تاریخ و سیرت

 خواتین، قر با نی اور جنگ آزادی

بی اماں (اصل نام آبادی بانو) کی قربانی تاریخ ہندمیں سنہرے حرفوں سے لکھی جاتی ہے۔ بی اماں تحریک آزادی میں ناقابل فراموش، لائق تعظیم کام انجام دیا ہے۔ ان کا ہر طرز عمل ہندوستانی خواتین کے لیے سبق آموز ہے جس پر چل کر ہی ہندوستان کا فروغ ممکن ہے انہوں نے صعوبتیں برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ عزم مستحکم کر لیا کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے جتنی بھی مصیبتیں کیوں نہ اٹھانی پڑیں اس سر زمین کو انگریزوں سے آزاد کراکر ہی دم لیں گی۔اس کے لیے انہوں نے بچپن سے لے کر ضعیفی تک بے بہا اور گراں قدر کارکردگی انجام دی چاہے وہ جوشیلی تقریریں ہوں یا گھر گھر جا کر آزادی کے لیے چندہ یکجا کر نا ہوان سب کا مقصد ہندوستان کو آزاد کرانا۔

مزید پڑھیں >>

انسان اور زمین کی حکومت (قسط سوم)

عزازیل بحکم ربی نیک جنات کی جماعت کے ساتھ زمین پر آیا اور اپنے نائب مقرر کئیے اور خود اللہ کی عبادت اور درس تدریس میں مشغول رہتا۔ جب دل چاہتا آسمانوں پر چلا جاتا جنت کی سیر کرتا۔عزازیل کا منبر بھی جنت میں تھا جہاں بیٹھ کر وہ فرشتوں کو درس و تدریس دیتا اور اس کے منبر پر عرش کا ایک ٹکڑا (یا کونہ) ہر وقت سایہ کئیے رکھتا_

مزید پڑھیں >>

انسان اور زمین کی حکومت (قسط دوم)

ابلیس کی والدہ کا نام "نبلیث" تھا جو قوم جنات کی سب سے زیادہ طاقتور مادہ تھیں کہ کئی سو کا مقابلہ کر سکتی تھی ان کے چہرے کی ساخت جیسے مادہ بھیڑئیے کا چہرہ ہوتا ہے (واضح رہے کہ جنات کی شکلیں مختلف ہوتی یا ہو سکتی ہیں اور یہی ان کی پہچان اوپر بیان کی گئی کہ وہ کسی بھی صورت میں متشکل ہو سکتے ہیں ) ان دونوں کے بارے مشہور تھا کہ جس قوم میں چلیپا اور نبلیث ہوں وہ کبھی ہار نہیں سکتی کوئی قوم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

مزید پڑھیں >>

ٹائم مشین

28 اکتوبر 1943 کا دن تھا۔  دوسری جنگ عظیم زوروں پر تھی۔ ۔ہٹلر کی جنگی کشتیوں نے اتحادی فوجوں کی ناک میں دم کررکھا تھا۔ اسوقت ہٹلر کی بحری قوت کو توڑنے کے لیے مشہور سائنسدان البرٹ آئن سٹائن کے ساتھ فلاڈلفیا میں ایک نہایت خفیہ تجربہ کیا گیا۔ جس کا مقصد پورے  جنگی بحری جہاز کو  نظروں  سے اوجھل کر دینا تھا۔

مزید پڑھیں >>

 تاجدار انبیاء: غیر مسلموں کی نظر میں!

ان اشخاص کی عقیدت سے حضور سرور کائناتﷺ کی آفاقیت اور مرکزیت بھی ثابت ہوتی ہے کہ آپﷺ پوری کائنات کے مرکز نگاہ ہیں  اور ہر شخص آپﷺ کی داد رسی کا منتظر رہتا ہے ۔ان لوگوں نے جس ہستی بالا صفات کو خراج عقیدت پیش کیا اس کی عزت و عظمت کا سورج تاابد روشن رہے گا۔ بلکہ آنے والے ہر دور میں جو شخص بھی ہٹ دھرمی، تعصب اور بغض سے ہٹ کر سیرت النبیﷺ کا مطالعہ کرے گا وہ عظمت رسولﷺ کاپاسبان بن جائے گا اور سید کائناتﷺ کی آفاقیت اور مرکزیت کا قائل نظر آئے گا۔

مزید پڑھیں >>

کولمبس: انسانی تاریخ کا ایک  سیاہ باب!

کولمبس تیس اکتوبر 1451 میں ریپبلک آف جنوا (اٹلی) میں پیدا ہوا۔  سلطنت ہسپانیہ کا تنخواہ دار ملازم رہا۔ وہ ایک تجربہ کار سپاہی اور مہم جو جہاز ران تھا۔ مگر ایک سیاح کے طور پر زیادہ معروف ہوا۔ وہ اختیارات، دولت اور دربار تک رسائی کا ہمیشہ متمنی رہا۔ اس مقصد کے لئے وہ نت نئے منصوبے سوچتا رہتا تھا۔ یہی چیز اسے نئے ممالک کی کھوج اور دریافت پر اکساتی تھی۔

مزید پڑھیں >>

بانی حیدرآباد کا ایک تعارف

کچھ نہ گفتہ بہ حالت کی بنا پررعایا گولکنڈہ (پایہ تخت )کی آب وہوا سے متنفر ہوگئے،تو اس نے گولکنڈہ سے چار کوس کے فاصلہ پر ایک نیا شہر آباد کیا، جو ہر چہار سمت سے ہندوستان میں بے نظیر تھا، اسے اپنا پایہ تخت بناکراس شہر کو بھاگیہ ؍بھاگ نگر کے نام سے موسوم کیا، لیکن آخر میں حیدرآباد نام رکھا،

مزید پڑھیں >>

خانہ کعبہ کا محاصرہ!

 سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حال ہی میں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ۔۔۔ ہم ملک میں اسلام کو اس کی اصل شکل میں واپس لے جانا چاہتے ہیں اور سعودی معاشرے کو ویسا بنانا چاہتے ہیں جیسا وہ 1979 سے پہلے تھا۔ اس حوالے سے کئی لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ 1979 میں ایسا کیا ہوا تھا جس نے سعودی معاشرے کی شکل تبدیل کر دی تھی؟

مزید پڑھیں >>

باجی راؤ اور مستانی: معاشقہ اور تاریخی حقائق !

اس کے رعب اور دبدبے سے مراٹھا افواج ہی نہیں برہمن بھی کانپتے تھے۔ وہ کبھی کسی کے آگے نہیں جھکا۔ لیکن یہی اولوالعزم اور بہادر باجی راؤ ایک رقاصہ کو دل دے بیٹھا اور اس کے عشق میں ایسا مدہوش ہوا کہ اپنی زندگی تباہ کرڈالی۔ باجی راؤ کی اس محبوبہ کا نام تھا، مستانی! اٹھارویں صدی کی تاریخ کا یہ واقعہ اپنے زمانے میں بھی مقبول تھااور آج بھی یہ قصہ ریاست مہاراشٹر میں اتنا ہی مقبول و مشہور ہے۔ مراٹھی زبان میں اس رومانی قصے پر مبنی کئی افسانے، ناول اور ڈرامے لکھے جاچکے ہیں ۔ دوردرشن پر مراٹھی میں ایک سیریل بھی پیش کیا جاچکا ہے۔

مزید پڑھیں >>

 شیعہ مکاتب فکر کا آغاز و ارتقا

شیعوں کے تمام فرقے تاویل کے قائل ہیں ۔ ان کے یہاں اس آیت ”لا یعلم تا ویلہ الا اللہ والر سخون فی العلم یقولون آمنا بہ“ میں الا للہ پر وقف کرنا درست نہیں ہے۔ ان کے نزدیک وہ علماء بھی جو علم میں راسخ رہے ہیں ، یعنی انبیا، اوصیا اور ائمہ تاویل کرتے ہیں ۔ لیکن جس فرقہ نے اس فن کو ترقی دی اور خاص طور پر تمام احکام، عبادت اور قصص انبیا کی تاویلوں کے متعلق کتابیں لکھیں وہ اسماعیلیہ ہیں ۔ بعض صوفیا بھی تاویل کے قائل رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>