت اللہ کو کیا منھ دیکھائے گے؟ہم اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں کا خیال رکھیں۔ہم اس وقت کا انتظار نہ کریں جب کوئی عورت بچوں کی بھوک سے مجبور ہو کر گھر کی دہلیز سے باہر نکل کر ہاتھ پھیلائے اور پھر معاشرے میں موجود ہ بھیڑیے فقط چند نوالوں کی خاطر اس سے اس کا سب کچھ چھین لیں۔شریعت اسلام کی رو سے بنا کسی ثبوت کے کسی عورت پر فحاشی کا الزام لگایا جائز ہے کیا؟ہم فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں کہ کون اچھا ہے کون برا ہے؟

لوگ صالح ( نیک) کو پسند کرتے ہیں اور مصلح (لوگوں کو نیک بنانے کی جد وجہد کرنے والا) کو پسند نہیں کرتے۔اس کی سب سے عمدہ مثال خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے۔آپﷺ اعلان نبوت سے پہلے صالح ہونے کی وجہ سے لوگوں میں انتہائی محبوب ومقبول تھے، صادق ووعدہ الامین کے نام سے مشہور تھے ،لیکن جب اعلان نبوت کے بعد مصلح بن کر ظاہر ہوئے تو لوگوں نے پسند نہیں کیا، بہتان تراشی کیں ۔ برے القابات سے نوازہ اور جانی دشمن بن گئے۔صالح صرف اپنی فکر کرتا ہے جبکہ مصلح اپنے ساتھ ساتھ غیروں کی بھی فکر کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا