بچے ملک کا مستقبل ہیں!

چونکہ امید پر دنیا قائم ہے اس لئے ناامید نہیں ہوناچاہئے ۔بلکہ ہمیں  اپنے تئیں بچوں کی تعلیمی ترقی پر خصوصی توجہ دینی چاہئے ۔ہماری اور آپ کی یہی کوشش ہونی چاہئے کہ آج ہی سے فکر فردامیں محو میں ہوجائیں کہ کہیں دیر نہ ہوجائے!

گجرات ایک بار پھر سرخیوں میں!

اس نفرت بھری مہم کی حقیقت تو یہ ہے کہ گجراتیوں کو اپنی کمزوری کا احساس ہو چلا ہے کہ اترپردیش، بہار، مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ کے باسی کا کم اجرت پر بہتر کام کرنے نے گجراتیوں کی آمدنی اور روزگار کے مواقع کم کردیئے ہیں۔

کیا ذکر الہی تسکین قلب کا ذریعہ نہیں!

دور ماضی میں جدید آلات اور ٹیکنالوجی کی قلت تھی مگر انسانیت کی کثرت اور آج جب کہ ہم نے مشینری دنیا میں ہمالیائی کامیابی  حاصل کرلی تو اخلاقیات کے پاتا ل میں اتر گئے۔ کل پیار و محبت کا دور تھا اور آج دل کے بہلاوے اور دھوکے کا۔

حج بیت اللہ

مراسم حج بجالانے کے لئے مکہ میں احرام باندھتے ہیں۔ نویں ذی الحجہ کو مکہ سے چار فرسخ دور بیابان عرفات کی طرف جاتے ہیں اس دن زوال تا غروب آفتاب وہاں قیام کرتے ہیں اور پروردگار سے دعا کرتے ہیں۔ وہاں سے مشعرالحرام کی جانب کوچ کرتے ہیں۔ یہ مقام…

ماں

 جب یہ ماں ضعیفی کوعمر کو پہونچتی ہے تو پھر ناتوانی، مجبوری، بیچارگی اور بیماریوں کے ایام شروع ہوجاتے ہیں۔پھر  بس اللہ کے بھروسہ  زندگی بسر ہوتی ہے۔ نہ کوئی سہارا اور ناہی کوئی پرسان حالہوتاہے۔ !اب اس کو صرف ملک المو ت کاانتظار رہتاہے۔

سنگ میل بنو، سنگ راہ نہیں!

آپ کا سب سے نمایاں کام مذہب تشیع کی بقا کے لئے جاویداں ثقافت کی تشکیل تھی۔ جو آج تمام مذاہب کو پیچھے چھوڑکر بہت ہی تیزی سے اپنے منزل کمال کی طرف رواں دواں ہے۔ اور ہنوز کم تعداد ہونے کے باوجود کسی غیر کےسامنے گھٹنے نہیں ٹیکےبلکہ اس کی حقانیت…

انہدامِ جنت البقیع کیوں؟

8شوال المکرم ۱۳۴۴ ہجری میں انہدام جنت البقیع سے تاریخ میں  ایک سیاہ باب کا آغاز ہواہے۔ دنیا  کے اطراف و اکنا ف میں اس روز یوم انہدا م جنت البقیع کا سوگ منا یا جاتاہے اور مقدس مقامات کی تعمیر نو کی مطالبہ کیا جا تا ہے۔

رمضان تربیت کا مہینہ ہے!

رمضان المبارک میں اسلامی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ اگر مکمل  نہیں تو بہتری یقینی طور پر آجاتی ہے۔ سلام و دعا کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ غریبوں کی مدد کی جانے لگتی ہے۔ دل اللہ سے قریب ہو جاتے ہیں۔

اور فتنہ، قتل سےبھی بدتر ہے!

ہندوستان میں مولانا سید کلب جواد نقوی صاحب سمیت روبینہ جاوید، ان کی تنظیم، ڈاکٹر کوثر عثمان نجم فاروقی اور دیگر حضرات اتحاد کی راہ میں انتہائی کوشش کررہے ہیں اور ان کو کامیابی بھی نصیب ہوئی ہے۔

رمضان المبارک اور ہم

  روزہ میں صبر کا عنصر زیادہ ہے۔ اس عبادت کے دوران صائم کو جس قدر صبر اور آزمائش کے مراحل طے کرنے پڑتے ہیں۔ شاید ہی دیگر عبادات میں اتنی صبر آزما منزلیں پیش آتی ہوں۔

گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

اس کے علاوہ تعلیم کے متعلق بہت ساری احادیث و رایات موجود ہیں۔ خود سر کار ختم مرتبت کی زندگی کامطالعہ کریں تو آپ کومعلوم ہوجائے گاکہ آپ کے نزدیک علم سیکھنے اور سکھانے کوکس قدر اہمیت حاصل ہے کہ آپ نے محض مسلمانوں کی تعلیم کے اپنی جان کے…

حق اور باطل کی کشمکش

دوسری تصویرکے ضمن میں یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ داعش کا تعلیمات اسلامی سے کوئی سروکا ر نہیں بلکہ وہ دشمن کا آلہ کار بن کر مسلمان اور اسلام کے دامن کو داغداربنانے کی کوشش میں ہیں ۔ آج ہر زندہ دل اور صاحب بصیر ت شخص ان جیسے حیوان صفت گروہ کی…

اپنے آپ کوپہچانیں!

 ہر انسان کے اندر دو قسم کے کمالات پائے جاتے ہیں۔ایک ذاتی جو کہ اللہ کی جانب سے عطاہوتاہے اوردوسرا کسبی جسے انسان اپنی کاوشوں سے حاصل کرتاہے۔ دنیا کے ہر فرد کی فطرت میں کسی نہ کسی خاص صفت کاپایاجانالازمی ہوتا ہے۔ اب یہ اس شخص پر موقوف ہے کہ…

اڑتے بادل

آج کے اس مشینری دور میں جہاں انسان کو سر کجھانے کی فرصت نہیں، کون ہے جو اپنے وقت کی اہمیت سے واقف نہ ہو؟آج کل غیر تو غیر خود اپنے اعز و اقارب بھی اپنے بیما رکی تیمار داری ایسے کرتے ہیں جیسے ہوا کے گھوڑے پر سوارہوں۔ اس لامتناہی کرہ ارض پر…

کامیابی کی دو راہیں

گذشتہ شخصیات کے حالات زندگی کےمطالعہ سے یہ بات آشکارہوئی ہےکہ انہوں نے مشکلات کے قلعوں کو صبر سے فتح کیا اور روح فرسا حالات میں صبر کو سپر بناکر منزل مقصود کو رسائی کی۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند اپنے عزم محکم پر قائم…

غیرت کا جنازہ ہے ذرادھوم سے نکلے!

اسی طرح اس تہوار کے پس پردہ نہ جانے کتنی کہانیاں موجود ہیں ۔ یہ بات بھی سننے میں آئی کہ اس روز قدیم روم میں لڑکیاں پرچیوں پر اپنا نام لکھ کر ایک صندوق میں ڈال دیا کرتیں اور لڑکے آتے اور اسے نکالتے۔ اس میں جس لڑکی کا نام آجا تا تو وہ اس کی…

کشتی نوح!

پانی کا زمین پر اس طرح سے قبضہ ہوگیا تھا کہ گویا زمین نے آسمان سے ہاتھ ملالئے ہوں۔ یہ عالمی طوفان چھ ماہ (رجب المرجب تا ذی الحجۃ الحرام )تک رہا اور سفینہ نوح کوہ جودی پر جاٹھہراجو کہ موصل، آمد یا جزیرہ کے علاقہ میں واقع ہے۔

لاٹھی مارنے سے پانی نہیں پھٹتا!

دورحاضرمیں امت مسلمہ عالم انسانیت کی دوسری سب سے بڑی تعداد شمار کی جاتی ہےاور ساتھ ساتھ ہی لوگوں کاجوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہو نا،یہ سبب بن رہاہے کہ مستقبل میں یہ امت صف اول میں شمارہونے لگے گی۔ لہٰذ ا! سامراجیت اوردشمن عناصر کو اس با ت…

پردیسی یار

بہت رنجیدہ تھا کہ میں تو ٹھیک لیکن ان دوستوں کا کیا ؟ ہاسٹل کی طرف بڑے ہی افسردہ اور بجھے چہرے کے ساتھ لوٹ رہاتھا۔ طرح طرح کے خیالات ذہن میں آرہے تھے کہ ان کو کیا جواب دوں گا۔ آج تو میری شامت آئی  ہے۔ کرنا کیا ہے۔ دو تین قطرے آنسو ٹپکا…

عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں!

امریکہ میں تقریبا83 فیصد 12 سال سے لے کر 16سال کی لڑکیوں کو پبلک اسکول میں کسی نہ کسی قسم کا شہوانی تجربہ ہوچکا ہوتاہے۔ روزانہ 230 لڑکیوں کاجسمانی استحصال کیاجاتاہے۔ پورے سال میں 12اور اس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کے 29000آبروریزی کے واقعات…

ماضی کی حویلی ابھی ویران نہیں ہے

سچ تو یہ ہے کہ وہ جسمانی غلام تھے, ذہنی نہیں . ان کے تن پر قبضہ تھا مگر ان کے افکار و نظریات پر پہرےبٹھانا دشمن کی طاقت سے پرے تھا. کہا جاتا ہے کہ جن کے ضمیر زندہ ہوتے ہیں وہ ہرگز خواب غفلت کا شکار نہیں ہوتے وہ اغیار کے ہاتھوں اپنی ذہنی…

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

  ہمارے ہندوستان کی سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ یہاں ہر قسم کے افرادکا گزر بسر ہے ۔غریب سو روپیہ بھی کمائے تو وہ شکم سیر ہوکر اطمینان کی نیند سوجاتاہے۔اور امیر ہزاروں روپیہ حاصل کرے تو وہ بھی خوشحالی سے شب گزارلیتاہے ۔اس کے برخلاف فی الوقت…

حق کا دفاع ضروری ہے

 مذکورہ نظریہ کی تائید دنیا کو ہر صاحب و فکر ونظر کرتارہے گا۔ چاہے وہ جس قوم و قبیلہ سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہو۔ کیوں کہ حق کادفاع بہر حال ضروری ہے۔ اسی باعث دنیا کا ہرملک اپنی خاص دفاعی فوج اور کچھ اہم  افراد رکھتا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے ملک…

جدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابی!

گزشتہ صدیوں میں ا ن کااس وقت علمی دبدبہ تھاجب سارے مغربی ممالک خواب غفلت میں اوندھے منھ پڑے تھے۔ جب مغربی دنیا میں علمی گھٹاتوپ اندھیراچھایا ہواتھا،اس وقت دین اسلام غیرمعمولی علمی ترقی کے زینے طے کر چکاتھا۔نور علم بڑے ہی آب و تاب کےساتھ…

صلاحیتوں کو کیسے پروان چڑھائیں؟

ترقی کے مستحکم ستون پر کامیابی کی سر بفلک عمارتیں تعمیر ہوسکتی ہیں۔ صرف اپنے دلی کاموں میں عمل  پیہم اور جہد مسلسل کی بنیادی شر ط ملحوظ نظر رہناچاہئے ورنہ۔ ۔۔زیادہ تر ایسامشاہدہ میں آیاہے کہ اکثر افراد میں استقلال نہ ہونے کے باعث یا تو ان…

غرور کا انجام !

انسان کو ہمیشہ اس با ت کا ذہن نشین رکھنا چاہئے  کہ ہم کیاتھااور ہمارا حشر کیا ہونے والا ہے اور اس بات کو کبھی بھی فراموش نہ کرے کہ ہم سے بھی طاقت ور کوئی ذات ہے جسے غرور تکبر بالکل نہیں پسند ہے۔ لہٰذا!ہمیں غرورو تکبر سے پنا ہ مانگنی چاہئے۔…

خطرنا ک سفر کی پر امن واپسی

ابتدائے خلقت میں انسان بالکل ننگا اور علم و ٹیکنالوجی سے بے بہرہ تھا۔ اسے اپنے آپ کو ڈھکنے کے لئے درختوں کے پتوں کا سہارا لینا پڑتا۔جیسے جیسے گردش و لیل و نہار نے کروٹیں لیں ویسے ویسے حالات سازگارہوتے گئے اور لوگوں نے ترقی  کی راہوں پر اپنے…

ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

مسلمانوں نے عقابی نگاہوں سے فرنگی شاطرانہ چال کو نقش برآب کردیا اور تن کے گورے دل کے کالے انگریزوں کی سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ ہمارے بزرگوں نے اپنے قیمتی خون سے اس گلستاں کی آبیاری کی ہے جس کی فتح و ظفر کی گواہی آج بھی سرخی آفتاب پر…

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: قرآن و حدیث کی روشنی میں (قسط ششم)

 امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ایسا ہواکہ جبرئیل چالیس روز تک حضرت رسول خدا  ﷺپر نازل نہیں ہوئے تو جبرئیل نے اللہ سے عرض کیا:خدایا!میں تیرے نبی کے دیدار کا شدت سے مشتاق ہوں۔ مجھے اجازت دیں کہ میں تیرے رسول کی خدمت…