تاریخ و سیرتسیرت نبویﷺ

موجودہ حالات میں واقعہ ٔ معراج کا پیغام

 مفتی محمد صادق حسین قاسمی

نبی کریم ﷺ کی مبارک سیرت اور آپ کی حیاتِ بابرکت میں پیش آنے والے حیرت انگیز واقعات میں اللہ تعالی نے انسانوں کے لئے عبرت اور نصیحت کے بے شمار پہلو رکھے ہیں ،سیرت ِ رسول ﷺ کا کوئی چھوٹا بڑا واقعہ ایسا نہیں ہے جس میں رہتی دنیا تک کے لئے انسانوں اور بالخصوص مسلمانوں کو پیغام و سبق نہ ملتا ہو ،اللہ تعالی نے آپ ؐ  کو خاتم النبیین بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ کی ذات کو انسانوں کے لئے نمونہ قرار دیا ،جس نمونے کو دیکھ کر اور جس صاف و شفاف آئینہ میں صبح قیامت تک آنے والے لوگ اپنی زندگی کو سنوار سکتے ہیں اور اپنے شب وروز کو سدھار سکتے ہیں ،الجھنوں اور پریشانیوں میں را ہِ عافیت تلاش کرسکتے ہیں ،آلام و مصائب کے دشوار گزار حالات میں قرینہ ٔ حیات پاسکتے ہیں ،یورش ِ زمانہ سے نبر د آزمائی اور فتنہ و فساد کے پر خطر ماحول میں حکمت و تدبر کے راستہ منزل سے رسائی حاصل کرسکتے ہیں ۔غر ض یہ کہ سیرت کا کوئی واقعہ اور کوئی پہلو ایسا نہیں کہ جس میں مسلمانوں کے لئے ان گنت نصائح نہ ہوں ۔

چناچہ سیرت رسول ﷺ کے حیرت انگیز معجزہ اور واقعہ میں سے واقعہ ٔ معراج بھی ہے ۔تاریخ انسانی کا نہایت محیر العقول اور سیرت رسول ﷺ کا بے مثال معجزہ ہے ۔اللہ تعالی نے اپنے نبی سرور دوعالم ﷺ کو رات ہی کے کچھ حصے میں جسم وروح کے ساتھ ،بیدای کی حالت میں عالم بالا کی سیر کرائی اور اپنے قرب کا اعلی ترین مقام عنایت فرمایا ،جنت وجہنم کا مشاہدہ کروایا،نیکوں اور بدوں کی سزاو جزا کا معائنہ کروایا ،نبیوں سے ملاقات ہوئی ،ہر جگہ آپ کی عظمت و رفعت کا چرچہ کروایا ،رحمتوں کی بارش فرمائی اور انعامات و الطاف سے خوب نوازا اور امت کے لئے عظیم الشان تحفہ نماز کی شکل میں عطا کیا ،اور قیامت تک کے لئے انسانوں کو اپنے معبود اور خالق سے رابطہ کرنے اور اپنے مالک سے راز و نیاز کرنے کا سلیقہ بخشا ۔واقعہ ٔ  معراج بے شمار سبق آموز پہلوؤں اور عبرت خیز واقعات کامجموعہ ہے ۔اس واقعہ ٔ معراج کی روشنی میں ہمارے لئے موجودہ عالمی حالات میں بھی کئی ایک نصیحت آموز ہدایات ملتی ہیں جس کے ذریعہ گرد و پیش میں چھائے ہوئے تاریک ماحول اور ظلم و ستم کی اندھیری رات میں ہم چراغ ایمان کو فروزاں کرسکتے ہیں اور مایوسی و ناامیدی کی گھٹا توپ تاریکی میں امید کی شمع روشن کرسکتے ہیں ۔اس کے لئے ہمیں واقعہ معراج کے پس منظر کو ذہنوں میں تازہ کرنا پڑے گا اور ان حالات کی چیرہ دستیوں کو دیکھنا ہونا جن کے بعد یہ ایک عظیم الشان سفر کروایا گیا،آیئے ایک طائرانہ نظر ان حالات پر ڈالتے ہیں ۔

معراج کا پس منظر:

 نبی کریم ﷺ جب پیغام ِ حق لے کر کھڑے ہوئے اور توحید کی دعوت شروع کی ،انسانوں کو اللہ کی طرف بلانے کا آغاز فرمایا تو آپ کے مخالفین اور دشمنون کی پوری جماعت ہر وقت آپ کی ایذارسانی میں رہتی،جو کل تک آپ اپنا عزیز و محبوب سمجھتے وہی آپ کی عداوت اور مخالفت میں پیش پیش رہنے لگے ،مکہ میں طلوع ہونے والا سورج ہر دن ایک نئی مصیبت اور تکلیف لے کر آتا اور پیغمبر اسلام اور آپ ﷺ کے ماننے والے صحابہ کرامؓ کا امتحان لیتا ،ان مصیبت کی گھڑیوں میں اور ان آزمائشی حالات میں باہر آپ کی حمایت کرنے والے اور آپ کا تعاون فرمانے والے آپ کے چچا ابوطالب تھے جو اپنے بھتیجے کو چاہتے بھی تھے اور اس کی نصرت و تائید میں ڈھال بنے ہوئے تھے ،بیرو ن ِ زندگی میں چچا کی حمایت آپ کے لئے مضبوط سہارا تھا،اور اسی چچا کی رعایت اور ان کی عظمت کے پیش ِ نظر دشمنوں کو کھلے عام آپ کو ستانے کی ہمت بھی نہیں ہوپاتی اور آپ کے مشن و دعوت میں رکاوٹ کاموقع نہ ملتا ،دعوتی محنت سے بوجھل بدن اورنسانیت کی فلاح وبہبودی میں تڑپنے والے  تھکا ہاراجسم لے کر جب آپ گھر تشریف لاتے تو آپ کی ہمت بڑھانے والی اور آپ کے حوصلوں کوتقویت پہنچانے والی آپ کی وفا شعار اہلیہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری ؓ  تھی جو ہر اعتبار سے اپنے شوہر نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتی ۔

ان دونوں کے تعاون سے آپ اپنے مقصد میں لگے ہوئے تھے کہ   10   نبوی میں آپ کے چچا ابوطالب کا انتقال ہو گیا اورتین بعد آپ کی غم گسا ر بیوی حضرت خدیجہ بھی دنیا سے چل بسی ۔( رحمۃ اللعالمین:1/92)آپ ﷺ کو ا ن دونوں کے اس طرح چل بسنے سے بہت غم اور تکلیف ہوئی یہاں تک اس سال کوعام الحزن قرار دیا گیا کہ غم کا سال ہے کہ نبی کے مضبوط سہارے چھن گئے ۔ابو طالب کا چوں کہ رعب ودبدبہ تھا اس لئے دشمن اب تک آپ کی کھلے عام ایذا رسانیوں کی ہمت نہیں پاتے تھے لیکن ابوطالب کے بعد ان کی جرأتیں بڑھ گئیں ،چناچہ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ ابن ہشام لکھتے ہیں کہ:ایک ہی سال میں ام المومنین خدیجہ ؓ اور آپ ؐکے چچا ابوطالب کا انتقال ہوا اور ان دونوں کے انتقال سے رسول اللہ ﷺ کو زیادہ تر مصائب اور تکلیفات کا سامنا کرنا پڑا ۔کیوں کہ حضرت خدیجہ ؓ آپ کی سچی مددگا تھیں ،ہر ایک بات آپ ان سے بیان فرماتے تھے اور ابوطالب آپ ؐ کے پشت پناہ اور مددگار تھے ۔۔۔جب ابوطالب کا انتقال ہوگیا تو قریش کو آپ کی ایذا رسانی میں جرأت پیدا ہوئی جو پہلے میسر نہ تھی،یہاں تک کہ ایک خبیث نے راستہ میں رسول ﷺ کے سر ِ مبارک پر خا ک ڈالی۔ (سیرت ابن ہشام :1/277مترجم)

ان تکلیف دہ حالا ت میں اور مکہ والوں کی بے اعتنائیوں سے آپ نے طائف کا سفر کیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو دین حنیف سے مانوس کیا جائے اور اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں فراہم کی جائے، امید کی شمع دل میں روشن کئے اور شوق و جذبات کے ساتھ آپ نے طائف کے سفر کی شروعات کی لیکن یہاں پر بھی آپ کے ٹوٹے دل تیر و تلوار چلائے گئے ،اور آپ کو جو اذیت دی گئی عاشق رسول ،رئیس القلم حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی  ؒکے رقت انگیز تحریر میں ملاحظہ کیجئے کہ:آگ میں پھاندنے والوں کی جو کمریں پکڑ پکڑ کر گھسیٹ رہا تھا ،وہی کمر کے بل گرایا جاتا تھا،پتھر مارمار کر گرایا جاتا تھا،گھٹنے چو ر ہوگئے ،پنڈلیاں گھائل ہوگئیں ،کپڑے لال ہو گئے ،معصوم خون سے لال ہوگئے ،نوعمر رفیق نے سڑک سے بے ہوشی کی حالت میں جس طرح بن پڑا اٹھایا ،پانی کے کسی گڑھے کے کنارے لایا،جوتیاں اتارنی چاہیں تو خون کے گوندے وہ تلوے کے ساتھ اس طرح چپک گئی تھیں کہ ان کا چھڑانا دشوار تھا۔اور کیا کیا گذری ،کہاں تک اس کی تفصیل کی جائے ،خلاصہ یہ ہے کہ طائف میں وہ پیش آیا جو کبھی نہیں پیش آیا۔ (النبی الخاتم :50)

عروج وسربلند ی کا آغاز:

  ان سخت مراحل سے گذرنے ،ابتلاء وآزمائش کی کٹھن راہوں سے بڑھنے کے بعد اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو وہ عروج و بلندی عطا فرمانے کا فیصلہ فرمایادیا جو کسی اور نبی کے حصے میں نہیں آیا ،وہ عظیم الشان اعزاز اور بے مثال فضیلت دینے بخشنے کا اعلان فرمایا کہ جس کا اب تک کوئی حق دار نہیں تھا ،اور سب سے بڑھ کر ٹوٹے دل کو سہارا دینے ،تنہا و یکتا تصور کرنے والے کو اپنی نصرت و معیت کا احساس دلانے اور سب سے بڑھ مخالفین کی ریشہ دوانیوں کا سد باب کرنے اور اسلام کے پیغام کو وسعت بخشنے کا یہ ایک تاریخی اعزاز ہے جو نبی کریم ﷺ کو سفر ِ معراج کی شکل میں عطا کیا گیا ۔اس عظیم سفر کا مقصد بیان کرتے ہوئے حضرت مولانا ادریس کا ندھلوی ؒ رقم طراز ہیں کہ :  10   نبوی گذرگیا ،ابتلاء و آزمائش کی سب منزلیں طے ہو چکیں ،ذلت و رسوائی کی کوئی نوع ایسی نہ باقی رہی کہ جو خداوند ذو الجلال کی راہ میں نہ برداشت کی گئی ہو،او رظاہر ہے کہ خدائے رب العزت کی راہ میں ذلت اور رسوائی سوائے عزت اور رفعت اور سوائے معراج اور ترقی کے کیا ہو سکتا ہے ؟چناں چہ جب شعب ابی طالب اور سفر طائف کی ذلت انتہا ء کو پہنچ گئی تو خداو ند ذوالجلال نے اسراء و معراج کی عزت سے سرفراز فرمایا ،اورآپ کو اس قدر اونچا کیا کہ افضل الملائکہ المقربین یعنی جبریل بھی پیچھے رہ گئے اور ایسے مقام تک رسائی کرائی جو کائنات کا منتہی ہے یعنی عرش ِ عظیم تک جس کے بعد اب اورکوئی مقام نہیں ۔سیرت المصطفی:1/288)مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ فرماتے ہیں کہ:یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک ضیافت و عزت افزائی تھی ،جو آپ کی دل داری و دل نوازی اور طائف کے ان زخموں کو مندمل کرنے اور توہین و ناقدری اور بے گانگی و بے وفائی کی تلافی کے لئے تھی جس کے سخت امتحان سے آپ وہاں گزرے تھے۔( نبی ٔرحمت :189)

ناکامی کے بعد کامیابی :

 ایسی بھی کو ئی شام نہیں ہے جس کی سحر نہ ہو اور ایسا بھی کوئی ظلم نہیں جو بڑھ کر ختم نہ ہو گیا ،عداوت و دشمنی کی بھی حد ہوتی ہے ،مکر و فریب بھی ایک انتہا کو جاکر دم توڑ دیتا ہے ،ناکامی کے منصوبے بنانے والوں کے منصوبے بھی خدائے حکیم کے سامنے چلنے نہیں سکتے ،بدخواہی کے خواب دیکھنے والے اور برائی کی سازشیں کرنے والے بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہوتے چنا ں چہ اسلام کے چراغ کو بجھانے اور پیغمبر اسلام ﷺ کی راہ میں رکاوٹوں کو پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور اپنی ایذا رسانیوں اور ظلم وزیادتیوں سے یہ سمجھ بیٹھے کہ اب گویا اسلام کی محنت اور اعلائے کلمۃ اللہ کی جد و جہد ختم ہوجائے گی ،مصائب و مشکلات کے حوصلہ شکن حالات نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کے عزائم کو پست اور ان کی کوششوں کو روک دی گی لیکن انہی ظاہری ناکامیوں سے اللہ تعالی نے ہمیشہ کی فتح مندی اور کامرانی کی شکلوں کو پید افرمایا ،شعب ابی طالب کی اسیری ،سفر طائف کی ناکامی اور مضبوط سہاروں کے اٹھ جانے کے غم و الم کو اللہ تعالی نے دور کرنے کا فیصلہ فرمادیا اور چوں کہ آپ خاتم النبین بنا کر بھیجے گئے ،آپ کا لایا ہو اپیغام دنیاکے ہر گوشے میں پھیلنا اور ہر خطے میں پہنچنا تھا ۔اللہ تعالی نے اس کا انتظام فرمایا اور پھر اسلام کی کامیابی کا دور شروع ہو اہجرت ِ مدینہ کا حکم ہوا،مدینے کے قبائل شو ق و جذبات کے ساتھ حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے فتوحات کے دروازے کھلے،اجنبیت اور تنہائی کے دن پورے ہوئے اور فدا کاروں و جاں نثاروں کا ایک جم غفیر آپ کے اشارہ ٔ ابرو پر سب کچھ لٹانے والاتیار ہوگیا۔

طلب ِ مدد کا خدائی کا نسخہ:

 اس عظیم الشان سفر میں جو خاص تحفہ نماز کی شکل میں اللہ تعالی کی طرف سے عطا کیا گیا وہ در اصل ہر مشکل اور پریشانی کو دور کرنے ،ہر زخم کو مندمل کرنے اور ہر غم والم سے نجات پانے کا خدائی کا نسخہ ہے۔جس نے ٹوٹے ہوئوں جوڑنے اور رب سے تعلق مضبوط کرنے کا آسان راستہ بتا دیا  ،ناموافق حالات اور ناسازگار ماحول میں اللہ تعالی سے مدد طلب کرنے او ر اس کی توجہات کو مبذول کرانے کے لئے نماز سے بڑھ کر کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔خو د قرآن مجید میں حکم دیا گیا کہ :اور صبر اور نماز سے مدد طلب کرو ۔نماز بھاری ضرور معلوم ہوتی ہے ،مگر ان لوگوں کو نہیں جو خشوع ( یعنی دھیان اور عاجزی ) سے پڑھتے ہیں ۔(البقرۃ:45)نبی کریم ﷺ کو جتنے احکامات دیئے گئے وہ تمام روئے زمین پر نازل ہو ئے لیکن صرف وہ مہتم بالشان عبادت ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے پاس بلا کر عنایت فرمایا ،گویا پریشان حال بندوں کے تعلق کی راہوں کو آسان کردیا ۔ڈاکٹر مصطفی السباعی ؒلکھتے ہیں کہ : اللہ تعالی نے معراج کی رات نماز کو فر ض کر کے اس طرف اشارہ کردیا کہ :بندوں تمہارے نبی کا جسم و روح کے ساتھ معرا ج کرنا یہ ایک معجزہ ہے ،لیکن تمہا رے لئے ہر دن پانچ مرتبہ یہ سعاد ت ہے کہ تمہاری روح اور دل معراج کرکے میری طرف آتے ہیں ۔( السیرۃ النبویۃ دروس و عبر:59)

موجودہ حالات میں پیغام :

اس وقت مسلمان دنیا کے چپے چپے میں ظلم و زیادتی کا شکار ہیں ،عداوت و دشمنی کے تاریک ماحول میں پھنسے ہوئے ہیں ،اور جان ومال ،عزت و آبرو،اسباب و وسائل تمام پر دشمنوں کے قبضے میں ہیں ،تذلیل و تحقیر کا درد انگیز سلوک کیا جارہا ہے ،فلسطین کے معصوم بچے ، بے قصور نوجوان ، عفت مآب عورتیں ،بوڑھے مرد سب ظلم کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں ،ملک شام میں خون ِ مسلم کی ارزانی کا دردناک منظر ہے ،ہنستے چہکتے گھروں کو ویران و قبرستان بنایا جارہا ہے، لاکھوں مسلمان مرد و عورت ، جوان و بوڑھے قتل و خون کے سفاکانہ کھیل میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں ،ہندوستان کی سرزمین بھی مسلمانوں کے لئے نت نئے آفتوں کو پھیلانے کے درپے ہیں ،نوجوانوں پر الزامات عائد کر کے ان کی زندگیوں کو اجیرن بنایا جارہا ہے ،وطن عزیز کو خاص رنگ میں رنگنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے ،مسلمانوں کے دین وشریعت پر ناروا حملے کئے جارہے ہیں ،عائلی قوانین کو کالعدم کرنے کی سازش کی جارہی ہے ،یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے اور طلاق وغیرہ کو بہانہ بناکر اور گاؤکشی کے عنوان پراسلام اور مسلمانوں کے خلاف ظلم وتشدد کیا جارہاہے ۔

لیکن واقعہ معراج ان جاں گسل حالات میں ،اور ان حوصلہ شکن ماحول میں بھی امید و یقین کا پیغام دیتا ہے ،اور سربلندی و عروج کی خدائی منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔کیوں کہ جب ایمان والے دین حق پر استقامت کے ساتھ جمے رہیں گے اور حالات کا مقابلہ کرتے رہیں گے وہ پھر وہی خدائی قدر ت پستیوں سے نکال کر سربلندیوں پر پہنچائے گی ، جن کوذلیل و حقیر سمجھاجاتا رہا ان کے سر عزت و وقار کا تاج رکھے گی ،اور جن کو مٹانے کی کوشیں کی جاتی رہیں ان ہی کے وجود سے دنیا کے نقشے کو بدلے گی ،ظلم کا خاتمہ ہوگا، ناانصافیوں کا دور ختم ہوگا ، حقوق تلفی کا بازار سرد پڑے گا،قتل و خون کا میدان ٹھنڈا ہو گا ،بقول فقیہ العصر حضر ت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کہ :معراج کا واقعہ مسلمانوں کی دلداری اور طمانیت کا سامان ہے کہ وہ مصیبت اور مایوس کن حالات کی وجہ سے حوصلہ نہ ہاریں ،بلکہ اس طرح کے واقعات ان کے پائے استقامت کو مضبوط تر کرتا چلائے اور خدا پر ان کا یقین بڑھتا جائے کہ جیسے رات کی تاریکیوں سے صبح کی پو پھٹتی ہے ،اسی طرح باطل کے غلبہ وظہور کے بعد حق ایک نئی آب وتاب کے ساتھ دنیا کی ظلمتوں پر چھا جاتا ہے ۔۔۔( پیام ِ سیرت:119)شرط یہی ہے کہ ایمان و یقین اور استقامت کے ساتھ دین متین پر قائم رہیں ،اور شریعت و سنت کی تعلیمات پر دل وجان سے عمل پیرا ہوں تو انشاء اللہ عروج و سربلندی خدائی وعدہ ضرور بالضرور اس دور میں بھی پورا ہوکر رہے گا۔

 نور ِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

 پھونکوں سے یہ چراغ بجھایانہ جائے گا

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close