نایاب حسن

نایاب حسن

سوچی جی، کچھ توسوچو!

کچھ لوگ سوچی کے نوبل پرائز کی واپسی کے لیے آن لائن مہم چلارہے ہیں، حالاں کہ نوبل کمیٹی کے یہاں ایسا کوئی سسٹم نہیں ہے؛لیکن میں بھی چاہتاہوں کہ سوچی کو انعام میں دی گئی رقم واپس لے کران عورتوں اور بچوں پر خرچ کی جائے، جنھیں سوچی کی نگرانی میں بیوہ و یتیم بنادیاگیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

روہنگیا پناہ گزیں: حکومتِ ہندکا موقف کیاہے؟

ہندوستان میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو نکالے جانے کے حکومت کے فیصلے کوچیلنج کرتے ہوئے دوروہنگیاپناہ گزینوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیٹیشن داخل کی گئی ہے، روہنگیاپناہ گزینوں کی جانب سے معروف وکیل و سیاست داں پرشانت بھوشن کورٹ میں پیش ہورہے ہیں،

مزید پڑھیں >>

سنے گا کون؟ مگر احتجاج لازم ہے!

اس وقت پورا ملک کئی ایک ایسے بحرانوں میں گھراہواہے،جن کی زدمیں کروڑوں لوگ ہیں ،اسی دوران ہم نے آزادی کا جشن بھی منالیا،مگر کیایہ جشن ہماری حقیقی خوشی کا اظہارتھایامحض ایک رسم کی ادائیگی یا پھر اجتماعی بے حسی ومردہ ضمیری کا نمونہ، اس پر ہمیں غوروفکر کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

آغاشورش کاشمیری: ہم ہیں فقیرِ راہ مگر شہریارہیں !

آغا عبدالکریم شورش کاشمیری(14؍اگست1917ء-6؍نومبر1975ء)ایک مختلف الجہات اور بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ادیب، خطیب، شاعر اور نثر نگار تھے، ہندوستان کی آزادی میں ان کا رول غیر معمولی رہا، انھوں نے بیسویں صدی کے چوٹی کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ جد وجہدِ آزادی میں عملی حصہ لیا، اس راہ میں انھیں قیدو بند کی صعوبتیں بھی جھیلنا پڑیں اورمعاشی مشکلات اور پریشانیاں بھی، مگر کبھی بھی ان کے پاے استقامت میں لغزش نہیں آئی

مزید پڑھیں >>

بات توسچ ہے مگر…!

چوں کہ حامد انصاری مسلمان تھے؛چ نانچہ کرن تھاپر نے کچھ سوالات خاص مسلمانوں کے تعلق سے بھی کیے اور کچھ عمومی انداز کے تھے، مگربین السطور میں مسلمانوں کاہی ذکر تھا، گویا پورے انٹرویوکا کم ازکم دوتہائی حصہ راست یابالواسطہ طورپرمسلمانوں سے متعلق تھا۔مثلاً انھوں نے انٹرویو میں ایک سوال ہندوستان میں بڑھتی ہوئی عدمِ برداشت کی فضاکے بارے میں کیا، اس تعلق سے انھوں نے پہلے متعدد مثالیں دیں کہ کس طرح بیف کھانے کے نام پر پرہجوم تشددلوگوں کی جان لے رہاہے، بھارت ماتاکی جے نہ بولنے والے کو دیس نکالادیے جانے کی بات کی جارہی ہے،  لوجہادکی فرضی داستان اور گھرواپسی کی مہم چلائی جارہی ہے، اس صورتِ حال کووہ ہندوستان کے نائب صدرکے طورپرکس نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اس کے جواب میں انصاری صاحب کہتے ہیں کہ’’ہندوستانی اقدارشکست کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں اور ایک ہندوستانی الاصل انسان سے اس کی قومیت کے بارے میں دریافت کیاجارہاہے، جو نہایت تکلیف دہ صورتِ حال ہے‘‘۔ان سے پوچھاگیاکہ ’’بہت سے لوگوں کاایسا مانناہے کہ ہندوستان ایک عدمِ برداشت والا دیش بنتاجارہاہے، اس کے بارے میں آپ کیاکہتے ہیں ؟‘‘جواب میں وہ کہتے ہیں کہ’’صحیح بات ہے، میری بھی مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں سے گفتگو ہوتی رہتی ہے، ان کابھی یہی احساس ہے‘‘۔

مزید پڑھیں >>

شیخ گلاب: نیل آندولن کے ایک نایک

چنانچہ کل96 صفحات میں سمٹی اس کتاب (یاکتابچے)کو مرتب کرنے کے لیے انھوں نے اردو،ہندی اور انگریزی کے سو سے زیادہ مراجع و مصادر کو کھنگالا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے نہ صرف شیخ گلاب کی قربانیوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے، بلکہ چمپارن ستیہ گرہ تحریک کواس کی اصل اور مکمل شکل میں دیکھنے کا بھی موقع ملتاہے۔  پوری کتاب شروع سے اخیر تک معلومات کا خزانہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

سعودعثمانی: کہتاہے ہراک بات مگرحسنِ ادب سے

یقیناً ہم جب سعودعثمانی کی شاعری سے روبروہوتے ہیں، توایسا محسوس ہوتاہے کہ اس کے اندر ایک مقناطیسی صلاحیت  ہے، جوہمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ ان کے شعری موضوعات اور جہتوں میں بھی بے پناہ تنوع ہے ، بطورِ خاص اپنی ذات کے اندرون و بیرون کی دریافت اور عرفانِ خودی کے حوالے سے سعودعثمانی کے اشعارکچھ الگ پہلووں سے آشناکرواتے ہیں

مزید پڑھیں >>

 ہے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں!

مجھے توایسا نہیں لگتا،مجھے تویہ لگتاہے کہ ایسا سماج بنانے میں انتہاپسندسیاسی ومذہبی فکرکے علمبرداروں کی ایک لمبی، دوررس، گہری اور نتیجہ خیزمنصوبہ بندی کارول ہے،یہ وہ لوگ ہیں ،جومختلف مذاہب کے ماننے والوں میں ،مختلف ملکوں میں اور مختلف زمان و مکان میں ہمیشہ پائے جاتے رہے ہیں ۔سترسال قبل ہزارسال سے ایک ساتھ رہنے والے ہندوستانی عوام کے ایک جتھے کودوسرے جتھے سے بھڑاکرہندوستان کے سینے پرآری ترچھی لکیریں کھینچی گئیں اور تب سے ان میں اضافوں کا عمل مسلسل جاری ہے،دیکھئے کہاں جاکرتھمے!

مزید پڑھیں >>

ایک اِک سمت سے شب خون کی تیاری ہے!

سناتن سنستھاکے قومی ترجمان ابھے ورتک نے سادھوی کے بیان کی تایید کی اور بی جے پی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہاکہ اس پارٹی کو2014میں لوگوں نے اس لیے ووٹ دیاتھا کہ وہ مندروں اور گایوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے گی،مگر حکومت میں آنے کے بعد وہ اپنے وعدے بھول چکی ہے۔اس کاکہناتھاکہ آج خود بی جے پی کی حکومت میں مہاراشٹراور راجستھان میں مندروں کو مسمار کیاجارہاہے،جبکہ خود بی جے پی کے کئی رہنما سرِ عام یہ بیان دے رہے ہیں کہ وہ بیف کھاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

صحرا صحراغم کے بگولے، بستی بستی دردکی آگ!

ایسے میں جو خود سپردگی کردے گا،وہ محفوظ رہے گااور جو زبان کھولنے کی جرأت کرے گا،اسے سیاسی جبر کاشکاربننے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ابھی ہمارے ملک کے عوام کی اکثریت بھی خفقانی کیفیت میں مبتلاہے،سواسے حقائق نظرہی نہیں آرہے،البتہ یہ کیفیت بہت دن تک برقرار نہیں رہے گی،لوگ جلد ہی بیدار ہوں گے اور تب شاید حالات اس تبدیلی کارخ کریں ،جسے خوشگوارتبدیلی کہاجاسکے۔

مزید پڑھیں >>