ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی
ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

بچے: جنت کے پھول

بچوں کے حقوق اداکرنے کے لیے ضروری ہے کہ فطرت نے ان حقوق کی ادائگی کوجس (ماں ) کے فرائض میں شامل کیاہے اسے دنیاکی تمام ذمہ داریوں سے فراغت عطاکی جائے تاکہ وہ ’’بچوں کے حقوق‘‘کوبحسن وخوبی اداکرسکے۔ جب ماں واقعی ماں تھی اور اسوۃ رسول ﷺ کی پیروکار تھی تو اس کی گود سے حسنین کریمین جیسے بچے عالم انسانیت کو میسر آئے، اﷲ کرے کہ ہماری آنے والی نسلوں کوبھی ایسی مائیں مرحمت ہوں کہ وہ بچے اپنے حقوق کے لیے کسی عالمی دن کے محتاج نہ رہیں، آمین۔

مزید پڑھیں >>

ختم نبوت

ہر نبی اور ہر آسمانی کتاب نے اپنی امت کو اپنے بعد پیش آنے والے حالات کے بارے میں اطلاعات دی ہیں ۔ کتب آسمانی میں یہ اطلاعات بہت تفصیل سے بیان کی گئی ہیں ۔ گزشتہ مقدس کتب میں اگرچہ انسانوں نے اپنی طرف سے بہت سی تبدیلیاں کر دیں ، اپنی مرضی کی بہت سی نئی باتیں ڈال کر تو اپنی مرضی کے خلاف کی بہت سی باتیں نکال دیں لیکن اس کے باوجود بھی جہاں عقائد کی جلتی بجھتی حقیقتوں سے آج بھی گزشتہ صحائف کسی حد تک منور ہیں وہاں آخری نبی ﷺ اور قیامت کی پیشین گوئیاں بھی ان تمام کتب میں موجود ہے۔

مزید پڑھیں >>

عالمی یوم برداشت

 برداشت، علم نفسیات کا ایک اہم موضوع ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اس دنیامیں وارد ہونے والا ہر فرد بالکل جدا رویوں اور جداجدا جذبات و احساسات و خیالات کا مالک ہوتاہے۔ اپنے جیسا ایک انسان سمجھتے ہوئے اسے اسکاجائزمقام دینا ’برداشت‘ کہلاتا ہے۔ اس تعریف کی تشریح میں یہ بات کھل کرکہی جاتی ہے کہ دوسرے کے مذہب، اسکی تہذیب اور اسکی شخصی وجمہوری آزادی کومانتے ہوئے اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا ’برداشت‘ کے ذیلی موضوعات ہیں۔ دیگرماہرین نفسیات نے ’’برداشت ‘‘ کی ایک اورتعریف بھی کی ہے۔ ان کے مطابق ’دوسرے انسان کے اعمال، عقائد، اس کی جسمانی ظواہر، اسی قومیت اور تہذیب و تمدن کو تسلیم کرلینا برداشت کہلاتی ہے‘۔ برداشت کی بہت سی اقسام ہیں، ماہرین تعلیم برداشت کو تعلیم کا اہم موضوع سمجھتے ہیں، ماہرین طب برداشت کو میدان طب و علاج کا بہت بڑا تقاضاسمجھتے ہیں، اہل مذہب کے نزدیک برداشت ہی تمام آسمانی تعلیمات کا خلاصہ ہے جسے آفاقی صحیفوں میں ’صبر‘ سے موسوم کیا گیا ہے اورماہرین بشریات کے نزدیک برداشت انسانی جذبات کے پیمائش کا بہترین اور قدرتی وفطری پیمانہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

علامہ محمد اقبال، دورغلامی کے لق و دق ریگستان میں لالہ صحرائی کی مانند ایک کھلتاہوا پھول ہے۔ علامہ نے اس وقت امت کی قیادت کا سامان فراہم کیاجب چاروں طرف اندھیراگھپ تھاازشرق تا غرب امید کی کوئی کرن باقی نہ تھی۔ کل امت غلامی کے مہیب غارمیں شب تاریک کے لمحات گزاررہی تھی اورعلامہ محمداقبال اس بدترین دورمیں قندیل راہبانی ثابت ہوئے اور اپنے شعری و خطاباتی کلام سے امت مسلمہ کے تن مردہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔

مزید پڑھیں >>

غربت کاخاتمہ: ایک خواب!

  اس دنیامیں اور کل انسانیت کو غربت سے نکالنے کاایک ہی راستہ ہے کہ عدل کی بنیادپر دولت کی تقسیم کی جائے، صدقات کا بہت بڑانظام دیانتداری کی بنیادوں پر قائم کیاجائے، سودکوجڑ سے اکھیڑ پھینکاجائے اور سود کی بنیادپر قائم ہونے والی معیشیت کے لیے اس دنیامیں کوئی جگہ باقی نہ رہے، سود خور کو اجتماعی نفرتوں کا نشانہ بنایاجائے اورہر وہ فرد جس کے پاس ضرورت سے زائد مال ہو ایک نظام کے تحت اس سے ایک خاص حصہ ایک مخصوص مدت کے بعد وصول کرلیا جائے ۔

مزید پڑھیں >>

خوراک اور بھوک: عالمی یوم خوراک کے حوالے سے

ﷲ تعالی نے اپنی محبت کا واسطہ دے کر مسکین، یتیم اور گرفتار کو کھانا کھلانے کا تقاضا کیا ہے۔ اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کوسات سو گنا بڑھا کر لوٹانے کا وعدہ کیاہے اوراسے اپنے ذمہ قرض قرار دیاہے۔ محسن انسانیت ﷺ نے موقع بہ موقع کھانا کھلانے کا شوق بیدار کیا کہ جو خود پیٹ بھر کر سویااور اس کا پڑوسی بھوکا سو گیا وہ ہم میں سے نہیں، جس بستی میں کوئی بھوکا سو جائے اس بستی پر سے اﷲ تعالی کی ذمہ داری ختم,اور محسن انسانیت ﷺ نے گھر آئے مہمان کو بغیر کھلائے پلائے رخصت کر دینے والے میزبان کو مردہ کہا۔ بھوکے اور غریب کا استحصال کرنے والے سود خور کو اﷲ تعالی اور اسکے رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ کا عندیہ ہے، سونا چاندی سینت سینت کر رکھنے والے کو عذاب دوزخ کی وعید ہے اور فضول خرچ کو شیطان کا بھائی گردانا گیا۔ نبوی معاشرے کے تسلسل میں مانعین زکوۃ سے جنگ لڑی گئی، اس وقت کے حکمران سے کہا بھی گیاکہ منکرین زکوۃ سے صرف نظر فرمائیں لیکن خلیفۃ الرسول نے اس سے انکار کر دیا۔ دور فاروقی میں جب اسلامی انقلاب، نبوی پیشین گوئیوں کی منازل کو چھو رہا تھاتو سب انسان مسلمان نہیں ہو گئے تھے اور نہ ہی سب مسلمان متقی و پرہیزگارہو چکے تھے لیکن انسان کی بھوک شکم سیری میں ضرور بدل چکی تھی اور ہر پیدا ہونے والا بچہ شہری کی حیثیت سے حکومت وقت سے اپنا مشاہیر وصول کرتا تھا۔

مزید پڑھیں >>

ڈاک: انسانی رابطوں کا ذریعہ

 ماضی قریب میں رابطوں کے تیزرفتار سلسلوں نے خط کی اہمیت کو ماند کر دیا ہے،اب خط لکھناایک تکلف سمجھاجاتاہے اور گفتگوکرنا ظاہر ہے کہ آسان ہو گیاہے اورعوام الناس آسانی کی طرف زیادہ مائل ہو گئے ہیں لیکن اس ک باوجود بھی ڈاک کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں ہوئی ڈاکیاآج بھی ہماری ثقافت کا حصہ ہے، دروازے پر ڈاکیے کا انتظار آج بھی افسانوں اور ناولوں اور حتی کہ بعض نظموں اور غزلوں کا بھی عنوان بن جاتا ہے۔ وقت کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈاک کی اہمیت ایک بار پھر دوبالا ہوگی اور یہ خدمت نت نئے رنگوں سے انسانی زندگی کے خالی خانوں کو قوس قزع کی مانند حسن و زیبائش سے آشنا کر دے گی۔

مزید پڑھیں >>

واقعہ اصحاب فیل

ابرہہ، جو یمن کاگورنرتھااس نے خانہ کعبہ و مسجدحرام کے مقابلے میں ایک شاندارعمارت بنائی، بلندوبالا عمارت کوسونے اور چاندی سے مرصع کیااور اس کے درودیوار اور اہم مقامات پر ہیرے جواہرات پیوست کیے۔ ایک عام آدمی جب عمارت کے قریب جاتاتواسے گردن اونچی کرکے اس کی بلندی مشاہدہ کرنی پڑتی تھی اور جب اندرداخل ہوتا تواس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتیں۔

مزید پڑھیں >>

حضرت عمر ؓ  کے دور میں قانون سازی

گنتی کے چند حکمران گزرے ہیں جو بذات خود قانون ساز تھے اور انہوں نے صرف حکمرانی ہی نہیں کی بلکہ انسانیت کو جہاں قانون سازی کے طریقے بتائے وہاں قوانین حکمرانی و جہانبانی بھی بنائے۔ ایسے حکمران انسانیت کااثاثہ تھے۔ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب خلیفہ ثانی انہیں حکمرانوں میں سے ہیں جنہوں نے عالم انسانیت کو وحی الہی کے مطابق قوانین بناکر دیئے اور قانون سازی کے طریقے بھی تعلیم کیے۔ آپﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتاتووہ حضرت عمر ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

ملاوی: افریقہ کا سطح مرتفائی ملک

’’ملاوی‘‘جنوبی افریقہ کا کثیرالآبادی ملک ہے،آبادی میں اضافے کی شرح پورے براعظم افریقہ میں یہاں سب سے زیادہ ہے۔ اس ملک میں شہری زندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور آبادی کی وسیع اکثریت دیہاتوں میں ہی رہتی ہے۔یورپی حکمرانوں نے تمدنی اندگی کی بڑھوتری کے لیے کوششیں کیں اور ریلوے لائن نے اس میں ایک اہم کردار بھی ادا کیا لیکن اب بھی ایک اندازے کے مطابق دس میں سے نو افراد دیہات میں سکونت پزیر ہیں، ملاوی کی یہ دیہی شرح آبادی دنیامیں سب سے زیادہ تصور کی جاتی ہے۔ چونکہ یہ سرزمین سطح مرتفائی ہے اس لیے جہاں بھی قابل کاشت زمین اور پانی کی فراہمی کا انتظام ممکن ہے وہاں پر گاؤں آباد ہیں اور کاشتکاری کے ذریعے کاروبار حیات چلایا جا رہاہے۔

مزید پڑھیں >>