بات تو سچ ہے مگر۔۔۔!

مرد کی محبت بڑی شدید ہوتی ہے مگر اسکی مدت بڑی ہی مختصر کیونکہ بیزاری مرد کی فطرت کا اہم جز ہے جبکہ عورت مستقل مزاج اور میانہ رو محبتوں کی عادی ہے اسی لیے وہ پوری زندگی ایک مرد کے ساتھ بسر کر دیتی ہے اور کبھی اسکے بغیر صرف یادوں کے سہارے بھی…

انسانوں کی بستی میں

اگر موت بھیانک ہے تو انسانوں کی بستی کے اس مکین نے اپنے درد کی دوا، اپنے زخموں کا مرہم، اپنی بیماری کا علاج، اپنی نجات کا ذریعہ اور اپنے بڑھاپے کا سہارا صرف موت کو ہی کیوں سمجھا؟؟ نہیں، نہیں!! موت نام ہے نجات کا،  درد و غم، رنج و الم ، زیست…

خوابوں کی سوداگر

اندھیری کوٹھری کے قیدی کو امید کی ایک کرن ہی زندگی کی وجہ دیتی ہے اور جب وہ کرن ہی چھین لی جائے تو دم گھٹنے لگتا ہےـ مجھ سے بھی امید کی آخری کرن چھین لی گئی ـ آج تک ایک امید کا دامن تھام کر میں اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگتی رہی ـ اس راہ میں…

میں حجاب کیوں کروں؟

اسلام عورت کے ليے ایسے ماحول اور مقام کا حامی ہے جس میں وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بہتر طور پر استعمال کرسکے اور یہ فطرت کے بھی عین مطابق ہے اس کی خلاف ورزی معاشرت میں لازماً بگاڑ اور انتشار کا باعث بنتی ہےـ۔

شب ہجراں

ایک پل کو لگا کہ نصرت فتح علی خان کی آواز نہ ہو کر اسکے قریب سے کوئی سرگوشی سنائی دی ہو۔۔۔ وہ بہک سی گئ اور جب بے خیالی کا احساس ہوا تو جھینپ کر گھونگھٹ اور نیچے سرکا لیا۔۔۔ذرا آنچل سنبھالنے کو ہاتھ متحرک ہوئے تو کلائیوں میں بھری چوڑیوں…

بارشوں سے صلح

بارش برس کر تھم بھی گئی مگر کچی چھتوں سے رِسنے والا پانی بوندیں بن بن کر مسلسل ٹپ ٹپ کے ساز پیدا کرتا رہا۔ ۔ ۔ کچے گھر کے مکینوں کی بارشوں سے جس قدر عداوت ہوتی ہے اسی قدر گہرا ربط بھی کیونکہ جتنی تیزی سے بارشیں باہر برستی ہیں یکساں صورت میں…

بھرم

چند ایک کے سوا یوں تو ہر لڑکی کچھ آزاد پرست خواتین کے اس نعرہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے مطابق زندگی گزار رہی ہے یا گزارنا چاہتی ہے  مگر جنکے سر پہ والدین کا سایہ نہیں ہوتا ان کی جانب اُنگلیاں کثرت سے اٹھتی ہیں ایسی لڑکیوں کو کم از کم دوسرے…

فیصلہ

تمام اہلِ مدرسہ اسٹیشن پہ کود پڑے وہ بھی جو آزادانہ خیالات رکھنے والے اہلِ مدرسہ تھے اور اب مدرسہ سے فراغت کے بعد یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم تھے اور وہ بھی جو دقیانوسی قسم کے قدامت پسند تھے، وہ بھی جو ملّا تھے اور وہ بھی جو زاہد تھے۔ 

بھینٹ

غالباً وہ نشانہ انیتا پر سادھا گیا تھا جسکے درمیان انش حائل ہو گیا تھا۔۔۔۔۔اسکے بعد مجھے کچھ  یاد نہیں سوائےچیخوں کے۔۔۔۔ہوش آنے پر علم ہوا کہ ایک بار پھر ایک ننھا ”انش“ جائز و ناجائز کے درمیان الجھی اپنی پہچان کی ”بھینٹ“ چڑھا دیا گیا تھا۔

تحفظ

آج وہ بے بس تھی۔ انکی تعداد اور طاقت کے سامنے اسکی ساری ذہانت اور بہادری دھری رہ گٸ۔ اسکا وجود کانپ رہا تھا روح نکلنے کو بے تاب تھی۔ ہونٹ نیلے پڑ گئے تھے جسم سے جیسے سارا خون چوس لیا گیا ہو اس پر نیم بیہوشی طاری تھی۔

فطرت

پھر نا جانے کیوں ایک زہر آلود طنزیہ مسکراہٹ اسکے لبوں پہ دوڑ گئی۔۔۔۔۔مگر یہ مسکراہٹ عالیان کے لیے ہرگز نا تھی۔۔۔ شاید وہ مرد کی فطرت بےنقاب کرتے کرتے عورت کی فطرت سے بھی واقف ہو چکی تھی۔۔۔۔!