آصف اقبال

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

بے خوف ہوکر بولیے، کرسی جانے کا ڈر دل سے نکالیے!

سپریم کورٹ آف انڈیا کے معزز ججوں نے ہنگامی پریس کانفرس میں عدالت عظمیٰ کی انتظامی خامیوں سے قوم کو واقف کیا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کے طرز عمل اور طریقہ پر انگلی اٹھائی ہے۔ جسٹس لویا کی موت کا معاملہ بھی پریس کانفرنس میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں بہت کچھ ایسا ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے ہمیں لگا کہ ہماری ملک کے تئیں جوابدہی ہے اور ہم چیف جسٹس کو منانے کی کوشش بھی کرتے رہے لیکن ہماری کوششیں ناکام ہوئیں۔ اور اگر اس ادارہ کو نہیں بچایا گیا تو جمہوریت ختم ہو جائے گی۔ لہذا ہم نہیں چاہتے کہ بیس سال بعد کوئی یہ کہے کہ ہم نے اپنی 'آتما'بیچ دی تھی۔

مزید پڑھیں >>

آزمائشیں درخشاں و تابناک مستقبل کی علامت!

ایلون ٹوفلر مغرب کے بڑے ماہر عمرانیات ہیں اور ان کی کتابFuture Shockدنیا کی تین درجن زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہے۔ ایلون ٹوفلر نے خیال ظاہر کیا ہے کہ جدید مغربی تہذیب ٹیکنالوجی کے پیدا کردہ بحران میں مبتلا ہے۔ البتہ ان کا خیال یہ ہے کہ یہ بحران سائنس اور ٹیکنالوجی نے پیدا کیا ہے اور وہی اُسے اِس بحران سے نکالیں گی۔ اس سلسلے میں پال کینڈی کی رائے بھی اہم ہے۔ پال کینڈی امریکا کا اہم مورخ ہے۔ انہوں نے بڑی طاقتوں کے عروج زوال کے تجزبے سے متعلق اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سلطنت عثمانیہ اور امریکا دونوں کے زوال کا ایک ہی سبب ہے اور وہ یہ کہ ان عالمی طاقتوں نے خود کو بہت پھیلا لیا اور ان کے اخراجات ان کی آمدنی سے بہت زیادہ ہوگئے۔ اس پوری گفتگو میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ اخلاقی زوال ہی کسی قوم کی پستی کا اہم ترین سبب ہے۔ موجودہ دور میں اخلاقی زوال نے جس تیز رفتاری کے ساتھ ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ لیکن یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال خود اپنے آپ میں برا نہیں ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کے منفی استعمال سے قوم کا ہر فرد اور فی نفسہ قوم پرہیزکرے۔ منفی استعمال میں اخلاقی پستی سے لے کرتشدد اور ظلم و زیادتیاں اور استحصال سب کچھ شامل ہے۔

مزید پڑھیں >>

تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی!

اس موقع پر یہ بات بھی ذہن نشیں رکھنی چاہیے کہ جس ملت کا ہم بار بار تذکرہ اور مختلف حوالوں سے تذکرہ کرتے ہیں تو ملت محمدیہ ہے اور ملت محمدیہ اس وقت تک مسائل سے نبرد آزما ہوتی رہے گی جب تک کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے پیغام اور اسوہ کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ نہیں کر لیتی۔ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ ملت کا ہر فرد اسلامی تعلیمات سے بھر پور واقف ہو اور زندگی کے جس دور سے بھی وہ گزررہا ہے اس میں اس پر مکمل عمل پیرا ہو۔ اس کے ساتھ جب وہ بدلتے ہندوستان میں ایک نئے لائحہ عمل کے ساتھ میدان میں آئیں گے توضرور ان کے مسائل کم ہوں گے یہاں تک کہ ختم ہوجائیں گے انشااللہ۔

مزید پڑھیں >>

2019کے لوک سبھا الیکشن کی زمین ہمواری کی جا چکی ہے!

چھ سال قبل اس گھوٹالہ نے میڈیا کے ذریعہ عوام کا ذہن یو پی اے کے خلاف بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، نتیجہ میں یوپی اے کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ آج جبکہ فیصلہ سامنے آیا ہے اور وہ بھی گجرات الیکشن کے نتائج کے بعد تو اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کا اثر 2019کے پارلیمنٹ الیکشن پر کیا پڑے گا۔ کیونکہ 2019کے لوک سبھا الیکشن اور اس کے نتائج ملک کو ایک نئی سمت دینے والے ہیں جس کے مثبت و منفی اثرات دیر پا ہوں گے!

مزید پڑھیں >>

طلبہ کا ردّعمل کیا اشارہ دے رہا ہے!

محسوس ایسا ہوتا ہے کہ اب وقت بدل رہا ہے۔نوجوان طبقہ اور ریاست کے دیگر افرادوگروہ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ایک پلیٹ فارم بی جے پی خلاف منظم ہو چکا ہے۔ جس میں دلت بھی ہیں،پٹیل برادری بھی ہے،دیگر پسماندہ طبقات بھی ہیں اور عام شہری بھی ۔وہیں گجرات سنٹرل یونی ورسٹی کے یونین نتائج نے ایک اشارہ تو واضح طور پر دے دیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ای وی ایم مشین کیا کردار ادا کرتی ہے؟ نیز گجراتی لوگ اسمبلی الیکشن میں کس پارٹی کو کامیابی کا سہرا پہناتے ہیں !

مزید پڑھیں >>

نظریات کی جنگ خواہش سے پوری نہیں ہو سکتی!

ان حالات میں وقت کی آواز یہی ہے کہ جو لوگ مکھوٹا لگاکر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کر رہے ہیں، ان کی اصل شکل واضح کی جائے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ افرد اورگروہ جونظام عدل و انصاف کے قیام کا نعرہ بلند کر تے ہیں قبل از وقت خود انفرادی و اجتماعی ہردو سطح پر وہ نمونہ پیش کریں جس کے وہ خواہش مند نظر آتے ہیں !

مزید پڑھیں >>

شراب و منشیات: سماجی ناسور!(آخر ی قسط)

حقیقت یہ بھی ہے کہ اجتماعی خرابیاں اس وقت ابھر کے نمایاں ہوتی ہیں جب انفرادی خرابیاں پایۂ تکمیل کو پہنچ چکی ہوتی ہیں ۔ آپ اس بات کا تصور نہیں کر سکتے کہ کسی معاشرے کے بیشتر افراد نیک کردار ہوں اور وہ معاشرہ بحیثیت مجموعی بدکرادی کا اظہار کرے۔ یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے کہ نیک کردار لوگ اپنی قیادت اور نمائندگی اور سربراہ کاری بدکرادر لوگوں کے ہاتھ میں دے دیں اور اس بات پے راضی ہوجائیں کہ ان کے قومی اور ملکی اور بین الاقوامی معاملات کو غیر اخلاقی اصولوں پر چلایا جائے۔

مزید پڑھیں >>

شراب و منشیات: سماجی ناسور! (تیسری قسط)

 آج بین الاقوامی سطح سے لے کر ملکی سطح تک ہر سال ایک خاص دن انسداد منشیات کا منایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال منعقدہ اسی طرح کی ایک تقریب سے سابق صدر جمہوریہ ہندمسٹر پرنب مکھرجی نے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ منشیات کے شکار لوگوں کی شناخت،رہنمائی، کائونسلنگ اور نشے کی لت چھڑانے کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال اور باز آباد کاری کے لیے بھی مکمل خدمات فراہم کی جانی چاہیں ۔ وہیں یہ بات بھی آپ پر واضح ہے کہ شراب نوشی اور منشیات کی لعنت دراصل ذہنی،طبی اور معاشرتی مسئلہ ہے۔ جس سے نمٹنے کے لیے جامع طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ جامع علاج اورپروگرام کا مقصد صرف متاثرہ لوگوں کی شراب نوشی اور منشیات چھڑانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ منشیات کے شکار لوگوں کو منشیات سے آزاداورجرائم سے آزاد ی فراہم کرنے کے بعد روزگار سے وابستہ کیا جائے تاکہ وہ معاشرے کے لیے کار آمد ممبر بن سکیں۔

مزید پڑھیں >>

شراب و منشیات: سماجی ناسور!(دوسری قسط)

واقعہ یہ بھی ہے کہ شراب و منشیات کے اس کھلے بازار میں عصمتیں نیلام ہوتی ہیں،اخلاقی زوال کی بدترین مثالیں قائم کی جاتی ہیں ،نتیجہ میں نہ صرف ملک کا مستقبل ،نوجوان طبقہ ہلاکت کا شکار ہے بلکہ خاندان اور معاشرہ بھی بتاہیوں کے دہانے پر پہنچ رہے ہیں۔ دوسری جانب منشیات اور اس کو استعمال کرنے والے افراد کے ذریعہ نہ صرف معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ صحت عامہ کے بھی بے شمار مسائل یہیں سے فروغ پاتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

شراب و منشیات: سماجی ناسور!

موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ حکومتی و غیر حکومتی سطح پر بھی اُسی طریقہ تدریج کو اختیار کیا جائے۔ امید ہے اس کے بہتر نتائج اخذ ہوں گے۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی کوشش کی جانی چاہیے کہ ان کوششوں کے درمیان ربط ہو نیز ایک دوسرے کا تعاون لینے اور دینے کی پالیسی اختیار کی جائے۔ جو لوگ اس سماجی برائی کے خاتمہ کے لیے کوشاں ہوں انہیں اِسی پس منظر میں سعی و جہد کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں >>