تاریخ و سیرت

حضرت شیخ الہندؒ کا تصورِ فلاحِ امت

 بعض شخصیتیں اتنی قدآوراوراپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے اِس قدر وسیع الجہات ہوتی ہیں کہ زمانے کی نگاہیں ہزار کوششوں اور دعووں کے باوجودان کے اصل مقام و مرتبے کاصحیح اندازہ نہیں لگاپاتیں، یہ الگ بات ہے کہ احوال، اوقات اورمقامات کے حسبِ حال ان کی کوئی ایک صلاحیت زیادہ نکھر کر سامنے آجاتی اور اسی کی حیثیت سے معاصرین میں اُن کی شناخت کی جاتی ہے، اسلامی تاریخ میں کئی ایسی شخصیتیں ہیں، جنھیں بعض خاص علمی یاعملی شعبوں میں نمایاں کارناموں کی وجہ سے اُن ہی شعبوں کے ساتھ خاص کردیا گیا ؛حالاں کہ ان کے علوم و افکار کی بے کرانی اس سے کہیں زیادہ کی متقاضی تھی۔

مزید پڑھیں >>

شافع الامم کی شفاعت

  شفاعت و رحمت و مقام محمود کی بے شمار احادیث موجود ہیں۔ خوش عقیدہ مسلمان کے لئے اتنا ہی کافی وشافی ہوگا جو منکرین شفاعت ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت نصیب فرمائے۔ شہنشاہ زمن استاد زمن حسن بریلوی فرماتے ہیں۔ دشمنوں کے لیے ہدایت کی۔ تجھ سے کرتا ہوں التجا یا رب، اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں اور تمام خوش عقیدہ ایمان والوں کو حضور شفیع المذنبیین شافع الامم کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین !۔

مزید پڑھیں >>

جانوروں کے ساتھ نبی کریم کا کریمانہ برتاؤ

آپ  نے قدم بقدم جانوروں کے ساتھ رحم وکرم کاحکم دیا ہے، نہ صرف گھریلو اور پالتو جانوروں بلکہ غیر پالتو جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تاکید کی ہے، نقصان دہ ضرر رسان جانوروں کو بھی کم مار میں مارنے کا حکم دیا ہے اور مذبوحہ جانوروں کے ساتھ بھی بے رحیمانہ سلوک سے منع کیا ہے اور جانوروں پر بوجھ کے لادنے اور سواری میں بھی ان کے چارہ پانی کی تاکید کی ہے اور زیادہ بوجھ لادنے اور زیادہ افراد کے سوار ہونے سے منع کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

خادموں  کے ساتھ حسنِ سلوک

اللہ عزوجل نے اس کارخانۂ دنیا کے نظام کو چلانے اور انسانی ضروریات کی آپس میں  تکمیل کے لئے خود انسانوں  کے مابین فرقِ مراتب رکھا ہے، کوئی حاکم ہے تو کوئی محکوم، کوئی آقا ہے تو کوئی غلام، کوئی بادشاہ ہے تو کوئی رعایا، کوئی غنی ہے تو کوئی فقیر؛ لیکن انسانوں  کے مابین یہ فرقِ مراتب اور یہ درجات اور مقام کے لحاظ سے یہ اونچ نیچ صرف اس لئے ہے کہ ہر ایک کی ضرورت کی تکمیل دوسرے سے ہوجائے.

مزید پڑھیں >>

انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟

قرونِ مشہود لہا بالخیر کے لوگوں کی زندگیوں کا جائزہ لیجئے، ہر ایک کے یہاں اتباع سنت کا اہتمام ملے گا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی زندگی انقلاب سے آشنا ہوئی، آج کا مسلمان سیرت کی اثر انگیزی سے اس لیے محروم ہے کہ اس میں اتباعِ رسول اور اسوۂ حسنہ کی پیروی نہیں ہے، صحابہ سے لے کر تابعین سلف ِ صالحین اور اولیائِ امت نے سیرت کو عملی زندگی میں اپنانے پر زور دیا ہے، تو پھر کیا ہم اسوۂ رسول کو اپنا کر اپنی زندگیوں کو انقلاب سے آشنا کریں گے۔

مزید پڑھیں >>

سیرت نبوی کا ایک اہم باب : غزوۂ احد

قرآن کریم میں کفار کی ہٹ دھرمی اور سرکشی کی مثالیں بھری پڑی ہیں۔ غزوۂ بدر میں شکست کھانے کے بعد کفار مکہ نے بھی اسی سرکشی کا مظاہرہ کیا۔ سلیم الفطرت ہوتے تو ہرطرح طاقت ور ہونے کے باوجود حاصل ہونے والی شکست کے اسباب پر غور کرتے۔ اپنے سنجیدہ اور سلجھے ہوئے لوگوں سے رائے مشورہ کرتے۔ لیکن کہاں ؟ وہ تو سرکشی اور دشمنی کی حدیں پارکرگئے تھے۔

مزید پڑھیں >>

کیا سلطان محمود غزنوی لٹیرا حکمران تھا؟

اگر غزنوی اور دیگر مسلم۔ حکمرانوں نے مندر ہی توڑے ہوتے تو 700 سالوں میں انڈیا میں ایک بھی ہندو نہ ہوتا۔ چھوٹا سا برما ہے اس میں بھی قلیل مسلمان موجود ہیں انہیں نہیں چھوڑا جا رہا۔ 700 سالوں میں تو ہندووں کا وجود ختم ہو جاتا۔ لیکن تاریخ کے حقائق آج بھی وہاں ہندو اکثریت میں موجود ہیں اور کئی قدیم مندر بھی موجود ہیں ۔ غزنوی پہ اعتراض کرنے والوں کی  بابری مسجد کی شہادت پہ   رائے نہیں آتی۔منافقت اور دوغلا پن اسے کہتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کیا برطانوی دور ہندوستان کا سنہری دور تھا؟

عام ہندوستانی کو ٹرین کے اعلی طبقات میں سفر کرنے کی اجازت نہیں دے جاتی تھی، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں سوار انگریز صاحب یا مدام کی نازک اداؤں کو ہندوستانی کی کسی حرکت سے نفرت ہو.  ,ایک ہندوستانی کے مطابق ہندوستانیوں کے لیے مخصوص ریل کے طبقات گندگی سے بھرپور ہوتے تھے جن پہ کئ انچ موٹی مٹی کی تہہ جمی تھی اور نہیں لگتا تھا کہ ریل کے اس طبقے نے کبھی صابن یا پانی دیکھا ہے. 

مزید پڑھیں >>

بچوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا مشفقانہ سلو ک

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ، عبیداللہ اور کثیر، جو کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادگان، تھے کو ایک صف میں کھڑا کرتے اور فرماتے کہ جو میرے پاس پہلے آئے گا، اسے یہ یہ ملے گا، چنانچہ یہ سب دوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، کوئی پشت پر گرتا اور کوئی سینہ مبارک پر آکر گرتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پیار کرتے اور اپنے جسم کے ساتھ لگاتے

مزید پڑھیں >>

محمد مصطفی ﷺ کی شان میں گستاخی سنگین جرم ہے

رسول اللہ  ﷺ شان نبوت میں گستاخی کرنے والے بعض مردوں اور عورتوں کو بعض مواقع پر قتل کروایا کبھی صحابئہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کو حکم دے کر اور کبھی انہیں پوری تیاری کے ساتھ روانہ کرکے کبھی کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے گستاخ رسول کے جگر کو چیر دیا کبھی کسی صحابی نے نذر مان لی کہ گستاخ رسول کو ضرور قتل کروں گا۔

مزید پڑھیں >>