از راہِ ثواب

۔وہ بے چاری بیوہ ہے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم لوگ تو جانتے ہی ہوکہ میری پینشن آٹھ ہزار روپے ہے۔۔۔۔۔۔۔اور پھر میں آج ہی تھوڑی مرنے والا ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ رہے گی تو۔ ۔۔۔۔۔ بیچاری کی باقی کی زندگی آرام سے گزر جائے گی۔بچے پال لے…

دوسری جیب

سالک جمیل براڑ وہ شہرمیں بالکل اجنبی تھا۔ دوران سفر کسی نے اس کا پرس مارلیاتھا۔ جس میں نقدی کے علاوہ دوسرے ضروری کاغذات اورڈرائیونگ لائیسنس بھی تھا۔ وہ تواس کی دور اندیشی تھی کہ اس نے کچھ روپے اپنی دوسری جیب میں بھی محفوظ کرلیے تھے۔ جن کو…

غلطی کا احساس

سالک جمیل براڑ دیکھتے ہی دیکھتے عارف اورعمران کی بیس سال پرانی دوستی دشمنی میں بدل گئی۔  ’’آخراس کی کیاوجہ تھی…… …!‘‘ عارف سے کسی نے پوچھا۔ ’’یار…………مجھ سے ایک غلطی ہوگئی تھی؟‘‘ عارف نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔ ’’غلطی…………کیسی…

اولاد

سالک جمیل براڑ شہرکے مین بازار میں اسلم کی چھوٹی سی چائے کی دوکان اپنی مثال آپ تھی۔ اسلم کی دوکان جتنی چھوٹی تھی اس کی شہرت کا دائرہ اتنا ہی وسیع تھا جہاں وقت بے وقت چھوٹی موٹی محفل سجی رہتی تھی۔ جس میں ہرطرح کے لوگ نوجوان، بوڑھے، اَن…

تلاش

سالک جمیل  براڑ ایک ہفتے میں ہی سنیل کے پریوارکی زندگی کتنی بدل گئی تھی۔ اس کی بیوی اوربچے اس نئے گھرکوپاکربے حد خوش تھے۔ انہیں ایسے محسوس ہورہاتھا۔ جیسے وہ دوزخ سے نکل کر جنت میں آگئے ہوں۔ اس نے پچھلے ہفتے ہی یہ گھرکرائے پرلیاتھا۔ سنیل…

دیدار

سالک جمیل براڑ رات کا تقریباً ایک بج رہاتھا۔ پورا شہر سناٹے میں ڈوباتھا۔ ایسے میں شہرسے باہر بائی پاس پردوتین چائے کی دوکانیں کھلیں تھیں۔ انہی دوکانوں میں سے ایک دوکان بنسی چائے والے کی تھی۔ بنسی کی یہ دوکان نام کی ہی چائے کی دوکان تھی۔…

شکست

سالک جمیل براڑ لیاقت علی خاں کورٹ کی عمارت سے باہرآکرٹہلنے لگے۔ وہ اپنی آج کی جیت پر بے حد خوش تھے۔ اب انھیں انتظار اپنے حریف اشرف علی خاں کا تھا۔ جیسے ہی اشرف خاں باہر آیاوہ اس سے مسکراتے ہوئے مخاطب ہوئے۔ ’’اشرف………تم سے کہاتھا کہ تم…

مریض

سالک جمیل براڑ ہاں آج بھی مجھے گرمیوں کی وہ دوپہر یادہے۔ مئی کامہینہ ابھی ختم نہیں ہواتھا۔ موسم کی سختی سے دنیاپریشان تھی۔ دوپہر کے تقریباً دوبج رہے تھے۔ میں کسی ضروری کام سے اپنی موٹر سائیکل پرسوار ہوکر اسپتال جارہاتھا۔ میں صدربازارسے…

ملاقات

سالک جمیل براڑ ہمارے شہرمیں شاعرتو درجنوں کے حساب سے ہیں۔ مگر نثرلکھنے والے اکادکاہی ہیں۔ جن کوانگلیوں پر گناجاسکتاہے۔ اس کی کیاوجہ ہے۔ یہ تومجھے بتانے کی ضرورت نہیں کہ نثرلکھنا آسان کام نہیں۔ نثرلکھنے کے لیے وقت چاہیئے۔ یہی تو ایک ایسی…

خواہشات کی صلیب

سالک جمیل براڑ رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے۔ چاندنی رات تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ہوا کے تیز جھونکے رمیش کی ٹوٹی پھوٹی کھڑکی کو باربارہلارہے تھے۔ کھڑکی کے جھروکوں سے چاندنی چھن چھن کررمیش کی چارپائی پردرازہورہی تھی۔ ہواکی سرسراہٹ…

بَن پھول

سالک جمیل براڑ دن بھر آگ برسانے کے بعد سورج آرام کی جستجو میں پچھم کی طرف کوچ کررہا تھا۔ ایسے میں پنجاب کرکٹ اکیڈمی کے گراؤنڈ میں لگے نیٹس میں لڑکے پریکٹس کررہے تھے۔ کچھ بالنگ توکچھ بیٹنگ کررہے تھے۔ اسی بیچ ایک بلیک مرسڈی مین گیٹ سے…

انعام

سالک جمیل براڑ فرید کے پاسپورٹ کوکھوئے ہوئے آج دودن ہوچکے تھے۔ اس نے تلاش کرنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوا۔ اب تواسے اُمّیدکی کوئی کرن بھی نظرنہیں آرہی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں مان لیاتھاکہ نئے پاسپورٹ کے لیے بھاگ دوڑکرنا ہوگی…

آئیڈیل

سالک جمیل براڑ احمد رئیس دور حاضرکے بلندقامت افسانہ نگار ہیں۔ کبھی کبھی تومجھے ایسامحسوس ہوتاہے کہ منشی پریم چندکادوسرا جنم احمدرئیس کے روپ میں ہواہے۔ انہوں نے ایساادب تخلیق کیاہے کہ پڑھ کرطبیعت خوش ہوجاتی ہے۔ انہوں نے جھونپڑپٹی میں رہنے…

سپرہٹ

سالک جمیل براڑ گپتاجی نے مایوس نظروں سے گھڑی پرنظرڈالی۔ سوا دس بج رہے تھے۔ وہ تقریباً ایک گھنٹے سے نارائن شنکرکے آفس میں مخملی صوفے میں دھنسے بیٹھے تھے۔ انتظارکاہرلمحہ ان پربہت بھاری پڑرہاتھا۔ انھیں ایسا محسوس ہورہاتھاجیسے وقت تھم گیاہو۔…

ہرفن مولا

سالک جمیل براڑ دوپہر سے شام ہونے کوتھی۔ پروفیسر پی۔ سی۔ شرما ابھی تک پرنسپل اقبال صدیقی کی تصویرکاصحیح سکیچ بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ کمرے میں ایک طرف سٹینڈ پررکھے ہوئے کینوس پر بدشکل ساا سکیچ بنایاہوا تھا۔ پاس ہی کئی کینوس خراب ہوئے…

کاش

سالک جمیل براڑ شام کے چھ بج رہے تھے۔ آسمان میں اندھیرے اوراجالے کا ملن ہورہا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ او۔ سی۔ ایم کاٹن مل کے صحن میں لگے ہوئے درختوں سے سوکھے ہوئے پتے ہواؤں کے تھپیڑوں کوبرداشت نہ کرتے ہوئے زمین پر گررہے تھے۔…

لمحے

سالک جمیل براڑ آج سکول آف تھیٹر کی 50ویں سالگرہ کے موقع پرایک بہترین پروگرام منعقد کیاجارہا تھا۔ دیش بھرسے تھیٹر سے جڑے لوگ کلاکار اورڈائریکٹر وغیرہ جمع ہوئے تھے۔ پروگرام کی صدارت بین الاقوامی شہرت یافتہ اسٹیج ڈائریکٹر پروفیسر پی۔ سی۔…

شہرت کے بدلے

سالک جمیل براڑ شام کے چھ بج چکے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی ایل۔ سی۔ چودھری اپنے دفتری کاموں میں مصروف ہیں۔ چودھری ہندی فلموں کے مشہور معروف ڈائریکٹرہیں۔ انہوں نے کئی بڑی فلمیں انڈسٹری کودی ہیں۔ ان دنوں بھی وہ ایک نئی فلم پرکام کررہے ہیں۔ وہ…

کاغذ کا بازیگر

سالک جمیل براڑ ارشد آج بہت خوش تھا۔ خوش ہوتابھی کیوں نہ بھئی بہترین ناول نگاراور ہندوستان کے نمبرون شاہین پبلیشر کے مالک راجندر ناتھ جی نے اسے اپنے دفتر میں آنے کی دعوت دی تھی۔ ارشد کو بچپن سے ہی کہانیاں سننے، پڑھنے اورلکھنے کا شوق تھا۔…

ادبی تماشہ

سالک جمیل بڑار ہم اُن دنوں پندرہ سولہ سال کے رہے ہوں گے۔ کہ ایک بڑی تقریب میں ایک بڑے شاعرکوایک شال اور ٹرافی لیتے ہوئے دیکھا اُن کی بڑی عزّت ہورہی تھی۔ شاعر صاحب بھی ایوارڈ لے کر پھولے نہیں سمار ہے تھے۔ اگلے دن اخبارات کے پہلے صفحے پر…

صحیح داؤ

سالک جمیل براڑ اگلے مہینے ہونے والی علی پورکے دنگل کااعلان ہوچکاتھا۔ ویسے توہرروزکہیں نہ کہیں چھوٹے موٹے دنگل ہوتے ہی رہتے تھے جو صرف مقامی پہلوانوں پرمشتمل ہوتے۔ لیکن علی پور کا دنگل کوئی عام دنگل نہیں بلکہ رستم ہندکی حیثیت رکھتا تھا جس…

لفٹ

سالک جمیل بڑار وہ 26 جنوری کی ایک سردرات تھی۔ ٹھنڈی اورتیزہوائیں چل رہی تھیں۔ رات کے کوئی بارہ بجے تھے۔ پوراماحول اندھیرے کی سیاہ چادر میں لپٹاہواتھا۔ کہیں دورسے سناٹے کو چیرتی ہوئیں کتّوں کے بھونکنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ ایسے میں شہرکے…

بہادری کا تمغہ

سالک جمیل براڑ رات کے تقریباً نو بج رہے تھے پورا شہر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسے میں مرزا عنایت اللہ جنھیں لوگ صرف مرزا صاحب کے نام سے پکارتے تھے۔ بلیک ٹریک سوٹ پہنے ہوئے اسٹیشن کی طرف جارہے تھے۔ ’’چچا جان!…السلام علیکم‘‘ارشد نام کے…