پاکستانیت یا عربیت: شناخت کا بحران!

یاسر محمود

ابھی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعزاز میں ریاض میں چند مسلم سربراہان مملکت کے اجتماع کے موقع پر پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے لئے دورہ سعودی عرب کے دوران کسی قسم کے رسمی استقبالیہ کا نہ ہونا اور انکے اعزاز میں دیگر مسلم ممالک کے سربراہان کے برخلاف کوئی بھی اہتمام نہ کیا جانا حتی کہ پورے دورہ سعودی عرب کے دوران اکرام و تکریم کے معاملہ میں انکو نظر انداز کیا جانا’ پاکستانی میڈیا اور سوشل فورمز پر ایک موضوع بحث بنا رہا۔ کچھ لوگوں نے اس کے لئے عسکری اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا تو کچھ لوگوں نے عربی روایتی رد عمل کے مزاج کو، جبکہ بعض لوگوں نے اسکے لئے جمہوری حکومت کیساتھ عسکری اداروں کی غیر واضح رسہ کشی کو۔ جبکہ ایک بڑی تعداد نے وزیر اعظم نواز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے بالمقابل صدر ایوب خاں کے 1960 کے دورہ سعودی عرب کے دوران زبردست اعزاز و اکرام کے عربی اہتمام کو پیش کیا۔

اصل میں صدر ایوب خاں کے دورہ سعودی عرب(1960) کے وقت سعودی عرب کے پاس بلیک گولڈ  ‘پیٹرو-ڈالر’ نہیں تھا بلکہ محض اسپریچول گولڈ  ‘حج-عمرہ’ ہی انکا بزنس تھا۔ اس لئے اسوقت سعودی عرب کو پاکستان کی ضرورت تھی نا کہ پاکستان کو سعودی عرب کی۔ اور پاکستان نے مقامات مقدسہ کے نام پر ‘عربیت’ بنام مذہب کے تحفظ اور اسکی عالمی استعماری توسیع کی خدمات بخوبی انجام دیں ۔ جبکہ آج صورتحال الٹ گئی ہے، آج سعودی عرب بلیک گولڈ+اسپریچول گولڈ (پیٹرو ڈالر+حج و عمرہ) کیوجہ سے ایک ‘علاقائی عربی استعمار’ کی شکل اختیار کر گیا ہے جبکہ پاکستان اپنے اسی مقام پر درآمدی شناخت(imported identity)_’عربیت’ پر جامد  کھڑا (passive mode) مستقبل کے تعلق سے نظریاتی شناخت کے بحران (identity crisis) کا شکار ہے۔ چنانچہ اس درآمد شدہ غیر مقامی شناخت (unnatural/incompatible imported identity)_”عربیت” کو اپنی منصبی شناخت و منصبی فریضہ مقرر کردینے کیوجہ سے پاکستان کو آج اپنے مقام پر سعودی عرب کی غیر فطری ضرورت (incompatible need) بلکہ مجبوری (dependency) ہے۔ چنانچہ آج پاکستان اور پاکستانی معاشرہ کو مستقل طور سے ملکی-معاشرتی-ثقافتی-نظری تناقض (national-social-cultural-ideological paradox) کا سامنا ہے۔

درحقیقت 1979 کا درآمدی عربی اہداف کے حصول کیلئے مقامی معاشرہ کی “صحرائی عسکریت سازی” یعنی عربی تشکیل و ساخت (Arabianisation of Society and Social Mindset) ہی وہ فیصلہ تھا جو اس معروضی مخمصہ پر منتج ہوا اور یہ مقامی معاشرہ کی “صحرائی عسکریت سازی” یعنی عربیت سازی (Arabianisation) ہی وہ کلی طور سے درآمدی فیصلہ تھا جو آگے چل کر ایک طویل المدتی اجتماعی و حکومتی ڈاکٹرائن بن گیا۔ جسکا عالمی استعماری عسکری انڈسٹری کیلئے بھی استعمال کیا جاتا رہا۔

یقینا اجتماعی و ملکی تاریخ سازی میں لمحات کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ یہ جذباتی لغزشوں پر مشتمل لمحاتی فیصلے (momentary move) اپنے عواقب و مضمرات (output and outcomes) کے لحاظ سے نہایت دور رس بلکہ صدیوں پر مشتمل (oriented) ہوتے ہیں ۔

 اس طرح (پاکستانی) مقامی معاشرت ‘فطری معاشرت-flexible society’ (یعنی ایک ایسا محرک جو فطری بنیادوں پر انسانی معاشرہ کو ارتقائی، تغیر پذیر اور متحرک بنائے) سے تبدیل ہوکر ایک ‘متصادم قوم’ (یعنی جو عصبی و تصلبی بنیادوں پر انسانی معاشرہ کو سلبی، محض منجمد اور معطل رکھے) بنکر اپنی حیویت کے لحاظ سے غیر مقامی ‘عربی قوم/عربی جغرافیائی جسد’ (صحرائی طبع،رویہ،مزاج) کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ چنانچہ اسکے تمام انفرادی و اجتماعی حرکات و اعمال اسکی مقامی ضرورت و افادیت کے بجائے outsource ہوکر اسے معاشرہ میں مقامی ہوتے ہوئے اجنبی بنائے ہوئے ہیں ۔ حتی کہ پورے بر صغیر کیلئے incompatible۔ اس طرح پاکستانی مسلم قوم و معاشرت غیر مقامی مقاصد کیلئے غیر محسوس طویل مدتی آلہ کار بن کر مقامی معاشروں میں اپنی شناخت اور وجود کھو کر ناقابل برداشت اور Non Adjustable ہوگئی ہے جبکہ تمدنی طور سے غیر ضروری بلکہ مضر۔

 چنانچہ پاکستانی مقامی معاشرہ آج ایک ایسی بند گلی (blocked tunnel) میں قید ہے جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ۔ یہی وجہ ہیکہ زندگی کے ہر شعبہ میں انتشار (long-term confusion) واضح طور سے نظر آتا ہے جسکو مقدس نعروں (جہاد…)، مقدس عربی استعماری توجیہات(غزوۃ الہند، غزوۃ الشام، غزوۃ الروم…) اور مقدس مصنوعی اہداف(خلافت اسلامی، اسلامک اسٹیٹ) وغیرہ کے ذریعہ مستقل divert رکھا جاتا ہے۔

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

حل:

بڑے سے بڑے مشکل ترین بلکہ محال قسم کے اجتماعی مسائل کا بھی سب سے بڑا، کامیاب اور قابل عمل واحد حل “ہر سطح پر اجتماعی اعتراف حقائق” ہے۔ چنانچہ “اعتراف حقائق” ہی وہ واحد راستہ ہے جو بے شمار حل کیطرف لیکر جاتا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔