منصوبہ بندی کی اہمیت و ضرورت سیرت رسول ﷺ کے تناظر میں

مذہب اسلام کے اندر تمام شعبہ ہاے زندگی سے متعلق سنہری اصول وضوابط اورفطرت کے عین مطابق قوانین وفرامین موجود ہیں۔کوئی ایسا گوشۂ حیات نہیں جس سے متعلق اسلامی تعلیمات کی جلوہ نمائی نہ ہو۔مذہب اسلام کی ہمہ گیریت پر تعجب و استہزا کا اظہار کرتے ہوئے مشرکین نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے کہا تھا  ”  لقد علمکم نبیکم کل شیئ حتى الخراءۃ  ”کہ تمہارے نبی ﷺ نے تو تمہیں ہر چیز کی تعلیم دی  ہے یہاں تک کہ آداب قضاےحاجت بھی سکھلا دیے ہیں۔ تب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے انھیں جواب دیتے ہوئے قضاے حاجت سے متعلق نبیﷺ کے فرمودہ آداب ان کے سامنے بیان کیے۔ (صحیح ابوداود:7)
گویا دشمنان اسلام کو بھی مذہب اسلام کی ہمہ گیریت و جامعیت کا اعتراف تھا ۔جو دین آخری اور بلا تفریق مکمل بشریت کیلیے ضابطۂ حیات بن کر آیا ہے اس کا  ہر اعتبار سے   کامل و جامع ہونا ضروری  بھی ہے۔چنانچہ اگر آپ اسلامی تعلیمات پر تدبر وتفکر کی نگاہ ڈالیں تو ان کے اندر  انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں ایسی  مکمل رہنمائی اور تنظیم ملے گی جو دیگر مذاہب کے اندر موجود نہیں۔ماضی سے سبق سیکھنے، حال کو آنے والی نسلوں کے لیے سبق آموز تاریخ بنانے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کے سلسلے میں کتبِ سیرت و تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔نبی ﷺ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ  منصوبہ بندی اور نظم ونسق کا عظیم الشان مظہر تھا۔دعوتی زندگی کے سنہری آغاز سے  تکمیل دین کی بشارت آمیز انتہا تک کوئی ایسا گوشہ نہیں جسمیں تنظیم و تخطیط کے تابناک نقوش نمایاں نہ ہوں۔وحیِ نخستین کے نزول کے بعد جب آپ ﷺ نے اپنی پیغمبرانہ زندگی کا آغاز کیا تو تین برس تک  پس پردہ دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔ابتدائی مراحل میں آپ ﷺ نے خفیہ طریقۂ دعوت  کی پلاننگ اس لیے کی ،کیوں کہ مہبطِ وحی مکہ تھا اور مکہ اس وقت دین عرب کا مرکز تھا۔ وہاں کعبہ کے پاسبان اوربتوں کے نگہبان  بھی موجود تھے۔اگر اچانک علانیہ طور پر ان کے لچرپوچ شرکیہ عقائد،واہیات تصورات اور پشتینی رسومات پر ضرب لگائی جاتی تو وہ شدت استعجاب واستنکار اور احساس غضب سے پھٹ پڑتے اور ایک ہیجان خیز صورت حال پیش آجاتی۔چنانچہ آپ ﷺ نے بتقاضاے حکمت و دانائی سب سے پہلے ان لوگوں پر اسلام پیش کیا جن سے آپ کے گہرے مراسم وعلائق تھے یا جن کے چہروں پر  آپ نے بھلائی کے آثار دیکھے تھے، یا جان چکے تھے کہ ان کے اندر ردباطل اور قبول حق کی استعداد موجود ہے۔تین سالہ خفیہ وانفرادی دعوت و تبلیغ کے ذریعے اہل ایمان کی ایک جماعت تیار ہوگئی جو اخوت ومودت اور تعاون وتناصر پر قائم،تبلیغ دین کے جذبات سے سرشار، پیغام الہی کو اس کا مقام دلانے کے لیے ہر ممکن کوشاں اور  اللہ کی راہ میں ہر طرح کے مصائب و مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے  ازفرق تا بہ قدم مستعد تھی۔پھر اس کے بعد آپ ﷺ نےبحکم الہی چوتھے سالِ نبوت کے آغاز سے کھلم کھلا دین کی دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا۔یقیناً یہ انداز دعوت  حالات وظروف کے عین مطابق اور حکمت و منصوبہ بندی پر مبنی تھا۔صرف یہی نہیں اس کے بعد مکی و مدنی  تمام مراحلِ دعوت پر آپ غور کر لیجیے ہر جگہ  آپ کو منصوبہ بندی کا استحکام اورپلاننگ کی پختگی جلوہ گر نظر آئے گی۔
نبی ﷺ کے غزوات و سرایا اور فوجی مہمات پر متدبرانہ نگاہ ڈالیے تو ہر جگہ تخطیط و تنظیم اور مشاورت کےانمٹ نقوش نمایاں نظر آئیں گے۔جنگ بدر کے موقعے پر اچانک حالات کی پر خطر تبدیلی کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ کا ایک اعلی فوجی مجلس شوری منعقد کرنا،جاسوسی دستہ روانہ فرماکر لشکرِ مکہ کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنا،اہم فوجی مراکز کی طرف اسلامی لشکر کا سبقت کرنا،ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے مرکزِ قیادت تعمیر کرنا، اسی طرح جنگ احد کے موقعے پر مدینے کی دفاعی حکمت عملی کے لیے فوجی ہائی کمان کی مجلس شوری کا انعقاد، اسلامی لشکر کی ترتیب اور جبلِ رُمات پر ماہر پچاس تیر اندازوں کی تعیین وغیرہ، یہ ساری منصوبہ بندیاں بڑی باریکی اور حکمت پر مبنی تھیں جن سے نبی ﷺ کی دور اندیشی اور فوجی عبقریت کا پتہ چلتا ہے۔
جنگ احزاب کے موقعے پر جب متحدانہ طور پر دشمنان اسلام نے مسلمانوں پر کاری ضرب لگاکر ان کا چراغ حیات گل کرنے کا ناپاک ارادہ کیا تو نبی ﷺ نے اطلاع پاتے ہی ہائی کمان کی مجلس شوری منعقد کی ، دفاعی منصوبے پر صلاح مشورہ کیا اور قائدین اہل شوری نے غورو خوض کے بعد متفقہ طور پر  حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی خندق کھودنے کی باحکمت دفاعی تجویز منظور کی۔
معرکۂ موتہ کے موقعے پر نبی ﷺ نے تین امیر مقرر کیے۔سب سے پہلے لشکر کا سپہ سالار زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر زید  شہید کردیے جائیں تو جعفراور جعفر شہید کردیے جائیں تو عبداللہ بن رواحہ سپہ سالار ہونگے۔اس سے جہاں آپ ﷺ کی جنگی حکمت عملی جلوہ گر ہوتی ہے وہاں مسلمانوں کو یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جب حالات نازک ہوں تو متعدد منصوبے بنانا چاہیے تاکہ ایک کی ناکامی کی صورت میں دوسرے پر عمل کیا جا سکے۔
آپ ﷺ کی دعوتی زندگی اور فوجی مہمات سے مذکورہ مثالیں بطور مشتے نمونہ از خروارے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی پوری زندگی خواہ اس کا تعلق کسی بھی  محاذ سے ہو منصوبہ بند تھی۔واقعۂ ہجرت پر غور کر لیجیے تو  تخطیط و پلاننگ کے اتنے سارے اسالیب و طرق کا ادراک ہوگا کہ آپ ششدر رہ جائیں گے۔دعوتی،تعلیمی، سیاسی،سماجی  اور اقتصادی ہر اعتبار سے آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں منصوبہ بندی کے راہنما اصول موجود ہیں۔سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے جب اپنی مالداری اور ورثہ میں صرف ایک لڑکی ہونے کا حوالہ دے کر اپنا دو تہائی مال  صدقہ کرنے کی خواہش کا اظہار نبی ﷺ کے سامنے کیا تو آپ ﷺ نے انھیں منع فرمادیااور بالآخر بات  جب ایک تہائی تک  پہنچی اس پر بھی نبیﷺ نے  ان سے فرمایا:
"الثلث كثير أن تدع ورثتك أغنياء خير من أن تدعھم عالة يتكففون الناس”
کہ ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے، تم اپنے وارثوں کو غنی چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ انھیں محتاج  چھوڑکر جاؤ اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔(بخاری :5668)اس سے اقتصادی پلاننگ کی اہمیت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
اسلام میں تعلیم کی اہمیت اس بات سے بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ اس کا پہلا فرمان ہی پڑھنے پڑھانے اور تعلیم و تعلم پر مبنی ہے۔نبی ﷺ نے قولی عملی ہر اعتبار سے امت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔جنگ بدر کے قیدیوں کا قضیہ آپ دیکھ لیں۔آپ ﷺ نے قیدیوں کی رہائی کا ایک طریقہ یہ بھی  مقرر کیا تھا کہ جس کے پاس فدیہ نہ ہواوروہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو تو وہ مدینے کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادے۔جب یہ بچے اچھی طرح لکھنا پڑھنا سیکھ جائیں گے تو یہی اس کا فدیہ ہوگا۔تعلیمی منصوبہ بندی کا اس سے اعلی نمونہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آپ ﷺ صاحب وحی و رسالت ہونے کے باوجود جنگی معاملات اور دیگر اہم کاموں  میں مشاورت کا اہتمام فرماتے  تھے۔جس سے معاملے کے مختلف گوشے واضح ہوجاتے اور حالات کے مطابق کوئی عمدہ تجویز سامنے آجاتی اور پھر مسلمان اس پر عمل در آمد کرتےتھے۔آج جب کہ باہمی مشاورت کا فقدان اور ہر طرف بےنظمی کا دور دورہ ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے سارے  گوشوں کو منصوبہ بند بنائیں۔موجودہ حالات میں  جبکہ مسلمانوں کے  وجود پر ایک طرح سےخطرے کی تلوار لٹک رہی ہے،منصوبہ بندی اور با ہمی مشاورت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ہندوستان کی موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم  ملکی و سیاسی مسائل میں بغیر باہمی صلاح مشورے کے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھائیں۔کم از کم سیاسی امور میں ہم بین المسالک متحدہ پلیٹ فارم قائم کرنے کی کوشش کریں۔الیکشن کے  زمانے میں  مختلف جمعیتوں و تنظیموں کے ذمہ داران،دانشوران اور سیاسی  مسائل پر گرفت رکھنے والےباشعور افراد ِملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی بھرپور رہنمائی کریں اور ان کے اندر سیاسی سوجھ بوجھ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ہم اپنے مسائل و مشکلات کا حل    ”وأمرھم شورى بينھم” اور” وشاورھم في الأمر”   پر عمل پيرا  ہوکر ہی نکال سکتے ہیں۔اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا