محمد علم اللہ

محمد علم اللہ

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ ہیں

پاکستان کی زینب کے نام خط

زینب! تمھاری عمر کی میری بھانجیاں ہیں، جو مجھے ازحد عزیز ہیں؛ وہ میرے پاس ہوتی ہیں، تو انھیں کہانیاں سناتا ہوں۔ ان کے ساتھ کھیلتا ہوں۔ وہ بہت خوش ہوتی ہیں۔ تم بھی انھیں کی طرح ہو ، اس لئے تم بھی میری بھانجی ہی ہوئیں ۔سو میری بھانجی زینب! گاوں سے اب میں دہلی چلا آیا؛ اور اب  میری ان سے بھی  کئی سالوں سے ملاقات نہیں ہوسکی؛ لیکن تمھیں بتاوں، کہ وہ روزانہ فون پر مجھ سے کہانی سنتی ہیں۔ مجھے ان کی ادائیں بہت اچھی لگتی ہیں، جس طرح تمھاری امی اور ابو کو تمھاری پیاری اور معصوم ادائیں بھاتی ہوں‌ گی۔

مزید پڑھیں >>

بیمار قوم پرستی کی علامت کیوں بن گئے جوہر؟

جوہر کی یاد آنے کا دوسرا سبب، عالمی سطح پر یروشلم اور بیت المقدس کا خبروں میں جگہ پانا رہا؛ ’سر پھرے‘ امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے اسرائیل کے لیے اس سر زمین کو راج دھانی کے طورپر تسلیم کرنا اور وہاں سفارت خانے کی منتقلی کے منصوبے کا اعلان ہے۔ یہ وہی یروشلم اور بیت المقدس ہے، جہاں مولانا مدفون ہیں۔

مزید پڑھیں >>

لکھنے والے کی کامیابی کیا ہے؟

بلاشبہ کبھی کبھی پیشہ ورانہ ضرورتیں بھی لکھنے پر مجبور کرتی ہیں، چوں کہ ہمارا پیشہ بھی حرف و قلم سے جڑا ہے تو ہمارے لکھنے کے سبب میں یہ لکھنا بھی لازم ٹھیرا کہ ہمارے لکھنے کا ایک محرک پیشہ بھی ہے یا پیسا بھی ہے۔ تاہم یہ بھی اپنی جگہ درست ہے کہ پیشہ ور تحریریں لکھنے میں مزا نہیں آتا اور کبھی کبھی تو ہمارا ضمیر بھی ہمیں ملامت کررہا ہوتا ہے کہ یہ کیا لکھ رہے ہو اور کیوں لکھ رہے ہو؟ ایسے موقع پر بہت خوف آتا ہے اور اس معنی میں بھی آتا ہے کہ کل خدا کے حضور کیا جواب دوں گا! لیکن پھر بھی اگر قلم کار کے پاس تازہ افکار ہیں اور وہ بصیرت رکھتا ہے تو ایسے موقع پر بھی وہ بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا دامن بچا لے جاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

محفل مشاعرہ میں معتبر شعراء نے پیش کیا کلام 

اردو میں شاعرات کی تعداد گرچہ کم ہے تاہم یہ خوشی کی بات ہے کہ ایک ایسےعہد میں جب کہ اردو کی معدومیت کا شکوہ کیا جاتا ہے مرد شاعروں کے علاوہ خواتین بھی اردو شاعری میں جگہ  بنا رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اردو کی شاعرہ فوزیہ رباب کے شعری مجموعہ آنکھوں کے اس پار کے رسم اجراء کے موقع پر ماہرین زبان و ادب نے کی۔

مزید پڑھیں >>

رویش جی! آپ کو کیا چیز ڈراتی ہے؟

ان دِنوں رویش کمار (پیدائش 5 دسمبر 1974ء ) مشرقی چمپارن بہار سے تعلق رکھنے والے این ڈی ٹی وی سے وابستہ معروف صحافی اور ٹی وی اینکر کو دھمکی دی جا رہی ہے، کہ وہ سیکولرازم کی بقا، اقلیتوں اور پچھڑے طبقات، جن کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا، کی آواز اٹھاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رویش کمار فی زمانہ ایک حق گو اور بے باک صحافی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستانی سکالر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب سے انٹرویو

جس چیز کو “انٹرویو” کہتے ہیں، اس انداز سے یہ انٹرویو نہیں لیا گیا ۔ اس کے لئے پہلے سے نہ تو کوئی تیاری کی گئی تھی اور نہ ہی اس کا کوئی ارادہ ہی تھا ۔ لیکن ان سب کے باوجود اس انٹرویو کی اہمیت اس لئے بھی اہم ہے کہ یہ انٹرویو چلتی ہوئی گاڑی میں ریکارڈ کیا گیاہے ۔ قارئین کو اس انٹرویو سے اندازہ ہوگا کہ ایک شخص کو شخصیت بننے میں کن طویل اور دشوار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔کیا ایک شخص ماں کے پیٹ سے ہی سیکھ کر جنم لیتا ہے ، یا پھر اسکی محنت، جد وجہد اور آرزواس کو کہیں پہونچاتی ہے؟

مزید پڑھیں >>