جس کو میں سہہ نہ سکوں ایسی سزا مت دینا

خان حسنین عاقبجس کو میں سہہ نہ سکوں ایسی سزا مت دینا جب بچھڑ نا ہو تو جینے کی دعا مت دینا مضطرب دل تو مجھے قبر میں لے آیا ہے اب وہاں چین سے سوؤں تو اُٹھا مت دینا عشق کی آگ جو بھڑکے تو غضب کرتی ہے خود سے جلتی ہے تو جلنے دو، ہوا مت…

غم کے سِو ا نہ کچھ بھی ہو دِل کی دوکان میں

خان حسنین عاقبؔغم کے سِوا نہ کچھ بھی ہو دِل کی دوکان میں اتنا کسی کو چاہو نہ عاقبؔ ، جہان مین ترکش میں تیر کتنے ہیں اس سے غرض نہیں یہ دیکھئے کہ کتنی ہے طاقت کمان میں اک دو کروڑ تھے جو کراچی چلے گئے پچیس کروڑ اب بھی ہیں ہندوستان میں…

کھوئے ہوئے پَلوں کی کوئی بات بھی تو ہو

خان حسنین عاقبکھوئے ہوئے پَلوں کی کوئی بات بھی تو ہو وہ مِل گیا ہے ، اس سے ملاقات بھی تو ہو برباد میں ہُوا تو یہ بولا امیرِ شہر کافی نہیں ہے اتنا ، فنا ذات بھی تو ہو دنیا کی مجھ پہ لاکھ نوازش سہی مگر میری ترقیوں میں ترا ہاتھ بھی تو…

ہم کو سکونِ دل ملا غربت کے باوجود

خان حسنین عاقبہم کو سکونِ دل مِلا غربت کے باوجود کچھ لوگ مضطرب رہے دولت کے باوجود دِل نے تو کہہ رکھا تھا کہ ان کو سنبھل کے دیکھ اب آنکھ مَل رہا ہوں بصارت کے باوجود دل کی نمی جو پہلے تھی ، جانے کدھر گئی بہتے نہیں ہیں اشک ندامت کے…

غزل- تجھے وقتِ عبادت دے رہا ہوں

خان حسنین عاقبؔ تجھے وقتِ عبادت دے رہا ہوں خدا ہوں ،اتنی مہلت دے رہا ہوں زمینوں کا توازن رکھو قائم پہاڑوں کو ہدایت دے رہا ہوں کرو محسوس تم بھی اے امیرو ! تمہیں تھوڑی ضرورت دے رہا ہوں مجھے آتی ہے جادوگری بھی میں گونگوں کو فصاحت دے…

غزل- پیار کِیا تو سوچا تھا کیا ؟

خان حسنین عاقب پیار کِیا تو سوچا تھا کیا ؟ یعنی کسی سے پوچھا تھا کیا؟ اِک آری تھی ، چلی جو دِل پر آپ کا لہجہ ، لہجہ تھا کیا ؟ تیری یادیں ساتھ تھیں میرے کل شب میں بھی تنہا تھا کیا ؟ تم ہی کہو دیوانو ، کل تک اس بستی میں صحرا تھا کیا؟…

غزل- اگر میری نظر تجھ پر جمی ہے

خان حسنین عاقبؔ اگر میری نظر تجھ پر جمی ہے تو دنیا کی ہر اک شئے کیوں تھمی ہے یہاں رکھا تھا کل تابوت میرا درویوار میں اب تک نمی ہے بھلا ویسے تو تم اچھے بھلے ہو جہاں دِل ہے، وہیں تھوڑی کمی ہے حرارت اِس بدن میں کیا ملے گی یہاں تو برف…

غزل – عشق جو میرا ہے، وہ پا بہ جنوں ہے، یوں ہے

خان حسنین عاقب عشق جو میرا ہے ، وہ پا بہ جنوں ہے ، یوں ہے تیری جانب سے مگر ہاں ہے، نہ ہوں ہے ، یوں ہے کوئی دستک ہے، نہ آہٹ ، نہ ہی قدموں کی چاپ دل کے گلیاروں میں بس ایک سکوں ہے، یوں ہے قطرہ قطرہ جو ٹپکتا ہے مری آنکھوں سے ہے تو بے رنگ،…

ایڈوکیٹ علی رضا خان – آٹو رکشا ڈرائیور سے کامیاب وکیل تک کا سفر

' یقیں مُحکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں' خان حسنین عاقب "انسانی زندگی تغیرات سے عبارت ہے ۔ دنیا میں کسی چیز کو ثبات اور قرار حاصل نہیں ہے۔ یہی فطرت کا بھی اصول ہے۔ دن کے بعد رات آتی ہے اور رات کے…