فرانس میں اظہار رائے کی آزادی بے نقاب

ڈاکٹر سلیم خان

فرانس کی ایک عدالت نے صدر میکرون کو تھپڑ مارنے والے مجرم  کو 18 ماہ قیدکی سزا سناکر اس میں سے  14 ماہ کی سزاکم کردی اس طرح 4ماہ بعد وہ باعزت بری ہوجائے گا۔عدالت نے ملزم کو فرانس میں سرکاری ملازمت سے برخواست کرتے ہوئے اسے کسی قسم کے سرکاری عہدے کے لیے تا حیات نا اہل قرار دیا ہے اور پانچ سال تک کسی قسم کا اسلحہ رکھنے پربھی پابندی عائد کردی۔ اٹارنی جنرل نے صدر پر حملے کو "سراسر ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے "جان بوجھ کر تشدد کا فعل” قرار دیا تھا۔حملہ آور نے عدالت میں اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ حرکت جذبات میں سردز ہوگئی ۔ اس کا ارا دہ  میکرون پر انڈا پھینکنے کا تھا لیکن عوامی مقام پر ان کا نظر آنا اسے ناگوار گزرا جس کی وجہ سے اس نے صدر کو تھپڑ ماردیا کیونکہ وہ میکرون کی  صدارت سے مایوس ہوچکا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ دائیں بازو کے خیالات کا حامی اور حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کرچکا ہے۔ حملہ آور تاریل تو خیر دائیں بازو کا حامی نکل آیا اگر مسلمان ہوتا تو  بعید نہیں کہ دہشت گردی کے الزام میں پولس کی گولیوں سے بھون دیا جاتا۔

فرانس کے اندر اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کے لیے  اظہار رائے کی آزادی  کو ڈھال بنایا  جاتا ہےمگر پچھلے سال موقر عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فرانس کے اندر اظہار رائے کی آزادی کے تعلق سے ایک  رپورٹ شائع کرکے فرانس کی قلعی کھول دی ۔ اس  رپورٹ میں   فرانس کی تصویر اپنے دعوے کے برعکس دکھائی دیتی ہے یعنی وہ  "آزادی اظہار رائے” کا حامی  نظر نہیں آتا۔ رپورٹ کے مطابق توہین آمیز خاکوں پر قتل  کے بعد فرانسیسی پولیس نے10 سال سے بھی کم عمر کے  4 بچوں کی  کئی گھنٹوں  تک محض اس  لیے تفتیش کی  کہ انہوں نے اپنی کلاس کے دوران کہہ دیا تھا کہ توہین آمیز خاکوں کی نمائش پر مبنی استاد کا وہ اقدام "غلط” تھا۔ کیا ان معصوم  بچوں کو کسی ایسی بات کو غلط کہنے کا حق بھی نہیں ہے کہ جسے وہ غلط سمجھتے ہیں۔  ان کا ایسا کرنا اگر غلط بھی ہوتا تب بھی پولس کے ذریعہ گھنٹوں ہراساں کرنے کی اجازت دنیا کا کون سا قانون دیتا ہے؟ پچھلے سال میکرون نے کہا تھا  کہ اگلے سال سے ہر مذہب کے بچوں کا اسکول جانا لازمی ہوگا۔ تعلیم کا مقصد تربیت یافتہ شہری پیدا کرنا ہے نہ کہ مذہبی جذبے سے سرشار پیروکار لیکن کیا اسکول جانے والے طلبا کے ساتھ اس طرح جبرو ظلم  انہیں مہذب شہری بنائے گا ؟

فرانس میں انسانی حقوق کی پامالی کا شکار صرف مسلمان نہیں ہیں  بلکہ سال 2019ء میں 2؍ افراد کو صرف اس لیے "توہین و ہتک” کا مجرم قرار دے کر سزا دی گئی کیونکہ انہوں نے ایک پرامن ریلی کے دوران امانوئل میکرون  کا پتلہ نذر آتش کیا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں گزشتہ سال  ماہ جون کے اندر  انسانی حقوق کی ایک یوروپی  عدالت نے فرانس کے اندر "اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے” پر 11 افراد کی  سزا کو "آزادیٔ اظہار رائے” کے حق کی پامالی  قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے (فرانس کے اندر) سیکولرازم کے نام پر مسلمانوں کو تعلیمی اداروں یا کام کی جگہوں پر "اپنا دینی لباس” پہننے کی اجازت نہیں دینے پر سخت تنقید کی ہے ۔ اس ادارے  کے مطابق فرانس میں پبلک سیکٹر کے اہلکاروں کی توہین کے حوالے سے ہزاروں افراد کو سزا دی جاتی ہے۔ فرانسیسی حکام اس قانون کی آڑ میں  اپنے بے شمار پر امن مخالفین کی زبانیں بھی بند کروا دیتے ہیں۔

میکروں  کی پارلیمنٹ میں  فی الحال سوشل میڈیا پر حکام کی تصاویر کی توہین کو غیرقانونی قرار دینے کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو حیرت ہے کہ  ایک طرف فرانسیسی حکمراں اپنے متعلق اس قدر حساس ہیں  اور دوسری طرف پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین کی "آزادی اظہار رائے” کے بہانے  جائز قرار دیتے ہیں۔ یہ  دوغلاپن ایمنسٹی کی "سمجھ سے بالاتر” ہے۔اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا  کہ فرانسیسی استاد کے قتل کے کچھ دنوں کے بعد فرانس نے "انتہاء پسندی” اور "قومی سلامتی کے خطرے” کے شبہے میں نہ صرف 231 غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کر دیا تھا۔ اس  رپورٹ میں تاکید کی  گئی ہے کہ "آزادیٔ اظہار رائے” کی حمایت پر مبنی فرانسیسی حکومت کے بیانات "شرمناک منافقانہ رویے” کو ظاہر کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق  آزادی اگر تمام فریقوں کو برابر میسر  نہ ہو تو وہ بے معنیٰ ہے۔

 فرانسیسی صدر کی جانب سے "غیر معمولی حالات کے تسلسل” اور "انتہاء پسندی سے مقابلے” کا بہانہ بناکر  کئی مساجد کو بند کر نے اور  مسلمانوں کے متعدد اجتماعات پر بھی پابندی لگانے پر تنقید کی گئی کیوں کہ  آئین میں انتہا پسندی تعریف واضح نہیں ہے اس لیے اس کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق فرانسیسی وزیر داخلہ کی  "فرانس میں اسلاموفوبیا کی  مخالف تنظیم  (Collective against Islamophobia in France-CCIF) کے اجتماعات پر پابندی کی دھمکی غلط ہے    کیونکہ یہ تنظیم فرانس کے اندر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف مزاحمت کرتی  ہے۔ اس کے برخلاف فرانسیسی وزیر داخلہ نے بلا ثبوت کے یہ دعوی کر دیا ہے اس تنظیم کے اجتماعات "جمہوریت دشمن” اور دہشتگردی کی راہ ہموار  کرتےہیں۔

میکرون جیسے نام نہاد   آزادی اور رواداری کے علمبردار  رہنما کی زبان پر یہ دھمکی زیب نہیں دیتی کہ ملک میں کہیں بھی کسی کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ مذہب کا سہارا لے کرفرانس کی اقدار سے متصادم علحٰیدہ متوازی معاشرہ بنانے کی کوشش کرے۔ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ وہ اپنے اقدار بزور قوت تھوپنا چاہتے ہیں اور ایسا کرنا آزادی و رواداری کے خلاف ہے۔ مذہب کے نام پر بچیوں اور خواتین پر قدغنیں لگانے کی حوصلہ شکنی کرنے کا دعویٰ کرنے والی فرانسیسی حکومت پبلک سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین کو  حجاب ترک کرنے  پر مجبور کرتی ہے اور اس پابندی  نجی شعبے میں بھی لاگو کرنا چاہتی ہے۔ کیا یہ اپنی مرضی سے  حجاب کرنے والے خواتین کے حقوق پر  قدغن لگانا نہیں ہے۔ صدر ایمانوئلمیکرون کے ذریعہ  صدارتی اور پارلیمانی انتخابات سے ٹھیک ایک سال قبل متعارف کی جانے والی امیگریشن، سکیورٹی اور اسلام پسندی پر از سر نو توجہ مرکوز کرنے کیپالیسی دراصل  دائیں بازو کے رائے دہندگان کا دل جیتنے کی ایک کوشش ہےکیونکہ   آئندہ الیکشن میں میکرون  کے حریف سوشلسٹ نہیں بلکہ  دائیں بازو کیرہنما  مارین لے پین ہوں گی۔

فرانس میں 1905 کے سیکولر قانون کے تحت عوام  کی اکثریت مذہب اور ریاست کو الگ الگ رکھنے کی حامی ہے لیکن اب انتہا پسند  لادینیت (ایکسٹریم سیکولرزم) کا رحجان فروغ  پانے لگا  ہے۔ اس امر اعتراف خودمذہبی امور کی وزارت کے حامل   وزیرِ داخلہ جیرلڈ ڈرمینن بی ایم ایف ٹی وی پر بات کرتے ہوئے اس طرح  کیا کہ مذہب کے خلاف نفرت میں اضافہ سبھی مذاہب  کا احاطہ کرکے سب کو نقصان پہنچاتا ہے۔انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا  کہ صدر میکرون نے مسیحی مخالف، یہودی مخالف اور اسلام مخالف قوانین کے خلاف جنگ کیلیے ایک پارلیمانی مشن تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ فی الحال فرانس میں سیکولر جمہوریت کا نظریہ آزادی ، رواداری اور مساوات کا دشمن بنا ہوا لیکن اس کے خلاف لب کشائی کی جرأت میکرون کے اندر نہیں ہے۔ اس لیے وہ اپنے نظریاتی بحران کا ٹھیکرا اسلام کے سر پھوڑتے ہوئے کہتے ہیں ‘اسلام اس وقت دنیا میں ایک بحران سے دوچار ہے‘۔ اس کے بعد انہیں مجبوراً کہنا پڑتا ہے کہ فرانسیسی جمہوریہ میں بیرونی مداخلت سے پاک ‘روشن خیال اسلام‘ کی بہت گنجائش موجود ہے۔ اسلام کو روشن خیالی اور تاریک خیالی کے زمرے میں تقسیم کرنے والے میکرون کو چاہیے کہ انتہا پسند اور معتدل لادینیت کا مسئلہ فوراً  حل کریں  ورنہ اگلے انتخاب میں ای وی ایم کے اندر سے تھپڑ برآمد ہوگا اور ان کا  سیاسی مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ لی پین کی آمد کے بعد فرانس میں بھی  ٹرمپ اور مودی یگ  کا آغاز ہوجائے گا۔

(۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔