نایاب حسن

نایاب حسن

شیخ گلاب: نیل آندولن کے ایک نایک

چنانچہ کل96 صفحات میں سمٹی اس کتاب (یاکتابچے)کو مرتب کرنے کے لیے انھوں نے اردو،ہندی اور انگریزی کے سو سے زیادہ مراجع و مصادر کو کھنگالا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے نہ صرف شیخ گلاب کی قربانیوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے، بلکہ چمپارن ستیہ گرہ تحریک کواس کی اصل اور مکمل شکل میں دیکھنے کا بھی موقع ملتاہے۔  پوری کتاب شروع سے اخیر تک معلومات کا خزانہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

سعودعثمانی: کہتاہے ہراک بات مگرحسنِ ادب سے

یقیناً ہم جب سعودعثمانی کی شاعری سے روبروہوتے ہیں، توایسا محسوس ہوتاہے کہ اس کے اندر ایک مقناطیسی صلاحیت  ہے، جوہمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ ان کے شعری موضوعات اور جہتوں میں بھی بے پناہ تنوع ہے ، بطورِ خاص اپنی ذات کے اندرون و بیرون کی دریافت اور عرفانِ خودی کے حوالے سے سعودعثمانی کے اشعارکچھ الگ پہلووں سے آشناکرواتے ہیں

مزید پڑھیں >>

 ہے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں!

مجھے توایسا نہیں لگتا،مجھے تویہ لگتاہے کہ ایسا سماج بنانے میں انتہاپسندسیاسی ومذہبی فکرکے علمبرداروں کی ایک لمبی، دوررس، گہری اور نتیجہ خیزمنصوبہ بندی کارول ہے،یہ وہ لوگ ہیں ،جومختلف مذاہب کے ماننے والوں میں ،مختلف ملکوں میں اور مختلف زمان و مکان میں ہمیشہ پائے جاتے رہے ہیں ۔سترسال قبل ہزارسال سے ایک ساتھ رہنے والے ہندوستانی عوام کے ایک جتھے کودوسرے جتھے سے بھڑاکرہندوستان کے سینے پرآری ترچھی لکیریں کھینچی گئیں اور تب سے ان میں اضافوں کا عمل مسلسل جاری ہے،دیکھئے کہاں جاکرتھمے!

مزید پڑھیں >>

ایک اِک سمت سے شب خون کی تیاری ہے!

سناتن سنستھاکے قومی ترجمان ابھے ورتک نے سادھوی کے بیان کی تایید کی اور بی جے پی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہاکہ اس پارٹی کو2014میں لوگوں نے اس لیے ووٹ دیاتھا کہ وہ مندروں اور گایوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے گی،مگر حکومت میں آنے کے بعد وہ اپنے وعدے بھول چکی ہے۔اس کاکہناتھاکہ آج خود بی جے پی کی حکومت میں مہاراشٹراور راجستھان میں مندروں کو مسمار کیاجارہاہے،جبکہ خود بی جے پی کے کئی رہنما سرِ عام یہ بیان دے رہے ہیں کہ وہ بیف کھاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

صحرا صحراغم کے بگولے، بستی بستی دردکی آگ!

ایسے میں جو خود سپردگی کردے گا،وہ محفوظ رہے گااور جو زبان کھولنے کی جرأت کرے گا،اسے سیاسی جبر کاشکاربننے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ابھی ہمارے ملک کے عوام کی اکثریت بھی خفقانی کیفیت میں مبتلاہے،سواسے حقائق نظرہی نہیں آرہے،البتہ یہ کیفیت بہت دن تک برقرار نہیں رہے گی،لوگ جلد ہی بیدار ہوں گے اور تب شاید حالات اس تبدیلی کارخ کریں ،جسے خوشگوارتبدیلی کہاجاسکے۔

مزید پڑھیں >>

دوخبریں، دو کہانیاں اور الیکٹرانک مفکرین کی گل افشانیاں!

ودی -جمعیت میٹنگ میں کیاباتیں ہوئیں ،کن امور پر تبادلۂ خیال ہوااور کن منصوبوں پر عمل کرنے کی باتیں کی گئیں ،اس تعلق سے اگر جمعیت کے وفداور پی ایم او کی طرف سے مشترکہ پریس اعلامیہ جاری ہوجاتا تومعاملے کو صحیح طورپرسمجھا جاسکتاتھا،مگرچوں کہ ایسا نہیں ہوااور دونوں طرف سے ایک ہی میٹنگ کی دوبالکل علیحدہ علیحدہ خبریں جاری کی گئیں ،تو لوگوں کا کنفیوژڈیا بدظن ہونا یقینی ہے۔

مزید پڑھیں >>

برقی ادب اورمطبوعہ ادب:ایک تقابلی جائزہ

اکیسویں صدی کے آغاز سے کچھ دنوں پہلے ادب و تخلیق کی ایک نئی صورت ظہور پذیر ہوئی،جسے ڈیجیٹل ادب،الیکٹرانک ادب یابرقی ادب کے نام سے جانا جاتا ہے،قبل اس کے اس کی حقیقت و ماہیت اور نوعیت و حیثیت پر گفتگو کے دروازے کھولے جاتے ،دنیا نے دیکھا کہ اس نے نئی نسل کے ایک بڑے حصے کو اپنے آغوش میں لے لیا،نئی نسل ہی نہیں ،پرانی نسل کے تیز طراربندے بھی اس سے فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکے اور انھوں نے بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے برملا اظہار کے لیے برقی لہروں کا سہارا لینے کی کوشش کی۔ جب کمپیوٹراور اس کے بعد انٹر نیٹ کا ظہور ہوا،تب لوگوں کو اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ ان ایجادات کا دخل انسانی زندگی کے مختلف علمی وادبی شعبوں کواتنا زیادہ محیط ہوگا،جتنا کہ اب ہم اپنی چشمِ سر سے دیکھ رہے ہیں

مزید پڑھیں >>

اردوگان کا دورۂ ہند: بات کیاہے اور بات کیا ہورہی ہے؟

ہندوستان میں یہ واحد یونیورسٹی ہے،جہاں ترکی زبان میں آنرس کے علاوہ ایڈوانس ڈپلومہ تک کی تعلیم کا انتظام ہے،ان کی آمد اور تبادلۂ خیال کے بعد مزید مثبت تعلیمی اضافوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔ان کے علاوہ متعدد دیگر معاملے ہیں جودونوں ملکوں کے رہنماؤں کی بات چیت میں مرکزی حیثیت کے حامل ہوں گے،ہندوستان کے دورے سے پہلے انقرہ میں WIONنامی نیوزچینل کے نمایندہ رمیش رام چندرن سے ہونے والی گفتگو میں اردوگان نے اپنے دورسے متعلق سوالوں کے جوابات میں سب کچھ بڑی وضاحت سے کہاہے، آج کے تمام قومی اخبارات میں اردوگان کے دورۂ ہنداور اس کے مقاصد،اہداف وامکانات کے تعلق سے اسی انٹرویوکومختلف طریقوں سے شائع کیاگیاہے ۔

مزید پڑھیں >>

طاقتور اردوگان سے کون خوف زدہ ہے؟

ترکی میں پارلیمانی نظام کے خاتمے اور صدارتی نظام کے نفاذیاملکی دستور کی اٹھارہ شقوں میں ترمیم کے مقصد سے منعقدہ ریفرنڈم میں موجودہ صدر رجب طیب اردوگان کی ترقی و انصاف پارٹی کوغیر سرکاری نتائج کے مطابق کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔اس ریفرنڈم میں ایک دوسری نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی بھی ان کے ساتھ کھڑی تھی،جبکہ ترکی پارلیمنٹ میں اہم ترین اپوزیشن ریپبلکن پیپلزپارٹی نے دستور میں ترمیم کوملک کے مفادات کے خلاف قراردیتے ہوئے حکومت کی مخالفت کی۔الیکشن میں کل پانچ کروڑ شہریوں نے حصہ لیا،کل 86؍فیصد ووٹ پڑے،جن میں اکیاون فیصدسے زائد ووٹ حکومت یعنی دستور میں ترمیم کے حق میں پڑے، جبکہ اڑتالیس فیصدسے کچھ زائد ووٹ حکومت کے خلاف یعنی دستور میں ترمیم کے خلاف ڈالے گئے۔

مزید پڑھیں >>

ڈاکٹراورنگ زیب اعظمی اورشبلیات کی تعریب و توسیع (آخری قسط)

تاریخ اور نامورانِ اسلام سیریزکی شبلی نعمانی کی یہ پہلی باقاعدہ تصنیف ہے ،جو علی گڑھ میں ملازت کے ابتدائی دنوں میں لکھی گئی ۔اردومیں بھی اس کانام ’’المامون‘‘ہے اور ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی کاعربی ترجمہ بھی ’’المامون‘‘ہی کے نام سے طبع ہواہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہے ،پہلے حصے میں انہی احوال وواقعات کاذکرہے ،جوعموماً اس قسم کی کتا بوں میں بیان کیے جاتے ہیں ،مامون کی زندگی کے تمام ترسانحات کونہایت ہی حزم و احتیاط سے بیان کیاگیاہے اوراس سلسلے میں شبلی نے ابن جریرطبری،مسعودی،واقدی،ابن الاثیرجزری،ابن خلدون،ابوالفداء،ذہبی،ابن قتیبہ اور بلاذری وسیوطی وغیرہ عرب مؤرخین کی کتابوں کے ساتھ مغربی مصنفین میں گبن،کارلائل،بکل اورہیگل وغیرہ کی تصانیف کوبھی پوری باریک بینی سے پڑھا ہے،ہرتالیف میں ان کایہ طریقہ رہاہے،جس کی وجہ سے ان کی تحریروں میں مستندمعلومات اور جدیدطریقۂ استنتاج وطرزِنگارش کے بہترین نمونوں کے ساتھ مغربی مؤرخین کے سہووتعصبات پرمعقول گرفت بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

مزید پڑھیں >>