توبتہ النصوح

یہ زندگی میرے پاس میرے رب کی امانت ہے۔ میں اپنی مرضی کا مالک نہیں ہوں۔ مجھے ہر قدم پہ اس کا حکم بجا لانا ہے۔ نہ تو میری مرضی ہے نہ میرا اختیار۔

کمالِ غالب 

غالب کی شخصیت نہایت رنگین پُر کار اور پہلو دار ہے۔ غالب کے مزاج  کی شوخی کلام پر بھی اثر انداز ہوئی۔ انکی ذہانت کا ایک مظہر حاضر جوابی بھی تھی۔ کلام میں بھی ظریفانہ عناصر پاۓ جاتے ہیں۔

کچھ قصہ شعر گوئی کا

ایک طبقہ ان جیسا مزید میدان میں ہے جو کہ تُک بندی کو شاعر ی سمجھتا ہے اوربحر سے خارج الفاظ چھپوا کر یہ شاعرات ایوارڈ بھی لیتی ہیں شاید ایوارڈ دینے والوں کو اپنے شاعر ہو نے میں کوئی شک ہے یا علم عروض سے کوئی پرانی دشمنی ہے

فلسفہ حج کیا ہے؟

پچانوے سال کی عمر میں اللہ تعالی نے باندی حاجرہ سے صاحب اولاد کیا جن کا نام اسماعیل رکھا گیا تیرہ برس کی عمر کو پہنچے تو خواب میں قر بانی کا حکم ملا تین رات مسلسل یہی خواب دیکھا تو نبی اسماعیل علیہ اسلام سے ذکر کیا وہ بولے باباآپ مجھے …

بچوں کی تربیت 

بچوں کو ایسے خوف کا شکار کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی زبان کھول نہیں پاتے اپنے ماں باپ تک کو نہیں بتاتے اور جو بتا دیتے ہیں ان کے ماں باپ معاشرے کے ڈر سے ان کے ساتھ ہو نے والی زیادتی پہ خاموش رہتے ہیں۔

سوشل میڈیا

اردو کوتڑوڑ مروڑ کر صوتی غلطیوں سے بھری ایک گلابی اردو وجود میں آگئی۔ دوسری طرف ہر انسان کی دسترس نے فائدے بھی دیے اور نقصان بھی۔ کتاب پڑھنے کا رجحان کم ہو نے لگا۔ کہیں وقت کی کمی آڑے آئی تو کہیں سوچ ہی بدل گئی۔ ہر نئی ترقی لوگوں میں شعور…

زندہ بدست مردہ

سنگ مرمر کی قبر بنا کے نیک اولاد ہونے کا ثبوت دیا۔ واہ واہ کروائی اور بس۔ راحت قبر کے اندر ہوتی ہے باہر نہیں۔  آج موت کا ہمیں علم تو ہے لیکن یقین نہیں۔ اگر یقین ہو تو ہم اپنی مرضی کی زندگی جی نہیں سکتے۔ لیکن ہم جیتے ہیں اور  جیتے چلے جاتے…