رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی

آپ ﷺ کے اس عمل سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ بیوی کی ہر جائز اور ناجائز بات اور مطالبہ کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے اور جہاں پر بیوی کی طرف سے اس طرح کی بیجاضد اور ہٹ دھرمی نظرآئے،  وہاں پر برسبیلِ اصلاح اور تنبیہ ناراضگی کا اظہار بھی کیا…

قرآن مجید کا فلسفئہ نعمت

نعمت کے بالمقابل فضل، اور اجر بھی قرآن مجید میں مستعمل ہے اور سب کے الگ الگ معنی و مفہوم ہیں۔ لہذا فضل اور اجر کو انعام سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ کیوںکہ جن لوگوں پہ اللہ تعالی کا انعام ہوا ہے وہ بہت کم ہیں مثلا نبیین، صدیقین، شہداء، صالحین۔ اور…

قرآن مجید کا فلسفۂ مغفرت 

قرآن مجید میں مستعمل لفظ "مغفرت" کے معنی کسی گناہ کو باز پرس سے الگ کرنا ہوتا ہے، یعنی اس پہ پردہ ڈال دینا، اسے اوروں کے سامنے نہ لانا ہوتا ہے۔ معنی کی یہی وسعت اسے انسانوں کو معاف کرنے والا بناتا ہے یعنی لوگوں کے گناہ پہ پردہ ڈال دیا کرو۔

غصہ خوبی بھی ہے اور خرابی بھی

کچھ لوگوں کو غصہ اس وقت آتا ہے جب کوئی غصہ دلاتا ہے، یا پھر وہ خود غصہ کا ماحول پیدا کرتے ہیں اور اس کیلئے وہ ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں تاکہ  دیگرلوگ ایسے لوگوں سے خوفزدہ رہیں اور ایسے شخص کی عزت کریں، یہ غصہ کی وہ شکل ہے جسے ظلم کہہ سکتے ہیں۔

محرم الحرام، اسلام اور مسلمان 

یہود حضرت موسی علیہ السلام کی سنت کے اہتمام میں عاشورہ کے روز کا اہتمام کیا کرتے تھے کیونکہ اسی دن فرعون سے موسی علیہ السلام اور انکی قوم کو چھٹکارا ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی کے مقابلے میں ہمیں حضرت موسی علیہ السلام…

قرآن مجید کا فلسفئہ شیطان

شیطان بڑی ضدی مخلوق ہے اذان کی آواز سن کر ریاح خارج کرتے ہوئے بھاگتی ہے اور اذان مکمل ہوتے ہی واپس لوٹ آتی ہے ،پھر اقامت کی آواز سن کر بھاگتی ہے اور اقامت ختم ہوتے ہی واپس لوٹ آتی ہے اور نمازیوں کے درمیان کھڑا ہوکر وسوسہ پیدا کرتی ہے اسی…

قرآن مجید کا فلسفئہ سنۃ و عام

چونکہ قرآن مجید نے عام کی جمع سنین کی طرح عامین استعمال نہیں کیا ہے۔ اس لئے سالوں کیلئے مشترک طور پہ سنین استعمال کیا ہے۔ اس میں اس کا امکان ہے کہ عرب عام کی جمع استعمال نہ کرتے ہوں یا عام ہی استعمال نہ کرتے ہوں اس لئے سنین میں دونوں مفہوم…

استفسار اور اعتراض میں فرق؟

سوشل میڈیا پہ اکثر ہم ان لوگوں کو مطمئن کرنے میں اپنا بہت قیمتی وقت ضائع کردیتے ہیں جو معترض ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی کی نصرت خاص سے ہی ایسے لوگوں کو سمجھایا جاسکتاہے۔ ایسے لوگوں کے پیچھے قطعی اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

یوم اساتذہ

یہاں مسلم اداروں کے لئے ایک مشورہ ہے کہ وہ یوم اساتذہ کو کسی نبوی تاریخ سے جوڑ لیں تو زیادہ بہتر ہے کیوں کہ ہماری نظرمیں معلم الکتاب سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی معلم انسانیت بھی ہیں اس اعتبار سے ابتداء وحی کا دن یا اور کوئ دن جو…

معلم کے اوصاف

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے بہت زیادہ گھلے ملے رہتے تھے ہنسی اور مزاح کا بھی ماحول رہتا تھا اور بعض کوتاہیوں پہ ناراضگی کا بھی اظہار فرماتے تھے لہذا بچوں سے دوری بناکر طلبہ کو تعلیم نہیں دی جاسکتی ہے ۔

قرآن مجید کا فلسفئہ ’ریب‘ 

عربی زبان میں ریب شک, ظن, اور تہمت کے معنی میں مستعمل ہے۔ یعنی یہ قرآن ایسی کتاب ہے جس کے حق ہونے اور اللہ سبحانہ کے پاس سے نازل ہونےمیں نہ شک کیا جاسکتا ہے, نہ بدگمان ہواجاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی شخص اس پہ الزام لگا سکتا ہے۔ یہ کتاب اپنی…

قرآن مجید کا ’فلسفئہ تفکر‘

' تفکر' غور فکر کو کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے کسی چیز کو کس مقصد کیلئے وجود بخشا ہے، اسے کس طرح برتا جائیگا تو وہ انسانیت کی حق میں مفید ثابت ہوگا اور کس طرح کے استعمالات سے فساد فی الارض واقع ہوگا۔تفکر اولوالالباب کی خاص صفت ہے لہذا جو لوگ…

قرآن مجید کا فلسفئہ ’شر‘

زمین کی سب سے بری مخلوق وہ ہے جس کے سامنے حق بیان کیا جائے اور وہ اسے سننے اور بولنے سے باز رہے یہ اوصاف منافقین اور مشرکین میں پائے جاتے تھے اسی لئے انہیں شرالدواب کہا گیا،اب اس روش کو اپنانے والے تمام انسانوں پہ اس کا اطلاق ہوگا۔

قرآن مجید کا فلسفئہ ’فرقان‘

قمر فلاحی فرق کہتے ہیں دو چیزوں کےدرمیان جدائ ڈال دینا ،دو پاٹ الگ کرنا، درمیان میں ایک واضح فاصلہ پیدا کرنا۔ البقرہ ۵۰ میں ہے  وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ (50) …

قرآن مجید کا فلسفئہ ’خیر‘

قرآن مجید میں وارد لفظ “خیر” کا ترجمہ بہتر کیا گیا ہے اور اکثر پڑھے لکھے لوگوں کی زباں پہ یہی ترجمہ جاری ہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہیکہ ہم رواج سے بلا دلیل چپکے رہنے کو اپنا دین اور دلائل کے باوجود رسم ورواج کو ترک نا کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں…

قرآن مجید کا فلسفئہ ‘شفاعت‘

آج بزرگوں کی سجدہ تعظیمی کے نام پہ عبادت بھی ہورہی ہے اور قدم بوسی بھی، ان سے نمازیں بھی معاف کروائے جارہے ہیں اور انہیں وسیلہ بھی بنایا جارہا ہے جس کی سند اللہ تعالی نے انہیں نہیں دی ہے۔

قرآن مجید کا فلسفئہ ’عہد، وعدہ اور میثاق‘

میثاق اور عہد میں ایک گنا مماثلت ہے ،مگر میں عرض کر چکا ہوں کہ قرآن مجید مترادفات سے خالی ہے ،قانون کی کتاب میں مترادفات کے کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے ۔یہ ادبی کلام میں ہوتا ہے مگر ان مترادفات میں بھی کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوتا ہے ۔

قرآن مجید کا فلسفئہ ’امت‘

جس طرح اللہ تعالی نے فرد کی حیات لکھی ہے اسی طرح امت کی بھی حیات لکھی ہوئ ہے کہ کس امت کو کتنے دنوں تک دنیا مین رہنا ہے پھر اسے یا تو ہلاک کر دیا جاتا ہے یا پھر اسے تبدیل کردیا جاتا ہے

قرآن مجید کا فلسفئہ ’زینت‘

زینت کے اندر ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ حقیقت اور عیوب دونوں چھپ جاتے ہیں ۔ زیورات زینت کی ایک شکل ہے جسے زیب تن کرنے والی خوبصورت دکھنے لگتی ہے گرچہ وہ حقیقت میں خوبصورت نہ ہو۔

تعمیر مساجد کا اسلامی تصور 

مسجد کی تعمیر ایمان کی علامت ہے یہ مسجد کی میناروں کی طرح دکھتا ہے جہاں خیراتی مسجدیں ہیں اور جہاں مسجدوں کی دیکھ ریکھ بھلی بھانتی نہیں ہوتی وہ اپنے ایمانی زوال کا مینارہ بلند کررہے ہیں۔

قرآن مجید کا فلسفئہ ’جدال‘

بادلوں کی گرج اسے کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے،اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اس کی تسبیح کرتے ہیں وہ کڑکتی ہوئ بجلیوں کیو بھیجتا ہےاور انہیں جس پر چاہتا ہے عین اس حالت میں گرا دیتاہے جبکہ لوگو اللہ کے بارے میں جدال کر رہے…

قرآن مجید کافلسفئہ ’رب‘

قمر فلاحی رب کے معنی ضروریات کی تکمیل کرنے والا ہوتا ہے اور یہ معنی قرآن مجید میں ہر جگہ مشترک ہے ۔ الشعراء ۱۸ قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ۔کیا ہم نے تمہاری پرورش بچپن میں نہیں کی اور تو…

قرآن مجید کا فلسفئہ ’حجت‘

جو لوگ ہدایت پہ ہوں یعنی مومنین اور ان سے کفار ومشرکین حجت کریں تو ان کا جواب نہایت نرم دلی کے ساتھ دیا جائے کہ میں ہدایت پہ ہوں مجھ سے حجت مت کرو اور بتوں کے عذاب سے مجھے ڈراتے ہو ان سے مجھے کوئی خوف نہیں ہے، اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں…

قرآن مجید کا فلسفئہ ’انداد‘

قدیم و جدید تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائےتو پتہ چلے گا کہ جن لوگوں کا عقیدہ الہ کے تعلق سے واضح ہے وہ لوگ الہ کو مانتے ہوئے الہ کے مد مقابل مثل وہ نظیر پہ بھی ایمان لاتے ہیں۔ جان لیں کہ ایسا عقیدہ بھی اسلام کی نظر میں شرکیہ عقیدہ ہے۔