محمد جہان یعقوب

محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب ڈپٹی ایڈیٹر ہفت روز ہ اخبارالمدارس ہیں نیز جامعہ بنوریہ عالمیہ،کراچی کے ریسرچ اسکالر ہیں۔

سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے!

توحید، رسالت اور آخرت۔ دین اسلام کے تین اہم ترین عقاید ہیں، سورۂ اخلاص عقیدہ ٔ توحید کوبیان کرتی اور وحدت ِ ِمعبود کے اصول تا قیامت طے کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ چار آیات مبارکہ پر مشتمل سورت ادیان باطلہ اور عقائدِ فرقِ ضالہ کا ردبھی کرتی ہے، اور بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمام معبود باطل، شیطان کی پھیلائی ہوئی گم راہی اور انسانی خواہشات کی ایجادہیں اور ان کے نام بھی اسی شیطان کے دیے ہوئے ہیں۔ ذیل میں احادیث ِمبارکہ کی روشنی میں اس عظیم سورت کے فضائل ذکر کیے جاتے ہیں، جس کی تلاوت کا ثواب ایک تہائی قرآن یعنی تقریباً 2022آیات کی تلاوت کے برابرہے، جس سے محبت کرنے والو ں کو جنت اوراللہ تعالیٰ کی محبت اور دوستی کی بشارت دی گئی ہے

مزید پڑھیں >>

یہودیوں کا گریٹ گیم اور مسلم حکم راں

آج مسلم حکمران ’’اب یا کبھی نہیں ‘‘کے دوراہے پر کھڑے ہیں ۔ کوئی یہودی عزائم کے آگے’ شیطانِ اخرس ‘بنے یابھیگی بلی، یا لوہے کا چنا ثابت ہو، یہود کی نظر میں وہ دشمن ہی ہے۔ یہ ہر ایک کے اپنے نصیب کی بات ہے کہ وہ شریف حسین مکہ کی صف میں جگہ پانا چاہتا ہے، یاحضرت عمرؓ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ ونورالدین زنگی کے ساتھ اپنا حشر چاہتا ہے۔ جہاں تک یہودی عزائم کا تعلق ہے، تو یہ اَن مٹ لکیر ہے کہ انھیں دنیا میں خودمختار ریاست کبھی نصیب نہیں ہوگی، یہ خلاق عالم کا فیصلہ ہے، جسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں >>

اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے تقاضے

ہر قسم کے کمالات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، تمام تعریفیں اسی کو سزاوار ہیں، وہی مشکل کشا، حاجت روا، عالم الغیب، ہر جگہ موجود، مختارِ کل اور عالم الغیب ہے۔اس کی ذات کے سواکوئی عبادت وبندگی، سجدہ وتسبیح اور نذر ونیاز کی مستحق نہیں۔

مزید پڑھیں >>

ٹیچرز ڈے اور مثالی استاد کی صفات

ٹیچرز ڈے کے موقع پر وہ تمام خواتین وحضرات جو استاد کی نازک ذمے داریوں پر فائز ہیں ، اس بات کا عہد کریں کہ مندرجہ بالا صفات اور خوبیوں کو اپنے اندر بھی پیدا کریں گے اور اپنے شاگردوں میں بھی منتقل کریں گے۔ اس مادیت کے دور میں اساتذہ پر عاید ہونے والی ذمے داریاں ماضی کے مقابلے میں دوچند اور سہ چند ہوچکی ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا استاد بھی، تعمیرکردار وسیرت کے بجائے محض حرف خوانی کو اپنی ذمے داری سمجھتا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ لوگ توہر طرف نظر آتے ہیں ، لیکن ان کے اندر وہ صفات ڈھونڈے سے نہیں ملتیں ، جو ماضی میں تعلیم وتربیت کا لازمہ سمجھی جاتی تھیں ۔

مزید پڑھیں >>

مظلوم روہنگیامسلمان: پاکستان کردارادا کرے!

برما کے روہنگیا مسلمانوں پرایک بار پھر قیامت ٹوٹ پڑی ہے،ان پر ڈھائے جانے والے مظالم نے انسانیت کو منہ چھپانے پر مجبور کردیا ہے، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری قتل عام کو انسانیت کی تذلیل کہا جائے،شیطنیت یا چنگیزیت،ان مظالم کے سامنے تمام الفاظ وتعبیرات ناکافی نظر آتی ہیں ،تو دوسری طرف ترکی اور مالدیپ کو چھوڑکرمسلم ممالک اور عالمی برداری کی جانب سے ان مظلوموں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر بھی بے حسی اور سنگ دلی کی نمایندگی کرنے والا ہر لفظ ہیچ نظر آتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

علم کے بارے میں بڑوں کی باتیں

علم کی فضیلت واہمیت پر اب تک بہت کچھ لکھا گیا ہے اور جب تک یہ دنیا باقی ہے،لکھا جاتا رہے گا۔اس مضمون میں ہم نے علم کی فضیلت کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ،خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم اور بعض اولیائے کرام کے اقوال جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔

مزید پڑھیں >>

آخری مغل تاج دار:تاریخ کاستم یامکافات عمل

ہندوستان کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکنن میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا‘یہ جہاز17 اکتوبر 1858ء کو رنگون پہنچ گیا۔‘شاہی خاندان کے 35 مرد اور خواتین بھی تاج دار ہند کے ساتھ تھیں۔ ‘کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا‘وہ بندر گاہ پہنچا‘اس نے بادشاہ اور اس کے حواریوں کو وصول کیا۔

مزید پڑھیں >>

پانامافیصلہ: ایک اچھا آغاز!

سیاسی اشرافیہ کو اس حقیقت سے نظریں نہیں چرانی چاہییں کہ رب کی پکڑسے کسی بڑی سے بڑی قوت کی پشت پناہی بھی نہیں بچا سکتی،اورانکل سام ہو یا کوئی دوسری عالمی استعماری طاقت،اس کو کسی سے ذاتی ہم دردی ہوتی بھی نہیں ،اس کے سامنے اصل اہمیت اس کے اپنے مفادات کی ہوتی ہے،اورمسلم ممالک کے سیاست دانوں کو،خواہ ان کا تعلق اپوزیشن سے ہو یا اصحابِ اقتدار سے،وہ مہروں سے زیادہ اہمیت دینے کو کبھی تیار نہیں ہوئے۔

مزید پڑھیں >>

آخری مغل تاج دار: تاریخ کاستم یا مکافات عمل؟

آپ اگر کبھی رنگون جائیں تو آپ کو ڈیگن ٹاؤن شِپ کی کچّی گلیوں کی بَدبُودار جُھگّیوں میں آج بھی بہادر شاہ ظفر کی نسل کے خاندان مل جائیں گے‘یہ آخری مُغل شاہ کی اصل اولاد ہیں مگر یہ اولاد آج سرکار کے وظیفے پر چل رہی ہے‘یہ کچی زمین پر سوتی ہے‘ ننگے پاؤں پھرتی ہے‘ مانگ کر کھاتی ہے اور ٹین کے کنستروں میں سرکاری نل سے پانی بھرتی ہے,

مزید پڑھیں >>

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے اپنی ازدواجی زندگی اس خوبصورتی کے ساتھ گزاری کہ ایک مسلمان عورت کے لیے ان کی زندگی کے تمام پہلو ، شادی، رخصتی، شوہر کی خدمت و اطاعت، سوکن سے تعلقات، بیوگی، خانہ داری کے تمام پہلواس قدر روشن ہیں کہ ان کی تقلید کرکے ایک مسلمان عورت دونوں جہاں میں اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرخرو ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>