گھنی گھنیری رات سے ڈرنے والا میں

راجیندر منچندہ بانیگھنی گھنیری رات سے ڈرنے والا میں سناٹے کی طرح بکھرنے والا میں جانے کون اس پار بلاتا ہے مجھ کو چڑھی ندی کے بیچ اُترنے والا میں رسوائی: تو رسوائی منظور مجھے ڈرے ڈرے سے پاؤں نہ دھرنے والا میں مرے لیے کیا چیز ہے…

غزل

راجیندر منچندہ بانیصدائے دل، عبادت کی طرح تھی نظرِ شمعِ شکایت کی طرح تھی بہت کچھ کہنے والا چپ کھڑا تھا فضا اجلی سی حیرت کی طرح تھی کہا دل نے کہ بڑھ کے اس کو چھو لوں ادا خود ہی اجازت کی طرح تھی نہ آیا وہ مرے ہمراہ یوں تو مگر اک…

غزل

راجیندر منچندہ بانییہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ سرِشام سینے میں ہانپتا ہے سراب سا کچھوہ چمک تھی کیا جو پگھل گئی ہے نواحِ جاں میں کہ یہ آنکھ میں کیا ہے شعلۂ زیرِ آب سا کچھکبھی مہرباں آنکھ سے پرکھ اس کو، کیا ہے یہ…

غزل

راجیندر منچندہ بانیعکس کوئی کسی منظر میں نہ تھا کوئی بھی چہرہ کسی در میں نہ تھا صبح اک بوند گھٹاؤں میں نہ تھی چاند بھی شب کو سمندر میں نہ تھا کوئی جھنکار رگِ گل میں نہ تھی خواب کوئی کسی پتھر میں نہ تھا شمع روشن کسی کھڑکی میں نہ…

غزل

راجیندر منچندہ بانیسیر شبِ لامکاں اور میں ایک  ہوئے رفتگاں اور میں سانس خلاؤں نے لی سینہ بھر پھیل گیا آسماں اور میں سر میں سُلگتی ہوا تشنہ تر دَم سے الجھتا دھواں اور میں اسمِ ابد کی تلاشِ طویل حسنِ شروعِ گماں اور میں میری…

غزل

راجیندر منچندہ بانیآج اک لہر بھی پانی میں نہ تھی کوئی تصویر روانی میں نہ تھی ولولہ مصرعۂ اول میں نہ تھا حرکت مصرعۂ ثانی میں نہ تھی کوئی آہنگ نہ الفاظ میں تھا کیفیت کوئی معانی میں نہ تھی خوں کا نم سادہ نوائی میں نہ تھا خوں…

غزل – خاک و خوں کی وسعتوں سے باخبر کرتی ہوئی

راجیندر منچندہ بانی خاک و خوں کی وسعتوں سے باخبر کرتی ہوئی اک نظر امکاں ہزار امکاں سفرکرتی ہوئیاک عجب بے چین منظر، آنکھ میں ڈھلتا ہوا اک خلش سفاک سی سینے میں گھر کرتی ہوئیاک کتاب صد ہنر تشریح زائل کا شکار ایک مہمل بات جادو کا…

غزل- فضا کہ پھر آسمان بھر تھی

راجیندر منچندہ بانی فضا کہ پھر آسمان بھر تھی خوشی سفر کی، اُڑان بھر تھیوہ کیا بدن بھر خفا تھا مجھ سے کہ آنکھ بھی چپ گمان بھر تھیاُفق کہ پھر ہو گیا منور لکیر سی اِک کہ دھیان بھر تھیوہ موج کیا ٹوٹ کر گری ہے توکیا یہ بس…

غزل – پیہم موجِ امکانی میں

راجیندر منچندہ بانی پیہم موجِ امکانی میں اگلا پاؤں نئے پانی میںصف شفق سے مرے بستر تک ساتوں رنگ فراوانی میںبدن، وصال آہنگ ہوا سا قبا، عجیب پریشانی میںکیا سالم پہچان ہے اس کی وہ کہ نہیں اپنے ثانی میںٹوک کے جانے کیا کہتا…

غزل – تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے

راجیندر رمنچندہ بانیتمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے کہیں تو کوئی دعا مانگتا ہے میرے لیےتمام شہر ہے دشمن تو کیا ہے میرے لیے میں جانتا ہوں ترا در کھلا ہے میرے لیے مجھے بچھڑنے کا غم تو رہے گا ہم سفرو مگر سفر کا تقاضا جدا ہے میرے…

غزل – دن کو دفتر میں اکیلا، شب بھرے گھر میں اکیلا

راجیندر رمنچندہ بانی دن کو دفتر میں اکیلا، شب بھرے گھر میں اکیلا میں کہ عکس منتشر ایک ایک منظر میں اکیلااُڑ چلا وہ اِک جدا خاکہ لیے سر میں اکیلا صبح کا پہلا پرندہ آسماں بھر میں اکیلاکون دے آواز خالی رات کے اندھے کنوئیں میں کون…

غزل – میں چپ کھڑا تھا، تعلق میں اختصار جو تھا

راجیندر رمنچندہ بانی میں چپ کھڑا تھا، تعلق میں اختصار جو تھا اُسی نے بات بنائی وہ ہوشیار جو تھاپٹخ دیا کسی جھونکے نے لا کے منزل پر ہوا کے سر پہ کوئی دیر سے سوار جو تھامحبتیں نہ رہیں اس کے دل میں میرے لیے مگر وہ ملتا تھا ہنس کر…

غزل – اک گلِ تر بھی شرر بھی نکلا

راجیندر رمنچندہ بانی اک گلِ تر بھی شرر بھی نکلا بسکہ ہر کام ہنرسے نکلامیں ترے بعد پھر اے گم شدگی خیمۂ گردِ سفر سے نکلاغم نکلتا نہ کبھی سینے سے اک محبت کی نظر سے نکلااے صف ابر رواں تیرے بعد اِک گھنا سایہ شجر سے نکلاراستے…

غزل – نہ منزلیں تھیں نہ کچھ دل میں تھا نہ سر میں تھا

راجیندر رمنچندہ بانی نہ منزلیں تھیں نہ کچھ دل میں تھا نہ سر میں تھا عجب نظارۂ لاسمتیت نظر میں تھاعتاب تھا کسی لمحے کا اک زمانے پر کسی کو چین نہ باہر تھا اور نہ گھر میں تھاچھپا کے لے گیا دنیا سے اپنے دل کے گھاؤ کہ ایک شخص بہت طاق…

غزل – مِرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے

راجیندر رمنچندہ بانی مِرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے اِک اور ذات میں ڈھلتا ہوا سا کچھ تو ہےمری صدا نہ... سہی ہاں... مِر الہو نہ سہی یہ موج موج اچھلتا ہوا سا کچھ تو ہےکہیں نہ آخری جھونکا ہو مٹتے رشتوں کا یہ درمیاں سے نکلتا…

غزل- پتّہ پتّہ بھرتے شجر پر ابر برستا دیکھو تم

راجیندر رمنچندہ بانی پتّہ پتّہ بھرتے شجر پر ابر برستا دیکھو تم منظر کی خوش تعمیری کو لمحہ لمحہ دیکھو تممجھ کو اِس دلچسپ سفر کی راہ نہیں کھوٹی کرنی میں عجلت میں نہیں ہوں یارو، اپنارستہ دیکھو تمآنکھ سے آنکھ نہ جوڑ کے دیکھو سُوئے…

غزل – زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے

زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے میں ڈھیر ہوگیا طولِ سفر سے ڈرتے ہوئےدکھا کے لمحۂ خالی کا عکسِ لاتفسیر یہ مجھ میں کون ہے مجھ سے فرار کرتے ہوئےبس ایک زخم تھا دل میں جگہ بناتا ہوا ہزار غم تھے مگر بھولتے بِسرتے ہوئےوہ ٹوٹتے…