شیخ خالد زاہد

شیخ خالد زاہد

​سچائی کہاں ملتی ہے؟

آج ملک میں سچ اور جھوٹ کا ایک بہت بڑا معرکہ چل رہا ہے۔ حاکم وقت کو عدل نے کٹہرے میں لا تو کھڑا کیا ہے مگر حاکم وقت اپنی حاکمیت کے زعم میں عدل کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہیں۔ حاکم وقت یہ بھولے بیٹھے ہیں کہ ایک حاکمیت اعلی بھی ہے جہاں صرف سچ ہی چلتا ہے۔ شائد ہم پاکستانیوں کی تنزلی اور روز بروز گرتی ہوئی حالت کی ذمہ داری بھی اسی سچ سے دوری ہے اور ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

 زندگی میں ہی پذیرائی کیجئے!

کسی کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اسکے لئے کچھ بھی کرلو اس سے اسے کوئی سروکار ہو ہی نہیں سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ذرا ٹہرا جائے معمالات اور پرکھا جائے اور جو کوئی بھی جس فیلڈ میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے اسکی باقاعدہ پذیرائی کریں ناکہ اسکے کئے کو چوری کریں یا پھر اس کے کئے کو چوری کروانے میں مدد گار بنیں۔ اس پذیرائی کا اہتمام ہر عمر کے افراد کیلئے ہونا چاہئے ان میں بچے بھی ہوسکتے ہیں جو آج یقیناًکسی نا کسی اہم کارہائے نمایاں سرانجام دینے میں مصروف ہیں اور عمر رسیدہ لوگ جو معاشرے کی اصلاح کا کام سرانجام دے رہے ہیں

مزید پڑھیں >>

​بے غیرتی اور بہادری میں فرق ہوتا ہے؟

پاکستان کرہ ارض پر وہ نایاب زمین کا ٹکڑا ہے جہاں ملزمان اور مجرموں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں جہاں بدعنوانوں کے پروٹوکول کیلئے خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں اور تو اور ایسے لوگوں کو جن کا ٹھکانا جیل ہوتا ہے مگر جیل سے اسمبلی (جو کسی بھی جمہوری ملک کی ایک مقدس جگہ سمجھی جاتی ہے )کے اجلاس میں شرکت کیلئے لایا جاتا ہے اور تقریر کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے، یہ پاکستان ہی ہے جہاں سابق صدر ہوں یا پھر افواج پاکستان کے سابقہ چیف سب سیاست کے تالاب میں ایک ساتھ تیر سکتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

ٹریفک کی دہشتگردی

ایک طرف تو طبی سہولیات نا ہونے کی وجہ سے بچے سڑکوں پر پیدا ہورہے ہیں اور لوگ انتظار کی قطاروں میں مر رہے ہیں تو دوسری طرف لوگ سڑکوں پر مرنا شروع نا ہوجائیں یہ بڑھتا ہوا ٹریفک مسلۂ نہیں ہے مسلۂ ہے بندر کے ہاتھ میں ادرک، یہ ادرک اگر بندر کے ہاتھ میں یونہی رہی تو ہم سب سڑکوں پر سے تو نا گزر پائیں مگر سڑک پر ضرور گزر جائینگے۔ ہم سے جو ممکن ہوسکے اس ٹریفک کے مسلئے کو حل کرنے کیلئے آگے بڑھیں اور انسانیت کو فوت ہونے سے بچانے میں حصہ ڈالیں۔

مزید پڑھیں >>

انصاف معاشرتی توازن کی اکائی!

دراصل انصاف ہی معاشرے کا توازن برقرار رکھنے کی بنیادی اکائی ہے۔ اس مضمون کا بنیادی مقصد ہرقیمت پر انصاف کی عمل داری کو یقینی بناناہے جو کہ اسلامی شعار کے عین مطابق ہے اور یہ اسی دور کی باتیں ہیں۔ وہ تمام معاشرے یا ممالک جو آج ترقی کی منزلیں طے کرکے ترقی یافتہ بن چکے ہیں ان کے یہاں انصاف بلا تفریق کیا جاتا تھا اور کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں تو تفریق ہی تفریق ہے۔ 

مزید پڑھیں >>

سب کو معیشت کی پڑی ہے معاشرہ بگڑگیا!

انسان اپنی ترجیحات طے کرتا ہے پھر ان پر عمل کرنے کیلئے کمر بستہ ہوتا ہے۔ بھوک افلاس دنیا کا سب سے بڑا مسلۂ ہے اور نا معلوم کب سے ہے، شائد یہ مسلۂ تاریخ کی تاریکی سے جڑا ہوا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،انسان کی بھوک بھی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ دنیا اکیسویں صدی سے گزر رہی ہے جسے جدید ترین ایجادات کی صدی کہا جاسکتا ہے۔ اتنی جدت کے بعد بھی دنیا میں بھوک اور افلاس کا خاتمہ نہیں ہوسکا۔

مزید پڑھیں >>

اخلاقیات کا جنازہ!

آخر یہ معاشرے کے میعار کہاں طے ہو رہے ہیں اور ان کو نافذ کون کر رہا ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ارد گرد موجود اپنے ہی جیسے لوگوں کو دیکھ کر خوف سا آنے لگتا ہے جیسے یہ میرے جسے کی موجودگی سے بہت زیادہ نالاں ہیں اور یہ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ گاڑی چلاتے ہوئے برابر والی گاڑی چلانے والے کو دیکھو تو بھی ایسا ہی لگتا ہے۔  معلوم نہیں ہمارے اندر اس خوف کی پرورش کون کر رہا ہے۔  مگر یہ تو طے ہے کہ ان ساری تخریبی کاروائیوں کے پیچھے کوئی نا کوئی تو ہے۔

مزید پڑھیں >>

​تعلیم کو بوجھ بننے سے روکیں !

تعلیم دور حاضر میں جہاں طالب علموں پر بوجھ بنتی جا رہی ہے وہیں والدین کیلئے بھی تعلیم کو مالی طور پر برداشت کرنا کسی بوجھ سے کم نہیں رہا ہے۔ خدارا تعلیم کو بوجھ بننے سے روکا جائے ورنہ بوجھ ایک وقت تک برداشت کیا جاتا ہے پھر اسے اتار کے اتنی دور پھینکا جاتا ہے کہ وہ قریب بھی نا آنے پائے۔​

مزید پڑھیں >>