فلسطین اور اسرائیل

تاریخی حیثیت، عالمی سازش اور فسادی دور

مفتی محمد قاسم اوجھاری

      فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ہے۔ یہ اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان ہے، تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ عربستان سے قبیلہ سام کی ایک شاخ جو کنعانی یا فونیقی کہلاتی تھی 2500 قبل مسیح میں اس خطہ میں آکر آباد ہوئی۔ پھر آج سے 4000 سال پہلے یعنی لگ بھگ 2000 قبل مسیح میں حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے ایک شہر سے جو دریائے فرات کے کنارے آباد تھا ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ایک بیٹے اسحاق علیہ السلام کو بیت المقدس میں جبکہ دوسرے بیٹے اسمعٰیل علیہ السلام کو مکہ مکرمہ میں آباد کیا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن کا نام اسرائیل بھی تھا۔ ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بہت سے دیگر پیغمبر اسی سرزمین میں پیدا ہوئے یا باہر سے آ کر یہاں آباد ہوئے۔ اس مناسبت سے زمین کا یہ خطہ پیغمبروں کی سرزمین کہلایا۔

      فلسطین کا ایک بہت معزز شہر ہے، جو دنیا کا قدیم ترین شہر ہے۔ جس کا عربی نام القدس ہے اور قدیم مصنفین عام طور پر اس کو بیت المقدس لکھتے ہیں، یہ دنیا کا واحد شہر ہے جو یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے یکساں مقدس اور محترم ہے۔ یہ شہر پہاڑیوں پر آباد ہے اور انہی پہاڑیوں میں سے ایک کا نام کوہ صیہون ہے، جس پر مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ واقع ہیں۔ کوہ صیہون کے نام پر ہی یہودیوں کی عالمی تحریک صیہونیت قائم کی گئی، عبرانی زبان میں اس شہر کا نام ”یروشلم“ ہے، اور آج کل یروشلم ہی کے نام سے زیادہ مشہور ہے، یہ نام حضرت داؤد علیہ السلام نے رکھا تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے 1004 قبل مسیح سے 965 ق م تک 33 سال حکمرانی کی۔ ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے 965 ق م میں حکومت سنبھالی جو 926 قبل مسیح تک 39 سال قائم رہی۔

      حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اسرائیل کی متحدہ ریاست دو حصوں سامریہ اور یہودیہ میں تقسیم ہو گئی۔ دونوں ریاستیں ایک عرصے تک باہم دست و گریبان رہیں۔ 598 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے حملہ کر کے یروشلم سمیت تمام علاقوں کو فتح کر لیا اور شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر بادشاہ اور ہزاروں شہریوں کو گرفتار کر کے بابل میں قید کر دیا۔ 539 قبل مسیح میں ایران کے بادشاہ خسرو نے بابل کو فتح کیا اور قیدیوں کو رہا کر کے واپس یروشلم بھیج دیا۔

      332 قبل مسیح میں یروشلم پر سکندر اعظم نے قبضہ کر لیا۔ 168 قبل مسیح میں یہاں ایک یہودی بادشاہت کا قیام عمل میں آیا۔ لیکن اگلی صدی میں روما کی سلطنت نے اسے زیر نگین کر لیا۔ 135 قبل مسیح اور 70 قبل مسیح میں یہودی بغاوتوں کو کچل دیا گیا۔ اس زمانے میں اس خطے کا نام فلسطین پڑ گیا۔ 20 اگست 636ء کو عرب فاتحین نے فلسطین کو فتح کر لیا۔ یہ قبضہ پرامن طریقہ سے عمل میں آیا۔ پھر 463 سال تک یہاں عرب عربی زبان اور اسلام کا دور دورہ رہا۔ اور یہودی ایک اقلیت کی حیثیت سے موجود رہے۔ پھر گیارہویں صدی کے بعد یہ علاقہ غیر عرب سلجوق، مملوک اور عثمانی سلطنتوں کا حصہ رہا۔ 1189ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا اور یہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی۔ چار صدیوں تک عثمانیوں کی حکمرانی کے بعد 1917ء میں برطانیہ نے اس خطے کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اعلان بالفور کے ذریعہ یہودیوں کے لیے ایک قومی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا۔

      فلسطین کی جانب یہودیوں کی نقل مکانی 17 ویں صدی کے اواخر میں شروع ہو گئی تھی۔ 1930ء تک نازی جرمنی کے یہودیوں پر مظالم کی وجہ سے اس میں بہت اضافہ ہوا۔ 1920ء، 1921 ء، 1929ءاور 1936ء میں عربوں کی طرف سے یہودیوں کی نقل مکانی اور اِس علاقے میں آمد کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے لیکن یہ سلسلہ جاری رہا۔

      1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعہ فلسطین کو تقسیم کر کے ایک عرب اور ایک اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا۔ برطانیہ نے اس علاقے سے 1948ءمیں اپنی افواج واپس بلالیں اور 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کی آزاد حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ اور اس طرح فلسطین کے کچھ علاقوں کو لے کر دنیا کے نقشہ پر اسرائیل نامی ریاست وجود میں آئی۔

      اس کے بعد ایک نیا دور شروع ہوا، جس کو عالمی فسادی دور کہا جا سکتا ہے، اسرائیل نامی ریاست پھیلتی چلی گئی اور ظلم وستم کی تمام حدود کو پار کرتے ہوئے فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کرتی چلی گئی حتیٰ کہ اس کے اکثر علاقے بزور طاقت ہڑپ کرلیے، عالمی طاقتوں نے اس خطے کو اپنا مرکز سیاست بنایا، اور ایسی خانہ جنگی پیدا کی گئی کہ ہزاروں اور لاکھوں جانے گئیں اربوں کھربوں کا مالی نقصان ہوا، معزز مقامات کی بے حرمتی کی گئی اور قابل احترام آثار قدیمہ کو تہس نہس کر دیا گیا، اسرائیلی ریاست اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ وہ اپنے دم پر کچھ کر سکے لیکن عالمی طاقتوں نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور اس کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا، عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں تبصرہ نگاروں اور مفکروں نے اس کا تفصیلی منظرنامہ کھینچا ہے۔

      آج صورت حال یہ ہے کہ فلسطین کو خطہ ارض سے ہی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا نام و نشان مٹانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کئے جارہے ہیں، صہیونی طاقتیں فلسطین کو اپنے منھ کا لقمہ بناکر ہڑپ کرنا چاہتی ہیں، دنیا یہ منظر نامہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور خاموش تماشائی ہے۔۔۔۔ لیکن مظلوموں کا خون رائیگاں نہیں جاتا ہے، ظلم و ستم کبھی پنپتا نہیں ہے، ہر ایک عروج کو زوال ہے۔۔۔۔ ایک دن وہ بھی آئے گا کہ یہ ظلم وستم تھمے گا، اس داستان کا اختتام ہوگا، حالات بدلیں گے، اہل حق کی فتح ہوگی، باطل کے منصوبے ناکام ہوں گے، دجالی طاقتیں زیر ہوں گے، فلسطین کی سرزمینیں آزاد ہوں گی، اور اہل فلسطین آزادی اور راحت کی سانس لیں گے۔۔۔۔ بس کچھ عرصے کے لیے اندھیروں کا راج ہے عنقریب اجالا ہونے کو ہے، فتنوں کی شام ہے اور سحر ہونے کو ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا