منیر احمد خلیلی

منیر احمد خلیلی

منیر احمد خلیلی تقریباً چالیس برس شعبہ تعلیم سے وابستہ رہ کر ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ موصوف گزشتہ پچاس برس سے قلم و قرطاس سے وابستہ ہیں۔ مختلف اخباروں میں شائع ہونے والی ہزاروں تحریروں کے علاوہ آپ کے قلم سے مختلف موضوعات پر کم و بیش 16 کتب نکل کر شائع ہوچکی ہیں۔ ان میں انفاق فی سبیل اللہ، تزکیہ نفس کیوں اور کیسے؟، عصر حاضر کی اسلامی تحریکیں، مقالات تعلیم، عورت اور دور جدید، اور مغربی جمہوریت کا داغ داغ چہرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اسلام کا سیاسی کردار

اسلام اوریہودیت کے سوا کسی اور مذہب کے پاس زندگی کے تمام شعبوں کے لیے کوئی سکیم ہے ہی نہیں۔ یہودیوں نے اسرائیلی ریاست کے اندر اپنی زبان سے لے کر مذہبی روایات و اقدار کے ایک بڑے حصے کو نئی زندگی بخش دی ہے۔ کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ اسلام اگرزندگی کے تمام دیگر دائروں سمیت ریاست و سیاست پر اپنا رنگ قائم کرنا چاہتا ہے تومذکورہ عناصر کو جدید تہذیب اور آزادیاں خطرے میں نظر آنے لگتی ہے۔حالانکہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اسلام زندگی کے نفاذ سے جدید نقوش کو مٹاڈالے گا۔ اسلام ترقی و تعمیر کاوہ دِین ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص گاڑنے کے لیے کھجور کا ایک پودا لے کر نکلا ہو اور اس دوران میں قیامت برپا ہو جائے تو پھر بھی وہ کھجور کا وہ پودا گاڑ کر چھوڑے۔

مزید پڑھیں >>

طُرفۂِ معجونی

ہماری نگاہ میں تو حسن البنا ؒ اور مودودیؒ سے بڑھ کر کوئی عاشقِ رسول ؐ نہیں ہے۔ پچھلی زوال زدہ کئی صدیوں کا اس امت پر قرض تھا جودین ِ نبی ؐکا سچا کھراتصور اجاگر کر کے  انہوں نے چکایا۔ سارے عالِم اور سارے عاشق مل کر بھی کریں تو ان کے احسان کا بدلہ نہیں دے سکتے۔ شعر و ادب اور فکر و فلسفہ کے آمیزے سے الجھی ہوئی بے ترتیب باتوں اور عبارتوں کا طُرفۂ ِ معجونی تیار کرنے والوں کو اس زاویے سے غور کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

آشوبِ دانش

مشاہدے کی بات ہے کہ بازار میں جن اشیاء کو عام طور پر لوگ نظر اٹھا کر دیکھنا گوارا نہیں کرتے میلوں ٹھیلوں میں وہ ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں ۔ میلے میں ’کوالٹی ‘ کے بجائے ’کوانٹٹی ‘ چلتی ہے۔ میلہ سستی اور زیادہ کی جگہ ہے۔ دام کم، کام زیادہ۔ اب توعلم و فکر اورادب و دانش کے ٹھیلے بھی میلے ہی میں لگے نظر آتے ہیں ۔ یونیورسٹیاں صرف تعلیم و تدریس کی نہیں بلکہ تحقیقِ مسلسل، نظریات و افکارکی ان تھک چھان بین، جِلائے فکر اور فروغِ علم کی کاوشوں کا مرکز ہوتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

انگریزی شعر و ادب پر یہودی اثرات (دوسری قسط)

 گیارھویں سے دسویں صدی قبل مسیح تک طالوت، حضرت داودؑ اور حضرت سلیمان ؑکے عہد میں یہودیوں کوجوسربلندی اور طاقت نصیب ہوئی تھی وہ برقرار نہ رہ سکی تھی۔ ہر عروجے را زوال کے کُلیّے کی تہ میں جھانکا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ زوال کا گَرہن پہلے قوموں کے معتقدات و اخلاقیات کو لپیٹ میں لیتا ہے اور پھر اثر و اقتدار اور شوکت و عظمت کے سورج کی ضیا پاشیوں کو ظلمتیں گھیر لیتی ہیں ۔معلوم تاریخ ِ انبیاء میں حضرت یوسف علیہ السّلام کو ہم مصر کے اقتدار تک پہنچا ہوا دیکھتے ہیں۔انہی کے اقتدار کے عرصے میں آلِ یعقوب کنعان سے اٹھ کر مصر میں جا آباد ہوئے تھے۔آنجناب کے کچھ عرصہ بعدبنی اسرائیل کو مصر کے فرعونوں نے اپنا محکوم بنا لیا اور ان پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیے۔

مزید پڑھیں >>

کلاسیکی انگریزی شعر و ادب پر یہودی اثر

دیکھنا یہ ہے کہ مغرب کی استعماری قوتوں نے سولھویں صدی میں خاص طور پر بلادِ اسلامیہ پر قبضے کے لیے جو قدم بڑھائے اور انیسویں صدی کے اواخر تک تقریباً سارے عالمِ کو اپنے استبدادی پنجوں میں جکڑ لیا تھا، اس ظلم و ناانصافی پر اس دور کے انگریزی اور یورپی شعرو ادب میں کوئی چیخ بلند ہوئی، کوئی صدائے احتجاج سنی گئی، کسی مزاحمتی رویے کی تحسین ہوئی؟ جواب بڑا مایوس کن ہے۔

مزید پڑھیں >>

فوأد کیا ہے؟

اللہ نے علم و عقل اور سماعت و بینائی کی یہ نعمتیں تمہیں حق شناسی کے لیے دی تھیں ۔ تم ناشکری کر رہے ہوکہ اِن سے اور سارے کام لیتے ہومگر بس وہی ایک کام نہیں لیتے جس کے لیے یہ دی گئی تھیں ۔‘ اس نوٹ میں سمع و بصر کے ساتھ لفظ دل استعمال کرنے کے بجائے یہ تعبیر کی کہ یہ اَلْاَفْئِدَۃ ’علم و عقل‘ کے سرچشمے ہیں۔

مزید پڑھیں >>