محمد صابر حسین ندوی

محمد صابر حسین ندوی

مغربی تہذیب کا زوال اور اسلامی لائحہ عمل

اس صورت حال کا مقابلہ کسی فوجی طاقت اور احتساب ونگرانی سے مشکل ہے، البتہ اسلام اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روشنی میں مساوات اور انصاف قائم کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ مغرب کی کن چیزوں سےاستفادہ ممکن ہے، اور کن چیزوں کا ازالہ ضروری ہے، اس کیلئے اصلاحی، تعلیمی تحریک کا آغاز اور صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ پیش قدمی کی جائے، اور ایک ایسے نظام کی بنیاد ڈالی جائے جوبنیادی عقائد واصول کے ساتھ عصری ودینی ضروریات سے ہم آہنگ ہو،

مزید پڑھیں >>

وطن پرستی کا مہلک حصار

اسلامی اتحاد واتفاق اوروحدت کے خلاف مغربی سازشوں کے درمیان مصری اقوام کا فراعنہ نسل پر غرور نے نیشنلزم اور وطن پرستی کو ہوا دی، جس نے عالم اسلام کو عالم عربی میں تبدیل کردیا، جبکہ یوروپ سالہا ساس سے اس مرض کا مریض ہے، ہولو کاسٹ اور بادشاہت کی کشمکش ؛جہاں عوام غلامی وبے بسی اور بے اختیاری پر مجبور ہوگئی تھی لیکن ’’ریفارمیشن کی تحریک‘‘ نے مذہبی تسلط کو نہ صرف کم کردیا بلکہ ان کی حیثیت بے گانے کی سی ہوگئی۔

مزید پڑھیں >>

مسلم پرسنل لابورڈ: تحفظ شریعت کا علمبردار

اسلامی تعلیمات کو مجموعی طور پر چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،جن میں مالی معاملات اور سیاسی مسائل، عبادات اور خاندانی زندگی شامل ہیں، قرآن کریم نے اول الذکر دونوں صنفوں پر اصولی حیثیت سے بحث کی ہے، کیوں کہ ان کا معاملہ ہر زمانے،ماحول اور سیاسی کروٹوں کے ساتھ کروٹیں لیتا رہتا ہے اور مسائل انہی قواعد کے تحت حل کیے جاسکتے ہیں، لیکن ثانی الذکر اصناف کو پورے شرح و بسط کے ساتھ بالخصوص خاندانی و معاشرتی مسائل پر تشفی بخش بحث کی گئی ہے، جس سے مراد نکاح، طلاق، میراث، اطاعت والدین اور حقوق زوجین وغیرہ ہیں، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ نماز و روزہ اور حج و زکات سے زیادہ واضح طور پر قرآن کریم نے انہیں بیان کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مولانا علی میاں ندوی: ہند میں سر مایہ ملت کا نگہبان

عالم انسانی بالخصوص مسلمانوں کی تاریخ میں بیسویں صدی سامراجی طاقتوں کے عروج، مغربیت و مشرقیت کی کشمکش اور عمومی ہیجان و اضمحلال کا شکار تھا، جہاں انقلاب انسانی کی بغاوت سر اٹھاتے تو وہیں فکری و تہذیبی یلغار مشرقی ایوانوں پر دستک دے رہی تھی، جس کے سیل رواں میں اسلامی تہذیب و تمدن اور ملکی حالات و کوائف میں اضطراب و انتشار کی فضاء عام ہو کر افسردگی و ناامیدی کا سایہ فگن ہونے لگا تھا، اس وقت میں ایسے مرد داناں ، دردمند اور سوز دل کے حامل، انسانی ہمدردی اور انسان دوستی سے لبریز، حب الوطنی کے ساتھ اسلامی اقدار واخلاق اور اسلامی غیرت و حمیت بلکہ اس سے بڑھ کر جرات ایمانی اور روح ربانی کے ساتھ ظالمانہ نظام حکومت اور حکمرانوں کو دعوت اسلام کی دعوت دینے والی شخصیت کی  اشدضرورت تھی؛جس کی تکمیل سیدی حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔

مزید پڑھیں >>

مدارس اسلامیہ کی سسکتی آہ وفغاں

ہندوستان پر مسلم حکمرانوں کے استیصال اور برطانوی حکومت کی یلغار کے ذریعہ نہ صرف مسلم حکومت بلکہ اسلامی تعلیمات، تہذیب و ثقافت اور اتحاد و اتفاق بلکہ کہا جائے کہ انسانی عروج کی شاہ کلید اور انابت الی اللہ کے علمبردار اور انسانی حقوق کے سنتری کی پامالی کی گئی، علم دوست، محبت شناس اور عقل شناس کی بے حرمتی کے ساتھ للہیت و تقوی اور شب بیداری کے حاملین کو رسوا کیا گیا، ایسالگتا تھا کہ اب اسلام اور مسلمانوں کا وجود قصہ پارینہ ہونے کو بیتا ب ہے۔

مزید پڑھیں >>

طلاق ثلاثہ  کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ہمارا موقف

  در اصل طلاق ثلاثہ کا انکار امت مسلمہ کے اجماعی مسائل اور فقہاء کرام کے اجتہاد اور ورثہ آباء و اجداد کی بیخ کنی اور شرعی تعلیم کی حقارت و تذلیل ہے اس سے بڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں اور عقیدتمندوں کو اپنے علماء کرام اور مفکرین عظام سے دل برداشتہ کرنے اور تاریخی ورثے سے ان کا  ہاتھ کاٹ دینے اور یتیمی و بے کسی کی تاریکی میں گم کردینے کی ناپاک سازش ہے، بلکہ اس کی آڑ میں سیاست بازی کی بساط بچھانے اور مہرے بدل کر مد مخالف کو شکست دینے اور پھر مذہبی تشدد و دہشت کو ہوا دے کر اخوت و بھائی چارگی اور انسان دوستی کو بھی عرق آلود کردینے کی کوشش ہے، نادان مسلمان یا نام نہاد مسلمان دوسروں کے نقش قدم کی گر د کو ماتھے پر سجانے اور اسے آنکھوں کا نور اور دل کا قرار بنانے میں یو ں کوشاں ہے گویا قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی کو طلاق البتہ دیدی ہو۔

مزید پڑھیں >>

زعفرانیت کا عروج اور مسلمانوں کیلئے مخلصانہ پیغام

ہونا یہ چاہئے کہ ہم پھر سے پہلی اسلامی دعوت کے اصول و طریقہ کار کے مطابق مسلمانوں کو ایمان کی دعوت اور اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت کے عقیدہ کی پوری طاقت کے ساتھ دوبارہ تبلیغ وتلقین کی جائے، وہی اعتماد واعتقاد بحال کیا جائے، اور اس کے لئے وہ سب راستے اختیار کئے جائیں جو اسلام کے ابتدائی داعیوں نے اختیار کئے تھے، اور عصر جدید کے وسائل وذرائع سے بھی بھرپور استفادہ کیا جائے،

مزید پڑھیں >>

ہندوستان ہلاکت کے دہانے پر!

غرض یہ سر سبز و شاداب ملک جو فطرت کے خزانوں سے مالامال تھا، سچے آسمانی مذہب کی تعلیمات سے عرصہ سے محروم ہونے اور مذب کے مستند ماخذوں کے گم ہوجانے کی وجہ سے قیاسات و تحریفات کا شکار اور رسوم وروایات کا پرستار بنا ہواتھا، اور اس وقت کی دنیا میں جہالت وتوہم پرستی، پست درجہ کی بت پرستی نفسانی خواہشات اور طبقہ واری نا انصافی میں پیش پیش تھا اور دنیا کی اخلاقی و روحانی رہبری کے بجائے خود اندرونی انتشار اور اخلاقی بد نظمی میں مبتلا تھا

مزید پڑھیں >>

حضور ﷺ نے انسانیت کو کیا دیا؟

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امن و عدل پر مبنی حکومت کی داغ بیل ڈالی ،معاشرت و حکومت میں ہم آہنگی،معیشت ومملکت میں پختگی ،نوجوانوں کی بے کاری و بے روزگاری کے بجائے محنت وجد وجہد اور ایمانداری کی رزق کا بندوبست ،ساتھ ہی صنف ضعیف کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا ،جہاد واجتہاد کی گرماہٹ رگوں میں دوڑادی اورعلم جہاد کے علاوہ جنگ و جدل اور قتل و غارت گری کو حرام قرار دیا،حلت و حرمت کی تمیز اور خدا پرستی کے ساتھ انسان دوستی ،خود اعتمادی اور عمرانی صلاحیت میں مقام رشک تک پہونچادیا،

مزید پڑھیں >>