ابراہیم جمال بٹ

ابراہیم جمال بٹ
کشمیر کے کالم نگار ہیں

نیشنل کانفرنس: بچہ بچہ جانتا ہے کہ درد کیا ہے کشمیر کا

آج نیشنل کانفرنس لوگوں کو اپنی باتوں سے پھسلانے کی ایک بار پھر کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ برسراقتدار ہو سکے لیکن لوگ آج ان کی ڈرامہ بازی اور مسخرے پن سے اچھی طرح واقف ہیں اور جو کم قلیل اب بھی ان کے گیت گاتے ہیں انہیں بھی اس چیز کا خیال کرنا چاہیے کہ آج تک اس پارٹی نے اصل معنوں میں کشمیر اور کشمیریوں کو کیا دیا۔

مزید پڑھیں >>

دیا سکہ پایا خزانہ

فقیر کی دعا کا اثر اس قدر ہوا ہے کہ آج تک اس کی شکل میرے سامنے محسوس ہوتی ہے۔ ان فقراء ومساکین کی مدد کر کے کس طرح اپنی پریشانیوں سے نجات اور عاقبت درست ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ مجھے اچھی طرح ہو چکا ہے۔ ایک دعا کے بدلے میں میرے رب نے میری لاڈلی بیٹی کی بیماری کافور کر دی۔ گویا پچاس روپے کے بدلے میں مجھے ایسا خزانہ عطا کیا گیا کہ آج تک اس خزانے کو دیکھ دیکھ کر ہی خوشیوں کے پھول میرے آنچل میں نذر آرہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مبارک ہو ! مسئلہ کشمیر حل ہونے کو ہے

یہ وقت ہی فیصلہ کرے گا لیکن یہ واضح ہے کہ اس بار مسئلہ کشمیر حل ہو ہی جائے گا۔ حل ایسا جس سے یا تو سارے کشمیری ذہنی طور ہندو بن جائیں گے یا ان کے لیے مزید مصائب ومشکلات اور ماردھاڑ کی نئی حکمت عملی ترتیب دی جائے گا۔بقول دنیشور شرما کے کہ ’’وادی کے پہلا دورہ ۶؍نومبر کو کر یں گے جس دوران وہ چار دن وادی اور دو دن جموں میں گزاریں گے اور وادی کی مذہبی، سیاسی، تجارتی ودیگر سماجی وغیرہ تنظیموں سے بات چیت کریں گے اور اس کے ساتھ ہی طلبہ تنظیموں سے سے بھی رابطہ کریں گے۔ گویا یہ صاف اعلان ہے کہ وادی میں چند ماہ کے بعد کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے…!

مزید پڑھیں >>

کشمیر: امتحاں ہے قوم کی تقدیر کا

اس بارے میں عوام کے بپھرے جذبات اور مختلف مقامات پر آج تک پیش آمد واقعات سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ کوئی سیاسی بازی گر بھی اس آوپریشن میں اپنا جادو آزما رہا ہے۔ وہ کون ہوسکتا ہے جو درپردہ یہ وحشیانہ اور گھناؤنا کام کر رہا ہو، وہ توخدا جانے تاہم عوامی حلقوں میں بہت ساری افواہیں گشت کر رہی ہیں اور قیاسات کے طومار بندھ رہے ہیں کہ سیاست کے بازار کے نامور دلال سیاسی بازی گری کے ایسے گھناؤنے جرائم میں لازماً ملوث ہیں ۔ سیاسی لیڈر ایک دوسرے پر اس ضمن میں الزام تراشیاں بھی کر چکے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کشمیر میں سیاسی بازی گروں کی بازی گری!

واد یٔ کشمیر کی تازہ صورت حال جس میں نہ صرف یہاں کی نوجوان نسل کو ہی ختم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں بلکہ جو نوخیز اور معصوم بچے ہیں انہیں بھی پچھلے کئی برسوں سے مسلسل نشانہ بنا کر ہمیشہ کے لیے ناخیز بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ایک طرف نوجوان نسل پر عسکریت اور مزاحمت کاروں کے نام پر مختلف طریقوں سے خون میں نہلایا جا رہا ہے اور دوسری طرف نوخیز اور معصوم بچوں کو بھی پیلٹ، بلٹ اور مختلف قسم کے مہلک ہتھیاروں کا شکار کر کے ناکارہ بنانے کی مذموم کوششیں ہو رہی ہیں۔ اب گذشتہ کئی ہفتوں سے ان سازشوں کے دوران ایک اور سوچی سمجھی سازش کے تحت یہاں کی خواتین کے بال کاٹ کر انہیں خوفزدگی کا شکار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

گھڑی کا ایک اہم پرزہ

وہ گھڑی جس کا پرزہ میرے گھر میں آج بھی موجود ہے تب سے لے کر آج تک نہ ہی میں نے اس کو ہاتھ لگایا اور نہ ہی اسے خراب ہوئی گھڑی میں ڈالا ،اسے دیکھ کر مجھے میرا پڑوسی راہیل یاد آتا ہے اور اس کے یاد آنے سے میری گھبراہٹ مجھے رُلا دیتی ہے۔ میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ راہیل اس وقت کیا کر رہا ہو گا؟ اُس اندھیری قبر میں اس کا حشر کیا ہورہا ہو گا

مزید پڑھیں >>

ان آنسوئوں میں درد مخفی نہیں تو اور کیا ہے؟

معصوم بچہ جب کبھی اپنے ماں باپ کے ساتھ شرارت کرتا ہے تو اس کے والدین طوطلی زبان ہی کا استعمال کر کے اس کے ساتھ بچے بن جاتے ہیں ، لیکن جب اسی بچے کی آنکھوں سے آنسوئوں کے قیمتی قطرات بہہ جات ہیں تو والدین کے دل نرم اور محبت کی انتہا پار کر کے بچے کو کسی بھی طرح چپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کی فرمائشیں پوری کرنے کی باتیں کرتے ہیں

مزید پڑھیں >>

اُمید میں بہار ہے!

 بیٹے کو اپنی ماں کی وہ باتیں یاد آئیں جو اس وقت اسے الٹا کر کے سنائی گئی تھیں کہ ’’تمہارا بیٹا بہت ہی ذہین وفطین ہے اور اس کی ذہانت کو چار چاند لگانے کے لیے کسی دوسرے اسکول کا انتخاب ضروری ہے، لہٰذا آپ اس کا داخلہ کسی اور اسکول میں کرائیں تاکہ وہ مزید اچھی طرح سے اپنی ذہانت میں اضافہ کر سکے۔

مزید پڑھیں >>

زندگی کا وہ آخری لمحہ!

نماز ایسی پڑھو جیسے تمہاری زندگی کی آخری نماز ہو۔‘‘ خدا کے حضور جب ایک صالح وزندہ بندہ کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کی رگ رگ سے تھرتھراہٹ محسوس کی جاتی ہے لیکن اگر اسی انسان کو سمجھ آجائے کہ یہ اس کی زندگی کی آخری نماز ہے تو اس میں کتنا خشوع وخضوع ہو گا ؟بلکہ اس احساس کو ناپنا اور اس کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔

مزید پڑھیں >>

مجھے ہے حکم اذاں

آج حالت اگرچہ کمزور ہے لیکن موذنوں کی آوازیں مسلسل گھونج رہی ہیں، انسانیت تک کم ہی سہی لیکن یہ آواز اصل حقیقت میں پہنچ رہی ہے۔ دین پھر سربلند ہو گا مگر اذان دینے کی مسلسل ضرورت ہے۔ مکمل دین اور مسلسل موذنوں (داعیان دین) کی آج ضرورت ہے، امت اس ضرورت کو پورا کر نے کی سکت رکھتی ہے، اس حوصلہ مند طبقہ کو سامنے لاکر اس کے قدموں پر قدم ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اللہ حوصلہ، ہمت، اخلاص اور ثابت قدمی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مزید پڑھیں >>