ٹویٹ کرنے والے قومی سربراہان دہشت گردی سے لڑ بھی رہیں ہیں یا۔۔۔؟

رویش کمار

سب کچھ ایک روٹین سا ہو گیا ہے. ایک کے بعد ایک دہشت گردی کے واقعات ہوتے جا رہے ہیں. ٹی وی چینلوں پر جائے حادثہ کی تصاویر اب ایک سی لگنے لگی ہیں. بھاگتے ایمبولینس، فلیش لائٹ والی بلیٹ پر سوار پولیس اہلکار اور ادھر ادھر بھاگتے لوگ. ان کی چیخیں، ان کا فریادیں. مرنے والوں کے نام، ان کی تصاویر، ان کی تعداد، آخری اسٹیٹس اپ ڈیٹ. واقعہ بدل جاتا ہے، مگر منظر نہیں بدلتا ہے.

فرانس نیس میں اس بار دہشت گرد بم لے کر نہیں آیا. ٹرک لے کر آیا اور چوراسی لوگوں کو کچل گیا. فرانسیسی صدر فرانسوا اولاد نے کہا ہے کہ پورا فرانس اسلامی دہشت گردی کے سائے میں ہیں. فرانس میں گزشتہ نومبر سے ایمرجنسی ہے جب 130 لوگوں کی ہلاکت ہوئی تھی. ایسے واقعات کی وحشیت اوربربریت بڑھتی ہی جا رہی ہے. اسلامی اسٹیٹ کے دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر کوئی لگام نہیں دکھتا ہے.

دہشت گردی کے واقعات کے ردعمل کا بھی ایک مخصوص پیٹرن ہو گیا ہے. واقعہ ہوتے ہوئے دنیا بھر کے دو چارقومی سربراہ ٹویٹ کرکے مذمت کرنے لگتے ہیں، دہشت گردی سے لڑنے کا عزم دہراتے ہیں، کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کی بات کہتے ہیں. وہ یہ نہیں بتاتے کہ گزشتہ واقعہ کے وقت بھی کندھے سے کندھا ملا کر دہشت گردی سے لڑنے کا وعدہ کیا تھا، اس کا کیا نتیجہ نکلا …؟ وہ دہشت گردی کے خلاف کہاں جاکر لڑتے ہیں …؟ لڑتے بھی ہیں یا لڑنے کے نام پر سی سی ٹی وی لگا کر بیٹھ جاتے ہیں. پوری دنیا غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے. قومی سربراہوں کی تشویش نقلی ثابت ہوتی جا رہی ہے. وہ کام کا حساب نہیں دیتے، صرف ٹویٹ کر دیتے ہیں.

برطانیہ میں جب چلكاٹ کی رپورٹ میں سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے کردار کو مشکوک پایا گیا تو کیا ٹوئٹر والے ان قومی سربراہان نے کوئی ٹویٹ کیا تھا …؟ جب چلكاٹ اور لیبر پارٹی کے رہنما عراقی عوام اور برطانوی فوج سے معافی مانگ رہے تھے، تب یہ لیڈر کہاں تھے …؟ کیا یہ ٹویٹ کرکے معافی مانگ رہے تھے …؟ ان لیڈروں کا ایک پاور کلب سا بن گیا ہے جو نیک نیتی- تعزیت کے لئے کم، اپنے وجود کے لئے بھائی چارہ- بہناپا زیادہ لگتا ہے. ورنہ آپ  پتہ کیجئے، کس قومی سربراہ نے چلكاٹ رپورٹ پر  فکرمندی کا اظہار کیا ہے. جن کی پالیسیاں دہشت گردی کے جڑ میں رہی ہیں، وہی تعزیتی کلمات کا بھی اظہار کر رہے ہیں. ایک جھوٹ کے سہارے عراق میں لاکھوں لوگوں کو مار کر بدلے میں دنیا پر دہشت گردی کس نے مسلط ہے.

دنیا کی عوام کو ہر دوسرے مہینے سیاہ سوٹ پہن کر تصویر كھنچانے والے ان قومی سربراہان سے پوچھنا چاہئے کہ اسلامی اسٹیٹ کس کی وجہ سے پیدا ہوا ہے …؟ اسے پیدا کرنے میں کس نے مدد کی ہے …؟ دنیا کی کون کون سی کمپنیاں ہیں جو اسلامی اسٹیٹ کے ساتھ کاروبار کر رہی ہیں …؟ اسلامی اسٹیٹ کے ہتھیار ختم کیوں نہیں ہو رہے ہیں …؟ انہیں ہتھیار کون دے رہا ہے …؟ کیا ان ساری باتوں کی بلیک سوٹ والے لیڈروں کو بالکل ہی جانکاری نہیں ہے …؟ کیا وہ دہشت گردی سے لڑنے والے اپنے ٹویٹس میں اس کا کوئی ذکر کر رہے ہیں …؟ ان کی لڑائی کا کیا نتیجہ نکلا کہ اسلامی اسٹیٹ کی دہشت گردی سب کے پڑوس تک آ گئی ہے.

صدر اولاد کہتے ہیں، شام جاکر لڑیں گے، پر وہ تو ان کے فرانس میں گھس کر حملہ کر رہا ہے. وہاں تو ایمرجنسی لگی ہے، پھر بھی اولاد دہشت گردانہ حملے نہیں روک پا رہے ہیں تو شام جاکر کیا لڑیں گے …؟ آسمان میں جہاز اڑانے اور ٹی وی پر اس کا ویڈیو دکھانے سے جنگ نہیں ہو جاتی ہے. شام سے پہلے بھی دہشت گردی تھی، اس کا دوسرا نام تھا. وہ کس کی وجہ سے تھی.

ہر واقعہ دنیا کو دہشت اور ماتم میں دھکیل دیتا ہے. عام لوگ مارے جا رہے ہیں. ان ہی بلیک سوٹ والے لیڈروں کے کلب میں پاکستان بھی ہے، جہاں دہشت گردی کو فوجی حمایت مل رہی ہے. ان بلیک سوٹ والے لیڈروں نے وہیں کون سا دہشت گردی کو جڑ سے مٹا دیا …؟ پاکستان کے لوگ بھی دہشت گردانہ حملے میں مارے جا رہے ہیں، ان کے لئے کون لڑ رہا ہے …؟  لڑ بھی رہا ہے کہ صرف ٹوئٹربازی ہو رہی ہے. آج دنیا میں طرح طرح کی دہشت گردی ہے، مگر بلیک سوٹ والے لیڈروں کی تعزیت، نیک نیتی اور عزم کے بول ایک ہی ہیں. کئی بار لگتا ہے کہ لیڈر نے پچھلا ٹویٹ ہی ٹویٹ کر دیا ہے.

تبصرے بند ہیں۔