خصوصیہندوستان

قانون کی حکمرانی اور منصف مزاجی ملک کی ضرورت ہے

عمیر کوٹی ندوی

بہت خوب ، بی جے پی صدر امت شاہ نے  یہ کہہ کر کہ  "یہ اقلیتی نوجوانوں میں خوف پیدا کرنے کے لئے کیا جارہا ہے” موجودہ حالات سے پریشان لوگوں کی ناراضگی کو نیا جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔امت شاہ کا گوا میں دیا گیا انٹرویو  دراصل حالیہ پرتشدد واقعات،  ہجوم کی غنڈہ گردی اور ہجوم کے ذریعہ قتل  کی موجودہ روش  کی مذمت، بیانات،  ملکی پیمانے پر ہونے والے احتجاج اور مظاہروں کو نئے معنیٰ پہنانے کی ایک کوشش کی ہے۔ یہ عمل گنگا کو الٹی سمت میں بہانے نہیں بلکہ بہانے کی کوشش کرنے کے مترادف ہے۔

حالانکہ بے قابو بھیڑ جو ملک کے مختلف علاقوں میں خاص طور پر گئورکشا کے نام پر غنڈہ گردی کررہی ہے اور بلا خوف لوگوں کو قتل کرتی پھر رہی ہے، بات اس  عمل کے مذمت کی ہونی چاہئے تھی، اس کے خلاف کارروائی کی ہونی چاہئے تھی، بات اس کی ہونی چاہئے تھی کہ اس کے اندر اس قدر بےخوفی اور جرات کہاں سے آئی۔لیکن بات کی جارہی ہے مذمت کرنے والوں کی، مظاہرہ کرنے والوں کی اور کہا جارہا ہے کہ یہ لوگ اقلیتی نوجوانوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ موصوف، ان کی پارٹی، سرپرست تنظیم اور ہم خیال جماعتیں اور تنظیمیں جس فکر ونظریہ کی حامل ہیں اس کے نزدیک خرد کا جنوں اور جنوں کا خرد  نام رکھ دینا، کسی بھی معاملہ کو نئے رنگ میں رنگ دینا، کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس میں انہیں مہارت حاصل ہے، ہمارا ملک اور یہاں کے عوام رات ودن اس کا مشاہد ہ ہی نہیں کرتے بلکہ بھگتّےرہتے ہیں۔

بات  بہت پرانی نہیں  بلکہ حالیہ ماہ وایام اور انہیں تین برسوں  کے درمیان کی ہے جن کے گزرنے پر موجودہ حکمراں طبقہ کی طرف سے جشن منایا گیا اور یہ سلسلہ اب بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ اسی درمیان میں ملک کے عوام نے وہ ماہ وایام بھی دیکھےہیں جب  لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی سلب ہوتی ہوئی نظر ائی۔ اظہار خیال کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی ہوتی ہوئی نظر آئی۔اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو نشانہ بنایا جانے لگا۔  روہت ویمولا خودکشی معاملہ اور متعدد قتل کے واقعات بھی رونما ہوئے۔

سب جانتے ہیں کہ یہ سب بھیڑ کے ذریعہ ہو رہا تھا ،کرایا جارہا تھا۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس نظریہ اور فکر کا بھیڑ سے قریبی تعلق ہے اور بھیڑکو استعمال کرنے اور اس پر قابو پانے میں اسے مہارت حاصل ہے۔ اس  کا تجربہ اس کے ذریعہ سے بار بار ہوتا رہتا ہے، لہذا اس وقت بھی  کارروائی اس بھیڑ  کے خلاف نہیں ہوئی ، کارروائی ہوئی ان کے خلاف جنہوں نے اس ماحول اور روش کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کے خلاف دیش دروہ ،ملک سے بغاوت’ sedition’ کا چارج لگایا گیا اور اقتدارکےنشہ میں چورہوکرآئینی طورپرتسلیم شدہ اس جمہوری اورسیکولرملک کوہندوراشٹربنانےکااعلان کرنےوالوں کو حکمراں طبقہ کی رفاقت حاصل ہونے لگی۔ حکمراں طبقہ کی اسی رفاقت یامخالفت کی بنیادپرملک کےعوام کی پیشانیوں پر”محب وطن "اور "غداروطن”کےاسٹیکرچسپاں کرنےکی کوشش کی جانے لگی اوراس کام میں قدم قدم پر ان لوگوں کو انتظامیہ کاساتھ ملا۔ حکمراں طبقہ کی غلط روش کے خلاف آواز بلند کرنے والے جے این یو کے طالب علم کے بارے میں مرکزی وزیر  راجیو  پرتاپ روڈی  نے یہاں تک کہہ دیاتھا کہ  ” کنہیا  کمار  ایک ‘گمراہ’  شخص ہے ‘ہیرو’  نہیں ہے”۔

اب جو حکمراں پارٹی کے صدر بھیڑ کے ذریعہ کی جانے والی قتل وغارت گری اور غنڈہ گردی کے خلاف بلند ہونے والی آواز کو "خوف پیدا کرنے "کی کوشش سے تعبیر کررہے ہیں تو اس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے بلکہ انہوں نے سابقہ روش کو ہی آگے بڑھایا ہے۔ اسی کے ساتھ ان کی طرف سے ایک کوشش اور بھی کی گئی ہے۔ وہ یہ کہ اپنے چہرے کی سیاہی کو صاف کرنے کے بجائے  سابقہ حکومت  کے دوران پر تشدد واقعات کا حوالہ دے کر اس کے چہرے کی گندگی کو نمایاں کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ اس کی زبان بند کی جاسکے۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ مودی حکومت سے زیادہ یو پی اے حکومت میں بھیڑ کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں۔”2011ء سے2013ء کے درمیان جتنے واقعات ہوئےاتنے گزشتہ تین برس کے درمیان نہیں ہوئے……پھر بھی اس وقت زیادہ ہنگامہ کیا جارہا ہے، جب کہ یوپی اے کے دور میں کوئی نہیں بول رہا تھا”۔

اپنے انٹرویو میں ایک بہت اہم لیکن خلاف واقعہ بات اور کہی وہ یہ کہ "مودی حکومت میں جو بھی حملے ہوئے ہیں ان کے خلاف کارروائی بھی ہوئی ہے”۔ حالانکہ حقیقت واقعہ اس کے برعکس بیان کی جارہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں بھی یہی کہہ رہی ہیں ، ملک کے سنجیدہ ہوشمند شہری بھی یہی کہہ رہے ہیں اور اب تو ملک کے انصاف پسند اہل علم کے ساتھ ساتھ حق پسند سابق آئی ایس افسران نے بھی یہی بات کہہ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "گئو رکشک پورے تحفظ میں کام کررہے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ انہیں ریاستی انتظامیہ سے پروٹیکشن ملا ہوا ہے”۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ سابق آئی ایس افسران نے یہ بات بیان، انٹرویو اور مضمون کی شکل میں نہیں کہی ہے اور نہ ہی اسے انہوں نے کسی جوش، غیض و غضب سے مغلوب ہوکر کہا ہے  بلکہ سوچ سمجھ کر باہم صلاح ومشورے کے بعدمشترکہ طور پر ملک کے وزیر اعظم کے نام تحریر کردہ مکتوب میں کہا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم کے نام تحریر کردہ اپنے کھلے خط میں کہا ہے کہ مشتعل قوم پرستی کے حالات بنتے جارہے ہیں، جس میں یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اگر آپ حکومت کے ساتھ نہیں ہیں تو آپ ملک کے مخالف ہیں۔ اس سے آئین اور قانون کا راج خطرے میں نظر آنے لگا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کیا کہ ملک کی یونیورسٹیوں میں عدم رواداری بڑھ رہی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا ہےکہ حیدرآباد اور جے این یو میں مساوات، سماجی انصاف اور آزادی کے مسئلے اٹھانے والوں پر انتظامیہ کے تحفظ میں حملے کرائے جارہے ہیں۔

سابق آئی ایس افسران کے وزیر اعظم کو تحریر کردہ کھلے خط کو دیکھتے ہوئے حکمراں پارٹی کے صدر کی یہ بات کیا کوئی معنیٰ رکھتی ہے کہ "مودی حکومت میں جو بھی حملے ہوئے ہیں ان کے خلاف کارروائی بھی ہوئی ہے” اہل خرد اسے خوب سمجھ سکتے ہیں اور اس کی صداقت کو بھی پرکھ سکتے ہیں۔ اس کی صداقت پر سوالیہ نشان تو کانگریس پارٹی کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجیوالا نے بھی لگا دیا  ہے۔ بلکہ انہوں نے تو اس سے بھی آگے بڑھ کر بی جے پی صدر پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ” امت شاہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان حملوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے”۔ انہوں نے کہا ہے کہ” اس وقت ملک میں جس طرح سے ‘لوک تنتر’ کے مقابلہ ‘بھیڑ تنتر’ کو فروغ ملا ہے اس پر خود صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے”۔

انہوں نے یوپی اے اور این ڈی اے حکومت  کے موازنہ کے جواب میں بتایا کہ” گزشتہ تین برس کے درمیان بے قابو بھیڑ کے 52 حملے ہوئے ہیں”۔ اس بحث میں الجھنے اور الجھانے کے بجائے کہ کس کے دور میں کتنے مظلوموں کی جان گئی اور کتنے ظالمانہ واقعات رونما ہوئے  اور ان واقعات سے اپنا دامن بچانےکی کوشش کرنے  کے بجائےاس پر غور کیا جانا ضروری ہے کہ کس طرح سے ملک میں "بھیڑ کی حکمرانی” کے بجائے "قانونی کی حکمرانی” قائم کی جائے اور کس طرح سے منصف مزاجی کو ملک میں عام کیا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close