نایاب حسن

نایاب حسن

مولانا آزاد، ترجمان القرآن کا انتساب اور مزید کچھ باتیں !

آپ کو اپنا یا اپنے ہیرو کا قد اونچا کرنا ہے،تواس کے لیے یہ ضروری تونہیں کہ کسی کو بونا ثابت کرکے یہ کام کیا جائے،پھر یہ کہ آپ سورج کو غبار آلود کرنے لگ جائیں یا چاند پرتھوکنے لگیں، تو یہ کوئی عقل مندی تھوڑی ہوئی، آپ اپنے یا اپنے ہیروکے مثبت کارناموں کواُجالیے، اُچھالیے اورآپ اپنے آپ میں مست رہیے، ہم اپنے آپ میں مست ہیں، لکھنے اور بولنے کو کس کے پاس کیا نہیں ہے،خواہ مخواہ اس طرح کے شگوفے چھوڑنے سے کیا فائدہ!

مزید پڑھیں >>

’ابوالکلامیات‘ کے سرمایے پر ایک اچٹتی نگاہ

مولانا ابوالکلام آزاد سے متعلق تحقیق ، تصنیف ، تالیف اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور ہر آئے دن کے ساتھ ان کی زندگی اور شخصیت کے تعلق سے کچھ نئے حقائق لوگوں کے سامنے آرہے ہیں۔  ظاہرہے کہ جو شخصیتیں جتنی بڑی ہوتی ہیں ، ان کی ذات و کردار کے گوشے اسی قدر وسیع و عمیق ہوتے ، ان کی زندگی وافکار پر جتنا غور وفکر کیا جائے اورجتنی کھوج بین کی جائے، اسی قدر ہمارے علم و نظر میں اضافے کا سامان ہوتا جاتاہے۔

مزید پڑھیں >>

اقبال، اقبالیات اور دو اہم اقبال شناس

اقبالیات کے ماہرین کی صف میں ایک اورنام غیرمعمولی اہمیت رکھتاہے، اگرچہ ہماری نسل مختلف وجوہ کی بناپر اسے اس حوالے سے تقریباً نہیں جانتی...... یہ نام آغاشورش کاشمیری کاہے،جنھوں نے اقبالیات کی تشریح کے ساتھ تیس چالیس سال کے دوران اقبالیات پر تصنیف کی جانے والی اہم کتابوں کا بے لاگ و حقیقت افروز جائزہ پیش کیا۔

مزید پڑھیں >>

گجرات اسمبلی الیکشن: ’پپو‘ پاس ہوپائے گا؟

کانگریس حامیوں اور مودی حکومت کی غیر معقول پالیسیوں سے نالاں طبقات کے مابین راہل گاندھی کا نیا اوتار تیزی سے مقبول ہورہاہے اور گجرات میں ان کے سامنے جمع ہونے والی بڑی بھیڑ اور ان کی معقول گفتگو کی وجہ سے اب بہ تدریج میڈیا نے بھی راہل گاندھی کا مذاق اڑانے کی بجاے ان کی سیاسی معنویت کو ڈسکشن کا موضوع بنانا شروع کردیا ہے، مگر راہل گاندھی کے لیے گجرات کے پس منظر میں ضروری ہوگا کہ وہ کانگریس کی روایتی ووٹ بینک بنانے یا کاٹنے کی پالیسی سے اوپر اٹھ کر ہاردک پٹیل جیسے اپنی نسل کے لیڈروں کو سیاسی حصے داری کی یقین دہانی کے ساتھ کانگریس سے جوڑیں، گجرات کے اسمبلی الیکشن میں یہ فیکٹرغیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے ادراک کے ساتھ ہی کانگریس کسی بہتری کی امید کرسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

تاریخ کو دوبارہ لکھنے والے!

 ہندوتواطاقتوں نے ہمیشہ تاریخ کے استعماری اسکول کی پیروی ہے اور آپ غورکریں تو پتا چلے گاکہ برطانوی مؤرخین نے بڑی چالاکی سے ہندوستانی تاریخ کو تین حصوں میں منقسم کررکھا ہے، وہ پہلے دو حصوں کو ہندواور مسلم عہدکا عنوان دیتے ہیں، جبکہ تیسرے حصے کو برطانوی (عیسائی نہیں )عہدکا، اسی تقسیم کی وجہ سے ماقبل برطانوی عہد کو ہندو مسلم دشمنی کے چشمے سے دیکھنے کا رجحان پیدا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوتوا طاقتیں شروع سے مسلم مخالف تورہی ہیں، مگر برطانیہ یا استعماریت مخالف کبھی نہیں رہیں۔ آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا نے اپنی ساری طاقت و قوت ہندووں کو مسلمانوں کے خلاف منظم و برانگیختہ کرنے میں تو صرف کیا؛لیکن خود کو جدوجہدِ آزادی سے قطعی الگ تھلگ رکھا، ان کے غیظ و غضب کا واحد نشانہ ہندوستان کے مسلمان تھے۔

مزید پڑھیں >>

تفہیمِ سرسید: کیا صحیح، کیاغلط؟

 ایم اے او کالج کی اساس گزاری کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے سرسید نے کہا تھا:’’اگر کوئی یہ کہے کہ اس کالج کی بنیاد ملک کے ہندومسلم طبقات کے درمیان تفریق کے جذبے سے رکھی گئی ہے، تو مجھے یہ سن کر افسوس ہوگا،اس کالج کے قیام کی بنیادی وجہ ملک کے مسلمانوں کی مایوس کن صورتِ حال تھی،اپنی مذہبی عصبیت کی وجہ سے وہ حکومت کے ذریعے فراہم کردہ تعلیمی اداروں کا رخ بھی نہیں کررہے تھے،اسی وجہ سے ان کی تعلیم کے لیے خصوصی انتظام کرنا ضروری تھا‘‘۔

مزید پڑھیں >>

سوچی جی، کچھ توسوچو!

کچھ لوگ سوچی کے نوبل پرائز کی واپسی کے لیے آن لائن مہم چلارہے ہیں، حالاں کہ نوبل کمیٹی کے یہاں ایسا کوئی سسٹم نہیں ہے؛لیکن میں بھی چاہتاہوں کہ سوچی کو انعام میں دی گئی رقم واپس لے کران عورتوں اور بچوں پر خرچ کی جائے، جنھیں سوچی کی نگرانی میں بیوہ و یتیم بنادیاگیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

روہنگیا پناہ گزیں: حکومتِ ہندکا موقف کیاہے؟

ہندوستان میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو نکالے جانے کے حکومت کے فیصلے کوچیلنج کرتے ہوئے دوروہنگیاپناہ گزینوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیٹیشن داخل کی گئی ہے، روہنگیاپناہ گزینوں کی جانب سے معروف وکیل و سیاست داں پرشانت بھوشن کورٹ میں پیش ہورہے ہیں،

مزید پڑھیں >>

سنے گا کون؟ مگر احتجاج لازم ہے!

اس وقت پورا ملک کئی ایک ایسے بحرانوں میں گھراہواہے،جن کی زدمیں کروڑوں لوگ ہیں ،اسی دوران ہم نے آزادی کا جشن بھی منالیا،مگر کیایہ جشن ہماری حقیقی خوشی کا اظہارتھایامحض ایک رسم کی ادائیگی یا پھر اجتماعی بے حسی ومردہ ضمیری کا نمونہ، اس پر ہمیں غوروفکر کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

آغاشورش کاشمیری: ہم ہیں فقیرِ راہ مگر شہریارہیں !

آغا عبدالکریم شورش کاشمیری(14؍اگست1917ء-6؍نومبر1975ء)ایک مختلف الجہات اور بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ادیب، خطیب، شاعر اور نثر نگار تھے، ہندوستان کی آزادی میں ان کا رول غیر معمولی رہا، انھوں نے بیسویں صدی کے چوٹی کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ جد وجہدِ آزادی میں عملی حصہ لیا، اس راہ میں انھیں قیدو بند کی صعوبتیں بھی جھیلنا پڑیں اورمعاشی مشکلات اور پریشانیاں بھی، مگر کبھی بھی ان کے پاے استقامت میں لغزش نہیں آئی

مزید پڑھیں >>