ندرت کار

اردو عربی انگلش میں کیلیگرافی کرتا ہوں، اور اسکے ساتھ ہی ممصور بھی ہوں صرف فطرت کی عکاسی کرتا ہوں، خطِ رقعہ میں قراںِ کریم لکھنے کا اتفاق ہوا پے، لکھنے کے بعد ہی، قران میں غوطہ زن ہونے کی، ادنیٰ سی کوشش کی ہے
عمر 64 سال ہے،اصل نام، سعید احمد ہے ندرت کار کا نام آرٹ ورک کیلیئے رکھا ہے،

انسانی فطرت اورقرآن (آخری قسط)

بے شک بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے غافل ہیں اوران پر توجہ نہیں دیتے۔ نہ اسے یاد کرتے، نہ اس کی آیات پر غوروفکر کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مزے لوٹتے ہیں اور باقی سب کچھ فراموش کردیتے ہیں۔ اس کی جنت و جہنم اورحساب و عذاب کے بارے میں نہیں سوچتے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں لیکن اس کی نافرمانی کرتے اور اس کے ذکر و اطاعت سے اعراض کرتے ہیں اور اکثر لوگوں کی عمر سی غفلت میں گزر جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

انسان قران کے آئینہ میں (قسط چہارم)

لوگ محنت و مشقت کے معاملے میں بھی مختلف سوچ رکھتے ہیں ۔ بعض لوگ علم کی جستجو میں محنت کرتے ہیں اور بعض دنیا سمیٹنے میں محنت کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی ساری کوشش دوسروں کو اللہ کے راستہ سے روکنے کے لئے صرف ہوتی ہے اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو امربالمعروف اورنہی عن المنکر کے لئے کوشش کرتے ہیں ۔ بعض ایسے ہیں جوجنت کی طلب اور ربّ کی رضا کے لئے محنت کرتے ہیں ۔ بعض ایسے ہیں جو نفسانی خواہشات کی تکمیل اور نوع بہ نوع معاصی کے لئے کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ لہٰذا اے انسان! تو راہِ جنت کواختیار کر نہ کہ دوزخ کو۔ باقی محنت و مشقت، رنج و غم تو اللہ تعالیٰ نے دنیا پرستوں کے لئے، دنیا و آخرت دونوں میں لکھ دیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

انسان قرآن کے آئینہ میں (تیسری قسط)

انسان کا دل جب ایمان سے خالی ہوتا ہے تو اس کی مثال ہوا کے سامنے ایک پر، کی مانند ہوتی ہے۔وہ معمولی تکلیف یا نقصان سے بے تاب ہوجاتا ہے اورتھوڑی سی بات پر خوش ہونے لگتا ہے۔ وہ اُداس و بے صبرا بن کر خوف، ڈر اور خوشی و کنجوسی کے درمیان ہچکولے کھانے لگتا ہے لیکن جب اس کا دل ایمان سے آباد ہوتا ہے تو اس کا نفس مطمئن رہتا ہے اور اسے سکونِ قلب نصیب ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

انسان قرآن کے آئینہ میں (قسط دوم)

انسان کی بھول اس وقت نمایاں طور پر ظاہر ہوجاتی ہے جب سختی اور ابتلاء کی منزل کو عبور کرکے عیش و آسائش حاصل کرلیتا ہے۔ اگر اسے یہ علم ہوجائے کہ یہ آرام و راحت، یہ مال و جاہ اور یہ منصب وعلم ایک آزمائش اور امتحان ہے تو وہ اپنے ربّ کو نہیں بھولے گا اور اس کے ایمان اور جذبہ شکر میں اضافہ ہوجائے گا لیکن اس بھول اور نسیان کو تو انہوں نے اپنے باپ دادا سے وراثت میں پایا ہے، جن سے اس کے پروردگار نے عہد لیا تو بھول گئے۔ یہ ان کی اولاد کی طبیعت اور فطرت بن چکی ہے مگر اللہ تعالیٰ جس کی حفاظت فرما دے۔

مزید پڑھیں >>

انسان قرآن کے آئینہ میں (قسط اول)

انسان! جیسا کہ علیم و خبیر نے بیان کیاہے، سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی مخلوقات پیدا کی ہیں اور وہ سب اس سے کم جھگڑالو ہیں اوریہ بڑی باعث ِشرم بات ہے۔اس لئے انسان کو اپنے غرور و تکبر سے باز آنا چاہئے... اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سمجھانے کے لئے مثالیں بیان کیں، لیکن وہ سچائی کے ظاہر ہوجانے کے باوجود اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اگر انسان اس بدترین اَخلاقی بیماری کا علاج نہ کرے اور شفا بخش دوا سے اس کا اِزالہ نہ کرے تو یہ کتنی بری بیماری ہے!

مزید پڑھیں >>

تصوف، مذہب اور دین اسلام (آخری قسط)

'تزکیہء نفس " اسکا نہیں ہوتا ، جو دوسروں کی کمائی پر زندہ رہے، روحانی ترقی کیلئے، تصوف پرست مدعیان، کتنا ہی دنیا سے دور بھاگیں ،، جب تک وہ زندہ ہیں ، انہیں کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے، جسم کی پرورش کیلئے، جسے ظاہر ہے دوسرے لوگ ان کیلئے پورا کرتے ہیں ، جو شخص اپنی ذات کیلئے اپنی ضروریات کیلئے دوسروں کا محتاج ہو اسکا،تزکیہء نفس" کس طرح ہوسکتا ہے؟

مزید پڑھیں >>

تصوف، مذہب اور دین اسلام (ساتویں قسط)

ایک صوفی  اگر فلک الافلاک تک پہنچ جاۓ تو،وہ اپنے انفرادی تجربہ کی تجرد گاہ سے،واپس ہی نہیں آنا چاہتا، اور جب واپس آتا ہے( اسلیئے کہ اس کو واپس آنا پڑتا ہے) تو اسکی یہ واپسی بنی نوع انسان کیلیئے، کچھ معنی نہیں رکھتی، لیکن اسکے برعکس، ایک نبی کی مراجعت،تخلیقی ہوتی ہے، وہ (نبی)آتا ہے کہ زمانے کے طوفان ہر تسلط پاکر تاریح کی تمام قوتوں کو، اپنے قابو میں لے آۓ،اور اس طرح ،مقاصد ومطامح کی ایک نئی دنیا تعمیر کردے،جبکہ اسکے برعکس ۔۔۔۔۔۔ ایک صوفی کیلئے اسکے انفرادی  تجربہ گاہ کی تجرد گاہ،آخری مقام ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

تصوف، مذہب اور دین اسلام (چھٹی قسط)

کوئی شخص اس وقت تک، نئی دنیا دریافت نہیں کر سکتا، جب تک وہ، پرانی دنیا نہ چھوڑ دے۔ ۔۔۔ اور نہ ہی کوئی ایسا شخص، دنیاۓ جدید دریافت کرسکتا ہے جو پہلے اس امر کی ضمانت مانگے کہ وہ نئی دنیا، اس قسم کی ہونی چاہئے۔ یا وہ اس قسم کا مطالبہ کرے کہ جب نئی دنیا وجود میں آۓ گی، تو مجھے کیا ملے گا؟

مزید پڑھیں >>

قران میں سب سے عظیم قَسم

آسمان پر اربوں کی تعداد میں ستارے سیارے اور دیگر کرے موجود ھیں اور انکے مداروں کے فاصلے ایک ایسی خاص ترتیب سے اپنی اپنی جگہ قائم ھیں جس میں زرہ بھر فرق، یا خلل نھیں اور دوسری جانب اس بات پر غور کیجیئے کہ قرا نے 1400 سال پہلے کہا ھم قسم کھاتے ھیں مواقع النجوم کی، اور اگر تمھیں اس بات کا علم ھوجاۓ کہ مواقع النجوم کیا ھیں تو تم دیکھو گے کہ یہ ایک عظیم قسم ھے۔

مزید پڑھیں >>