كيا كورونا دنيا كے نقشے كو بدل كرركھ دے گا؟

كورونا كے بعد كى دنيا ويسى نہيں ہوگى جيسا اس وبا كے پهيلنے سے پہلے ہم زندگى جى رہے تهے

ڈاكٹر رضوان رفيقي

(جنرل سكريٹرى اسلامى اكيڈمى نئى دہلى)

 بلاشبہ اس وقت پورى دنيا بہت سخت حالات سے گزر رہى ہے، كورونا نے صرف كسى خطے كو متاثر نہيں كيا ہے، چين كے تجارتى  مركز ووہان سے شروع ہو كر اس وبا نے پورے كرہ ارضى كو اپنى لپيٹ ميں لے ليا ہے، جو ممالك زياده ترقى يافتہ تهے وه اس بيمار ى سے اتنے ہى زياده متاثر ہيں، اس بيمارى نے قوموں كى لائف اسٹائل كے ساتھ ساتھ لوگوں كے  سوچنے  سمجهنے كے انداز  كو بهى بدل ڈالا ہے۔ اب تو اس بات پر تما م ہى مفكرين كا اجماع ہے كہ كرونا كے بعد كى دنيا، پہلے كى سى نہ ہوگى۔ سياسى وسماجى سطح پر بهى بڑى نمايا ں تبديليا ں ديكهنے كو مليں گى، كيونكہ پورى انسانيت پہلى بار اس طرح كے چيلنج كا ايك ساتھ سامنا كررہى ہے–

اس  پورے عمل ميں مسلم ممالك  اقدامى پوژيشن  ميں نظر نہيں آتے، ان كى نگاہيں كبهى مغرب (يوروپ وامريكا ) كى طرف ہوتى ہيں اور كبھى مشرق ( چين وجاپان ) كى طرف كہ كيا معلوم كس طرف سے اس بيمارى سے نجات كى نويد آئے-

فارن پاليسى ميگزين نے ابهى حال ہى ميں كرونا اور مابعد كى دنيا كے حوالے سے ايك سروے كروايا، جس ميں مختلف ميدانوں سے وابستہ لوگوں نے حصہ ليا، سياست داں يا بيوروكريٹس، نامى گرامى يونيورسٹيوں كے  پروفيسرس اور سائنس داں ہوں يا طبى ميدان سے وابستہ ڈاكٹرس، ملٹى نيشنل كمپنيوں كے مالكان ہوں يا تعليم  وريسرچ كے ميدان كے شہ سوار، ہر طبقے كى اس سروے ميں نمائندگى ہے۔

سابق امريكى جنرل اور بروكنگس انسٹيٹوٹ كے ڈائركٹر  جان آر  ايلن بڑے شرح صدر كے ساتھ كہتے ہيں كہ كورونا كے بعد كى دنيا ناقابل تصور حد تك تبديل ہو جائے گى، كئى ممالك كى چودهراہٹ خطر ے ميں ہے، يہ وبا، معاشى سرگرميوں كو مفلوج كركے ركھ ديں گى، اور بڑ ے اور طاقتور ممالك ميں رسہ كشى عروج پر ہو گى، ترقى پذير ممالك كورونا سے سب سے زياده متاثر ہوں گے، بے روزگارى  كئى ممالك كے سماجى تانے بانے كوبهى متاثر كردے گى  اور نام نہاد عالمى نظام  آپسى رسہ كشى او ر اختلافات كى وجہ سے زميں بوس ہو جائے گا–

امريكى وزارت خارجہ كے سابق عہديدار  اور ہارورڈ  يونيورسٹى ميں پروفيسر آر نيكولاس برنس نے كورونا وائرس كو اس صدى كا سب سے بڑا عالمى چيلينج قرار ديا، ان كے بقول  يہ وبا پورى دنيا كے منظرنامے كو بدل دے گى، 2008 كى عالمى كساد بازارى اس كے سامنے پھيكى پڑ جائے گى، چين او ر امريكہ كے درميان جارى كشيدگى چيلينج كا سہى مقابلہ كرنے كے بجائے پيچيدگى كا سبب بن رہے ہيں، جس كا خميازه پورى دنيا كو بهگتنا پڑ سكتا ہے۔

اسى طرح كے خدشات كا اظہار پرسٹن يونيورسٹى كے  شعبہ سياسيات كے پروفيسر جون ايكنبرى نے كيا ہے، ان كاخيال ہے كہ كورونا كے بعد كى دنيا ميں  امريكى سطوت ختم ہوجائے گى، اور يوروپ بهى اس پوژيشن ميں نہيں ہوگا كہ وه امريكہ كا متبادل بن سكے، لا محالہ عالمى قيادت مشرق كى طرف منتقل ہوگى اور چين امريكہ كى جگہ لے لے گا – جون ايكنبرى كى تائيد سنغاپور كے سابق وزير خارجہ كشور محبوبانى بهى كرتے ہيں ليكن وه ايكنبرى سے جزوى اختلاف كرتے ہوئے كہتے ہيں كہ كرونا كے بعد كى دنيا ميں گلوبلائزيشن كا مركزى محور امريكہ كے بجائے چين ہوگا۔ مگر اس كا مطلب يہ نكالا جائے كہ عالمى معاشيات كے  تما م پيمانے بدل جائيں گے – موجوده حالات ميں امريكى قوم كا ايمان گلوبلائزيشن پر متزلزل ہوا ہے اور وه عالمى تجارت كے حق ميں نہيں ہے، اس كے برخلاف چينى عوام پچهلى صدى كى آخرى دہائى سے اپنے حدود سے نكل كر پورى عالمى منڈى ميں مسابقہ آرائى كررہى ہے اور وه اس ميں مزيد آگے بڑهنا چاہتى ہے۔

سابق نيشنل سيكورٹى ايڈوائزر شيو شنكر مينن كا خيال ہے كہ كورونا كے بعد كى دنيا كے بارے ميں كسى قطعى نتيجے تك پہونچنا جلدبازى ہوگى البتہ كورونا ما بعد كى دنيا كا زياده انحصار اس بات پر ہے مختلف حكومتيں اس وبا سے كيسے نمٹتى ہيں –

بہر حال اتنا تو طے ہےكہ كورونا كے بعد كى دنيا ويسى نہيں ہوگى جيسا اس وبا كے پهيلنے سے پہلے ہم زندگى جى رہے تهے، اگر سماجى لحاظ سے غور كريں تو ہمارے سماج ميں بڑى تبديلى واقع ہو چكى ہے، ہمارے خاندانى تعلقات نے نئے رنگ و روپ اختيا ركرلئے ہيں، قربت كى جگہ پر دورى كو ترجيح دى جانے لگى ہے، مل بيٹھ كر بات چيت كى جگہ انفراديت (indiualism) كو فروغ ديا جانے لگا ہے، رشتے ناطے اب بذريعہ فون يا وہاٹس أپ نبھائے جانے لگے ہيں، گهروں كى اور چوپالوں كى مجلسيں مفقود ہو گئى ہيں، سماجى رابطے بهى آن لائن ہو گئے ہيں، يہ تبديليا ں اس وقت ہيں جب كرونا نہيں اپنے بال وپر مكمل طور پر نہيں نكالے ہيں۔

كرونا نے پورے تعليمى نظام كى شكل كو  ہى تبديل كرنے كا عزم   كر ركها ہے، نرسرى سے ليكر يونيورسٹى تك ہر مرحلے كى تعليم آن لائن ميں تبديل ہو رہى ہے، گهروں ميں موبائل اور ڈيسك ٹاپ كم پڑنے لگے ہيں، كيونكہ آن لائن كلاس كرنے والوں كى تعداد زياده ہے اور وسائل كم،اوپن يونيورسٹيز كى معنويت ميں اضافہ ہو گيا ہے، آن لائن ريسرچ كلاسز اور كانفرنسز كا انعقا د ہو رہا ہے، اس طر ح سے تعليمى نظام كى ماہئيت تبديل ہورہى ہے اور  مطلع جيسے جيسے صاف ہوگا اس ميں مزيد تبديلى كے آثار نظر آئيں گے –

سياسى لحاظ  سے ديكها جائے تو ايك شہرى كى آزادى پر مزيد قدغن لگنے والى ہيں، يہ حالات ممالك كو ايك طرح كے جابرانہ استحصالى نظام كى طرف دهكيل رہے ہيں، فرد كى آزادى پر قينچى چلے گى اور وه ہروقت مشينى آلات كے گهيرے ميں ہوگأ، جس  كے ذريعے  اسكى نقل وحركت پر  نظر ركهى جائے گى، كهلے پن كا فقدان ہوگا، جمہورى لبادے ميں بهى حكومتيں ڈكٹيٹرشپ كا مظاہره كريں گى، ان سب امور كا مقابلہ كرنے لئے ضرورى ہے كہ عوام الناس بيدارى كا ثبوت ديں اور  اپنى آزادى اور آزادئ رائے كے ليے جدوجہد كے راستے كو اختيار كريں۔

معاشى لحاظ سے مابعد كرونا كا دور انتہائى كساد بازارى كا ہوگا، بعض رپورٹيں تو اس جانب بهى اشاره كرتى ہيں كہ كئى ممالك ديواليہ ہو جائيں گے اور عالمى معيشت كا گراف كم ازكم ستّر في صد تنرّلى كا شكار ہوگا، اس كا سب سے زياده اثر غريب اور جنگ زده ممالك پر پڑے گا، اور بعض طاقت ور ممالك   تعمير وترقى كے نام پر دوسرے ممالك كو غلام ركهنے كے لئے نئے ہتھ كنڈے استعمال كريں گے۔

يہ تو صرف قياسات ہيں جس كى جانب عالمى صورت حال اشاره كررہى ہے، ايسے ميں اس طوفان سے صحيح سالم وہى ممالك اپنى كشتى پار لگا پائيں گے جو عزم وحكمت كے ساتھ اس چيلنج سے نبردآزما ہونے كى طاقت ركهتے ہيں۔

تبصرے بند ہیں۔