باغی

یہ جملے ادا کرتے ہوئے وہ جذبات میں آچکا تھا، اس کی آواز بھرا گئی تھی، آنکھیں بہنے لگیں تھیں، میں یہ سوچتے ہوئے وہاں سے اٹھ گیا،کہ ہر مصیبت کا مارا، جس نے اپنی عمر امت کی ترقی کے لئے وقف کردیا ہو اور اس موروثی نظام جبر نے اس کی تمام کوششوں…