تاریخ و سیرت

تاریخ کا سبق

یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہم نے آج تک ہٹلر کو کبھی برا کہا نہ لکھا۔ ہم نے ہٹلر کا ہمیشہ دفاع کیا۔ہٹلر کوئی صاحب ایمان نہ تھا کہ ہم اس می، مومنو، کی صفات ڈھونڈی۔ وہ ایک حکمرا، تھا اور بوجوہ اسے Totaliterian حکومت چاہئے تھی۔اور آج صاحب ایمان سعودی والے بھی ایسے ہی حکومت چلا رہے ہی،۔ پھر یہ صحیح اور وہ غلط کیو، ؟ہٹلر سے ہماری ہمدردی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جرمنی کا ڈکٹیٹر حکمرا، ہونے کے باوجود تاریخ می، وہ انہی لوگو، کا ستایا ہوا ہے جن کے ستائے ہوئے نہ صرف ہم ہی، بلکہ اب تو ساری دنیا ہی ان کی ڈسی ہوئی ہے۔گذشتہ نصف صدی سے ہم دیکھ رہے ہی، کہ ہم من حیث القوم اس کے لئے روتے نہی، تھکتے کہ یہودی ہر طرح سے مسلمانو، کو اور اسلام کو بدنام کر رہے ہی۔

مزید پڑھیں >>

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن و حدیث کی روشنی میں (قسط چہارم)

بے شک ! جناب عیسیٰ ابن مریم کے علاوہ انبیا ء میں سے کسی بھی نبی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا ہے کہ انہیںآسمان کی طرف اٹھا لیا گیا ہو۔آپ کی روح زمین اورآسمان کے مابین قبض کی گئی تھی۔ پھر آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا اور آپ کی روح پلٹادی گئی جیسا کہ اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:’’یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک الی‘‘اور جب خدانے فرمایا : اے عیسیٰ ! ہم دنیا میں تمہارے قیام کی مدت کو پورا کرنے والے ہیں اورتمہیں اپنی طرف اٹھانے والے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

رسول اللہ ﷺ کی شانِ رحمت

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں  ارشاد فرمایا: وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین۔ اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا سوائے تمام جہانوں  کے لئے رحمت۔ قرآن کریم کی اس آیت میں  اللہ تعالی نے اپنے محبوب ﷺ کی اس قدر عظمت کا ذکر کیا ہے جس کا اندازہ اور احاطہ انسانی عقل سے ماورا ہے۔ اللہ تعالی نے جب اپنی ربوبیت کا اعلان فرمایا تو ارشاد فرمایا: الحمد للہ رب العالمین۔ تمام تعریفیں  اللہ تعالی کے لئے ہیں  جو مالک تمام جہانوں  کا۔ 

مزید پڑھیں >>

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن و حدیث کی روشنی میں (تیسری قسط)

اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی یہ ارض کربلا ہے جو مقدس اور بابرکت جگہ ہے اور زمین کا وہ حصہ ہے جہاں سے جناب موسیٰ کوایک درخت کے ذریعہ ندا دی گئی تھی۔یہ ایک پہاڑی ہے جہاں جناب مریم و عیسیٰ نے پناہ لی تھی۔ وہاں ایک ندی ہے جہاں امام حسین علیہ السلام کے سر اقدس کودھلا گیا۔وہی پر جناب مریم نے جناب عیسیٰ کو دھلا تھا اور ان کی ولادت کے بعد انہیں غسل کیا تھا۔ یہ ایک بہترین جگہ ہے جہاں سے رسول اللہ کو معراج ہوئی تھی۔ یہ زمین اس وقت تک پاک وپاکیزہ رہے گی جب تک ہمارے شیعوں کے آخری امام، حضرت مہدی ظہور نہ ہوجائے۔

مزید پڑھیں >>

نبی رحمت ﷺ کی دعائیں دشمنوں کے لئے

طائف کے ان بدبخت لوگوں نے اپنے اس معزز و مکرم مہمان کو اپنے یہاں سے اس طرح رخصت کیا۔ نبی رحمت ﷺ جب طائف شہر کے باہر پہنچے تو آپ کا دل ان کے ظالمانہ سلوک سے از حد مغموم تھا۔ سارا جسم زخموں سے بھرا تھا۔ جسم مبارک سے خون بہہ رہا تھا۔ قریب ہی ایک باغ تھا۔ آپ ﷺ اس میں تشریف لے گئے اور انگور کی ایک بیل کے نیچے بیٹھ گئے۔ نبی رحمت ﷺ نے جو مناجات اس وقت اپنے رحیم و کریم رب کی بارگاہ میں کی اسے باربار پڑھئے، غور کیجئے، شاید آپ ﷺ کی رفعتوں کا کچھ اندازہ ہوسکے۔ دیکھئے، پڑھئے سیرت کی کتابیں ۔

مزید پڑھیں >>

فرانسسکو پزارو کے شہر میں!

یوں لاطینی ہسپانوی ثقافت باقی یورپ کے مقابلہ میں ایسے جمود کا شکار ہوئی کہ اب مسلم ثقافت سے ہی اس زوال کا موازنہ کیا جاسکتا ہے اور عجب یہ کہ دونوں ایک ہی فکری مغالطہ کے اسیر ہوئے کہ دنیا میں کامیابی درست عقیدہ اور نیک مذہبی اعمال سے مشروط ہے اس طرح دونوں تہذیبوں میں سیکولرزم کا دروازہ سختی سے بند ہوگیا۔ شام کے سائے بڑھنا شروع ہوئے تو سیلانی نے بھی تُریخییو سے رخت سفر باندھا باقی رہے نام اللہ کا۔

مزید پڑھیں >>

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن و حدیث کی روشنی میں (قسط دوم)

ایک مرد شامی نے امام علی علیہ السلام سے ان چھ مخلوقات کے بارے میں سوال کیا جو رحم ماد ر میں نہیں رہیں تو امام علیہ السلام نے فرمایا :آدم و حوا، جناب ابراہیم کا دنبہ،جناب موسیٰ کا عصا، جناب صالح کی اونٹنی، اور وہ چمگاڈر جسے جناب عیسیٰ نے مٹی سے بنائی اور وہ اذن پروردگا ر سے اڑگئی۔

مزید پڑھیں >>

حضور ﷺ نے انسانیت کو کیا دیا؟

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امن و عدل پر مبنی حکومت کی داغ بیل ڈالی ،معاشرت و حکومت میں ہم آہنگی،معیشت ومملکت میں پختگی ،نوجوانوں کی بے کاری و بے روزگاری کے بجائے محنت وجد وجہد اور ایمانداری کی رزق کا بندوبست ،ساتھ ہی صنف ضعیف کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا ،جہاد واجتہاد کی گرماہٹ رگوں میں دوڑادی اورعلم جہاد کے علاوہ جنگ و جدل اور قتل و غارت گری کو حرام قرار دیا،حلت و حرمت کی تمیز اور خدا پرستی کے ساتھ انسان دوستی ،خود اعتمادی اور عمرانی صلاحیت میں مقام رشک تک پہونچادیا،

مزید پڑھیں >>

 حضرت عیسیٰ علیہ السلامؑ قرآن و حدیث کی روشنی میں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے نبی، رسول اور اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں ۔آپ کا اکرام و احترام عیسائی بھی کرتے ہیں اور مسلمان بھی۔ بلکہ قرآن کی روسے آپ پر ایمان و اعتقاد واجب و لازم ہے۔ آپ کی شخصیت کا ذکر قرآن مجید میں تفصیل کے ساتھ ملتاہے اور اسی طرح انجیل میں بھی آپ کا تذکرہ موجودہے۔انجیل اور اسرائیلیات سے متاثر ہوکر بعض مسلم کتابوں میں آپ کے سلسلے سے کچھ ایسے واقعات و حالات بیان کئے گئے ہیں کہ جس سے مقام نبوت و رسالت کی کسر شان ہی نہیں بلکہ توہین انبیا ء شمار ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

عہدنبویؐ میں نظام تشریع و عدلیہ 

سوال کا پہلا جزو غلط ہے کیونکہ اسلامی مملکت میں غیر مسلموں پر اسلامی قانون نافذ نہیں کیا جاتا۔ عہد نبوی میں قرآن مجید کے احکام کے تحت ہر مذہبی جماعت کو (عیسائیوں ، یہودیوں وغیرہ ) کو داخلی خود مختاری حاصل تھی، عقائد اور عبادات ہی کے متعلق نہیں بلکہ قانون و عدلیہ کے متعلق بھی۔ غیر اسلامی ممالک میں ایک مسلمان پر ایک غیر اسلامی قانون نافذ ہوگا۔ یہ نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن چونکہ غیر اسلامی ممالک اس رواداری اور فرخ دلی کا مظاہرہ اب تک نہیں کرسکے جو اسلام میں ہے کہ ہر قوم کو داخلی خود مختاری دی جائے لہٰذا اگر ہم غیر مسلم علاقے میں رہنا چاہیں تو یہ سوچ اور سمجھ کر، معلومات حاصل کرکے رہیں ، کہ ہم پر وہاں یہ پابندیاں عائد ہوں گی۔ لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مثلاً ایک فرانسیسی، ایک جرمن آج کیا کرے؟ ظاہر ہے کہ اگر اسے آپ ہجرت کراکے اپنے ملک میں بلانا چاہیں تو دنیا کے کتنے ملک ہیں جو آج اس پر آمادہ ہوں کہ غیر ممالک کے لوگ جب چاہیں ، یہاں پر بس جائیں ۔ اس دشواریوں کا سوائے اس کے جواب دیا جائے۔

مزید پڑھیں >>