نایاب حسن

نایاب حسن

نفرت کی درس گاہیں!

کتاب کی مصنفہ ایک خاتون نازیہ ارم ہیں ، فیشن ڈزائن کے فیلڈ میں سرگرمِ عمل ہیں اور TheLuxuryLabel.inنامی سائٹ کی بانی ہیں ، یہ کتاب انھوں نے بڑی ریسرچ اور تحقیق کے بعد لکھی ہے، انھوں نے ملک کے 12؍شہروں کے 100؍بچوں اور ان کے والدین سے بات چیت کی، یہ بچے اور خاندان مڈل کلاس یا اس سے اوپر کے مسلم طبقوں سے تعلق رکھتے تھے، گفتگو کے دوران انھیں پتاچلاکہ ملک کے بہت سے مشہور ترین اوراعلیٰ درجے کے سکولوں میں بھی مذہبی بنیادوں پرمسلم بچوں کی ہراسانی کے تکلیف دہ اور حیرت ناک واقعات رونما ہورہے ہیں ، انھوں نے انہی سچی کہانیوں کو کتابی شکل دے کر (بلاتفریق مذہب)ہندوستان بھر کی ماؤں کو اپنے بچوں کی تربیت کے تعلق سے فکر مندی کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ اقتباس scroll.inپرشائع ہواہے، پوری کتاب ضرور پڑھنی چاہیے!

مزید پڑھیں >>

مجھے تین طلاق بل کیوں منظورنہیں؟

 راتوں رات مسلم خواتین کے ہمدردبن جانے والے، اسی طرح وہ لوگ، جنھیں اس بل کی خامیاں نظر نہیں آرہیں ، ان کا خیال ہے کہ میں فی الحال اس بل کی تائید کردوں ، بعد میں جب کوئی (فردیاجماعت) اسے چیلنج کرے گی، تو کورٹ اس کے اطراف و جوانب پرغور کرے گا، یہ ایک نہایت ہی بکواس اور ناقابلِ قبول خیال ہے؛کیوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ 1985میں شاہ بانوکیس کے فیصلے کے بعد جلد باز ی میں پاس کیے گئے ایک بل کو صحیح تعبیر و تفسیر کا جامہ پہنانے میں سپریم کورٹ کو پندرہ سال لگ گئے، حالاں کہ اب بھی آئی پی سی کی دفعہ498A قابلِ تعریف ہونے کے باوجودبہت بار صرف مردوں کو ٹارگیٹ کرنے کے لیے استعمال ہورہی ہے۔

مزید پڑھیں >>

لکھنے کا فن

     پس ایک قلم کار کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ داخلی جوش (ایسی ذہنی ونفسیاتی کیفیت جو ایک قلم کار کو لکھنے کے لیے انگیخت کرے)سے بھی بہرہ مند ہو؛تاکہ وہ اسے کسی (سادہ یا مشکل)فکر وخیال سے ہم آہنگ کرکے ایسا فن پارہ وجود میں لاسکے، جو اس کے اپنے اسلوب، سوچ اور ذات کی نمایندگی کرتا ہویابالفاظِ دگر جو اس کی اپنی کاغذی تصویر ہو، کسی لکھاری کے اندر ایسا داخلی جوش تبھی پایاجاتا ہے، جب وہ ایک مخصوص نفسیاتی کیفیت سے بہرہ مندہو، البتہ اس کیفیت کی کوئی متعین صورت نہیں ہوتی؛بلکہ کبھی یہ خوشی، کبھی رنج، کبھی امیدورجا تو کبھی ناامیدی و مایوسی کی حالت میں بھی پائی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

نزار قبانی: جدتِ افکار اور جرأتِ اظہار کا استعارہ!

نزار کو جب لوگ’’شاعر المرأۃ‘‘ (شاعرِ نسواں )کہتے تھے، تو وہ مست ہوجاتے تھے اور اب بھی عام طورپر جب لوگوں کی زبان پر نزار کانام آتاہے یا کوئی ان کی شاعری پڑھتا یا سنتا ہے، تو بے ساختہ اس کا ذہن ان کے اس لقب کی طرف چلاجاتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نزار اپنی قومی نظموں، ملی ترانوں، واضح تنقیدی تصورات اور اپنے مختلف مقالات میں ایک ایسے دانشور نظر آتے ہیں، جو نہ صرف عورتوں سے محبت کرتا ہے؛بلکہ وہ اپنے وطن کی مٹی اور اس کی آب و ہوا سے بھی قلبی انس رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

گجرات الیکشن کے نتائج: غور و فکر کے چند اہم پہلو

 اس الیکشن میں ہندوستانی سیاسی منظرنامے پر کے کئی نئے چہرے ابھرکر سامنے آئے ہیں، ہاردک پٹیل کو گو اپنی تحریک میں مکمل کامیابی نہیں ملی،مگر جتنی ملی وہ بھی کم نہیں ہے،انھوں نے نتائج آنے کے بعد اپنے انٹرویو میں کہابھی ہے کہ گجرات کے لوگ بیدار تو ہوئے ہیں، مگر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوسکے ہیں، جس کے لیے وہ آیندہ بھی اپنی تحریک جاری رکھیں گے،الپیش ٹھاکر ایک بڑے اور نمایاں اپوزیشن لیڈرکے طورپر سامنے آئے ہیں، جگنیش میوانی کی زبردست جیت گجرات کے دلت و پسماندہ قبائل و برادری کے لیے حوصلہ افزاہے اور آیندہ کچھ دلچسپ چیزیں سامنے آنے والی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

سوشل میڈیا میں اردو: لفظیات کو درپیش مسائل

سوشل میڈیا میں اردو زبان کے استعمال کے وقت چاہے وہ چیٹنگ میں ہو یا بلاگنگ اور پوسٹنگ، زبان و بیان کے اصول کو اسی طرح ذہن میں رکھنا چاہیے،جس طرح ہم حقیقی دنیا میں باہمی گفتگو کے دوران یا کچھ لکھتے وقت اس کا خیال رکھتے ہیں ،اس پر توجہ دینا اس لیے ضروری ہے کہ اگر ان غلطیوں کو ناقابلِ اعتنا سمجھتے ہوئے یو ں ہی چلنے دیا جائے،تو دھیرے دھیرے باقاعدہ ایک ایسی زبان وجود میں آجائے گی،جسے ’’اُردِش‘‘سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت شیخ الہندؒ کا تصورِ فلاحِ امت

 بعض شخصیتیں اتنی قدآوراوراپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے اِس قدر وسیع الجہات ہوتی ہیں کہ زمانے کی نگاہیں ہزار کوششوں اور دعووں کے باوجودان کے اصل مقام و مرتبے کاصحیح اندازہ نہیں لگاپاتیں، یہ الگ بات ہے کہ احوال، اوقات اورمقامات کے حسبِ حال ان کی کوئی ایک صلاحیت زیادہ نکھر کر سامنے آجاتی اور اسی کی حیثیت سے معاصرین میں اُن کی شناخت کی جاتی ہے، اسلامی تاریخ میں کئی ایسی شخصیتیں ہیں، جنھیں بعض خاص علمی یاعملی شعبوں میں نمایاں کارناموں کی وجہ سے اُن ہی شعبوں کے ساتھ خاص کردیا گیا ؛حالاں کہ ان کے علوم و افکار کی بے کرانی اس سے کہیں زیادہ کی متقاضی تھی۔

مزید پڑھیں >>

سہراب الدین کیس: امت شاہ کی براء ت اور سی بی آئی جج کی پراسرارموت

  لویا کی بھتیجی نوپوربالاپرساد بیانی ممبئی میں ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ رہ کر پڑھائی کررہی تھیں ، انھوں نے مجھے اپنے انکل پر ہونے والے دباؤ کے بارے میں بتایا’’وہ جب کورٹ سے واپس گھر آتے، تو کہتے ’’بہت ٹینشن ہے،یہ ایک بہت بڑا کیس ہے،اس سے کیسے نپٹیں ، اس میں ہر کوئی شامل ہے‘‘۔نوپور کے مطابق’’یہ سیاسی اَقدار کا سوال تھا‘‘۔

مزید پڑھیں >>

مولانا آزاد، ترجمان القرآن کا انتساب اور مزید کچھ باتیں !

آپ کو اپنا یا اپنے ہیرو کا قد اونچا کرنا ہے،تواس کے لیے یہ ضروری تونہیں کہ کسی کو بونا ثابت کرکے یہ کام کیا جائے،پھر یہ کہ آپ سورج کو غبار آلود کرنے لگ جائیں یا چاند پرتھوکنے لگیں، تو یہ کوئی عقل مندی تھوڑی ہوئی، آپ اپنے یا اپنے ہیروکے مثبت کارناموں کواُجالیے، اُچھالیے اورآپ اپنے آپ میں مست رہیے، ہم اپنے آپ میں مست ہیں، لکھنے اور بولنے کو کس کے پاس کیا نہیں ہے،خواہ مخواہ اس طرح کے شگوفے چھوڑنے سے کیا فائدہ!

مزید پڑھیں >>

’ابوالکلامیات‘ کے سرمایے پر ایک اچٹتی نگاہ

مولانا ابوالکلام آزاد سے متعلق تحقیق ، تصنیف ، تالیف اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور ہر آئے دن کے ساتھ ان کی زندگی اور شخصیت کے تعلق سے کچھ نئے حقائق لوگوں کے سامنے آرہے ہیں۔  ظاہرہے کہ جو شخصیتیں جتنی بڑی ہوتی ہیں ، ان کی ذات و کردار کے گوشے اسی قدر وسیع و عمیق ہوتے ، ان کی زندگی وافکار پر جتنا غور وفکر کیا جائے اورجتنی کھوج بین کی جائے، اسی قدر ہمارے علم و نظر میں اضافے کا سامان ہوتا جاتاہے۔

مزید پڑھیں >>