دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

زندگی کی پرواہ وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں موت پریقین نہیں، شہادت وہ مانگتے ہیں جنہیں دنیا کی زندگی پر بھروسہ نہیں۔ جو قوم خوف خدارکھتی ہے وہ قوم خوف فرعون نہیں رکھتی اور جس امت میں بیت المقدس فتح کرنے کا جذبہ ہے وہ قوم فسطائی طاقتوں سے خوف نہیں …

مودی، مولوی اور مسلمان

علماء کی طرح ہماری تنظیمیں بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کرنے لگے ہیں، انہیں بھی سوالات سے الرجی ہے، اگر اُن کے یہاں  اکٹھا کئے جانے والے چندے کے تعلق سے سوال کیاجاتا ہے تو سوال کرنے والے کو قوم کادشمن کہہ دیا جاتا ہے، قوم کی مخبری کرنے…

سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا 

مسلمانوں کی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ روایتی جلسے واجلاس کو چھوڑ کر قوم وملت کے حقوق کیلئے آواز بلند کریں تنظیموں کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ اپنی تنظیموں کے ذریعہ حکومتوں کی خوشامد کریں۔ صد سالہ، 50 سالہ جلسوںکو منعقد کریں، سیلاب، طوفان،…

بہن شائستہ انصاری کے نام ایک خط

بس آج میں اس خط کے ذریعہ سے حالات پر تبصرہ کررہا ہوں،غم کے اس موقع پرتمہارے لئے چار تعزیتی جملوں کے علاوہ میں اورکچھ نہیں دے سکا، تمہارے اس بھائی کو دعائوں میں یاد رکھو اوردعا کرو کہ اس بھائی کے ہاتھ حق کیلئے اٹھیں۔

جئے شری رام کے نام سے مسلمانوں کا کام تمام

اتنی بڑی تعدادمیں مررہے مسلمانوں کیلئے ہم آہ بھی نہیں کرپارہے ہیں ،ہمارا ضمیر مرتا جارہا ہے،ہماری جانبازی ہم کرکٹ کے میدان میں دکھا رہے ہیں ،ہماری طاقت دولت اکٹھا کرنے میں لگا رہے ہیں ،ہماری قوت زمینیں خریدنے میں لگا رہے ہیں ،ہماری سوچ…

ہندوستان فاشزم کی راہ پر

ایک طرف ہم فاشزم کی راہ پر گامز ن ہیں تو دوسری جانب سیکولر جماعتیں ملک کے سیاسی حالات کو قابو میں لانے میں ناکام رہے ہیں۔ سابقہ انتخابی تشہیرکے مدعوں کو دیکھیں کہ کس طرح سے بی جے پی کی اپوزیشن جماعتیں ملک کے اہم مسائل کو پیش کرنے میں ناکام…

ملت کی زبوں حالی کا ذمہ دار کون ہے؟

کیا مسلم لیگ، یس ڈی پی آئی، پیس پارٹی میں رکنیت حاصل کرنے کے لئے عرب کے مسلمان آئینگے ؟۔ نہیں نا۔ تو پھر ان پارٹیوں کو عام مسلمانوں سے ہی طاقت دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہم تاقیامت تک یہی رونا روتے رہیں گے کہ مسلمانوں کے پاس کوئی قائد نہیں ہے۔…

قطرہ قطرہ نیکی کا جمع کر سمندر بنائیں

اگر قوم کے کم از کم 50 بچوں کو تعلیم سے آراستہ کریںگے اور وہ ڈاکٹر یا انجنیئر بنیں گے تو وہ قوم کا احسان مانیں گے اور قوم کی خدمت کرنے کا جذبہ ان میں پیدا ہوگا۔ اس لئے اس رمضان قطرہ قطرہ نیکی کا جمع کر سمندر بنائیں اور حقیقی ضرورتمندوں کو…

یہی اسلام ہے 

اللہ نے ہمیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے، اس سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کااستعمال کرتے ہوئے ہم اللہ کی راہ میں صحیح اور بہتر ڈھنگ سے زکوٰۃ جیسی نعمت کو خرچ کرسکتے ہیں اور یہی اسلام ہےکہ ہم اپنی عبادت کی رضا، اسکے رسول ﷺ کی پیروی اور اللہ کے…

ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیں، اخبار پڑھنا چھوڑ دیں !

بالکل اسی طرح، پرنٹ میڈیا میں بھی ایسے کئی اخبارات ہیں جو محض نام کے لئے جاری ہوتے ہیں، ان اخبارات کا کوئی مخصوص موقف نہیں ہوتااور نہ ہی انہیں قومی و ملی مسائل سے کوئی لینا دینا ہوتا ہے، ایسے میں آپ ایسے اخبارات خریدتے ہیں تو اس سے وہ…

شکوہ، جواب شکوہ

آج ہم مسلمان کردار سے کمزور ہیں، اخلاق سے کمزور ہیں، تجارت سے کمزور ہیں، لین دین کے معاملات میں کمزور ہیں،  ہمارے قول اورفعل میں فرق ہے تو کیونکر ہمیں کوئی عزت دے گا کیونکر ہمیں کوئی سیاست میں قائد تسلیم کرے گا۔ ہمیں شکوہ تو کرنا آتا ہے…

ہماری ذمہ داری ہے!

اب ہماری حالت اور ہماری حکومت کو بدلنے کی ذمہ داری ہم پر ہے، اگر ہم اس موقع پرگنوادیں تو اگلے پانچ سال تک ہمیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ موجودہ پانچ سالوں میں مسلمانوں نے بہت ستم سہے ہیں، گروہی تشدد کے بہانے100 کے قریب لوگ فرقہ…

ہم بھی ہیں جوش میں

 حدتو یہ ہے کہ بی جے پی و کانگریس کے کئی لوگ سرکاری محکموںمیں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بارکائونسل کے نمائندے بھی بی جے پی، کانگریس اور جے ڈی ایس جیسی سیاسی جماعتوںکے لیڈران ہیں۔ صرف وہ انہیں عہدوں پر نہیں بلکہ جائزہ لیں تو پولیس، سرکاری…

سودے بازی

اکثر لوگ اخبارات کے اس رویہ پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں اسلئے ہم اس بات کی تصدیق ابھی کردینا چاہتے ہیں۔ رہی بات عمائدین، کھادی پوش، سفید پوش اورمسجدوں کے ذمہ داروں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مفادات کیلئے پوری کی پوری قوم کا سودا نہ کریں…

کیا واقعی میں وہ ہمارے ہیں؟

مسلمانوں کی ہی کچھ ایسی تنظیمیں بھی ہیں جو ملت و سماج کے نام پر بنی ہوئی ہیں، ان تنظیموں کو بھی چاہئے کہ مسلمانوں کے حقوق کو پامال ہونے سے بچانے کے لئے معاہدے طئے کریں نہ کہ اپنے مفادات کی تکمیل کی خاطر کانگریس، جے ڈی یس اور یس پی جیسی…

ہم بچاتے رہ گئے دیمک سے گھر اپنا مگر

جماعت اسلامی خود ایک ایسی جماعت ہے جس میں قانون دانوں اور وکلاء کی کوئی کمی نہیں ہے اور انکے ہر شعبے میں تعلیم یافتہ افراد کی اچھی خاصی تعداد ہے ایسے میں جماعت اسلامی کے ذمہ داروں کو اس سمت میں پہل کرنی ہوگی۔

سرحدوں پر تناؤ ہے کیا؟

ہاں یہ ملک کی سلامتی کا معاملہ ہے لیکن ملک کی سلامتی کے نام پر جس طرح سے فوج کا استعمال کرتے ہوئے سیاست کی جارہی ہے وہ جمہوریت کے لئے داغ ہے۔ داغ اچھے لگتے ہیں لیکن مودی نے فوجیوں کے خون کے داغ کا استعمال جس طرح سے کیاہے اس سے ملک کی تاریخ…

سیلف ڈیفنس

ہماری تنظیموں کی جانب سے دئیے جانے والی وردیاں اور ان کامارشل آرٹ دیکھنے کیلئے دلکش ضرورہے، لیکن اس طریقے کو زیادہ دن تک بحال نہیں رکھا جاسکتا۔ اس لئے ہماری تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم نوجوانوں کو صحیح راہ دکھا تے ہوئے انہیں ملک و…

کرسی کی ہوس

 جس وقت انتخابات آتے ہیں ہمارے درمیان دو طرح کے لوگوں کو اہمیت دی جاتی ہے پہلا تمام کو ساتھ لے کر، تمام کے حقوق کو ادا کرنے کی بات کرنے والے سیکولر امیدوار کو اہمیت دی جاتی ہے تو دوسرا مذہب، ذات پات کو بنیاد بناکر عوام کی جانب سے منتخب…

اور ہمیں خبر ملی کہ قبر ملی 

آج مسلمانوں کو کے یم ڈی سی سے ملنے والے قرضوں کو بھیک کی شکل میں دیا جارہاہے۔ 20-25 ہزار روپئے کی رقم کو حاصل کرنے کے لئے مسلمان فقیروں کی طرح قطاروں میں کھڑے ہوئے ہیں ایسے میں قبرستانوں کے لئے فنڈس دے کر حکومت نے مسلمانوں پر احسان کردیا۔

محاذ کا سیاسی شعور 

 سیاسی بیداری کے نام پر مسلمانوں اورسیاسی جماعتوں کو گمراہ کرنے کے بجائے کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ ان کاموں کی جانب بھی توجہ دے تو حقیقت میں مسلمانوں میں سیاسی بیداری آئیگی۔ حالانکہ مسلم متحدہ محاذ میں علماء و عمائدین کا بڑا طبقہ بھی شامل ہے…

اصلاح معاشرے کے لیے پیڈ پروگراموں کی ضرورت نہیں 

اسٹیجوں پر اصلاح معاشرے کی تقریریں کی جارہی ہیں وہ پوری طرح سے پیڈ پروگرام ہوتے ہیں جس کااثر نہیں ہوتا۔ اصلاح کے اخلاق و عزائم کی ضرورت ہے نہ کہ اسٹیجوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اصلاح معاشرہ سال میں ایک پروگرام کرنے سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اسکے…

مشاعروں میں مست

 آج قوم مسلم کو مشاعروں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ محاسبوں کی ضرورت ہے جسے شاید ہی ہماری قوم کے لیڈران، دردمند، قائدین، عمائدین اور حکمرانوں پورا کرپا ئیں۔

کچھ نہیں کیا تو اب کچھ کریں

خیر سال 2018تو گزرچکا ہے، سابقہ سال میں ہم نے کیا ہے کیا نہیں اس پر غور کرنے کے بجائے ہمارے درمیان کے کئی لوگوں نے عیسوی نئے سال کو خوش آمد کہا، عیسوی نئے سال کی مبارکبادیاں دیں اور کئی لوگوں نے جشن و پارٹیاں بھی کیں۔ لیکن سوچیں کہ سابقہ…

سمجھانے والا کوئی نہیں ہے!

ہم دین کی دعوت تو دے رہے ہیں، لیکن دین کے حقیقی پیغام اور طریقہ کار کو سمجھنے سے قاصر ہیں، جب تک ان چیزوں کو سمجھنے اور عمل کرنے کا طریقہ ہم میں نہیں آتا اُس وقت تک غیر ایسے ہی مسلط ہوتے رہیں گے۔

عظیم قوم کی محدود سوچ

ہمارے ملّی اداروں میں سال میں ایک دفعہ ختنہ کیلئے بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے، اوقافی اداروں میں ہونٹ بھی نہ بھیگیں اس طرح کی مالی امداد دی جاتی ہے۔ امیروں کو بھلائی کے کام انجام دینے کیلئے اسٹیج کی ضرورت پڑتی ہے، بغیر اسٹیج کے اچھے کام کرنے…

ہماری داستاں تک نہ رہے گی داستانوں میں

وہ دن دور نہیں جب ہماری قوم واہ واہ واہ کے مشاعروں سے جب فرصت پا لے تو ہمارے آشیانے بھی غائب ملیں گے اور سمیناروں میں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے سے فرصت مل جائے تو دنیا میں ہمارے وجود کی تلاش ہوگی۔ اس لئے اب بھی وقت ہے کہ اہل علم اور اہل…

معاوضہ کی نہیں، مطالبے کی ضرورت ہے!

جو قوم ہزاروں لاکھوں روپئے کے خرچ سے جلسہ، اجتماع و عرس اور پروگرام کرسکتی ہے کیا وہ قوم اپنے قبرستانوں کیلئے زمینیں خرید نہیں سکتی؟آج ہم مسلمانوں کیلئےجن بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہے، اُن سہولتوں کیلئے آوازاٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے مطالبے…

جواب چاہیے مجھے، جواب ڈھونڈتا ہوں میں

آج امت کی صحیح رہنمائی کرنے والوں کی ضرورت ہے نہ کہ کچھ وقت کے لئے رہبر، کچھ وقت کے رہزن بننے والوں کی ضرورت امت کو ہے۔ امت مسلمہ میں جتنے چالاک اور حکمت والے ہیں اتنے ہی معصوم اور بھولے بھالے بھی ہیں۔ آخر کب مسلمانوں کو ہمارے اپنے قائدین…

پوچھنے کا حق بھی ہے!

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اوقافی اداروں کو نمائندگی و نگرانی کی ذ مہ داری اخلاص اور ایمانداری رکھنے والے لوگوں کو سونپیں اور اپنی گلی محلے کی مسجد ہو یا قبرستان کی زمینیں، ان کی دیکھ بھالی صحیح ہورہی ہے یا نہیں یہ دیکھا جائے۔ کیونکہ وقف املاک…