مجتبیٰ فاروق

مجتبیٰ فاروق

مستشرقین اور اسلامی تحریکات

بیسویں صدی عیسوی میں پچاس کی دہائی کے بعد اسلامی تحریکیں ابھرنا شروع ہوئیں۔ ان تحریکوں نے امت مسلمہ میں اسلام کے آفاقی پیغام کو پوری جدت کے ساتھ آگے بڑھانا شروع کیا اور اسلام کو مکمل نظام اور ضابطہ حیات کے طور پر پیش کرکے امت مسلمہ میں ایک نئی روح پھونکی اور امت کو احیائے اسلام کے لیے ہمہ جہت  بیدار کیا۔

مزید پڑھیں >>

بصائر قرآن

قرآن مجید دنیائے انسانیت کے لیے بصیرت و بصارت اور دنیا کو امن وامان کی آماجگاہ بننے کا حقیقی ذریعہ اور راستہ ہے کیوں کہ یہ تمام انسانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ قرآن مجید ایک الٰہی کتاب ہے جس میں انسان کے تمام بنیادی امور کے بارے میں صاف اور واضح ہدایت ہے۔ اس کی تعلیمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اس کتاب کا کائناتی نظریہ، تصور توحید، تصور رسالت، تصور آخرت، انبیاء واقوام کی تاریخ، تصور خلافت، زندگی کا حقیقی مقصداور وسیع تصورِ ملت واضح ہے۔

مزید پڑھیں >>

اصلاح و تربیت کے رہنما اصول

تعلیم و تر بیت اور تزکیہ نفس اقامت دین کے حاملین کے لئے انتہائی ضروری ہے اور اس کے بغیر یہ کام منزل مقصودتک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔تحر یک اسلامی نے آغازہی سے تعلیم و تر بیت اور،تزکیہ وتربیت کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا اور اپنے وابستگان کے لیے متنوع تر بیتی و اصلاحی ذرائع تیار کئے ہیں ۔اور وہ اس تعلق سے اچھا خاصا لٹریچر بھی تیار کرچکی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اصلاح و تربیت کے رہنما اصول‘‘تربیتی لٹریچر میں ایک اہم اضافہ ہے۔ کتاب کے مصنف مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی ہیں جو تحریک اسلامی کے ایک جید اور بے باک عالم دین ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

تفہیم القرآن کی عصری معنویت

تفہیم القرآن میں سید مودودیؒ نے عیسائیت، یہودیت اور دیگر اقوام وملل کی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی اور قرآن کی تعلیمات کے ساتھ تقابلی مطالبہ پیش کیا ہے۔ مولانا نے تورات، زبور اور انجیل کی تحریفات کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ پیش کیا نیز عیسائی پادریوں کے ذاتی مفادات اور ان کی کارستانیوں کو بھی عیاں کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

سیرت رسول ﷺ میں انسانی مسائل کا حل

دنیائے انسانیت کو آج ایک بار پھر اس عظیم اور مقدس ذات کی طرف رجوع کرنے کی اشد ضرورت ہے جنہوں نے آج سے 1400 سال پہلے سسکتی بلکتی انسانیت کو ضلالت وجہالت، کفر وشرک اور بت پرستی، فحاشی وعریانیت اور اسی قبیل کی بے شمار برائیوں سے نجات دلایا۔ جب تک دنیائے انسانیت یا امت مسلمہ نبی پاکﷺ کی سیرت اور آپؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا تھی۔

مزید پڑھیں >>