ایم ودود ساجد

ایم ودود ساجد

عزت مآب ججوں کی پریس کانفرنس

بلا شبہ آزاد ہندوستان کی عدلیہ کی تاریخ میں آج ایک عجیب وغریب واقعہ رونما ہوا۔ لیکن اس واقعہ سے انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی جوعدلیہ کو ایک عرصہ سے قریب سے دیکھ رہے ہیں ۔ گو کہ میں قانون کا طالب علم نہیں ہوں لیکن میں عدالتی خبروں کو بڑی دلچسپی اور باریکی سے پڑھتا ہوں ۔ لہذا مجھے سپریم کورٹ کے چار بہترین سینئرججوں کے ذریعہ پریس کانفرنس کو خطاب کرنے کے واقعہ سے یقینی طورپر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ حیرت اس پر ہوئی کہ عزت مآب چیف جسٹس آف انڈیا نے اس پریس کانفرنس کے جواب میں اپنی پریس کانفرنس کا اعلان کیا لیکن اس کے بعدوہ اپنے اعلان پر قائم نہ رہ سکے۔

مزید پڑھیں >>

بائک والی لڑکی!

مسلمانوں کیلئے اخلاقی تربیت کے بغیر اعلی تعلیم کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ ایسے میں یہی ہوگا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسی جگہ پر ہماری لڑکیاں سربازار اپنے سروں پر سے نہ صرف دوپٹہ اتارپھینکیں گی بلکہ فخریہ طورپراس کا اعلان بھی کریں گی۔ مجھے ماں باپ سے بس ایک ہی سوال کرنا ہے۔ کیا اس صورت حال کا ذمہ دار بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے؟ اور کیا علماء کو مطعون کرکے صورت حال بدل سکتی ہے؟ غور ضرور کیجئے گا۔

مزید پڑھیں >>

کیا آر ایس ایس سے یہ سیکھیں؟

یونین میں کچھ اور بھی مسلم اور اردو صحافی موجود ہیں لیکن جس بے خوفی کے ساتھ اس یونین کے غیر مسلم ارکان اور خاص طورپراس کے صدر ایس کے پانڈے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اس کا کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ لوگ کسی مالی منفعت یا شہرت کی خاطراپنی جان ہتھیلی پررکھ کر مسلمانوں کے حق میں نہیں بولتے۔ بلکہ ایک مستحکم نظریہ کے تحت اپنا یہ انسانی فریضہ خاموشی سے ادا کئے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

شیعہ وقف بورڈ کی شرارت

 شیعہ وقف بورڈ( اترپردیش) کے متنازعہ اور بدعنوانی کے متعدد الزامات میں ماخوذ چیرمین وسیم رضوی نے بابری مسجد کی ملکیت پر شیعہ وقف کا دعوی کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں جو حلف نامہ داخل کیا ہے اس پر بہت سے حلقوں میں سخت بے چینی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔۔۔کچھ لوگ اس سلسلہ میں اپنے شیعہ بھائیوں سے ہی بدظن ہوگئے ہیں۔ 

مزید پڑھیں >>