تاریخ و سیرت

معراج مصطفی ﷺ

محسن انسانیت ﷺکایہ درس معراج ہے کہ آپﷺنے کل انسانی اخلاقیات و معاملات کوان کی معراج تک پہنچایا۔صدیاں گزرجانے کے بعد بھی اوربے شمارتجربے کرچکنے کے بعد بھی انسانوں نے اس معراج مصطفی میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔علوم معارف نے کتنی ترقی کرلی،سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان انسان خوابوں سے بھی آگے نکل گیا،رابطوں کی ترقی نے کرۃ ارض سمیٹ دیالیکن اس سب کے باوجود جس جس معراج کا تعین رحمۃ اللعالمین نے کیااس میں کسی طرح کااضافہ ممکن نہیں ہوسکااورنہ قیامت تک ہو سکے گاکیونکہ آپﷺ معراج کی جن بلندیوں تک پہنچ گئے اس سے آگے کوئی مقام ہی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

رسول اللہ ﷺ امن و آشتی کے پیغامبر

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کے خلاف جارحیت نہیں کی۔ مکہ معظمہ میں ہجرت سے قبل تو دعوت و تبلیغ اور تربیت و تزکیہ ہی کا دور تھا۔ حکم ربانی تھا: کُفُّوْا اَیْدِیَّکُمْ ؛ یعنی ’اپنے ہاتھ روکے رکھو‘۔ اہل اسلام مظالم برداشت کر رہے تھے مگر صبر و تحمل کے ساتھ! ظلم کی چکی میں پس رہے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع خاموش تھے!! حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ تلوار نکالی تھی مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نیام میں ڈالنے کا حکم دیا تو سر تسلیم خم کرلیا اور پھر اس وقت تک اسے نیام سے نہ نکالا جب تک اللہ تعالیٰ نے قتال کی اجازت نہ دی۔

مزید پڑھیں >>

رسولِ رحمتؐ اور حقوقِ نسواں

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس معاشرے میں مبعوث ہوئے وہ مکمل طور پر ’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘ کا نمونہ پیش کرتا تھا۔ طاقت ور قبائل اپنے سے کمزور قبائل کو دبالیتے اور ان کے حقوق سے انھیں محروم کر دیتے۔ اسی طرح شخصیات کا معاملہ تھا۔ جو شخص جتنی قوت اپنے پاس رکھتا تھا، اتنا ہی معتبر، معزز اور قابل احترام شمار ہوتا تھا۔

مزید پڑھیں >>

معراجِ مصطفی ﷺ اور تحفۂ معراج نماز

سفر معراج حضور نبی اکرم ﷺ کا وہ عظیم معجزہ ہے جس پر انسانی عقل آج بھی حیران ہے۔ انتہائی کم وقت میں مسجدِ حرام سے بیت المقدس و سدرۃ المنتہیٰ تک لمبی مسافت طے ہوجاتی ہے۔ قرآن کریم اس کا ذکر ان الفاظ میں کرتاہے۔ ترجمہ: (ہر عیب سے )پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو راتوں رات کے قلیل حصہ میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک۔ بابرکت بنا دیا ہم نے گردو نواح کو تاکہ ہم دکھائیں اپنے بندے کو اپنی قدرت کی نشانیاں ۔ بے شک وہی سب کچھ سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔

مزید پڑھیں >>

محسن انسانیتؐ کا عدل و احسان

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کئی مرتبہ مجمع عام میں اعلان فرمایا کرتے کہ کسی شخص کو آپؐ کی وجہ سے تکلیف پہنچی ہو یا کسی کا قرض آپؐ کے ذمے ہو، جو یاد نہ رہنے کی وجہ سے آپؐ ادا نہ کرپائے ہوں تو وہ آپؐ سے وصول کرلے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی عمل کا اثر تھا کہ خلفائے راشدین خود کو اپنی رعایا کے سامنے ہمیشہ احتساب کیلئے پیش فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے بارے میں کئی واقعات مؤرخین نے مستند حوالوں سے نقل کئے ہیں کہ آپؓ جب اپنے آپ کو عوام کے سامنے احتساب کیلئے پیش فرماتے تو لوگ بغیر کسی جھجک کے اپنا مافی الضمیر بیان کرتے۔

مزید پڑھیں >>

اے نام محمدؐ صلِّ علٰی

عورت کو معاشرے نے بے وقعت بنا کر رکھ دیا تھا۔ بیٹی عار سمجھی جاتی تھی۔ بے چاری عورت ذات کو محض ذریعہ تعیش و شہوت رانی گرداناجاتا تھا۔ اسلام نے عورت کو اس کا صحیح مقام و مرتبہ اور عزت و احترام دے کر سر بلند کر دیا۔ اسے ماں ، بیٹی، بہن، بیوی ہر حیثیت میں محترم قرار دیا۔ عورت کی عزت محض اسلامی نظام اور شریعتِ مطہرہ ہی میں محفوظ و مامون ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

قیامِ دارالعلوم دیوبند وعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی

1857ء کے بعد کے ہنگامہ خیز اورانتہائی پرآشوب دور میں جب مسلمانوں کی سلطنت بالکل ختم ہوچکی تھی،مسلمانوں کی عزت ووقار خاک میں مل چکے تھے،اورہندوستانی مطلع پر ان کے لئے سیاہی کے سواکچھ نہ تھا۔دہلی کے لال قلعہ پر اسلامی پرچم کے بجائے یونین جیک لہرارہاتھا اورکھلم کھلا عیسائیت کی تبلیغ کادوردورہ تھا۔مسلمان اقتصادی پریشانیوں کا شکارتھے،انکے اوقاف اورمدارس ختم ہوگئے تھے،دہلی کی آخری درسگاہ تک بندہوچکی تھی،انہیں حالات میں جنگ آزادی کے دس سال بعد ۱۸۶۷؁ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد پڑی۔1؎

مزید پڑھیں >>

آنحضرت ؐ کا اپنے رفقاء کے ساتھ برتاؤ (قسط اول)

کسی عقیدہ اورمقصدپرمسلمانوں کوجمع کرلیناکوئی آسان کام نہیں، لیکن کہیں زیادہ مشکل کام اُن کوجمع رکھنے کاکام ہے۔ یعنی اُن کوایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرنا، شیرازہ بندی کرکے ایک وحدت بنادینا، مزاج میں ہم آہنگی پیداکرنا، جذب ولگن کوبرقراراورزندہ رکھنا، سردوگرم میں اپنے مقصدپرقائم رکھنااوراپنی راہ پرآگے بڑھانا۔افتراق وانتشارہراجتماعی وحدت میں آسانی سے گھس کراس کوکمزورکردیتے ہیں۔اورایک قائد کاکمال یہ ہے کہ وہ دعوت پرلبیک کہنے والوں کودعوت پرمجتمع رکھے۔

مزید پڑھیں >>

دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک : (سیرت رسول ﷺ کی روشنی میں ) (چوتھی قسط)

تحریر: عبدالرب کریمی… ترتیب: عبدالعزیز فتحِ مکہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان 8ہجری میں دس ہزار کی فوج لے کر مکہ کیلیے روانہ ہوئے۔ مکہ سے ایک منزل کے فاصلے پر مر الظہران میں آپؐ نے اپنے ساتھیوں کے …

مزید پڑھیں >>