9/11: صہیونی اختراع اور اس کے مقاصد

اللہ بخش فریدی

یہود ’’تعمیر کیلیے تخریب‘‘ پر ایمان رکھتے ہیں اور یوں اپنا یا اپنے محسنوں کا نقصان کرکے اپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کرتے ہیں۔ 11ستمبر کو نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی اس کی ایک ادنیٰ سی مثال ہے۔ یہ اہل باطل (یہود و نصاریٰ لابی) کی مشترکہ کاوش ہے اور اسلام اوراہل اسلام کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے۔ کئی بین الاقوامی ایجنسیاں اس بات کی گواہی دے چکی ہیں کہ ان حملوں میں یہودی لابی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ خود کئی یہودی بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ یہ ہمارے ایک’’ ماسٹر مائنڈ ‘‘کی اختراع تھی اور اس کا مقصد اس کا ملبہ مسلمانوں پے ڈال کے ان کی ریاستوں میں عدم استحکام اورخلفشار پیدا کرنا تھا۔

یہود کی خفیہ دستاویزات میں دہشت گردی کروانے کا کھولا اعتراف موجود ہے۔ یہود کے خفیہ پروٹوکولز ’’ The Protocols of the Learned Elders of Zion‘‘ کے پروٹوکول نمبر 9میں واضح طور پر لکھا ہے کہ

’’یہ ہم ہی ہیں جو ہمہ جہت دہشت گردی پھیلاتے ہیں ۔ ہمارے تنخواہ داروں میں ہر مکتبہ فکر کے افراد شامل ہیں ۔ ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے، شاہ پسند، شورش پسند، مجمع لگانے والے تقریر باز، اشتراکی، اشتمالی اور خوابوں کی دنیا میں بسنے والے۔ ہم نے سب کو کام پر لگایا ہوا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے طور پر اقتدار کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہر مستحکم نظام کو تہ و بالا کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ‘‘

(Protocols # 9۔ تعلیم کے بعد تعلیم، دہشت گردی کا منبع) حقیقت یہ ہے کہ کفر فساد ہے اور کافر قوموں نے ہمیشہ فساد برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن مجید نے یہود ونصاریٰ کی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا

وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَکُفْرًاط وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَھُمْ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِط کُلَّمَآ اَوْقَدُْ وا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَھَا اللّٰہُ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاِرْضِ فَسَادًاط وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَo

’’اور اے محبوب ﷺ!یہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اترا، اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر میں ترقی ہوگی، اور ان میں ہم نے قیامت تک آپس میں دشمنی اور بیر ڈال دیا، جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں ، اللہ اسے بجھتا ہے، اور زمین میں فساد کیلیے دوڑتے پھرتے ہیں ، اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (المائدہ 64:5)

آج یہ اہل کتاب ہی کا اٹھایا ہوا شر ہے جس کی زد میں پوری ملت اسلامیہ ہے۔ ان کا پیدا کردہ سب سے بڑا شر اور فتنہ دہشت گردی کی تخلیق اور اس کی پشت پناہی ہے۔یہ دنیا کے ہر کونے اور ملت کے ہر طبقہ سے میر صادق ومیر جعفر تلاش کرتے ہیں ، پھر ان پر بے بہا عنایات و مال زر دے کر خریدتے ہیں پھر ان سے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل تخریب کاری کرواتے ہیں ۔یہ صہیونی ٹولہ دنیا میں فتنوں کا خدا ہے، یہ دنیا میں شر، اشتعال انگیزی، سازش و تخریب کاری کے موجد ہیں اور فتنہ و شرپسندی کی علامت۔ان کا سب سے بڑا شر امن و سلامتی کے داعی دین حق اسلام پر دہشت گردی کا الزام ہے اور اس الزام کے نتیجہ میں امت مسلمہ کے صالح اور صاحب تقویٰ افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اہل کتاب کے ارباب سیاست نے چونکہ اپنے مذہب کو چھوڑ کر بے دینی اختیا ر کی ہے لہٰذا انہیں مذہب پر عمل کرنے والا کوئی مسلمان قابل قبول نہیں ۔ جس طرح انہوں نے اپنے مذہب کو ایک کونے پر لگایاہوا ہے اسی طرح وہ اسلام کو بھی بے وقعت کر دینا چاہتے ہیں اس لیے انہوں نے پہلے انتہا پسندی کی اصطلاح وضع کی اور پھر اسے مسلمانوں پر ٹھونس دی اور ا ب اس کے ساتھ دہشت گردی کا الزام بھی چسپا ں کیا جا رہا ہے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں اوراسلام دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مذہب ہے، یہ فتنہ و فساد کا دین ہے۔یہ سب ان یہود ونصاریٰ کی چالاکی اور مکر و فریب ہے۔ اسلام تو ایک کھلا، اصولی، روشن خیال، معتدل اور فطری دین ہے جس میں مو افقت و مخالفت، ، محبت ونفرت او ر یگانگت و علیحدگی کے ضوابط موجود ہیں ۔ یہ کوئی زیر زمین تحریک نہیں کہ سازشیں کرے یا خفیہ منصوبہ بندی کرے، اس کا نصب العین بالکل واضح اور مقاصد متعین ہیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اہل کتاب نے ہمیشہ خفیہ منصوبہ بندیاں کی ہیں ، سازشیں کی ہیں ، بد عہدیاں کی ہیں اور انتہا پسندانہ کاروائیوں میں ملوث رہے۔

صہیونیت جو یہودی مذہب کا ایک سیاسی شعبہ ہے، عالمی سطح پر ہمیشہ اپنی بد عہدی اور ظلم کے باعث مشہور رہا ہے۔ انہیں اپنی پوری تاریخ میں اگر کہیں سکون میسر آیا تو وہ مسلمانوں کی سلطنتیں تھیں ۔ اسپین میں مسلمانوں نے ان کے ساتھ جس اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا اورخلافتِ عثمانیہ کے پورے دور میں انہیں جو آزادی حاصل رہی، ان کا اقرار ان کی اپنی تحریروں میں موجود ہے۔ مگر اس کے بر عکس انہیں جب کبھی موقع ملا انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے پیٹ میں چھرا گھونپا اور مظالم ڈھائے اور اپنے سے کم تر درجہ کی مخلوق سمجھا۔

یہود کے ہاں ان کے ایک مذہبی لٹریچر ( تالمود) کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس کتاب کے سات حصے ہیں ۔ ان میں سے ایک حصے میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے :

’’یہودی اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام فرشتوں سے زیادہ محبوب ہیں ۔ یہود اللہ سے وہی عنصری تعلق رکھتے ہیں جو کسی بیٹے کو اپنے باپ سے ہوتا ہے۔ اگر یہودی دنیا میں نہ ہوتے تو نہ آفتاب طلوع ہوتااور نہ زمین پر کبھی بارش برستی۔ اللہ نے تمام انسانوں کے کمائے ہوئے مالی وسائل پر یہود کو تسلط و تصرف کا اختیار کامل دے رکھا ہے۔ کسی یہودی کو اگر کوئی فائدہ پہنچ رہا ہو یا کسی غیر یہودی کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا اور دھوکے بازی، مکرو فریب سے کام لینا نہ صرف جائز ہے بلکہ واجب ہے۔ اے یہودیو! اگر کوئی شہر تمہارے قبضے میں آجائے تو وہاں کے تمام لوگوں کو قتل کردو۔ تمہیں اس کی قطعاً کوئی اجازت نہیں ہے کہ اپنے پاس کوئی قیدی رکھو۔ عورت، مرد، بوڑھے، بچے سب قتل کر دئیے جائیں ۔ ‘‘

تبصرے بند ہیں۔