دس گز زمین چاہیےاکاڈمی کے لیے

جنگ آزادی کے بعد جب ہندوستان آزاد ہوا تو ملک کی سرکاری زبان طئے کرنے کیلیے اراکین پارلیمان کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں اردو اور ہندی دونوں زبانوں کو ایوان کے سامنے پیش کیا گیا۔ہندی اور اردو دونوں ہی زبانیں ہندوستان میں نئی زبانیں تھیں،جبکہ ہندی زبان سنسکرت سے میل کھاتی ہے اور اردو زبان عربی ،فارسی،پشتو اور سنسکرت جیسی زبانوں کا مرکب ہے۔چونکہ اردو زبان کی بنیاد رکھنے والے مسلم حکمران تھے اور اس کی لکھاوٹ عربی سے میل کھاتی ہے،اس وجہ سے اس زبان کو مسلمانوں کی زبان قرار دیا جانے لگا،اسی وجہ سے پارلیمان ہندی اور اردو کو جب سرکاری زبان قرار دینے کیلیے پیش کیاگیا تو دونوں زبانوں کو چاہنے والے اراکین پارلیمان کے یکساں ووٹ ملے،آخر میں ایک زبان کو اکثریت حاصل ہونی تھی اور اس کیلیے ایک ووٹ درکار تھا،اس وقت کے صدر ہند ڈاکٹر راجیندر پرساد سے اپنا ووٹ طلب کیا گیا تو ڈاکٹر راجیندر پرساد نے ہندی کے حق میںووٹ دیا،اس طرح سے اردو زبان ملک کی سرکاری زبان ہوتے ہوتے رہ گئی۔اُس وقت سے آج تک اردو زبان در بدر بھٹک رہی ہے۔کبھی اس زبان کو ختم کرنے کی کوششیں ہوئی تو کبھی اس زبان کو بولنے والے ہی اردو کے تئیں سوتیلا رویہ اختیار کرنے لگے۔کبھی اس زبان کو ایوانوں سے باہر کیا گیا تو کبھی اس زبان کو بولنے والے اور استعمال کرنے والوں کو پاکستانی کہا جانے لگا،باوجود اس کے یہ زبان اپنی بقاءکیلیے تڑپ رہی ہے۔فی الوقت کرناٹک میں بھی اس زبان کے بولنے پڑھنے اور لکھنے والے افراد کی کمی نہیں ہے۔یہ زبان جہاں ہندوستان کی تہذیب کی شناخت تو ہےوہیں اس زبان کے انقلاب زندہ باد کے نعرے سے ملک کی آزادی میں تقویت حاصل ہوئی۔کرناٹک میں اس زبان کے شعراء ،ادباءوتعلیم یافتہ لوگوں کی کمی نہیں ہے،اردو زبان کی ترقی و بقاءکیلیے ریاستی حکومت نے اردو اکاڈمی کا قیام بھی کیا ہے،جسے ہماری خوش قسمتی ہی کہہ سکتے ہیں۔ریاستی حکومت نے کرناٹکا اردو اکاڈمی کا قیام20 نومبر1978 میں کیا تھااوراس کے قیام کے38 سالوںمیں لگ بھگ دو درجن سے زائد افراد اکاڈمی کے چیرمین کے منصب پر فائز رہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ یہ ادارہ ریاستی حکومت کے ماتحت آتا ہے اور ہمیشہ سے ہی اس ادارے کے ساتھ ریاستی حکومت کے اقلیتی امور کے وزراءاور مسلم وزراءجڑے رہے ہیں۔اکاڈمی سے منعقد کئے جانے والے سمینار اور مشاعروں میں کم و بیش مسلم وزراءکے علاوہ وزرائےاعلیٰ بھی شرکت کرچکے ہیں۔ریاستی حکومت میں اگر حج کے معاملے میں مسلمانوں سے قربت سے حاصل کرنے کے موقع کے بعد اگر کوئی موقع ہاتھ آتا ہے تو وہ اردو اکاڈمی کے ذریعے سے مسلمانوں کے پاس پہنچنا۔اس لیے ہر کوئی لیڈراور منسٹر اردو اکاڈمی کوبابرکت یا اعتقاد کی نظروں سے دیکھتا ہے۔لیکن یہاں بھی معاملہ سب کچھ سیاسی ہے،اردو اکاڈمی کے چیرمین کی حیثیت کانگریس حکومت کے دوران وزیر اعظم من موہن سنگھ اور فیصلہ لینے والی سونیا گاندھی کی طرح ہوتا ہے۔نام چیرمین کا ہوتا ہے لیکن اختیارات اقلیتی امور کی وزارت یا کنڑا اینڈ کلچرکی وزارت کے ماتحت ہوتے ہیں۔دکنی مثال مشہور ہے کہ نہیںماموں سے نکٹے ماموں بھلے۔بالکل اسی طرح سے یہاں ہمارے چیرمین نہ ہونے سے بہتر ایک چیرمین نام کیلیے ہوتا ہے اور ان کے پاس مٹھی بھر رقم دی جاتی ہے جیسے کہ گھر سے نکلتے وقت شوہر اپنی بیوی کو دن بھر کے اخراجات کیلیے دیتا ہے۔محدوداختیارات کے سبب آج بھی اردو اکاڈمی سسکتےبلکتے کام کررہی ہے۔کرناٹکا اردو اکاڈمی میں سوائے ایک رجسٹرار کے تمام ملازمین ٹھیکے پر کام کرنے والے لوگوںمیں سے ہیں،اکاڈمی کی چیرمین بھی جزوقتی (پارٹ ٹائم) ہی اکاڈمی کا رخ کرتی ہیں اور ان پر دوسرے محکموںکی ذمہ داریاں بھی ہیں۔عملے اور افسروںکی بات الگ ہے آج تک اکاڈمی کیلیے ایک مستقل دفتر بھی میسرنہیں ہے،جس طرح سے بہادر شاہ ظفرنے کہاتھاکہ
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کیلیے
دوگز زمیںبھی نہ مل سکی کوئے یارمیں
بالکل اسی طرح سے
کتنی بدنصیب ہے اردواس ریاست میں۔
دس گز زمیں بھی نہ مل سکی اکاڈمی کےدفتر کیلیے
کتنی افسوس کی بات ہے کہ جس اردو زبان نے پورے ہندوستان کو اپنی تہذیب کے جھولے میں جھلایا ہے اُس اردو زبان کی اکاڈمی کیلیے 10 گز زمین نہیں مل رہی ہے۔
یوپی اے حکومت کے دوران اعلان ہو اتھا کہ کرناٹک میں ٹیپو سلطان یونیورسٹی کا قیام کیا جائیگا اس کیلیے سینکڑوں زمین تحویل میں لینے کیلیے تیاری کی جارہی ہے،مگر یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ اردو اکاڈمی کیلیے دس گز زمین نہیں مل رہی ہے جبکہ ٹیپو سلطان یونیورسٹی کیلیے سینکڑوں زمین کہاں سے ملے گی۔ہمارے پاس مسلم لیڈران،اقلیتی امور کے وزراءہیں ،کہنے کو کانگریس سیکولر پارٹی ہے اوراس میں موجود مسلم لیڈران اس پارٹی کو مذہب ثانی کا درجہ دے رکھے ہیں۔باوجود اس کے اس مذہب کی اہم زبان اردو کے تئیں کسی کی دلچسپی نہیں ہے۔یہ بات تو طئے ہے کہ اگر کہیں نہ ملے تو کسی وقف پراپرٹی پر حکومت کی نظریں جم جائینگی اور فٹافٹ وہاں اردو اکاڈمی دفتر کااعلان کیا جائیگا جس طرح سے حج بھون کی تعمیر وقف املاک پر کی گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں اور اردو کیلیے ریاستی حکومت کے پاس کوئی جگہ نہیں ہے،کیاوقف کی ایک ہی ہانڈی میں کھچڑی ،دال،سانبر،بریانی اور حلوہ پکایا جائیگا

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا