ادریس آزاد

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟(آخری پارٹ)

اسی طرح ایک تھری ڈی کے آبجیکٹ پر ایک تھری ڈی کاآبجیکٹ ایسی تہہ نہیں بنا سکتا کہ اگلی ڈائمینشن کا اظہار ہو۔اگر کوئی ڈائمینشن اپنے اوپر آئے گی تو وہ، بعینہ وہی ڈائمینشن رہیگی نہ کہ کوئی اور ڈائمینشن بن جائے گی۔اس اصول کی روشنی میں ہرڈائمینشن پر دوسری کوئی اور ڈائمینشن تعمیر ہوتی ہے۔ اگر بہت ساری کائناتیں ہیں تو بہت ساری ڈائمینشنز بھی ہوں گی۔

مزید پڑھیں >>

دے جا وُو: فطرت کا سر بستہ راز

تقریباً ہرانسان 'دیجا و ُو' کے تجربہ سے گزرتاہے۔ لیکن علم کی پوری تاریخ میں آج تک اس مظہر کو سمجھنے کے لیے جس قدر بھی مفروضے قائم کیے گئے  ہیں ان میں سے کسی ایک پر بھی سچے دل سے ایمان لانے کو جی نہیں چاہتا۔ صرف میرے ساتھ یہ معاملہ نہیں ، کسی انسان کو بھی اُن توجیہات پر یقین نہیں آتا جو آج تک کسی بھی زبان، مذہب یا علم کی شاخ کی طرف سے پیش کی گئی ہیں ۔ اس سے پہلے کہ ہم "دیجاو ُو" کو سمجھنے کی  ناکام کوششیں کریں ۔ قبل ازیں جو کوششیں ہوچکی ہیں ، اُن پر  پہلے ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟(پارٹ-3)

چنانچہ مذہب کے راستے سےکسی معاشرے میں داخل ہونے والی بُری رسموں کا مقابلہ صرف کوئی ایسا شخص ہی کرسکتاہے جو خود نئی نسل کا نمائندہ ہو۔ اس کے پاس اجتہاد کی طاقت ہو۔ وہ بری اور اچھی رسموں کا فرق پہنچانتاہو اور وہ پرانی نسل کی رسوم بالخصوص مذہبی رسوم (اور خداؤں) کا انکار کرسکے۔ایسا کوئی شخص اگر کامیاب ہوجائے تو ایک بار پوری سوسائٹی بدل جاتی ہے۔بہت سارے بُت ٹوٹ جاتے ہیں۔ فضول چیزوں میں سے سے تقدس کا عنصر ختم ہوجاتاہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟ (پارٹ:2)

چونکہ توھّمات انسانی جبلّت کا حصہ ہیں اور ان کے بغیر انسانی وجود کا تصور ممکن نہیں اس لیے انسانوں کو ہمیشہ مذہب کی ضرورت رہتی ہے۔ کیونکہ اعصاب کی کمزوری کے ساتھ ساتھ توھّمات میں اضافہ ہوتاہے ۔ بچے ، عورتیں اور بوڑھے لوگ زیادہ توھّم پرست ہوتےہیں ۔ وجہ یہی ہے کہ اُنکے اعصاب زیادہ کمزور ہوتے ہیں اور اُن کے لیے واقعہ میں زیادہ تکرار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بہت زیادہ کمزور اعصاب کا مالک شخص ایک بار کی ’’ہونی‘‘ کو بھی فطرت کی طرف سے پیغام سمجھ سکتاہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟ (پارٹ-1)

اِس موضوع کو لے کر صدیوں پر محیط سوالات اور ان کے جوابات کے سلاسل سے کتابوں کی الماریاں بھری پڑی ہیں۔ لیکن عموماً دیکھا گیاہے کہ خدا کو ماننے اور نہ ماننے کا تعلق کتابوں اور عقلی دلائل سے نہیں ہے بلکہ جذبات سے ہے۔ ہم اگر ایک ’’کوانٹی ٹیٹِو‘‘ (Quantitative) ریسرچ کریں اور چھ ارب انسانوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے تصورِ خدا کا مطالعہ کرنے کی کوشش کریں تو ایک بات پورے ثبوت کے ساتھ سامنے آسکتی ہے کہ اِس تصور کا تعلق انسانی کی عقلی زندگی کے ساتھ نہیں بلکہ جذباتی زندگی کے ساتھ ہے۔

مزید پڑھیں >>

معرکۂ جُزو و کُل

کائنات کی ساخت سے متعلق آئن سٹائن اور نیل بوھر کے درمیان ہونے والے، نہایت اہم اور بنیادی طویل علمی مباحثہ کی داستان جدید فزکس اور جدید فلسفہ کے طلبہ کے لیے آئن سٹائن اور بوہر کے درمیان برپا ہونے والے معرکہ سے زیادہ کوئی شئے دلچسپ نہیں۔ علمی لوگوں کے اختلاف بھی علمی ہوتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بالکل برعکس سوچ رہے تھے۔ لیکن دونوں ایک دوسرے سے بے حد پیار کرتے تھے۔ کیونکہ بظاہر اگر بوھر کی "اِنٹینگلمنٹ" درست تھی تو آئن سٹائن کی اضافیت غلط تھی اور اگر آئن سٹائن کی اضافیت درست تھی تو بوھر کی اِنٹینگلمنٹ غلط تھی۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ (آخری قسط)

افلاطون کو تو حواسِ خمسہ سے حاصل ہونے والے علم سے نفرت ہے اور ان کی پیروی میں  ساری یونان کی علمی تاریخ کو عالم ِمحسوس سے نفرت ہے۔ وہ صرف استخراجی عقل کے قائل ہیں ۔ دوجمع دو چارہوتاہے جیسے پختہ اصولوں  کی روشنی میں  حاصل ہونے والے علم کو علم مانتے ہیں ۔ وہ تو ستاروں ، سیاروں ، پھولوں ، پودوں ، درختوں  اور پہاڑوں  کے علم کو علم نہیں  مانتے۔ قران بہ اصرار یہ منواتاہے کہ حسی تجربے سے حاصل ہونے والا علم بھی علم ہے۔ حسی تجربے سے حاصل ہونے والی علم کی بنیاد ’’شک‘‘ پر ہے۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ (قسط سوم)

دراصل اقبال کو کائنات میں وحدت ہی وحدت نظر آتی ہے چنانچہ وہ یہ گوارا نہیں کرتا کہ رسول کی وحی کو تو خارج سے وارد ہونے والی واردات کہا جائے جیسا کہ وحی کو عام عقیدے کی رُو سے سمجھا جاتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ ایک معمولی ولی کے کشف والہام کو اس کے اندرونِ ذات کی کوئی گہری واردات قراردیا جائے۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ (قسط 2)

اگر خدا ہر شئے میں ہے تو ہر شئے مقدس ہوئی اور اگر خدا کا کامل، مجازی رُوپ انسان ہے تو تمام انسان خدا جتنے واجب الاحترام ہوجائیں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ دینِ اکبری وحدت الوجود کے بدترین نتائج میں سے ایک تھا۔ جس میں خنزیر تک کو اِس لیے قابل ِ احترام گردانا گیا کہ چونکہ خدا ہرشئے میں جاری و ساری ہے فلہذا اِس میں بھی خدا موجود ہے۔ مستی کے اِس عالم تک کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بعض لوگ کُتوں کے منہ چُومتے پھرتے ہیں کہ یہ بھی محترم ہے کیوں کہ خدا ہرشئے میں جاری و ساری ہے۔

مزید پڑھیں >>

علامہ اقبال کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ (قسط اول)

خیر! تو اِس مضمون میں ہم علامہ اقبال کے اسلامی عقائد پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کے لیے صرف میسم نقوی کے سوال یعنی جنت جہنم تک ہی محدود نہیں رہینگے بلکہ مجموعی طور پر تمام بڑے بڑے عقائد پر علامہ اقبال کی گفتگو ملاحظہ کرنے کی کوشش کرینگے جو مذہبی زندگی کے ابتدائی درجہ میں اپنی نہایت سادہ سطح پر موجود ہیں اور اقبال (اپنے ہی بقول مذہبی زندگی کے دوسرے درجہ میں) ان میں اپنی فکر کے ذریعے کیا رنگ بھردیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>