شیخ خالد زاہد

شیخ خالد زاہد

الفاظ جو دلخراش ہوسکتے ہیں!

 آج بھی جو کچھ ہو رہا ہے جس قسم کے اقدامات کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جتنی بھی بھاگ دوڑ کی جارہی ہے یہ سب کے سب واجبی ہیں اور صرف دیکھاوے کیلئے ہیں۔ سدِ باب شائد ہمارے بس میں ہوتے ہوئے بھی کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔  تعلیمی اصلاحات اور دیگر اصلاحات سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا، فرق صرف اور صرف اپنا قبلہ درست کرنے سے ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ایک تھی زینب!

یوں تو معلوم نہیں کتنے ہی معصوم بچے اس غلاظت میں لتھڑے ہونگے مگر معصوم زینب ایک تحریک بن کر ابھرنے والی ہے۔ اب جذباتیت اور حقیقت بہت کم فرق باقی بچا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ زینب کی آہ و فغاں اور اس معصوم کا خون کیا رنگ لانے والا ہے یا پھر یہ بھی بے شمار بنتی بھول بھلیاں میں گم ہوجانے والا ایک واقع ہوگا جس پر تاریخ سینہ کوبی کرتی دیکھائی وسنائی دے گی اور بھیڑ اور ریوڑ کی دستانوں میں ایک نئی داستان رقم کرکے چھوڑدی جائے گی جسے ایک تھی زینب کے نام سے یادرکھا جائے گا۔ 

مزید پڑھیں >>

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں

ہم کسی ایسے جرم کی ذمہ داری کسی ایک کے کاندھوں پر نہیں لاد سکتے، ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں کم از کم اپنی نسلوں کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داری خود ہی اٹھانی پڑے گی، اسکولوں اور ٹیوشن سینٹروں میں دی جانی فیسوں کے ساتھ اب انکے تحفظ کی بھی فیس شروع کئے جانے کا امکان روشن ہوچکا ہے۔ ہم لوگ اخلاقیات کی قدروں سے انحراف کرنے کی سزا ضرور بھگتینگے، ہم خود کو مشرق سے مغرب میں منتقل کرنے کی سزا ضرور بھگتنینگے۔ ہم بے راہ روی کو سماجی ترقی کا نام اور ساتھ دینے کی سزا ضرور بھگتینگے۔ ہم گھر وہی رکھنے اور پتے بدلنے کی سزا

مزید پڑھیں >>

کراچی کا فیصلہ ووٹ کریں گے!

ملک کے سیاسی حالات اور کراچی کی سڑکیں آپسی بہت مماثلت رکھتے ہیں ذرا گاڑی چلتی ہے اور اچانک سے ایک مختصر مگر پر اثر گڑھا نمودارہوئے بغیر ہی گاڑی کے پہیوں کو پڑ جاتا ہے، جو اکثر کسی نا کسی نوعیت کے حادثے کا باعث بنتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کسی نے بیچ سڑک میں بیٹھ کر باقاعدہ ہتھوڑی چھینی کی مدد سے اسے کھودا ہو۔ پاکستان کو خارجی اور داخلی مسائل گھیرے ہی رکھتے ہیں، ابھی ایک مسلۂ سے نکل نہیں پاتا کہ دوسرا کوئی گھمبیر مسلۂ اچانک سے سامنے آجاتا ہے بلکل کراچی کی سڑکوں پر پڑے کھڈوں کی طرح۔ جو یہ سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ ہمارے ملک کی انتظامہ بغیر کسی موثر حکمت عملی کے تحت اپنی سرگرمیاں سرانجام دے رہی ہے اور سوائے اللہ توکل کے کوئی اثرا سجھائی نہیں دیتا۔ 

مزید پڑھیں >>

کیا فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے؟

سال ہا سال سے چلنے والی سرد جنگ اب شکل اختیار کرنے کا بہانے بناتی سمجھ آرہی ہے۔ حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دشمن اپنی آخری چالیں چلنا شروع کر رہا ہے۔ دھمکیاں تو پہلے بھی دی جاتی رہی ہیں مگر اب کچھ عملی اقدامات ہوتے دیکھائی دینا شروع ہوگئے ہیں ۔ آج ہمارے ملک کے سیاستدانوں اور ہر فرد کو جو ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے میں حکومت کا الہ کار بننا پڑے گا اب اپنی عقل کوٹھکانے لگانے کا وقت آن پہنچا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہوشیار پاکستانی اور بیوقوف امریکی؟

ہمیں کسی بھی ملک کو جواب دینا ہوتا ہے تو ہم بہت مہذب اور عالمی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے، ماہرین امور خارجہ اور خزانہ سے ملاقاتیں کرتیں ہیں اور پھر کہیں جاکہ جب معاملہ کسی حد تک خود ہی خول میں چلا جاتا ہے تو اعلامیہ جاری کروادیتے ہیں۔ جو اتنا ڈپلومیٹک (منافقانہ) ہوتا ہے کہ دنیا کو بھی تسلی ہوجاتی ہے کہ پاکستان کی قیادت کم از کم جذباتی ہاتھوں میں نہیں ہے۔ یوں تو پورا پاکستان امریکی صدر کو اپنی دانست میں گالیاں دے رہا ہے۔ ہم پاکستانی دنیا کی نظروں میں بہت طاقتوار اور منظم بنے ہوئے ہیں مگر ہمارے اندرونی حالات ہم ہی جانتے ہیں۔ ہم اگر اب بھی ایک قوم نہیں بنے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہمیں نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ 

مزید پڑھیں >>

ہم سب ہی برائے فروخت ہیں!

بیچنے والے کیلئے یہ اہم نہیں ہوتا کہ خریدار کون ہے اسکے لئے یہ اہم ہوتا ہے کہ اس کے منہ مانگے دام جو کوئی بھی دے دے، وہ اس بات سے بھی عاری ہوتا ہے کہ خریدار اپنی اس حیثیت کو ظاہر کر رہا ہے جس حیثیت کی وہ شے پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوا ہے۔ بظاہر تو نہیں مگر لگتا ایسا ہی کہ ہم لوگ اپنی اولادوں کو اچھی سے اچھی تعلیم اس لئے ہی دلوا رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ میں فروخت کر سکیں ۔ 

مزید پڑھیں >>