فقہمذہبملی مسائل

مسجد کی زمین کی فروختگی یا تبادلہ: شریعت کے نظر میں

 مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

مسجدیں اللہ عزوجل کا گھر ہیں، جب زمین کے کسی حصہ پر مسجد کی تعمیر ہوجاتی ہےاور اس سرزمین پر بندگان خدا رب کے درباد میں سربسجود ہوکر عبادت انجام دے دیتے ہیں تو وہ پوری زمین عبادت گاہ بن کر قابل احترام بن جاتی ہے، اوراسے اللہ عزوجل سے خصوصی نسبت حاصل ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ زمین عام زمینوں کے بالمقابل افضل بن جاتی ہے، اوراس زمین پرمالک حقیقی اللہ کی دائمی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے، یعنی وہ چیز انسانی عارضی ملکیت سے نکل کراصل مالک کی طرف لوٹ جاتی ہے، اب اس جگہ مسجد کی عمارت قائم رہے یا منہدم ہوجائے، اس میں کوئی نماز پڑھے یا نہ پڑھے، اس جگہ بستی رہے یا وہ علاقہ ویران ہوجائے بہرحال وہ جگہ قیامت تک کے لئے مسجد ہی رہے گی حتی کہ جب قیامت قائم ہوگی تو تمام مسجدوں کی زمینیں فنا ہونے کے بجائےایک ساتھ مل جائیں گی اور جنت کاحصہ بن جائیں گی، حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نےفرمایا:

تَذْهَبُ الْأَرَضُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا الْمَسَاجِدَ، فَإِنَّهَا تَنْضَمُّ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ (معجم اوسط: ۴۰۰۹)

’’قیامت میں مسجدوں کے علاوہ ساری زمینیں فنا ہوجائیں گی، اورمسجدیں ایک دوسری سے مل جائیں گی‘‘

مسجد کی سرزمین کی اسی حیثیت کی وجہ سے اور اس پر اصل مالک حقیقی کی ملکیت کے ثابت ہوجانے کی وجہ سے اس میں کسی قسم کا تصرف : بیع، تبادلہ، ہبہ وغیرہ کا اختیار کسی انسان کو نہیں رہتا؛ کیونکہ وہ زمین اب کسی انسان کی ملکیت میں نہیں کہ اس پر اس کا تصرف نافذہواور اس پر فقہاء کاتقریبا اجماع ہےکہ اگر اس زمین پر مسجد باقی نہ بھی رہے اور ویران ہوجائے تو بھی اس کی شان مسجد یت باقی رہتی ہے، مشہور حنفی فقیہ علامہ حصکفی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :

ولو خرب ماحولہ واستغنی عنہ یبقی مسجد عند الامام والثانی ابدا الی یوم القیامۃ وبہ یفتی (در مختارمع الرد: ۴؍۳۵۸)

’’اگر مسجد کے اطراف کی جگہ ویران ہوجائے اور لوگوں کو اس کی حاجت باقی نہ رہے تب بھی امام اعظم اور امام ابویوسف علیہما الرحمۃ کے نزدیک وہ جگہ ہمیشہ قیامت تک مسجد باقی رہے گی، اور اسی پر فتوی ہے۔‘‘

 علامہ شامی لکھتے ہیں:

لوخرب ماحوله ولیس ما یعمر به وقد استغنی الناس عنه لبناء مسجد آخر فلایعود میراثا ولایجوز نقل ماله الی مسجد آخر سواء کانوا یصلون فیه اولا ( ردالمحتار : ۶؍۸۴۵، وکذا فی فتح القدیر ۶؍۵۱۲، والبحر : ۵؍۳۲۲)

’’ اگر مسجد خراب ہوگئی، اس کی تعمیر کے لئے کچھ ہے نہیں اور دوسری مسجد کے بن جانے کی وجہ سے لوگوں کو اس مسجد کی ضرورت بھی نہیں رہی پھر بھی وہ (جگہ) نہ وراثت میں لوٹے گی اور نہ ہی اس کے سامان کو دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز ہے، چاہے لوگ اس میں نماز پڑھتے ہوں یا نہ پڑھتے ہوں‘‘۔

الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:

جمهور الفقهاء على أن المسجد لا يباع، وفي هذا يقول الحنفية: من اتخذ أرضه مسجدا واستوفى شروط صحة وقفه لم يكن له أن يرجع فيه ولا يبيعه ولا يورث عنه، لأنه تجرد عن حق العباد وصار خالصا لله تعالى(الموسوعۃ الفقہیۃ: ۳۷؍۲۲۵)

’’جمہور فقہاء کا اتفاق ہے کہ مسجد بیچی نہیں جاسکتی، اس سلسلہ میں احناف کہتے ہیں کہ جس کسی نےاپنی زمین پر مسجد بنادی اور مسجدکے وقف کے صحیح ہونے کی ساری شرطیں پائی گئیں تو اب اس کے لئےاس بات کی اجازت نہیں ہے وہ اسے واپس لے اور وہ اسے بیچ نہیں سکتا اور نہ اس میں اس کا کوئی وارث ہوگا، اس لئے کہ وہ زمین بندہ کے حق سے نکل کر خالص اللہ تعالی کے لئے ہوگئی۔‘‘

مفتی سید عبدالرحیم لاجپوری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

جو جگہ ایک دفعہ مسجد کے حکم میں آجائے پھر اس کی عمارت رہے یا نہ رہے اس میں نماز پڑھی جاتی ہو یا نہ پڑھی جاتی ہو، وہ جگہ تا قیامت مسجد کے حکم میں رہے گی، اس کو بجز عبادت کے کسی اور کام میں استعمال کرنا درست نہیں ، اس کے کسی حصہ کو بیچنا، کرایہ پر دینا، رہن رکھنا یا اس کے ورثاء کو واپس کردینا جائز نہیں (فتاوی رحیمیہ : ۶ : ۹ )

 جب سے مسجد بنائی گئی ہے، اسی وقت سے یہ جگہ قیامت تک مسجد ہی رہے گی وہ جگہ نیچے تحت الثری تک اور اوپر آسمان تک مسجد کے حکم میں ہے( ایضا : صفحہ ۴۲۱)

یہاں یہ واضح رہے کہ فقہاء احناف میں سے امام محمد علیہ الرحمہ کی رائے ہے کہ اگر مسجد  ویران ہوجائے، اس کی عمارت منہدم ہوجائے اور اس کی ضرورت واستفادہ باقی نہ رہے تو اس مسجد کی زمین واقف کی طرف لوٹ جائے گی اور اگر واقف کا انتقال ہوچکا ہو تو اس کے وارثین کی طرف وہ زمین لوٹ جائے گی، اور اگر واقف کا کوئی اتہ پتہ نہ ہواور دیگر افراد اہل محلہ اسے فروخت کرکے کسی دوسری مسجد میں اس کو لگانا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔(رد المحتار: ۴؍۳۵۷، المحیط البرہانی:۶؍۲۱۱،فتح القدیر: ۶؍۲۱۹)

  علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ نے جامع الفتاوی سے بھی یہ نقل کیا ہے کہ اہل محلہ اور مسلمانوں کو اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ پرانی غیر آباد مسجد کو فروخت کرکے اس کی قیمت دوسری مسجد میں لگادیں۔(رد المحتار: ۴؍۳۵۷)

واقعات میں علامہ صدرالشہید نے لکھا ہے کہ اگر پرانی غیر آباد مسجد کو فروخت کرکے کسی نے اس سے حاصل ہونے والی رقم کو دوسری مسجد میں لگادیاتو یہ جائز ہوگا البتہ ہم فقہاء اس کا فتوی نہیں دیتے ہیں ۔(فتاوی خیریہ:۱؍۱۶۴، فتاوی رحیمیہ :۹؍۸۶)

 اس مسئلہ میں امام محمد ؒکے قول کو گرچہ کہ بعض فقہاء نے اختیار کیا ہے لیکن عام فقہاء احناف کے نزدیک فتوی امام محمدؒ کے قول پر نہیں ہے، صاحب النہر الفائق علامہ آفندیؒ، صاحب بحرعلامہ ابن نجیم ؒ نیز علامہ شامیؒ نے یہ وضاحت کیا ہے کہ مفتی بہ قول یہی ہے کہ مسجد کی زمین مسجد ہی رہے گی اور مفتی بہ قول امام ابویوسف ؒ کا ہی ہے کہ قیامت تک وہ زمین مسجد رہے گی، واقف یا اس کے وارثین کی طرف نہیں لوٹےگی اور اسے فروخت کرنا اور اس کو دوسری مسجد میں لگانا درست نہیں ہےاور اکثر مشائخ احناف اسی قول کے قائل ہیں اور علامہ ابن ہمامؒ نے اسی قول کو زیادہ مناسب قرار دیا ہے۔ ان الفتوی علی ان المسجد لایعود میراثا ولا یجوز نقلہ ونقل مالہ الی مسجد آخرسواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي، وأكثر المشايخ عليه مجتبى وهو الأوجه فتح.(رد المحتار: ۴؍۳۵۸، مجمع الانہر :۱؍۷۴۸)

البتہ علامہ شامیؒ نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ عام حالات میں ممکنہ حد تک تو امام ابویوسف ؒ کے قول پر ہی عمل کیا جائے گا، لیکن مخصوص احوال میں امام محمد کے قول پر عمل کرنے کی بھی گنجائش ہے، لکھتے ہیں :

 أنه يعمل بقول أبي يوسف، حيث أمكن وإلا فبقول محمد (رد المحتار: ۴؍۳۷۶)

’’جہاں تک ممکن ہوسکے امام ابویوسف کے قول پر ہی عمل کیا جائے گا بصورت دیگر امام محمد کے قول کو اختیار کیا جائے گا‘‘

علامہ شامی ؒ کے اسی قول کی روشنی میں ماضی قریب کے بڑے صاحب نظر عالم حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب لاجپوری علیہ الرحمہ ملکی قانون کی وجہ سے مسجد کی منتقلی سے متعلق فتوی میں لکھتے ہیں :

صورت مسئولہ میں حتی الا مکان مسجد کو اپنی حالت پر برقرار رکھنے کی سعی بلیغ کی جائے اور محفوظ کردی جائے کہ بے ادبی سے مصؤن اور محفوظ رہے، اگر سامان ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے دوسری مسجد کے لئے ہٹالیا جائے، اگر عمارت توڑ دئے جانے کا یقین ہو تو اسےبھی توڑ کر دوسری مسجد کے لئے رکھ لیا جائے اور اصل جگہ محصور کرلی جائے تاکہ بے حرمتی سے محفوظ رہ سکے، اگر مسجد کی زمین کو حکومت کسی حال بھی باقی رکھنا نہیں چاہتی ہوتو بصورت مجبوری ان کے ہاتھ فروخت کردینے کی گنجائش ہے، مگر اس صورت میں مسجد فروخت کرنے کی مثال قائم ہوجائے گی اور دوسری جگہ کی حکومتیں اور دوسری قومیں اس سے ناجائز فائدہ اٹھائیں گی، لہذا اگر نقصان قابل برداشت ہو تو فروخت نہ کرنا بہتر اور قرین مصلحت ہے۔۔۔ بحالت مجبوی اس کو منظور کیا جاسکتا ہے کہ اس جگہ کے عوض دوسری مسجد بنوادے۔ (فتاوی رحیمیہ : ۹؍۸۶)

بہر حال یہ ایک فتوی اور رائے ہے اور ماضی کے فقہاء میں سے بھی بعض نے اسے اختیار کیا ہے اس لئے اس رائے کو اگر کوئی ذاتی طور پر اختیار کرکے کوئی بات کہے تو ان پر لعن طعن کرنے سے بچنا چاہئے۔ البتہ یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ مندر کی تعمیر کے لئے کسی مسجد کی حوالگی پر مصالحت یقینا بہت قابل توجہ مسئلہ ہے، بالخصوص بابری مسجد کا قضیہ ایک عنوان ہے اور اس کے تحت ہزراوں مساجد ہیں اور اس موڑپر کوئی فیصلہ صرف ایک مسجد کے بارے میں نہیں بلکہ ان تمام مسجدوں کے بار ےمیں ہوگا جن کے حوالے سے بابری مسجد کے جیسے بے بنیاد دعوئے کئے جارہے ہیں یا کئے جاسکتے ہیں ۔اس پس منظر میں عام علماء امت اور دانشوران قوم کی رائے کی بڑی اہمیت معلوم ہوتی ہے اور امام محمد اور بعض فقہاء احناف کو چھوڑ کر مفتی بہ قول بلکہ امت کی اجماعی رائے کے مطابق تبادلہ یا فروخت کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہے۔

فقہاء احناف کی طرح فقہاء مالکیہ نے بھی بڑی صراحت کے ساتھ یہ تحریر کیا ہے کہ کسی زمین پر مسجد بننے کے بعد وہ جگہ ہمیشہ کے لئے مسجد بن جاتی ہے اور وہ جگہ ویران ہوجائے تو بھی اس کی یہ حیثیت ختم نہیں ہوتی ہے:

صاحب ارشاد السالک علامہ عبد الرحمن مالکی ؒ لکھتے ہیں :

لا يجوز بيع المسجد، وإن انتقلت العمارة عنه(ارشاد السالک: ۱۰۷)

’’مسجد کی زمین بیچنا جائز نہیں ہے اگر چہ کہ آبادی اس کے پاس سے منتقل ہوگئی ہو‘‘

علامہ ابوبکر کشناوی مالکیؒ لکھتے ہیں :

لا يجوز بَيْعُ المسجد مطلَقًا سواء خرب أم لأن وإن انتقلت العمارة عن محله إجماعًا (اسہل المدارک : ۳؍۱۰۴)

’’علی الاطلاق مسجد بیچنا بالاتفاق جائز نہیں ہے، چاہے وہ مسجد آباد ہو یا ویران ہواور چاہے اس محلہ سے آبادی منتقل ہوگئی ہو‘‘

اسی طرح فقہاء شوافع نے بھی لکھا ہے کہ مسجد وقف ہونے کے بعد وہ زمین ہمیشہ کے لئے اللہ کی ملکیت بن جاتی ہے اب اس کو بیچنا یااس میں کسی انسان کی ملکیت کو ثابت کرنے والا کوئی تصرف کرنا درست نہیں رہتا۔ شافعی فقیہ ابواسحاق شیرازی ؒلکھتے ہیں :

وإن وقف مسجداً فخرب المكان وانقطعت الصلاة فيه لم يعد إلى الملك ولم يجز له التصرف فيه لأن ما زال الملك فيه لحق الله تعالى لا يعود إلى الملك(المہذب : ۲؍۳۳۱، المجموع : ۱۵؍۳۶۱)

’’اگر مسجد وقف کیا، پھر وہ جگہ ویران ہوگئی اور اس میں نماز کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا تب بھی وہ زمین (وقف کرنے والےکی ) ملکیت میں نہیں لوٹے گی اور اس میں تصرف جائز نہیں ہوگا، اس لئے کہ جس چیزمیں اللہ کے حق کی خاطر ملکیت زائل ہوئی وہ چیز دوبارہ ملکیت میں نہیں لوٹتی۔‘‘

رہی بات فقہاء حنابلہ کی تو اس سلسلہ میں ان سے دو اقوال منقول ہیں :

ایک قول تو یہ ہے کہ اگر مسجد ویران ہو جائے، وہاں مسلمانوں کی آبادی ختم ہو جائے،آئندہ بھی اس کے آباد ہونے کی امید نہ ہو تو مجبوری کے درجہ میں اس کو فروخت کرنے کی گنجائش ہے، علامہ ابوالفرج عبدالرحمن حنبلی ؒ لکھتے ہیں :

فان قطعت منافعہ بالکلیۃ کدارانھدمت۔۔۔أو مسجد انتقل أھل القریۃ عنہ۔۔۔۔۔ جاز بیع البعض و!ن لم یمکن الانتفاع بشیء منہ بیع جمیعہ۔(الشرح الکبیر:۶؍۲۴۲)

’’اگر وقف کے منافع بالکلیہ ختم ہو گئے، جیسے کوئی مکان تھا، منہدم ہوگیا، یا مسجد تھی، اوراس آبادی کے مسلمان وہاں سے منتقل ہو گئے، تو اگر یہ ممکن ہو کہ اس کا کچھ حصہ بیچ کر بقیہ کی تعمیر کی جائے، تو کچھ حصہ کو فروخت کرنا جائز ہوگا، اور اگر اس سے بالکل نفع اٹھانا ممکن نہ ہو تو اس پورے کو بیچا جا سکتا ہے۔ ‘‘

لیکن عام فقہاء حنابلہ نے اس رائے کوقبول نہیں کیا ہے، اور اس رائے کو امام احمدؒ کا تفرد قرار دیا ہے؛ چنانچہ علامہ مرداوی حنبلیؒ (متوفی ۸۸۵ھ) جو فقہ حنبلی کے معتبر شارحین میں ہیں ، نے اس قول کو نقل کرتے ہوئے کہا ہے: ’’ ھو من المفردات‘‘ (الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف علی مذہب الامام احمد بن حنبلؒ۷؍۷۸)یعنی یہ امام احمد بن حنبلؒ کے تفردات میں سے ہے؛اس لئے اس قول کو بہت سے محقق فقہاء حنابلہ نے بھی قبول نہیں کیا ہے، اور اس بات کو ترجیح دی ہے کہ ویران مسجد میں جو قابل استعمال چیزیں ہیں ، صرف ان کو دوسری مسجد کو منتقل کرنے یا دوسری مسجد کو حوالہ کرنے کی گنجائش ہے۔

 رہی بات مسجد کی زمین کی تومتعدد فقہاء حنابلہ کا مختار اور راجح قول یہی ہے کہ اگرآبادی ختم ہوجائے تب بھی مسجد مسجد باقی رہے گی اور اسے بیچنے یا تبادلہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ علامہ علاء الدین مرداوی حنبلی ؒ لکھتے ہیں :

وعنه: لا يباع المساجد. لكن تنقل آلتها إلى مسجد آخر. ويجوز بيع بعض آلته وصرفها في عمارته(الانصاف: ۷؍۱۰۱)

’’امام احمدؒ سے مروی ہے کہ مسجدیں بیچی نہیں جا سکتیں ؛ البتہ اس کا سامان دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے، نیز ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بعض سامان فروخت کر دیا جائے، اور اسے اسی مسجد کی تعمیر میں خرچ کیا جائے‘‘

اسی قول کو حنابلہ میں سے ابومحمد جوزی ؒاور ابن موسیؒ نے اختیار کیا ہے کہ مسجد کی زمین کو بیچنے کی اجازت نہیں ہے۔ (الانصاف: ۷؍۱۰۱)

خلاصہ یہ کہ مسالک اربعہ میں سے ہر ایک کے نزدیک مسجد کی زمین کو بیچنے کی اجازت نہیں ہے اور جن حضرات نے اجازت دی بھی ہے تو وہ اس صورت میں ہے جب کہ منافع بالکلیہ منقطع ہوچکے ہوں اور وہ جگہ ایسی ویران ہوچکی ہو کہ اس مسجد کو کوئی آباد کرنے والا نہ ہو، جس کی وجہ سے اس کومسجد باقی رکھنا اوراس میں اذان واقامت اور نماز کا سلسلہ جاری رکھنا ممکن نہ ہو۔

 اس تفصیلات کی روشنی میں جب ہم بابری مسجد کے قضیہ پر غور کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی  ہے کہ کسی بھی فقیہ کے نزدیک اس کی شان مسجدیت سے سمجھوتہ کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے، کیونکہ وہاں سے مسلمانوں کی آبادی ختم نہیں ہو ئی ہے، بلکہ ایودھیا میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہے، اور متعدد مسجدیں وہاں موجود بھی ہیں اور آباد بھی ہیں ،اور وہ مسجد قضیہ کی ابتداء سے قبل آباد بھی تھی، اور آج بھی اس جگہ کی حالت یہ ہے کہ ا گر قضیہ حل ہو جائے اور اذان ونما ز کی اجازت مل جائے تو وہ مسجد مکمل آباد ہی رہے گی۔شیخ صالح المنجد لکھتے ہیں :

اتفق العلماء على حرمة بيع المسجد الذي لم تتعطل منافعه، ولم يهجره أهله، وأن من فعل ذلك فهو آثم (الاسلام سوال وجواب: ۱۳۴۲۹۷)

’’وہ مسجد جس کے منافع منقطع نہ ہوئے ہوں اور وہاں کے لوگ اسے چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل نہ ہوئے ہوتو اس مسجد کے فروخت کرنے کی حرمت پر فقہاء کا اتفاق ہے، اور جو ایسا کرے گا وہ گنہ گار ہوگا‘‘

اور اگرامام محمد یا فقہاء حنابلہ کی رائے کے مطابق مسجد کو ویران سمجھتے ہوئے بیچنے کی اجازت تصور بھی کرلیں تو دوسری جانب یہ رکاوٹ پیدا ہوتی ہے کہ اس قضیہ میں صرف معاملہ زمین کی فروختگی یا تبادلہ کا نہیں ہے، بلکہ یہاں مسجد کی زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے بیچنے کا معاملہ ہے اور فقہاء کے کلام میں یہ صراحت ملتی ہے کہ عام زمینوں کو بھی یہ معلو م ہوتے ہوئے فروخت کرنا جائز نہیں ہے کہ خریدار اس جگہ پرمندر یا کنیسہ تعمیر کرے گا، تو مسجد کی زمین کو مندر کے لئے دینے کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے ؟!

الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے :

نص جمهور الفقهاء على أنه يمنع المسلم من بيع أرض أو دار لتتخذ كنيسة (الموسوعۃ الفقہیۃ: ۳۸؍۱۵۷)

’’جمہور فقہاء نے یہ صراحت کیا ہے کہ مسلمان اس بات سے روکا جائے گاکہ وہ کنیسہ کی تعمیر کے لئے زمین یا گھربیچے‘‘

اس لئے بابری مسجدیا کسی اور مسجد کی زمین کو فروخت کرنے یا تبادلہ کرنےکی شرعاً گنجائش نہیں ہے،اس لئے ماضی میں بھی امت کے علماء وقائدین نے اس کے حصول کی قانونی جد وجہد کی ہے اور آج بھی کررہے ہیں ؛ کیونکہ ان کے لئے اس سے سمجھوتہ کی کوئی راہ اور گنجائش نہیں ہے، اور اس سلسلہ میں وہ اسی کے مکلف ہیں کہ اللہ کے گھر کی بازیابی اور اس کے تقدس کی حفاظت کے لئے ممکنہ حدتک کوشش کریں ، ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہے، اور یقینا اللہ اپنے گھر کا محافظ ہے اور حالات بدل کر اس سرزمین سے صدائے تکبیربلند کرانے پر بھی وہ قادر ہے۔اور ان شاء اللہ وہ وقت آئے گاکہ وہاں کی فضامیں اللہ کی وحدانیت اور اس کی کبریائی کی صدا گونجے گی، وما ذلک علی اللہ بعزیز، حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔

مزید دکھائیں

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

استاذ حدیث وفقہ جامعہ عائشہ نسوان حیدرآباد ، الہند

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close