ذرا نزدیک تو آ یار میرے

عبدالکریم شاد ذرا نزدیک تو آ یار میرے کھلیں گے تجھ پہ سب اسرار میرے ... وہ کہتا ہے دعا کافی نہیں ہے دوا بھی چاہیے بیمار میرے ... مری بنیاد میں کچھ نقص تو ہے گرے جو گنبد و مینار میرے ... تمھی اے دشمنو! آئینہ لاؤ تکلف کر رہے ہیں…

ماں

لوگ کہتے ہیں برا مجھ کو بھلا کہتی ہے ماں میری خاطر دوسروں کے طعنے بھی سہتی ہے ماں