محمد جمیل اختر جلیلی

محمد جمیل اختر جلیلی

مزاح میں آں حضرتﷺ کا اسوہ

اللہ تعالیٰ نے انسا ن کی فطرت میں متضادصفتیں ودیعت کی ہیں ؛ چنانچہ کبھی اس کے مزاج میں درشتی ہوتی ہے توکبھی نرمی، کبھی وہ غصہ سے بے قابوہوجاتاہے توکبھی خوشی کے نقوش اس کے چہرے پرہویداہوتے ہیں ، کبھی اس کی طبیعت آب وہواکی گرمی کوپسندکرتی ہے توکبھی وہ فضامیں خُنکی کاخواہاں ہوتاہے، کبھی اس کا مزاج موسمِ باراں کے خلاف ہوتاہے اورکبھی وہ قطرۂ آب کے لئے گڑگڑاتاہے۔

مزید پڑھیں >>

کف ِافسوس

  ایک دن اسے بخارلاحق ہوا، علاج ومعالجہ ہوا؛ لیکن جب مسبب الاسباب ہی نہ چاہے توسبب سے کیافائدہ ہوسکتاہے؟ کسی نے ڈاکٹربدلنے کامشورہ دیااور کسی نے چھاڑپھونک کرانے کا، ڈاکٹربھی بدلاگیااورچھاڑپھونک بھی کرایاگیا؛ حتی کہ سفلی عامل سے بھی رابطہ کیاگیا؛ لیکن ہوتاوہی ہے، جوپیداکرنے والاچاہے۔

مزید پڑھیں >>

صلحِ حدیبیہ: غور و فکر کے چند پہلو

 معاہدہ کی تمام شقیں بہ ظاہرمسلمانوں کے خلاف تھیں ؛ لیکن آپ انے تمام کومنظورفرمایا۔ دراصل آپ ا کے پیش نظرمستقبل تھاکہ ایک بارمعاہدہ ہوجانے کے بعدسکون واطمینان کے ساتھ دعوتِ دین کے فریضہ کی ادائے گی کی طرف توجہ دی جاسکے گی، جس کے نتیجہ میں دیگرقبائل ِ عرب کے دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کاقوی امکان تھا۔ ہوابھی ایساہی۔ مدتِ معاہدہ میں اچھے خاصے لوگ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔

مزید پڑھیں >>

اعترافِ حق

  شب کے تقریباً تین بجے وہاں سے گزرتی ہوئی گشتی پولیس سیماکے کراہنے کی آوازسن کراُس کی طرف متوجہ ہوئی اور نیم بے ہوشی کی حالت میں اُسے ہاسپٹل میں داخل کیا۔ دودن تک سیما پر غنودگی کی کیفیت طاری رہی، پھرشدہ شدہ اُسے سب کچھ ایک ڈراؤنے خواب کی طرح یادآنے لگا۔سیما کی طبیعت جب کچھ بحال ہوگئی توانویسٹی گیشن افسرنے تفصیل پوچھی اوراپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کرجلدہی مجرمین کی گریبان میں ہاتھ ڈال دیا۔پہلے توخود ہی اُن کی خوب خبرلی، پھرعدالت کے روبروپیش کیا۔

مزید پڑھیں >>

 آزادیٔ نسواں اور اسلام

 اسلام کے عطاکردہ آزادی نے عورتوں کو عزت وشرافت کا بلند مقام عطاکیا،جب کہ مغرب کے فراہم کردہ آزادی نے عورتوں کواس قدرذلیل کیاکہ اب ایک خاتون  کوPlay with our bodiesکہنے میں ذرا بھی باک محسوس نہیں ہوتا،اسلام نے دئے ہوئے آزادی نے گھروں کو ایک مہکتاہواگلدستہ بنایا،جب کہ مغرب کی دی ہوئی آزادی نے خارہی خاربوئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

رسول اللہ ﷺ بحیثیت شوہر

 آج ہم دنیاوی معاملات میں اپنی بیویوں کی فکرتوبہت زیادہ کرتے ہیں ؛ لیکن دین کے باب یاتوفکرہی نہیں کرتے یاتساہل پسندی سے کام لیتے ہیں ؛ حالاں کہ یہی آخرت کے سفرمیں کام آنے والا توشہ اورزادِراہ ہے۔آپ ا کے اسوہ سے ہمیں عبادت کے باب میں اپنی بیویوں کے رعایت کرنے کاسبق حاصل کرناچاہئے اوراس باب میں دنیاوی توجہات سے کہیں زیادہ فکرکرنی چاہئے۔

مزید پڑھیں >>

قومی حالت میں سدھار کا ایک حل

بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کایقین ہے کہ یہ دنیاہمارے لئے امتحان گاہ ہے، ہماراامتحان لینے کے لئے ہمیں اس دنیامیں بھیجاگیاہے، جب ہمارے امتحان کاوقت ختم ہوجائے گا تو ہمیں یہاں سے اٹھالیاجائے گا، پھرہماری کاپی کی چیکنگ ہوگی، اگرہماراجواب صحیح نکلا توہمیں فرسٹ کلاس سے کامیاب قراردے کر’’جنت‘‘ میں بھیج دیاجائے گا؛ لیکن اگرجواب صحیح نہیں نکلاتوہمیں ناکام قراردے کر’’جہنم‘‘ میں پھینک دیاجائے گا۔

مزید پڑھیں >>

سادگی کا نکاح!

آج ہم اپنے نکاحوں پرایک نظرڈالیں، کتنے ایسے لوازمات ہیں، جن کے پوراکرنے میں بیٹی کے والدین تومقروض ہوتے ہی ہیں، اب بیٹے کے والدین بھی قرض لینے پرمجبورہورہے ہیں۔ گھوڑے جوڑے کی رقم،دلہا اوردلہن کے پورے خاندان والوں کے لئے کپڑے، نکاح کے کھانے میں ایک بڑی تعدادکی ضیافت، پھراس ضیافت میں کئی طرح کی ڈشز کا اہتمام، ہال کرایہ پرلے کرہال میں نکاح خوانی کی رسم، دلہن کولانے کے لئے باراتی لے جانے کارواج، جہیز کے نام پرلاکھوں روپے کے اسباب اورپھرولیمہ میں عدمِ استطاعت کے باوجودپورے محلہ کی دعوت یہ سارے وہ رسوم اورلوازمات ہیں، جن کے بوجھ تلے بیٹے اوربیٹی کے والدین اس طرح دب جاتے ہیں کہ تاعمراپنی کمرپھرسیدھی کرنے کی طاقت نہیں رہ جاتی۔

مزید پڑھیں >>

مقننہ اور انتظامیہ کے لئے صلاحیت وشہادت کی ضرورت

پہلے زمانہ میں کسی بھی کام کے لئے درکارآدمی کے اندرصرف اس کی صلاحیت(Ability)کودیکھ کرہی اسے موزوں یاناموزوں قراردیاجاتاتھا،پھرزمانہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ڈگریاں بھی دیکھی جانے لگیں، یعنی صلاحیت اورشہادت (Certificate) دونوں دیکھنے کے بعدہی یہ طے پاتاہے کہ یہ لائق ہے یانالائق، اوریہ کام کے تقریباً تمام شعبوں میں ان دونوں لازمی قراردیاجاچکاہے، یقیناً یہ ایک خوش آئندبات ہے کہ دونوں کی موجودگی کی وجہ سے طمانینتِ قلب حاصل ہوجاتاہے۔

مزید پڑھیں >>

ترقی کے ماتھے پرداغ

ہمارے ملک ہندوستان کاشمارترقی کی راہ پرگامزن ممالک میں ہوتاہے؛ لیکن زمینی حقائق کی روشنی میں اس کی ترقی کامدارہتھیاروں کے تجربے، سٹلائٹس کی اڑان، بری وبحری افواج کی تعداد،میٹروٹرینوں کی رفتارپرہے اوراب حالیہ ایام میں پلٹ ٹرین کے معاہدوں، نوٹ بندی اورجی ایس ٹی کے تانہ شاہی فرمان پرہے؛ لیکن کیاکسی ملک کی ترقی صرف انہی چیزوں کے گردگھومتی ہے؟ یا کچھ اوربھی امورایسے ہیں، جن کی رعایت ملکی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہے؟ اگرآپ غورکریں تومعلوم ہوگا کہ مذکورہ ساری چیزوں کی سوئی مادیت کے اردگردگھومتی نظرآتی ہے، اس لحاظ سے دیکھاجائے توبجا طور پرکہا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک کی توجہ (اگر ان کوترقی کہہ لیاجائے تو) صرف اورصرف ایک پہلوپرہے؛ حالاں کہ ترقی کے ایک سے زائد پہلوہوتے ہیں اورجب تک ان تمام پہلوؤں میں خاطرخواہ ترقی نہ ہو، ملک کے اندرترقی ہوہی نہیں سکتی، خواہ لاکھ ترقی کاہم ڈھنڈھوراپیٹ لیں، آیئے! ہم بھی ایک نظر ترقی کے ان پہلوؤں پرڈالیں، ہوسکتاہے کہ ہم ملکی ترقی کے ماتھے پرلگے کلنگ کودھوکر حقیقی ترقی کی راہ پراسے لاکھڑاکرسکیں۔

مزید پڑھیں >>