تعلیم و تربیت

کھانے پینے کے آداب و احکام

حضور  ﷺ نے فرمایا اکٹھے ہو کر کھاؤ۔ الگ الگ نہ کھاؤ کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔ دوسری حدیث پاک میں آپ  ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کو یہ بات سب سے زیادہ پسند ہے کہ وہ اپنے کسی مومن بندہ کو بیوی اور بچوں کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھے اور جب سب کھاتے ہیں تو اللہ ان کو رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے اور قبل الگ ہونے سے ان کو بخش دیتا ہے

مزید پڑھیں >>

سوشل میڈیا کے دور میں بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

سوشل میڈیا کے استعمال سے بچوں کو جس قدر ہوسکے دور رکھیں ۔ کبھی بھی  موبائل خریدکر اسے مستقل طورپر نہ دیں بطور خاص نٹ والا حتی کہ گیم کھیلنے کے لئے بھی نہیں ۔ بچپن میں کھیل کود کی ضرورت ہے اس کے لئے گھر اور اچھے دوستوں میں کھیل کود کروائیں اسکول ے کھیل پروگرام میں مشارکت کروائیں  یا قلم وکاغذ سے ایسی چیزوں کی مشق کرائیں جس سے اس کے ذہن کو بھی سکون ملے اور کچھ فائدہ بھی ہوجائے۔ اس پہ انعام مقرر کرلیں پھر دیکھیں سارا کھیل بھول کر آپ کی طرف متوجہ ہوجائے گی۔

مزید پڑھیں >>

علمی اختلاف کی حقیقت: اسباب و آداب

آج مسلمانوں کی بہترین صلاحیتیں اور ذہانتیں فروعی مسائل میں مناظرہ بازی میں ضائع ہورہی ہیں، علم و تحقیق کا سارا زور اس پر  صرف ہورہا ہے کہ کیسے دوسرے فریق کو گمراہ اور اس کے موقف کو بے وزن ثابت کردیا جائے، سینے کے نیچے اور اوپر ہاتھ باندھنے پر لڑائی ہورہی ہے اور اس کی وجہ سے مسجدیں الگ ہورہی ہیں، حالانکہ ان کا دشمن ان کے ہاتھ کاٹنے کی تیاری کر رہا ہے اور ان کے قبلہ وکعبہ کو منہدم کرنے کی سازشیں کر رہا ہے اور ان میں اس طرح کے اختلافات کو ہوا دے کر انہیں اپنی ریشہ دوانیوں سے غافل رکھناچاہتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ امت کی صفوں میں پائے جانے والے انتشار کوختم کیاجائے، اختلاف کو بر داشت کرنے اور دوسرے کی رائے کو اہمیت دینے کی عادت ڈالی جائے اور علمی وفقہی اختلاف کو فرقہ بندی کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور دشمنانِ اسلام نے جو محاذکھول رکھا ہے ان پر اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کی جائیں اور مسلمان جس پستی اور رسوائی کا شکار ہیں انہیں ان سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔

مزید پڑھیں >>

اسلامیات کا مطالعہ: موجودہ ہندستان میں

 علوم اسلامی کے ارتقاء میں ہندستان کا کردار متعدد ناحیوں سے بحث و تحقیق کا موضوع بن چکا ہے۔ اس موضوع پر بھی تحقیقات ہوچکی ہیں کہ ہندستان کے ارتقاء میں اسلامی علوم نے کیا کردار نبھایا۔ جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں اور حق کرتے ہیں کہ اسلام اپنے اندر ہر دور کا ساتھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو یہ بحث خود بہ خود اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہے کہ اسلامی علوم نے ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کیا ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

سرسید شناسی میں خواتینِ علی گڑھ کا حصّہ بحوالہ تعلیم نسواں

سرسید کی مذہبی فکر کا جو پس منظر ہے اور ان کی پیش کردہ تعبیرات و توجیہات کے پیچھے جو مقاصد پنہاں ہیں، اُن پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ سرسید نے کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن مذہبی فکر کے حوالے سے اُن کی اِس خدمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اردو زبان میں مذہب کے مطالعے کے لیے انھوں نے ’’عقلیت پسندی‘‘ جدیدیت اور روشن خیالی کی جس روایت کی بنیاد ڈالی اُس سے دامن بچانا اب ممکن نہیں رہا۔ ہمارے انتہائی راسخ العقیدہ مذہبی عالم اور دانش ور بھی اِس سے پہلو تہی نہیں کرسکتے۔

مزید پڑھیں >>

علمی سرقہ

کسی کی تحریر، مضمون یا تحقیق سے اسکا نام ہٹا کر نشر کرنا یا اسے اپنے نام سے پھیلانا یا اسی طرح کسی کی تحریر میں بغیر اسکی اجازت کے کچھ بھی تبدیلی کرنا صحیح نہیں ہے. بلکہ یہ لوگوں کے حقوق کی پامالی، حقوق العباد کی حق تلفی، چوری، خیانت، جھوٹ اور دھوکہ ہے.

مزید پڑھیں >>

​تعلیم کو بوجھ بننے سے روکیں !

تعلیم دور حاضر میں جہاں طالب علموں پر بوجھ بنتی جا رہی ہے وہیں والدین کیلئے بھی تعلیم کو مالی طور پر برداشت کرنا کسی بوجھ سے کم نہیں رہا ہے۔ خدارا تعلیم کو بوجھ بننے سے روکا جائے ورنہ بوجھ ایک وقت تک برداشت کیا جاتا ہے پھر اسے اتار کے اتنی دور پھینکا جاتا ہے کہ وہ قریب بھی نا آنے پائے۔​

مزید پڑھیں >>

تعلیم: مسائل اور امکانات

ہندوستان کو  ’اعلیٰ تعلیم‘  جیسے پہاڑی چوٹی پر پہنچنے کے لئے مختلف گنجلک وادیوں اور پہاڑوں جیسے مسائل سے گزرنا ہوگا جسے بیان کیا گیا ہے۔ ہمیں ایک قومیت کی حیثیت سے اعلیٰ تعلیم میں مثبت فروغ کی کوشش میں تمام مسائل کا سامنا بحسن و خوبی اور پر عزم طریقے سے کرنا ہوگا تبھی جاکر چھوٹے موٹے اور شاذ و نادرمسائل کا بآسانی حل ہوسکے گا

مزید پڑھیں >>

ٹیچرز ڈے اور مثالی استاد کی صفات

ٹیچرز ڈے کے موقع پر وہ تمام خواتین وحضرات جو استاد کی نازک ذمے داریوں پر فائز ہیں ، اس بات کا عہد کریں کہ مندرجہ بالا صفات اور خوبیوں کو اپنے اندر بھی پیدا کریں گے اور اپنے شاگردوں میں بھی منتقل کریں گے۔ اس مادیت کے دور میں اساتذہ پر عاید ہونے والی ذمے داریاں ماضی کے مقابلے میں دوچند اور سہ چند ہوچکی ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا استاد بھی، تعمیرکردار وسیرت کے بجائے محض حرف خوانی کو اپنی ذمے داری سمجھتا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ لوگ توہر طرف نظر آتے ہیں ، لیکن ان کے اندر وہ صفات ڈھونڈے سے نہیں ملتیں ، جو ماضی میں تعلیم وتربیت کا لازمہ سمجھی جاتی تھیں ۔

مزید پڑھیں >>

علم ہی تو عمل پر اکساتا ہے!

آج علم بے عمل ہوچکا ہے ہر چیز کی فقط مادی حیثیت ہے مگر روحانیت کا تصور آہستہ آہستہ کرہ عرض سے غائب ہونا شروع ہوچکا ہے جس کی وجہ سے علم کسی جسم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اچھے کپڑے ، بڑے بڑے محل نما گھر اور بڑی بڑی گاڑیاں علم والوں کی نشانیاں بن گئیں ہیں۔ جبکہ علم والے تو خاک نشینی کو ترجیح دیا کرتے تھے وہ فرش سے زیادہ عرش پر دھیان دیا کرتے تھے۔ 

مزید پڑھیں >>