روس ۔ یوکرین جنگ: بھارت کا موقف صحیح یا غلط؟

حافظ عبدالسلام ندوی

جب سے روس نے یوکرین پر فوجی کارروائی اور حملے کا آغاز کیا ہے تب سے پوری دنیا میں اس کی مذمت اور تھو تھو ہو رہی ہے،دنیا بھر کی تنظیمیں اور ادارے اس کی مخالفت کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والا دوسرا سب سے بڑا بین الاقوامی ادارہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل(United Nations security council) میں بھی روس کے خلاف مذمتی قرار داد پیش کی گئی جس میں پندرہ ممالک میں سے گیارہ نے ووٹنگ میں شرکت کی جبکہ بھارت چین اور متحدہ عرب امارات کی کرسیاں ووٹنگ کے وقت خالی رہیں،اور ان تینوں نے اس میں حصہ نہیں لیا، بھارت کے اس موقف کے بعد دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اس رویہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں اور اس سے التجا کر رہی ہیں کہ روس کے جارحانہ اقدام کے خلاف صاف اور واضح طور پر اپنا موقف رکھیں اور یوکرین کی ان دل شکن و حوصلہ فرسا حالات میں مکمل حمایت کا اعلان کریں، ملک میں حزب اختلاف کے اراکین نے بھی مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ووٹنگ میں غیر حاضر رہنے پر حزب اقتدار کی مذمت کی ہے، لیکن غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ کیا بھارت نے روس یوکرین جنگ کے سلسلے میں جو فیصلہ لیا ہے وہ درست ہے یا حزب اختلاف کے مطابق قطعی غلط؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں بھارت اور روس کے دوطرفہ تعلقات کی تاریخ پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالنی ہوگی، آزادی کے بعد بھارت روس تعلقات کی ابتدا اس وقت ہوئی جب 1955ء میں بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سوویت روس کا سفر کیا، بعد ازاں اسی سال کے اواخر میں سوویت یونین کے پہلے سکریٹری نکیتا خروشچیف بھی بدلے میں بھارت کے دورے پر آئے، اس سفر میں خروشچیف نے خصوصی طور پر یہ اعلان کیا کہ سوویت یونین بھارت کے متنازعہ علاقہ کشمیر اور پرتگال کے زیر انتظام ساحلی علاقہ گوا پر اس کی خودمختاری کی حمایت کرتا ہے، اس دوطرفہ دورے کے بعد بھارت سویت روس کے تعلقات کافی مضبوط ہوئے جس کا اثر بعد کے ادوار میں بھی دیکھنے کو ملا، جیسا کہ 1962ء میں چین-بھارت جنگ کے دوران سوویت یونین نیچینی حکومت کے سخت اعتراض کرنے کے باوجود اپنی غیر جانبداری کا اعلان کیا، اس کے علاوہ سوویت یونین نے خروشچیف کے ہی عہد میں بھارت کو خاطر خواہ اقتصادی اور فوجی امداد بھی دی اور 1962ء میں MIG-21 لڑاکا طیاروں کو مشترکہ طور پر تیار کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اتفاق کیا،جسے اس نے چین کو مسترد کر دیا تھا،

 پنڈت جواہر لعل نہرو کے بعد بھارت-سوویت تعلقات میں مزید استواری اس وقت آئی جب 1971ء میں تب کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے سوویت یونین کے ساتھ امن، دوستی اور باہمی تعاون کا ہند-سوویت معاہدہ کیا،یہ معاہدہ چین اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اضافے کے سبب عمل میں آیا اور اس نے بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں میں اہم رول ادا کیا۔

 1984ء میں وزیراعظم اندرا گاندھی کے سکھ علیحدگی پسندوں کے ہاتھوں قتل کے باوجود ہند-سوویت تعلقات بہتر حالت میں ہی رہے، اور بھارت نے سوویت یونین کے ساتھ قریبی تعلقات کو برقرار رکھا،نئے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے مئی 1985ء میں اپنے پہلے سرکاری دورے کے طور پر سوویت روس کا انتخاب کیا،اس سفر میں وزیراعظم نیدو طویل مدتی اقتصادی معاہدوں پر دستخط بھی کئے، مزید برآں انہوں نے صدر میخائل گوربا چوف سے ذاتی تعلقات بھی قائم کیے، جس کے نتیجے میں مذکورہ صدر کا بھارت دورہ عمل میں آیا،

1991ء میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد بھارت نے روس کے ساتھ بے حد قریبی تعلقات بنائے رکھے،اکتوبر 2000ء میں جب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھارت کا دورہ کیا تو اس دوران دونوں ممالک نے اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا جو کہ ایک تاریخی قدم بنا،اس اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات نے نئی بلندیوں کو چھوا، اور یہ تعلقات صرف حکمرانوں تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ تمام روسی بھارتیوں سے اور تمام بھارتی روسیوں سے قلبی علاقہ رکھنے لگے، یہی وجہ ہے کہ سابق صدر جمہوریٔ ہند پرتیبھا پٹیل نے اپنے ایک بیان میں یہ کہا تھا کہ” ہمیں یقین ہے کہ بھارت ہر روسی کے قلب میں رہتا ہے اور روس بھی ہر بھارتی کی روح میں مادر وطن کے طور پر بستا ہے”

 ان مضبوط تعلقات کا موجودہ عالم یہ ہے کہ بھارت اور روس دو طرفہ تجارت میں 2025ء تک 30 بلین امریکی ڈالر کا ہدف مکمل کرنے جا رہے ہیں اور اس ہدف تک رسائی کے لیے دونوں ممالک نے آزاد تجارتی معاہدہ کا منصوبہ بھی بنایا ہے،اور صرف اقتصادی معاملات میں ہی نہیں بلکہ دفاعی امور میں بھی بھارت 70 فیصد روس پر انحصار رکھتا ہے، اکتوبر 2018ء میں بھارت نے دنیا کے سب سے طاقتور میزائل پانچ S400 ایئر ڈیفنس سسٹم کیلیے روس سے 5.43 بلین امریکی ڈالر کا معاہدہ بھی کیا ہے۔

ہند-روس تعلقات کی اس مختصر تاریخ پر نظر ڈالنے کے بعد کیا اس سوال کی کوئی حیثیت باقی رہتی ہے کہ بھارت نے سلامتی کونسل میں روس کے خلاف مذمتی قرار داد کی ووٹنگ میں شرکت کیوں نہیں کی؟ ممکن ہے کہ بہت سے افراد یہاں انسانیت نوازی اور امن عامہ کا حوالہ دے کر یہ کہیں کہ بھارت کا موقف درست نہیں ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس جنگ کے آغاز کا مکمل ٹھیکرا روس کے سر پھوڑنا درست ہے؟ کیا ان مغربی ممالک پر اس مہلک جنگ کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی جو نیٹو اتحاد میں روزافزوں اضافے کا خواب دیکھ رہے ہیں،جب کہ دنیا جانتی ہے کہ نیٹو اتحاد کو محض سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے وجود میں لایا گیا تھا، لیکن اس کے زوال کے بعد بھی مسلسل نیٹو اتحاد کو ترقی دینا چہ معنی دارد؟

بے شک روس نے جو جارحانہ رویہ اپنایا ہے اور باہمی مسائل کے حل کا جو ہلاکت خیز طریقہ اختیار کیا ہے وہ امن عالم کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے، اور اسی لیے اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے ٹی ایس تری مورتی نے ایک وضاحتی نوٹ جاری کر کے اسکی تصریح کی کہ بھارت کسی بھی طرح کی جنگ کی ہرگز حمایت نہیں کرتا ہے، اور دونوں ممالک کے سربراہان سے درخواست کرتا ہے کہ وہ مذاکرات کی ٹیبل پر آکر آپسی رسہ کشی کو دور کریں کریں اور باہمی معاملات کو حل کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔