سیاسی ناٹک: مطلق العنانیت تھوپنے کی سیاست

کانگریس مردہ ہو چکی ہے علاقائی پارٹیاں یا تو بی جے پی کے ساتھ ہیں یا پھر سیاسی حاشیے پر، مسلم سیاست نابود ہو چکی ہے اور اس صورت حال کے خلاف بولنے لکھنے اور کرنے والے انٹی نیشنل قرار دئے جا رہے ہیں۔ یہ ملک کے سبھی باشعور لوگوں کے لئے سوچنے…

احتجاج ضروری ہے مگر قانونی چارہ جوئی اشد ضروری ہے

ملک میں کئی ایسے لوگ ہیں جن کا ماضی مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازیوں سے بھرا پڑا ہے لیکن آج تک ان پر کوئی کارروائی تو دور مقدمہ بھی نہیں درج کیا گیا اور ہم نے بھی ان لوگوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی۔

منافقت بے، شرمی یا دیدہ دلیری؟

پارلمنٹ سے لے کر شہر وں گاووں اور دیہاتوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خودامریکہ کی مذکورہ رپورٹ کاثبوت ہے لیکن حکومت نے اسے سیکولرازم کا حوالہ دے کر مسترد کردیا ہے سمجھ میں نہیں آرہا کہ اسے منافقت کہا جائے بے شرمی کہا جائے یا دیدہ دلیری؟

ڈاکٹروں کا احتجاج : تعصب، سیاست یا بے وقوفی؟

 ہم مغربی بنگال کے ڈاکٹروں کے تمام مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اور اس معاملہ میں ملوث تمام مجرمین کو سخت ترین سزا دلوانے کی مانگ کرتے ہیں اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات ہونے سے پہلے ہی روک دئے جائیں ایسے بندوبست کا مطالبہ کرتے ہیں

دیش بھکتی ثابت کرنے کا درد اور دوغلی سماجیت

اکشے کمار کی بھی جو حمایت ہو رہی ہے تو وہ بھی اسی دوغلے پن کی وجہ سے، اس لئے کہ وہ مسلمان نہیں اکثریتی طبقہ کے فرد ہیں، اگر ان کی جگہ کسی مسلم اداکار کا یہ معاملہ ہوتا تو ابھی تک پورے ملک میں آسمان سر پر اٹھالیا جاتا، اس سے اس کی دیش…

غیر سیاسی انٹر ویو: آم کے آم گٹھلیوں کے دام

غالب گمان ہے کہ اکشے کمار بھی اس سیاست میں برابر کے شریک ہیں اور اگر وہ اسے غیر سیاسی ہی سمجھتے ہیں اور واقعی اس انٹرویو کی سیاست میں شریک نہیں تو سمجھئے کہ مودی جی نے انہیں بے وقوف بنایا کر اپنا کام نکال لیا۔     

واہ رے پاکھنڈ

سادھوی کی امیدواری دراصل امتحان ہے لوگوں کا کہ وہ بی جے پی کے پاکھنڈ کی اس سیاست میں کہاں تک پھنس چکے ہیں۔ اگر سادھوی جیت جاتی ہے تو سمجھئے ملک میں مثبت اور صحت مند سیاست ختم ہوچکی، لوگ پوری طرح دھرم کی پاکھنڈی سیاست کے یرغمال ہوگئے ان کی…

کونسی دیش بھکتی؟

 ڈاکٹر عابدالرحمن پلوامہ میں ہمارے بہادر جوانوں پر انتہائی المناک دلخراش اور بزدلانہ حملہ ہوا۔ دوسرے دن مودی جی نے دہلی سے وندے بھارت ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھائی اور اس تقریب میں تقریر کرتے ہوئے پلوامہ حملے کا ذکر کیااور وہی روایتی بیان…

ہوش میں آؤ، گاندھی کے نظریات بھی قتل ہوچکے

جو لوگ اس خوش فہمی یا غلط فہمی میں مبتلاء ہیں کہ گاندھی مر نہیں سکتا ان کے نظریات نہیں مارے جاسکتے انہیں چاہئے کہ گاندھی اور فلسفہء گاندھی کو زندہ کر نے کی سعی میں جٹ جائیں، اس پر آشوب دور میں گاندھی کی ضرورت پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ ہے۔

گاندھی جی کا دوسرا قتل

گوڈسے گاندھی جی کو قتل کر کے بھی ان کے نظریات اور وژن کو قتل نہیں کرسکا تھا اب یہ جو کچھ ہورہا ہے دراصل ان کے نظریات کو قتل کر نے کی کوشش ہے، اور حکومت اسے روکنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی اب یہ کام عوام نے اپنے ذمہ لینا چاہئے اور ان نفرت کے…

پھر دہشت گردی کا کھیل؟

اس طرح کے معاملات میں مقدمات تیز رفتاری سے چلائے جائیں تاکہ ملزمین اگر واقعی مجرم ہیں تو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچیں اور اگر بے قصور ہیں جیسا کہ اب تک ہوتا آیا ہے تو کم سے کم وقت میں انہیں انصاف ملے اور وہ رہا ہوں، ان کی زندگی کے قیمتی…

ہندو راشٹر میں آپ کا سواگت ہے

دراصل بی جے پی چاہتی ہے کہ آسام سے صرف مسلمانوں کو نکال باہر کیا جائے اور ہندو بنگا لیوں کو رہنے دیا جائے۔ مودی جی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہندو بنگالیوں کو بھارتی شہریت دیں گے اور اب بھی انہوں نے اسی کا اعادہ کیا کہ ’ اگر ماں بھارتی کے بچے…

کانگریس کی جیت اور ہم: آخر کب تک بوجھ ڈھوئیں گے

اب ضروری ہوگیا ہے کہ ہم کانگریس کا قلادہ اتار پھینکیں۔ اگر اسی کے ساتھ سیاسی وابستگی رکھنی ہے تو برابری کی سطح پر اس سے سودے بازی کریں۔ آخر ہم کب تک کانگریس اور اسکے جعلی سیکولرازم کا بوجھ ڈھوتے رہیں گے اور ملک کی سیاسی بساط پر مسلسل ہارتے…

بی جے پی ہاری، ’ہندوتوا‘ نہیں ہارا

 اب دیکھنا ہوگا کہ قومی سطح پر حیات نو کے لئے راہل گاندھی ہندوتوا کے گلیاروں میں اور کتنی اندر تک گھستے ہیں، اسے کاہے کا تڑکا دیتے ہیں، مسلمانوں کو اپنی سیاست کے کس خانے میں رکھتے ہیں اور ہندوؤں کو کس طرح اکساتے ہیں۔

جھنجھنا

ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ ملک کا نظام عدل بابری مسجد کے مجرموں کو نہ صرف مسجد مسماری کی سزا دیتا بلکہ انہیں ملکی سیاست میں مذہب آلود پراگندگی گھسیڑنے، ملک کے سیکولر تانے بانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے، جمہوریت کو اکثریتی طبقہ کی تانا شاہی…

’ہندوتو ا سیاست‘ اب بوڑھی ہوچکی ہے

اب دیکھنا ہے کہ ہندوتواکو اپنے نام کرنے کی سیاست میں یہ دونوں پارٹیاں مستقبل میں کیا اسٹریٹیجی اپناتی ہیں لیکن ایک بات تو طئے ہے کہ دونوں کا حالیہ پروگرام اگر پوری طرح ناکام نہیں ہوا تو توقع کے مطابق کامیاب بھی نہیں ہوا یعنی کسی بھی جارحانہ…

بی جے پی کا فرسٹریشن

اس کی مخالفت میں سڑ کوں پر نہ نکلیں، سوشل میڈیا میں اس کے خلاف اول فول نہ بکیں ہاں اس کی مخالفت کریں تو تہذیب اور قانون کے دائرے میں سنجید گی سے کریں۔ نا دانستہ طور پر بھی دوسری سیاسی پارٹیوں یا دلالوں کے آلائے کار نہ بن جائیں۔ اگر ہم ایسا…

مسلم لڑکیوں کا ارتداد: اگر اب بھی نہ جاگے تو

سب سے پہلے ہمیں اپنی دینداری درست کر نی ہوگی منافقانہ طرز عمل ترک کرنا ہوگا، ہماری لڑکیوں اور نئی نسل کے سامنے عملی طور پر مکمل دینی ماڈل پیش کرکے ان کے دین و ایمان کواتنا مضبوط کرنا ہوگا کہ کوئی لالچ، کوئی خدشہ یا کوئی ڈر انہیں ارتداد کی…

راہل گاندھی کا نانسینس

کانگریس یہ تو جانتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے بغیر انتخابات نہیں جیت سکتی لیکن مسلمانوں کے تئیں مودی سرکار کی پالسی کی وجہ سے شاید اسے یہ غیر سمجھ ہوگئی ہیکہ مسلمانوں کے پاس کانگریس کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل ہی نہیں، وہ کانگریس کے سوا جائیں گے…

جناب ریاض انور صاحب کے اعزاز میں مشاعرہ

یہ شاندار مشاعرہ بلڈانہ شہر کا تاریخی مشاعرہ تھا جو بے حد کامیاب رہا۔ کسی غیر ارد داں کے ذریعہ اسطرح ارد کی محفلں کا انعقاد اور اردو کے شعراء کا اعزاز اور اس میں ہندو مسلم ایکتا منچ جسی تنظیموں کی حصہ داری اور فنکاروں اور سامعین میں ہندو…

گؤ رکشا: حمایتی ہی اصل دہشت گرد ہیں

پوری بی جے پی ہی گؤ دہشت گردوں کی حمایت میں پیش پیش ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس میں بی جے پی کی مرکزی لیڈر شپ ہائی کمانڈ اور وزیر اعظم مودی جی کی مرضی اور آشیرواد بھی شامل ہے کیونکہ ان میں سے کسی چھوٹے سے چھوٹے لیڈر کے…

ماب لنچنگ: بویا وہی کاٹنا پڑیگا

حالات مسلسل اور تیزی سے بگاڑ کی طرف رواں ہیں اور اگر نفرت کا پھیلاؤ، لوگوں کا بھڑکاؤ، افواہوں کی کالا بازاری اور ملزمین کی پشت پناہی کرتی ہوئی سستی سیاست نہیں روکی گئی تو ملک میں قانون و انصاف کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور آج اس پر…

مروج سیاست کی دوسری ہار

خیر اب معاملہ صاف ہو گیا ہے۔ گورنر اور مرکزی حکومت کے پر کٹ گئے ہیں کیجریوال اور ان کی پوری ٹیم کو کام کا اختیار اور آزادی مل گئی ہے۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ وہ اس مروج سیاست سے الگ سیاست کرتے ہیں یا اسی میلی گنگا میں نہانے لگ جاتے ہیں۔…

ایمرجنسی: کل اور آج؟

دراصل اس وقت اندرا گاندھی ملک کی انتہائی مضبوط لیڈر تھیں انہوں نے کانگریس پارٹی پر اسی طرح مکمل طور پر غلبہ حاصل کرلیا تھاجس وقت ان دنوں مودی جی بھی بی جے پی پر پوری طرح غالب آگئے ہیں۔

تو دلی بھی چھوڑ دو!

اگر واقعی بی جے پی نے کشمیر کی حکومت وہاں امن و امان کی خراب صورت حال اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو لاحق خطرے کی وجہ سے ہی چھوڑی ہے تو اسے چاہئے کہ  ماب لنچنگ کے واقعات والی ریاستی حکومتیں اور مرکزی حکومت بھی چھوڑ دے کہ ان واقعات سے ملک بھر…

کانگریس مکت بھارت کی طرف ایک اور قدم

اگر آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بھی کانگریس اسی جھوٹے غرور میں مبتلاء رہی اور علاقائی پارٹیوں کی اہمیت کے اعتبار سے انہیں حصہ داری اور لیڈر شپ نہیں دی تو اندیشہ ہے کہ وہ کسی علاقائی پارٹی کی اوقات میں بھی نہیں رہے گی۔

فرقہ واریت اور ہم

ہر کوئی لیڈر بننے کی کوشش نہ کرے، منافقین کو الگ کر کے ’اولی الامر منکم‘ کی صفات کے حامل مخلصین کو قیادت سونپیں ان پر اعتماد بھی کریں اور ان کے ہر ہر قول و فعل پر نظر بھی رکھیں۔

کٹھوعہ: نیا قانون اور بی جے پی کا دیوالیہ پن

کٹھوعہ کا معاملہ غیر معمولی ہے، یہ کوئی روایتی ریپ اور قتل کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے زیادہ گھناؤنا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملہ کی چارج شیٹ کہتی ہے کہ یہ معاملہ منصوبہ بند طریقے سے انجام دیا گیا تاکہ مسلم بکروال کمیونٹی کو خائف کر…

سلمان خورشید کا آدھا سچ، پورا جھوٹ!

اگر کوئی مسلمانوں کے لئے ایسا کرتا ہے تو پارٹی خود ہی اسکا سیاسی کریئر ختم کر وادیتی ہے، اب سلمان خورشید صاحب کے معاملہ میں بھی وقت ہی بتائے گا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اپنی کسی ضرورت کے لئے کہہ رہے ہیں ، پارٹی کی سیاسی ضرورت کے تحت کہہ…