محمد جمیل اختر جلیلی

محمد جمیل اختر جلیلی

مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے عصری ادارے اوران کانصاب تعلیم

تعلیم  کے راستے سے جس قسم کی اخلاقی، تہذیبی، تمدنی اورمعاشرتی بیماریاں پھیل رہی ہیں، وہ اہل بصیرت سے مخفی نہیں، اوراس کی بنیادی وجہ غیرشرعی امورسے عدم احتراز اورمغربی تہذیب کی نقالی ہے، اگرغیرشرعی امورسے بچاجائے تویہ بیماریاں ختم ہوسکتی ہیں،

مزید پڑھیں >>

رشتوں کے انتخاب میں والدین کی مرضی کی شرعی حیثیت

اسی طرح لڑکے یالڑکی کوبھی چاہئے کہ اپنی پسندکی شادی میں پہلے والدین کوراضی کریں، ان کی رضامندی کے بغیرقدم نہ اٹھائیں اوروالدین کوبھی چاہئے کہ بچوں کی پسند کونظر انداز نہ کریں، دیکھ لیں اگرمناسب ہے توضروران کی پسند پرصاد کریں، یہی صحیح رویہ ہے، جس میں دونوں طرف کاخیال رکھاجائے۔

مزید پڑھیں >>

برق گرتی ہے تویہ نخل ہرا ہوتا ہے!

 تاریخ کے اوراق میں ایسے واقعات کی کمی نہیں ہے کہ جب مسلمانوں پر غفلت کی زنگ چڑھ گئی تودستِ قدرت نے ان کوچمکانے کے لئے مصائب کی بھٹیاں گرم کیں، صلیبی جنگوں کے ہمالیائی سلسلے اورعالمِ اسلام پرتاتاری حملے اسی دنیاوی بھٹی کے شعلے تھے، جواس وقت کے غفلت زدہ مسلمانوں کوجلا بخشنے کے لئے دہکائے گئے تھے؛ چنانچہ جب غفلت کی زنگ ان سے جھڑگئی تویہ مصائب بھی ان سے دورکردئے گئے۔

مزید پڑھیں >>

کیا اسلام تلوار کے زورسے پھیلا؟

دیدہ ریزی کے ساتھ تاریخ کے خزاں دیدہ اوراق کا مطالعہ کرجایئے، عرق ریزی کے ساتھ تاریخ کے پھیلے ہوئے صفحات کو پڑھ جایئے، آپ دیکھیں گے کہ اس گار گہِ ِعالم میں دلیری، بہادری، جنگجوئی اور سپہ سالاری کے عظیم الشان کارناموں کی کمی نہیں ہے، تاریخ کے مختلف ادوار میں کرّہ ٔ ارضی کے مختلف حصوں سے ایسی زلزلہ بردوش ہستیاں اُٹھتی رہی ہیں، جنھوں نے اپنی تلواروں کی نوکوں پردُنیا کے طبقے اُلٹ دئے ہیں، اپنی نیزوں کی اَنیوں سے انسانی کھوپڑیوں کے قلعے تعمیر کئے ہیں،

مزید پڑھیں >>

مٹ نہ جائیں کہیں ہم

شناخت جس طرح ذاتی ہوتی ہے، اسی طرح ملکی اور قومی بھی، اور ہر فرد اس کوباقی رکھنے کی کوشش کرتاہے، خدا نخواستہ اگر کوئی شخص اس شناخت کومٹانے کے درپے ہوجائے تو مارنے مرنے کی نوبت آجاتی ہے، ہمارے ملک ہندوستان کی ایک شناخت ’’ترنگا‘‘ہے، اگر کوئی اسے جلادے یاپھاڑڈالے توپوری ہندوستانی قوم اپنی ذاتی اہانت تصور کرتی ہے اور اس کے لئے احتجاجی جلوس اور ریلیوں کا اہتمام کرکے مجرم کو جلدازجلد تازیانۂ عبرت دلانے کی کوشش کرتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

حکایاتِ غم کی تصویر: ڈاکٹر کلیم احمد عاجزؔ

 ڈاکٹرکلیم احمدعاجزؔ ؒ کی شاعری سے میں ہی نہیں، میرے جیسے نہ جانے کتنے اورمتاثرہوئے ہوں گے، خواہ وہ ڈاکٹرصاحب سے واقف ہوں یانہ ہوں، وجہ صرف اس کی یہ ہے کہ ’’ان کے شعروں میں ایک مخصوص سادگی ہے، ان کے الفاظ جانے پہچانے، ان کی ترکیبیں ایس سیدھی سادھی ہوتی ہیں کہ مفہوم فوراً ذہن نشین ہوجاتاہے، یہ نہیں کہ ان کے اشعارسطحی ہوتے ہیں ؛ بل کہ الفاظ اورترکیبوں اورمعانی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ؛ بل کہ یوں کہئے کہ ان کے الفاظ ایسے شفاف ہیں کہ معانی کوایک نگاہِ غلط اندازبھی پالیتی ہے‘‘۔

مزید پڑھیں >>

نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر: ایک تحقیقی جائزہ

موجودہ زمانہ میں کتنے ایسے واقعات اخبارات کی زینت بن چکے ہیں (اورآج بھی انٹرنیٹ پرسرچ کیاجاسکتاہے؛ بل کہ وکی پیڈیامیں تو اس سلسلہ کی ایک طویل فہرست بھی دی ہوئی ہے، جوحضرات دیکھناچاہتے ہوں، وہ دیکھ لیں )، جن میں سات آٹھ سال کی بچی کااستقرار حمل ہواہے، ان باتوں کولوگ تسلیم بھی کرتے ہیں ؛ لیکن پتہ نہیں کیوں حضرت عائشہؓ کی چھ سال کی عمرمیں نکاح اورنوسال کی عمرمیں رخصتی کو تسلیم کرنے سے ہچکچاتے ہیں ؟ شاید مستشرقین کے اوچھے حملوں کے سامنے کم فہمی اوردینی معلومات کے لئے انھیں کی مرتب کردہ کتابوں سے استفادہ کے نتیجہ میں مجبورہیں۔

مزید پڑھیں >>

حضورﷺ : ایک اچھے دوست

دوستی کی معراج یہ ہے کہ وہ بے لوث و بے غرض اور بے حرص و بے طمع ہو،غل و غش کا شائبہ تک نہ آنے پائے، کیوں کہ ادنی درجہ کی خودغرضی دوستی کے صاف شفاف آئینہ میں دراڑ پیداکرنے کے لئے کافی ہے، اسی لئے کسی کو دوست بنانے سے پہلے اس کے مزاج و مذاق اور شوق و شغف سے واقفیت ازحدضروری ہے، ذہنی اور فکری سطح کا بھی جائزہ لے لے نا چاہئے؛ تا کہ بعد میں پچھتائیوں کا لبادہ اُوڑھ کر رنجیدہ خاطری کے ساتھ کفِ افسوس نہ ملنا پڑے،

مزید پڑھیں >>

لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب وجگر

 ماضی انسان کی شخصیت کو سنوارنے میں بہت اہم کردار اداکرتی ہے، یہ دو طرح کی ہوتی ہے، ایک روشن اورتابناک، دوسری اندھیر اورتاریک، روشن اورتابناک ماضی انسان کے عزم کوجواں، اس کے حوصلہ کو بلند اور اس کی ہمت کو تازہ دم رکھتی ہے، جب کہ تاریک ماضی انسان کو یہ باور کراتی رہتی ہے کہ تمہارے نقوشِ رفتگاں شب ِدیجور کی طرح تاریک ہیں، تم اپنے اندر وہ صلاحیت پیداکرو، جو اس تاریکی کوروشنی سے بدل دے اور اُس اندھیارے کو ختم کردے، جس کی وجہ سے آج تک تمہیں دیوار ٹٹول ٹٹول کر چلناپڑرہاہے۔

مزید پڑھیں >>

خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ’امتِ واحدہ‘ کا خطاب پانے والی امت ’امتِ متفرقہ‘ بن چکی ہے، کسی بھی محلہ اور گاؤں میں چلے جائیے، غیرمسلم اپنے تمام تراختلافات کے باوجود قدم سے قدم ملاکر چلتے نظرآئیں گے؛ لیکن امتِ مسلمہ دوچارگروہوں میں ضرورنظرآئے گی۔

مزید پڑھیں >>